Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

‏137۔ اہل کتاب کی غذا

‏اس آیت (5:5) میں کہا گیا ہے کہ اہل کتاب کی غذا حلال ہے۔ 

بعض لوگ کہتے ہیں یہاں جو غذا کہا گیا ہے وہ سبزی غذا ہے۔جانوروں کو ذبح کر کے کھانے کی طرف یہ اشارہ نہیں ہے اور اہل کتاب کی حیوانی غذا کو ‏نہ کھانا چاہئے۔ یہ غلط ہے۔ 

سبزی غذا کے حد تک جواہل کتاب نہیں ہیں ان کی غذا بھی کھانے کی اجازت ہے۔ چاول، دال اور سبزی وغیرہ کسی کے گھر میں بھی کھا سکتے ہیں۔ 

اہل کتاب کاذبح کیا ہوا جانور کے بارے میں ہی یہاں کہا گیا ہے۔ نبی کریم ؐ نے یہود یوں کے جانور کی غذا بھی کھائے ہیں۔ نبی کریم ؐ کو مارنے کے لئے ‏بکرے کے گوشت میں زہر ملاکردیا گیا ہے۔ اس کے بارے میں قابل قبول احادیث موجود ہیں۔ (دیکھئے بخاری کی حدیث: 2617)

اللہ کے نام سے جوذبح کیا جاتا ہے اسی کو کھانا ہے ، اس عام قانون سے اہل کتاب جو ذبح کر تے ہیں وہ استثناء پاتے ہیں، یہی ٹھیک ہے۔ 

مزید یہ کہ اس کو بدل دیا گیا بھی کہہ نہیں سکتے۔ کیونکہ یہ آیت نبی کریم ؐ کی آخری زمانے میں اتری ہوئی آیتوں میں ایک ہے۔ (دیکھئے نسائی کی ‏حدیث: 2434)

چنانچہ ہمیں جو منع نہیں کیا گیا ہے اس غذا کو اہل کتاب اگر دیں تو اس کو ہم کھا سکتے ہیں۔ اللہ نے جو اجازت دی ہے اس کو ہم خود منع نہیں کر نا ‏چاہئے۔ لیکن اہل کتاب کون ہیں ، کئی لوگ اس کی غلط تشریح دے رہے ہیں۔ 

اس کا براہ راست معنی ہے کتاب پر ایمان لانے والے سب لوگ ہیں۔ پھر بھی قرآن کریم یہود و عیسائی کو ہی اہل کتاب کہتا ہے۔ 

یہ نہ سمجھ لینا کہ عام طور پر یہود و عیسائی ہی کی طرف یہ اشارہ کر تی ہے۔ کیونکہ عیسیٰ نبی اور یہودیوں کی طرف بھیجے گئے تمام رسول اسرائیلی قوم کی ‏طرف ہی بھیجے گئے۔ تورات اور انجیل وغیرہ کتاب بھی اسرائیلوں ہی کو دی گئیں۔ اس لئے اسرائیل جو غذا دیتے ہیں اسی کی طرف یہ اشارہ ہے۔ 

غیر اسرائیلی یہودو عیسائی کے لئے وہ کتابیں عطا نہ ہو نے کی وجہ سے وہ لوگ اللہ کی نظر میں اہل کتاب نہیں ہوسکتے۔ اس لئے اس کا ٹھیک مطلب ‏یہی ہے کہ جو اسرائیل ذبح کر تے ہیں اس کو کھاسکتے ہیں اور غیر اسرائیلی یہودو عیسائی جو ذبح کرتے ہیں اس کو نہ کھائیں۔ 

اور زیادہ معلومات کے لئے حاشیہ نمبر 27، 138 دیکھیں۔

‏136۔ کیا قرعہ اندازی ٹھیک ہے؟

‏ان آیتوں (5:3، 5:90)میں کہا گیا ہے کہ تیر کے ذریعے شگون دیکھنا منع ہے۔ 

جنہیں معبود سمجھا جا تا تھا ا ن بتوں کے سامنے قرعہ ڈال کر دیکھنا عربوں کی عادت تھی۔ 

ایک کام کر نے سے پہلے ایک تیر میں ’کرو‘ لکھ دیں گے، دوسری ایک تیر میں ’مت کر‘ لکھ دیں گے۔ آنکھیں بند کر کے اس میں سے ایک تیر ‏اٹھائیں گے۔ اس میں جو لکھا ہے اسی کو اللہ کا حکم سمجھ جائیں گے۔ 

اس آیت کے ذریعے اس کو منع کر دیاگیا۔

تیر کے ذریعے جو پیشنگوئی دیکھی جاتی تھی یہ نہ سمجھ لینا کہ صرف اسی کو منع کیا گیا تھا۔ اس بنیاد پرقرار پایا ہوا ہر کام مسلمانوں کے لئے ممانعت ‏ہے۔ 

‏’فالنامہ‘ کے نام سے مسلمانوں کے پاس جو بد عقیدگی پائی جاتی ہے وہ بھی اس ممانعت میں جمع ہے۔ انسانوں کو جو حکم دیا جاتا ہے اس اختیارات کو ‏انسانوں کی بنائی ہوئی چیزوں کو دینا غلط ہے۔

آنکھیں بند کر کے ایک چٹھی اٹھا کر کہنا کہ یہی اللہ کی مرضی ہے ، یہ ا للہ پر جھوٹ باندھنا ہوجا ئے گا۔اس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اللہ نے جو ‏چھپایا ہے اس کو ہم جان سکتے ہیں۔

بعض اوقات ہم قرعہ ڈال کر چند معاملوں کا فیصلہ بھی کر لیتے ہیں۔اس کو اور اس کو ملا کر الجھن میں نہ پڑیں۔ 

دو اشخاص کے درمیان ایک شخص کو اگر چننا ہے، اگر دونوں برابری کی حیثیت رکھتے ہیں تو قرعہ ڈال کر ایک کو چن لیتے ہیں۔ یہ انتظام اس لئے کیا ‏گیا ہے کہ دوسرے کا دل تنگ نہ ہوجائے۔ 

قرعہ ڈالنا اور فالنامہ وغیرہ اللہ کی مرضی کو جاننے کا راستہ سمجھا جا تا ہے، اس لئے اس کو منع کیاگیا ہے۔ برابری کی حیثیت رکھنے والے دونوں میں سے ‏ایک شخص کو انتخاب کر تے وقت وہ عقیدہ نہیں رہتا۔ 

ایک کام کر تے وقت اگر یہ الجھن پیدا ہوجائے کہ وہ کام اچھا ہے یا براتو اس وقت استخارہ کی نماز پڑھ کر اس طرح دعا کرنے کے لئے ہی اجازت ہے ‏کہ اے اللہ! اگر یہ کام فائدہ مند ہے تو مجھے اس کام مشغول کردے۔ اگر نہیں تو میرے دھیان کو اس کام سے ہٹا دے۔ (دیکھئے بخاری: ‏‏1166،6382، 7390)

‏135۔ قربان گاہوں میں جو ذبح ہو کیا اس کو کھا سکتے ہیں؟

‏ان آیتوں (5:3، 5:90، 70:43) میں کہا گیا ہے کہ قربان گاہوں میں جوذبح ہو تے ہیں انہیں کھانانہیں۔ 

چبوترے کو قائم کر کے اس کے لئے قربانی کر نے کی عادت اس زمانے کے عربوں میں تھی۔اس وقت یہ عادت رہنے کی وجہ سے صرف یہی کہا جا تا ‏ہے۔ 

بستر سا ڈالے ہوئے پتھرہو ، تختے سے بنائے گئے بندگی کے اسباب ہو، زندہ رہنے والا انسان ہو، مردوں کے مدفن ہو، ان کے لئے ذبح کر کے قربانی ‏کرنامنع کیا گیا ہے۔ اس کو سمجھ لینا چاہئے کہ یہی یہ آیتیں کہتی ہیں۔ 

اس طرح سمجھنے کے لئے حدیثوں میں کئی دلیل ہیں۔ 

زیادہ معلومات کے لئے حاشیہ نمبر 427 دیکھیں۔

 ‏‏134۔ عیسیٰ نبی کی وفات کے پہلے سب انہیں قبول کرینگے‏

اس آیت (4:159) میں کہا گیا ہے کہ یہود اور نصاریٰ آخری زمانے میں ٹھیک طور سے عیسیٰ نبی کے بارے میں ایمان لائیں گے۔ 

یہود یوں کے حد تک وہ لوگ عیسیٰ نبی کے کھلے دشمن تھے۔ انہوں نے عیسیٰ نبی کو نہیں مانا۔ اور اس طرح بھی تنقید کر نے لگے تھے کہ وہ غلط راستے ‏میں پیدا ہوئے۔ 

نصاریٰ، عیسیٰ نبی کو ماننے کے باوجود انہیں جس طرح ماننا چاہئے اس طرح مانا نہیں۔ جس طرح عزت دینا چاہئے اس طرح عزت بھی نہیں دئے۔ ‏انہیں اللہ کا بیٹا مانتے تھے۔ 

اس لئے وہ لوگ بھی عیسی نبی پر جس طرح ایمان لانا چاہئے تھااس طرح ایمان نہیں لائے۔

یہ دونوں گروہ مستقبل میں عیسیٰ نبی کو جس طرح ماننا چاہئے ، یعنی عیسیٰ نبی کے بارے میں اسلام کے عقیدے کے مطابق انہیں ایمان لانے کی ‏حالت پیدا ہو گی۔ اسی بات کو یہ آیت (4:159) آگاہ کر تی ہے۔ 

اس پیشنگوئی کو لوگ سمجھ نہ پائیں، اس لئے بعض لوگوں نے غلط ترجمہ کرنے کی وجہ سے اس کو ہم پہلے بتلاتے ہیں۔ 

‏’’ان پر ایمان لائے بغیر‘‘ (اِلَّا لَےُؤمِنَنَّ بِہِ) کے جملے میں ’ان پر‘ کا لفظ کس کی طرف اشارہ ہے؟ تمام علماء کسی اختلاف رائے کے بغیر متحد ہو کر ‏کہتے ہیں کہ وہ عیسیٰ نبی ہی کی طرف اشارہ ہے۔ اس سے پہلے کی آیت میں عیسیٰ نبی کے بارے میں بات چلنے کی وجہ سے وہ عیسیٰ نبی ہی کی طرف اشارہ ‏ہے، اس میں کسی دوسری رائے کی کوئی گنجائش نہیں۔ اس میں کسی کو کوئی الجھن نہیں۔ 

لیکن اسی آیت میں جو کہا گیا ہے ’’ان کی وفات سے پہلے‘‘ (قَبْلَ مَوْتِہِ) کے جملے میں ’’ان کے‘‘ جو کہا گیا ہے وہ کس کی طرف اشارہ ہے؟ اسی میں ‏بعض لوگ غلط رائے اختیار کئے ہوئے ہیں۔ 

بعض لوگ اس طرح معنی کیا ہے کہ ’’ہر ایک اہل کتاب ان کی (یعنی اپنی) وفات سے پہلے ‘‘ ۔ یہ غلط ترجمہ ہے۔ 

ان کی موت سے پہلے کا مطلب ہے کہ عیسیٰ کی موت سے پہلے ، اس طرح چند لوگ معنی کیا ہے۔کئی وجوہات کی بنا پر یہی ٹھیک ترجمہ ہے۔ 

عربی ادب کے مطابق دونوں طریقے سے معانی کر نے کی اس میں گنجائش ہے۔ ان مقامات پر کونسا ٹھیک ہے اور کونسا غلط، یہ فیصلہ کر نے کے لئے ‏دوسری آیتوں میں کہی ہوئی بات کو بنیاد بنا نا ہی صحیح طریقہ ہو گا۔ 

لیکن ان دونوں ترجموں میں یہ سمجھنے کے لئے کہ پہلا ترجمہ غلط ہے، کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں۔ ان ترجموں کے مطابق جو رائے ہمیں ملتی ‏ہے وہ سب غلط اور مزاحیہ انداز میں ترکیب پانے کی وجہ ہی سے بے شک یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ ترجمے غلط ہیں۔

اس ترجمہ کی بنیاد پر اس آیت کی معانی دیکھئے!

‏’’اہل کتاب میں سے ہر ایک اپنی موت سے پہلے عیسیٰ نبی پر ایمان لائے بغیر نہیں مریں گے۔ ‘‘ یہی پہلے گروہ کی ترجمہ کے مطابق حاصل ہونے ‏والی رائے ہے۔ 

یعنی اس کا مطلب ہے ،یہود و نصاریٰ جو اہل کتاب سے ہیں مرنے سے پہلے ٹھیک طور سے ایمان لے آئیں گے۔

اس رائے کے مطابق کہ یہود و نصاریٰ مرنے سے پہلے ٹھیک ایمان کے ساتھ مرینگے تو اس کا مطلب ہو گا کہ انہیں دوزخ ہی نہیں ہوگی۔ کیونکہ ‏ان کی آخری حالت بہترقرار پاجاتی ہے۔

توحید کے عقیدے کو نہ ماننے والے جس طرح سزا پائیں گے اسی طرح یہود اور نصاریٰ بھی سزا پائیں گے۔ایسی بے شمار آیتوں کے ساتھ یہ رائے ‏ٹکراتی ہیں۔ 

ہر ایک یہودی اور عیسائی مرتے وقت مسلمان بن کر ہی مرتا ہے، اس رائے کو کوئی بھی قبول نہیں کر سکتا۔ 

یہ ترجمہ غلط ہے، جب بے شک یہ معلوم ہو جا نے کے بعد ان کی موت سے پہلے ، یعنی عیسیٰ نبی کی موت سے پہلے اہل کتاب عیسیٰ پر ایمان لائے بغیر ‏نہیں رہیں گے ۔ اس دوسرے ترجمہ ہی کو ہم مانناچاہئے۔ 

ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو اس وقت عیسیٰ نبی نے وفات نہیں پائی تھی۔کیونکہ اگر ان کی وفات ہوگئی ہوتی تو ’’عیسیٰ مرنے ‏کے پہلے‘‘ کہا نہیں گیا ہوتا۔ 

مزید یہ کہ ماضی کے صیغے میں ایمان لائے تھے کہنے کے بجائے ،مستقبل کے صیغے میں ایمان لائے بغیر نہیں رہ سکتے کہا گیا ہے۔اس آیت کا یہی ‏مطلب ہے کہ عیسیٰ نبی مرنے سے پہلے ان پر مستقبل میں یہودی اور عیسائی ایمان لے آئیں گے۔ 

عیسی نبی آخری زمانے میں اتر آئیں گے، اس وقت ہر شخص اسلام قبول کر لے گا۔ اس کے بعد عیسیٰ نبی وفات پائیں گے، ایسی حدیثیں اس آیت کی ‏تشریح بنتی ہیں۔ 

اللہ کی طرف اوپر اٹھالئے جا نے والے عیسیٰ نبی اترتے وقت ایسی حالت پیدا ہو نا کوئی حیرت کی بات نہیں۔ 

ساٹی لائٹ کے اس دور میں ہم جی رہے ہیں۔ اس دور میں آسمان سے ایک انسان جب اترتا ہے تو دنیا بھر کے تمام میڈیا اس کی تصویر کھینچ کر ‏ہمارے گھر کے ٹی وی چینل میں دکھا دے گی۔ اس طرح حیرت انگیز طور پر ایک شخص اتر تا ہے تو اس کی حقیقت پر مبنی بات کو دنیا ضرور مان جائے ‏گی۔ 

قرآن مجید میں ایک خبر دی جاتی ہے تو اس کو ہم ہماری ذاتی رائے بتا کر جھٹلانا نہیں چاہئے۔ ’’عیسیٰ کی موت سے پہلے اہل کتاب ان پر ایمان لانے کی ‏حالت پیدا ہوگی‘‘اگر کہا جاتا ہے تو اس سے ہم یہ جان لینا کہ وہ ابھی وفات نہیں پائے ، اس کے لئے کوئی تحقیقات کی ضرورت نہیں۔ 

پہلے ہی سے وفات پا ئے ہوئے ایک شخص کے بارے میں یہ کہا نہیں جا سکتا کہ وہ مرنے سے پہلے یہ واقع ہوگا۔ 

عیسیٰ نبی آئندہ زمانے میں آئیں گے، اس حدیث کو سنانے کے بعدابوہریرہؓ نے یہ بھی کہا کہ تم کو اگر اس میں کوئی شک ہو تو اس آیت کو بھی دیکھو! ‏اس پر بھی ہمیں غور کر نا چاہئے۔

‏(بخاری: 3448)

عیسیٰ نبی نے وفات نہیں پائی، اس کے لئے یہ آیت سند ہے۔ اس سے پہلے کی آیتوں کے ساتھ ملا کر دیکھو تو یہ اور بھی مضبوط ہو جاتی ہے۔ 

اس آیت میں جوترجمہ کیا گیا ہے کہ انہیں گواہی دیں گے ، اس جگہ عربی متن میں علیہ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ 

بعض لوگ کہتے ہیں کہ علیہ کا لفظ اگر کہو تواس کو یہی معنی دینا چاہئے کہ ان کے خلاف گواہی دیں گے ۔اگر اس طرح معنی کریں تو بعض لوگ حجت ‏کر تے ہیں کہ عیسیٰ نبی کو ماننے والوں کے خلاف گواہی دیں گے کا مطلب بھی آسکتا ہے۔ 

اپنے کو ماننے والوں کے خلاف کوئی گواہی نہیں دیگا ۔ان کے خلاف عیسیٰ گواہی دیں گے کے ذریعے ایسا لگتا ہے کہ وہ عیسیٰ نبی کو ماننے کی طرح نہیں ‏مانے۔ اسلئے ان کا دعویٰ ہے اس طرح معنی کر ناغلط ہے کہ سب لوگ آخری زمانے میں عیسیٰ نبی کو مانیں گے۔

علیہ کا لفظ استعمال ہونے کی وجہ سے یہ ضروری نہیں ہے اس کو اس طرح معنی لیں کہ ان کے خلاف گواہی دیں گے۔ اس کو اس طرح بھی معنی لے ‏سکتے ہیں کہ ان کی مناسبت سے گواہی دیں گے۔ 

یعنی مناسبت سے گواہی دینا اور غیر مناسبت سے گواہی دینا، ان دو معانی میں یہ لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔اس اس مقام کے مطابق معنی دینا ہی ٹھیک ‏ہوگا۔ 

مثال کے طور پر اس آیت (22:78) میں مسلمانوں کے بارے میں کہتے وقت بھی اسی لفظ کو استعمال کیا گیا ہے۔ اس جگہ میں ہم یہ معنی نہیں ‏لے سکتے کہ محمد نبی مسلمانوں کے خلاف گواہی دیں گے۔ 

‏2:143، 4:41، 5:113، 16:89، 73:15وغیرہ آیتوں میں بھی اسی طرح کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ ان جگہوں میں ان کے خلاف ‏گواہی دینے کا معانی لینے کے بجائے ان کی موافقت سے گواہی دینے کا معانی لینا ہی مناسب ہوگا۔ 

نیک لوگوں کے بارے میں یہ لفظ استعمال کیا گیا تواس کو یہ معانی لینا چاہئے کہ ان کے مناسبت سے گواہی دیں گے۔ برے لوگوں کے بارے میں ‏اگر یہ لفظ استعمال کیا گیا تو یہ معانی لینا چاہئے کہ ان کے خلاف گواہی دیں گے۔ عیسیٰ نبی پریہود و نصاریٰ نے ٹھیک طریقے سے ایمان لانے کے ‏بارے میں یہ آیت کہنے کی وجہ سے اس کو یہی معانی لینا چاہئے کہ وہ مناسبت سے ہی گواہی دیں گے۔

کیا عیسیٰ نبی وفات پا گئے یا اوپر اٹھالئے جانے کے بعد آخر زمانے میں زمین میں اتر کر وفات پائیں گے ، اس کو جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 93، 101، ‏‏133، 151، 278، 342، 456 دیکھئے!

‏133۔ کیا عیسیٰ نبی صلیب پر چڑھائے گئے؟

‏یہ دونوں آیتیں (4:157,158) کہتی ہیں کہ اللہ نے عیسیٰ نبی کواپنی طرف اٹھا لیا۔

یہ آیتیں انکار کر تی ہیں کہ عیسیٰ نبی صلیب پر چڑھا کر مار دئے گئے ۔ یہ آیتیں یہ بھی کہتی ہیں کہ کوئی آدمی تبدیل ہوجانے کی وجہ سے ایک ‏دوسرے آدمی ہی کو یہودیوں نے قتل کیا۔ 

اس آیت میں جو کہا گیا ہے کہ اوپر اٹھا لیاتو بعض لوگ دعویٰ کر تے ہیں کہ اس کا مطلب ہے رتبہ بڑھادیا۔ یہ غلط ہے۔ 

اگرصرف یہ کہا گیاہوتا کہ انہیں اٹھا لیا گیاتوان کا رتبہ بڑھا دیا کے معنی کے لئے تھوڑا بہت گنجائش تو باقی رہتا۔ لیکن یہاں’ اپنی طرف ‘کا الفاظ بھی ‏شامل کیا گیاہے، اس لئے اس کو اس طرح معنی نہیں کر سکتے۔

‏’’رَفَعَ‘‘ کے لفظ کواگر رتبہ بڑھا دیا گیا کا معنی ہو تا تو عہدہ، تعریف، حیثیت وغیرہ الفاظ بھی اسکے ساتھ شامل ہو نا چاہئے تھا۔ 

قرآن کی اس 19:57 آیت میں ادریس نبی بارے میں اللہ فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں اونچی حیثیت پر بلندکیا۔

لیکن عیسیٰ نبی کے بارے میں اس آیت میں کہتے وقت فرماتا ہے کہ انہیں اپنی طرف اٹھالیا۔ اس کوبراہ راست معنی ہی لینا چاہئے۔ 

نماز میں ہم ہاتھوں کو اٹھاکر باندھتے ہیں۔ اس کو بھی ’’رَفَعَ‘‘ کا لفظ ہی استعمال کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہو تا کہ ہاتھوں کی حیثیت کو ہم نے ‏بڑھا دیا۔ اس کا معنی ہے ہاتھ اٹھانا۔

اس کے بعد کی آیت (4:157) اور عیسیٰ نبی کی موت نہیں ہوئی ، اس کے لئے اور کئی دلائل اس رائے کو ثابت کرتی ہیں۔ 

اس آیت کا مطلب ہے عیسیٰ نبی جسم کے ساتھ ہی اٹھا لئے گئے۔ 

کیا عیسیٰ نبی وفات پا گئے یا اوپر اٹھالئے جانے کے بعد آخر زمانے میں زمین میں اتر کر وفات پائیں گے ، اس کو جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 93، 101، ‏‏134، 151، 278، 342، 456 دیکھئے!  

‎132‎۔ اللہ اور رسولوں کے درمیان تفریق

‏یہ آیتیں (4:150,151,152) کہتی ہیں کہ اسلام کو اور یہ دعویٰ کرنے والوں کو کہ صرف قرآن مجید کافی ہے اور رسولوں کی کسی رہنمائی ‏کی ضرورت نہیں ، رتی برابرتعلق نہیں۔

یہ آیت کہتی ہے کہ ’’ اللہ اوراس کے رسولوں کے درمیان تفریق کر کے چند کو مانیں گے اور چند کو نہیں مانیں گے کہنے والے حقیقت میں مسلمان ‏نہیں ہیں۔ 

یہ آیت جو واضح طور پر کہتی ہے، اس حقیقت کوانکار کر نے کے لئے اس آیت کو بعض لوگ غلط معانی دے رہے ہیں۔قرآن کی چند تامل ترجموں ‏میں اس آیت کوغلط انداز سے ترجمہ کیا گیا ہے۔ اسی کو وہ لوگ اپنے دعوے کو دلیل بتا رہے ہیں۔ 

اللہ کی طرف سے بھیجے گئے تمام رسول برابر ہیں۔ ان کے درمیان کوئی تفریق نہ کریں۔ ان میں سے بعض کو مان کراور بعض کو انکار کرنا نہیں ‏چاہئے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ یہی اس آیت کا مطلب ہے۔

یہ ٹھیک ہے کہ اللہ کی طرف سے بھیجے گئے رسولوں کے درمیان تفریق نہ کر نا چاہئے، اور تمام رسولوں پر ایمان لے آنا چاہئے۔ اس کو قرآن مجید چند ‏جگہوں پر نشادہی کی ہے۔اس طرح کی آیتوں ہی کو یہ تفصیل مناسب ہے، لیکن اس کے سوائے اس آیت کو وہ تشریح بالکل مناسب نہیں ہے۔ 

کیونکہ یہ آیت اس معانی میں ترکیب پائی ہی نہیں کہ اللہ کے رسولوں کے درمیان تفریق نہ کریں۔ 

اگر اس طرح کہا جاتا کہ ’’وَےُرِےْدُوْنَ اَنْ یُّفَرِّقُوْا بَےْنَ رُسُلِہِ‘‘ تو اللہ کے رسولوں کے درمیان تفریق کر نا چاہتے ہیں کا مطلب آسکتا ہے۔ 

لیکن اس آیت میں ’’بَےْنَ رُسلِہِ ‘‘ (رسولوں کے درمیان) کہنے کے بجائے ’’بَےْنَ اللّٰہِ وَرسُلِہِ ‘‘(اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان) کہا گیا ‏ہے۔ 

اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق نہ کرو ، اس جملے کو رسولوں کے درمیان تفریق نہ کرو کا معانی پہنانا جہالت کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے۔ 

چنانچہ یہ آیت یہی کہتی ہے کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق نہ کریں۔ اس کا براہ راست جملہ بھی اسی طرح ترکیب پایاہے۔ 

اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق نہ کریں، اس جملہ کا مطلب بھی ہم ٹھیک طور سے سمجھ لینا چاہئے۔ 

ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان یقیناً تفریق ہے۔ اللہ کی طرح ہم اس کے رسولوں کو نہ سمجھنا چاہئے۔ 

اس کو ایسا نہ سمجھ لیں کہ اللہ کو کئے جانے والے عبادت کی طرح اللہ کے رسولوں کوبھی کرنا ہے۔ اگر ایسا ہو تو اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان ‏تفریق نہ کر نے کا مطلب ہی کیا ہے؟

اس کے لئے ہم زیادہ مشقت کر نے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ کس قسم کی تفریق نہ کر نی ہے، اس کو بھی اللہ نے اسی آیت میں واضح کر دیا ہے۔ ‏‏’’بعض کو مانیں گے اور بعض کا انکار کردیں گے‘‘جو کہتے ہیں اسی کواللہ نے تفریق کہا ہے۔ 

اگر کوئی کہے کہ اللہ کی فرمان کو ہم مانیں گے اور اس کے رسولوں کا کہا نہیں مانیں گے، تو سمجھو کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان ‏تفریق کی۔

یہ ماننا چاہئے کہ اللہ کے رسول جو کہتے ہیں وہ اللہ ہی کا فرمان ہے۔رسول جو کہتا ہے اس کو اگر کوئی انکار کرے تو وہ حقیقت میں انہیں بھیجنے والے اللہ ‏ہی کا انکار کر تا ہے۔ اسی بات کی طرف اللہ نے یہاں اشارہ کیا ہے۔ 

اس طرح تفریق کر نے والوں کا انجام کیا ہے ، اس کو بھی اللہ نے اس آیت میں فرمادیا ہے۔ اس کے بارے میں یہ اعلان کرتا ہے کہ جو آدھا مان کر ‏باقی کو انکار کر کے ایک نیا راستہ ایجاد کرنے کی وجہ سے وہی لوگ حقیقت میں اللہ کا انکار کر نے والے ہیں، انہیں کے لئے ذلت بھرا عذاب ہے۔

یہ کہنے والے کہ قرآن مجید ہی کافی ہے، نبی کریم ؐ کی تشریح کی ضرورت نہیں ، اس آیت کی واضح فیصلے کے مطابق مسلمان نہیں ہیں، بے شک وہ اللہ ‏کا انکار کر نے والے ہی ہیں۔ 

ہم نے تین آیتوں (4:150,151,152) کو پیش کیا ہے۔ان میں سے تیسری آیت کو انہوں نے اپنی رائے کے لئے دلیل سمجھ لیا ہے۔

‏’جو اللہ اور اس کے رسولوں کو مانتا ہو، اور ان میں سے کسی کے درمیان تفریق نہ کر تا ہو ، ان کے لئے ان کا اجر وہ عطا کر ے گا ‘ یہی 152 کی آیت ‏ہے۔ 

ان کا دعویٰ ہے کہ اس آیت میں جو کہا گیا ہے کہ اللہ کے رسولوں کے درمیان تفریق نہ کرو ، اس لئے 150ویں آیت کو بھی اسی طرح معنی لینا ‏چاہئے۔ 

ایک بنیادی بات کو انہوں نے نہیں سمجھا۔ دو قسم کی رائے لینے کی جو آیت جگہ دیتی ہے اس قسم کی آیتوں کو کس طرح کا معنی دیا جائے ، اس کے ‏لئے دوسری آیتوں سے سہارا لینا چاہئے۔ 

جو آیت دو قسم کی رائے کے لئے جگہ نہیں دیتی ہو اس جیسی آیتوں کو دوسری ایک آیت کے سہارے سے تشریح دینے کو سمجھتے ہوئے براہ راست ‏معنی کو انکار نہیں کر نا چاہئے۔ 

‏150ویں آیت میں کہا گیا ہے کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان جو تفریق کر تے ہیں۔ اس میں دو رائے نہیں ہو سکتی۔ اس کا ایک ہی ‏مطلب ہے کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق نہ کریں۔ 

اگر اس کا مطلب یہی ہے کہ ’’رسولوں کے درمیان تفریق نہ کریں ‘‘توایسا ہو جائے گا کہ اس میں اللہ کا لفظ بے ضرورت اور بے کاراستعمال کیا گیا ‏ہے۔ اللہ کے کلام میں اس طرح بیجا الفاظ استعمال ہوا ہے کہنے سے ہم اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔ 

چنانچہ150 ویں آیت کو اس کے مطابق’’ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق نہ کریں‘‘ کا معنی دینا چاہئے، اور 152 ویں آیت کو اس ‏کے مطابق’’ رسولوں کے درمیان تفریق نہ کریں‘‘ کا معنی دینا چاہئے، اس کے سوائے جو نہیں ہے اس کو زبردستی ٹھونسنا نہیں چاہئے۔ 

یہ آیت یہی خبر دیتی ہے کہ اللہ جو کہا ہے یعنی قرآن مجید ہی کو ہم مانیں گے ، اور رسول نے جو کہا ہے یعنی حدیثوں کو نہیں مانیں گے، ایسا کہنا قطعی اللہ ‏کا انکارہے۔ 

قرآن کے احکام کی پیروی کر نے کے ساتھ نبی کریم ؐ کی رہنمائی کی بھی پیروی کرنا چاہئے ، اس کے بارے میں اور زیادہ جاننے کے لئے حاشیہ نمبر ‏‏18، 36، 39، 50، 55، 56، 57، 60، 67، 72، 105، 125، 127، 128، 154، 164، 184، 244، 255، 256، ‏‏258، 286، 318، 350، 352، 358، 430وغیرہ دیکھئے!   

‏131۔ ایک آیت کی تشریح ایک اور آیت

‏اس آیت (4:140) میں کہا گیا ہے کہ اللہ کی آیتوں کا مذاق اڑانے والونکو دیکھو تو انہیں نظر انداز کردو، اسکے ساتھ اللہ نے یہ بھی کہا ہے کہ اسکے ‏بارے میں پہلے بھی تمہیں آگاہ کیا گیا ہے۔ 

اللہ نے جو کہا ہے کہ تمہیں پہلے بھی آگا کیا گیا ہے وہ آیت چھٹویں سورت کی 68ویں آیت ہے۔   

‏130۔ زکوٰۃ ایک ضروری فرض ہے

‏قرآن مجید کی آیت نمبر 9:60 میں جو صدقات کہا گیا ہے وہ زکوٰۃ کے متعلق ہی ہے جو فرض عین ہے۔

عربی متن میں صدقہ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ یہ لفظ ہم جو اپنی چاہت سے خیرات کر تے ہیں اور زکوٰۃ جو فرض عین ہے ، ان دونوں کو بھی کہہ سکتے ‏ہیں۔ لیکن اس آیت میں جو صدقہ کہا گیا ہے وہ فرض عین والی زکوٰۃ ہی ہے۔ 

کیونکہ اس آیت کی آخر میں کہا گیا ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے فریضہ ہے۔ 

ہم خود چاہتے ہوئے جو خیرات کر تے ہیں اس کو ہر بھلائی کے کام میں خرچ کر سکتے ہیں۔ لیکن زکوٰۃ نامی فرض عین کو مخصوص آٹھ طریقے سے ‏خرچ کر نے کو کہا گیا ہے ، اس وجہ سے اس جگہ پر زکوٰۃ ہی مراد ہے جو فرض عین ہے۔ 

اور زیادہ تفصیل کے لئے حاشیہ نمبر 204، 205، 206 وغیرہ میں دیکھئے!  

More Articles …