Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

 ‏‏145۔کسی سے قتل نہ کئے جانے والے سردار

‏اس آیت (5:67) کہا گیا ہے کہ نبی کریم ؐ کو کوئی قتل نہیں کرسکتا۔ 

نبی کریم ؐ نے اس زمانے میں چلنے والے ہر برائی کو بڑے ہمت سے مخالفت کرنے کی وجہ سے بہت زیادہ دشمنوں کو پال رکھا تھا۔ اس لئے انہیں کسی ‏حالت میں مار دینے کے لئے ہر طرح کی کوشش چل رہی تھی۔ 

نبی کریم ؐ نے کسی قلعہ یا حصار میں جا کر چھپے نہیں تھے۔ ایک جھونپڑی ہی میں جی رہے تھے۔ وہاں کوئی دربان نہیں تھا۔ گلیوں میں عام حالت میں ‏چل بھر رہے تھے۔ جان بچانے کی کوئی کوشش بھی اختیار نہیں کیا تھا۔

کسی اصول و آئین میں سمجھوتہ نہیں کیا۔میدان جنگ میں بھی حصہ لے کر قتل کئے جا نے کا موقع دشمنوں کو فراہم کیا تھا۔ پھر بھی انہیں کوئی قتل نہ ‏کرسکا۔

ہر روز پنج وقتہ نماز پڑھانے کے لئے مسجد آکر لوگوں کے مل جل کر رہتے تھے۔

اس وقت کی حالات کے مطابق بالکل آسانی کے ساتھ اگرکسی کو قتل کر نا ہوتو نبی کریم ؐ ہی پہلی صف میں تھے۔ اس کے باوجود قرآن کی پیشنگوئی ‏‏’’اللہ تمہیں بچائے گا‘‘، تکمیل پائی۔

اس طرح للکارنے کو پسپا کر نے کے لئے بھی اگر دشمن انہیں قتل کر دیا ہو تاتو وہ لوگ ثابت کر دئے ہوتے کہ یہ باطل مذہب ہے۔ مگر نہیں ‏ہوسکا۔ 

اگر وہ اللہ کا کلام اور ضمانت نہ ہوتا تو محمد نبی کبھی کے قتل کردئے جاتے۔ وہ قتل نہیں کئے گئے اور فطری طور پر وفات پائی۔ یہ بھی ایک سند ہے کہ ‏قرآن مجید اللہ ہی کا کلام ہے۔ 

مجھے کوئی قتل نہیں کر سکتا ، یہ کہہ کر آج کی اس دنیا میں کوئی عام طور سے چل پھر نہیں سکتا۔ وہ بھی باطل طاقت کے خلاف لڑنے والے اگر اس ‏طرح کہہ دے تو وہ اسی دن مارے جاتے۔ 

اس وقت کے ماحول میں محمد نبی جیسے بالکل معمولی طورپر کسی طرح کی حفاظت یا انتظام کے بغیر لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہنے والے ایک شخص ‏کو آسانی کے ساتھ قتل کرسکتے تھے۔ پھر بھی یہ کہہ کر مجھے کوئی قتل نہیں کر سکتا،نبی کریم ؐ نے یہ ثابت کرکے دکھا دیا کہ یہ اللہ کا فرمان ہے۔ ‏

‏144۔ دوسری چیزوں کو قبول کر نے والا رحم

‏یہ آیتیں (13:8، 22:5) ایک بہت بڑیبڑی سائنسی حقیقت کو اجاگر کرتی ہے۔ 

عام طو رسے انسانی جسم کو ایک خاصیت ہے۔ اس میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ اپنے اندر غیر چیزوں کو قبول نہیں کرتا۔ اس کے لئے ایک مثال ‏آنکھوں کو اٹھا لیجئے۔ آنکھوں میں کوئی دھول پڑجائے تو اس کو کسی طرح نکال باہر کے نے کی وہ کوشش کرے گی۔ 

اسی طرح عورتوں کی رِحم بھی ہے۔ پھر بھی رِحم کی تھیلی غیر جانوں کو اپنے اندر سما لیتی ہے۔ کئی مہینے اس کو پرورش کر نے کے بعد اچانک اس کو باہر ‏کر نے کی کوشش کرتی ہے۔ اس طرح کوشش کرتے وقت رِحم کی تھیلی سکڑ کر پھیلتی ہے۔ اسی وجہ سے زچگی کا درد پیدا ہوتا ہے۔ اسی بات کو یہ ‏آیت کہتی ہے۔ 

اس جملے پر خاص طور سے غور کرنا چاہئے کہ ’’ہر چیز ایک مقررہ مدت تک اس کے پاس رہتی ہیں۔ ‘‘ فطرت کے خلاف غیر چیزکو اختیار کی ہوئی ‏رِحم کی تھیلی ایک مقررہ وقت آنے کے ساتھ کیوں اس کو باہر کرتی ہے، یہ بات آج تک کسی کے سمجھ میں نہیں آئی۔ 

اس سوال کا بھی آج تک جواب نہ مل سکا کہ ایک غیر چیزکو رِحم کی تھیلی کئی مہینوں تک کیسے قبول کر لیا؟ 

فطرت کے خلاف اللہ نے اپنی قدرت کو استعمال کر کے ایک مقررہ مدت معین کر تا ہے۔ اسی میعاد کے مطابق ایک طویل عرصہ تک ایک غیر چیز ‏کو رِحم کی تھیلی بار اٹھاتی ہے، اسی بات کو یہ جملہ تشریح کرتا ہے۔ 

اگر ہڈیاں ٹوٹ جاتی ہیں تو اسٹیل کے پترا رکھتے ہیں۔ وہ باہر نہیں آتیں۔ یہ تو غیر چیزوں کو جسم قبول کر تی ہے کے لئے دلیل ہے۔سوال اٹھے گا کہ ‏یہ کیسے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کھال کو اس طرح سیا جا تا ہے کہ وہ باہر نہ آسکے۔ اگر ایسا نہ ہوتو جو کچھ اندر رکھا جاتا ہے اس کو جسم باہرڈھکیل دے ‏گا۔ 

قرآن مجید اللہ ہی کاکلام ہے، اس کے لئے کئی دلیلوں میں سے یہ بھی ایک دلیل ہے۔ 

 ‏143۔ حفاظت میں ہے قرآن

‏اس آیت(15:9) میں کہا گیا ہے، اللہ فرماتا ہے کہ قرآن مجید کے ہم ہی محافظ ہیں۔ 

قرآن مجید جس زمانے میں نازل ہوا اس زمانے کے لوگ اور اس کو قبول کر نے والے لوگ زیادہ تر ان پڑھ تھے۔ مزید یہ کہ اس زمانے میں لکھ کر ‏رکھنے کا ذریعہ تختیاں، چوڑے ہڈیاں اور کھال وغیرہ استعمال کیا جاتا تھا۔ 

ایسے ایک زمانے میں 23 سالوں میں تھوڑا تھوڑا سا جو قرآن اترا آج چودہ سو سال گزرنے کے باوجود بحفاظت موجود ہے۔ کسی قسم کے ردو بدل ‏کے بغیر ایسے ہی موجود ہے۔ جس زبان میں نازل ہوا اسی زبان میں حفاظت کیا جارہا ہے۔ 

لیکن کوئی نہیں قیاس کر سکتا کہ قرآن نازل ہونے والے زمانے میں رہنے والے لوگ اس قرآن کو حفاظت کر سکتے ہیں۔

کوئی یہ خیال ہی نہیں کر سکتا کہ بالکل کمزوری کی حالت میں، دشمنوں کے ذریعے کئی طریقوں سے مشکلوں کا سامنا کر نے کی حالت میں اور ‏ناخواندگی کی حالت میں رہنے والا ایک سماج اپنے کو عطا ہونے والے تعلیم کو پوری طریقے سے حفاظت کر ے گا۔ 

لیکن اس آیت میں اللہ یقین دلاتا ہے کہ اس کو ہم ہی نے نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت بھی کریں گے۔ 

قرآن کریم کے پہلے بھی اور بعد بھی تشکیل پائے گئے کئی کتابیں نیست و نابود ہوگئے۔ پر قرآن کریم تو جس طرح نازل ہوااسی طرح اب بھی ‏بحفاظت قائم ہے۔ یہ بھی ایک دلیل ہے کہ یہ اللہ ہی کاکلام ہے۔

قرآن مجید کس طرح حفاظت کیا گیا ، اس کو ہم نے مقدمہ میں تشریح کی ہے۔

 ‏‏142 ۔ قرآن نے حیرت میں ڈال دیا

‏نبی کریم ؐ نے قرآن کویہ کہہ کر تعارف کرایا کہ یہ اللہ کے طرف سے آیا ہوا پیغام ہے تو اس کی اعلیٰ ترین انداز اورلکھنا پڑھنا نہ جاننے والے نبی کریم ؐ ‏کی حیثیت کو موازنہ کر کے ان کے دشمنوں نے پکا فیصلہ کر چکے کہ یہ ہرگز محمد کی قول نہیں ہو سکتی۔ اتنی اعلیٰ پیمانے پر وہ اس کو اختراع نہیں کر سکتے ‏تھے۔ 

قرآن مجید میں عیب لگانے یا اس کے معیار کو تنقید کر نے دشمنوں سے نہیں ہوسکا۔اس لئے انہوں نے اس طرح تبصرہ کر نے لگے کہ ’’محمد کو کوئی ‏آدمی اس قرآن کو پوشیدگی سے سکھلارہا ہے۔‘‘

قرآن مجید کتنی بلند اور اعلیٰ مقام پر ہے، اس کے لئے ان کی یہ تنقید ایک زبردست دلیل ہے۔ 

اس تنقید ہی کو یہ آیت (16:103) انکار کرتی ہے۔ 

دشمنوں نے جو کہاکہ جو انسان نبی کریم ؐ کوپوشیدہ طور پرقرآن مجید سکھلایا اس انسان کی مادری زبان عربی نہیں ہے۔ ان کی زبان عربی نہیں عجمی ‏زبان ہے۔ عجمی زبان کے مادری زبان والے عربی زبان میں بہت ہی اعلیٰ درجہ کے قرآن مجید کو کس طرح تشکیل دے سکتے ہیں؟ اس طرح سوال ‏اٹھا کر ان کی جہالت کو قرآن مجیدنے آشکارا کردیا۔ 

صرف 16:103 آیت ہی میں نہیں بلکہ 25:5 آیت میں بھی اس طرح کی تنقید کو جواب دیا گیا ہے۔ 

 ‏141۔ وسیلہ کیا ہے؟ 

‏اس (5:35) آیت میں کہا گیا ہے کہ اللہ کی طرف ایک وسیلہ تلاش کرو۔

وسیلہ کا مطلب ہے ایک ذریعہ۔کہا جاتا ہے کہ سمندر میں سفر کر نے کے لئے جہاز ایک وسیلہ یعنی ایک ذریعہ ہے۔ 

اللہ سے قربت حاصل کر نے کے لئے قرآن کہتا ہے کہ نماز اور صبر وغیرہ دیگر عبادتیں ذریعہ ہیں۔ ایک شخص کے ذریعے اللہ سے قریب ہونے ‏کے بارے میں کہیں نہیں کہا گیا ہے۔ وسیلہ کا مطلب درمیانی دلال بھی نہیں ہے۔ 

اللہ سے اگر کچھ مانگنا ہو تو اس کے احکام پر چل کر اس کے لئے عبادت ادا کر کے مانگنا چاہئے۔ اسی اچھے عمل کو ذریعہ بنا نا چاہئے۔ اس آیت کا مطلب ‏یہی ہے، اس کے سوائے نیک لوگوں کی قبر پر جا کر ان سے مانگنا نہیں ہے۔ 

اس کو اور اچھی طرح سمجھنے کے لئے اسی آیت میں دلیل موجود ہے۔ آئیے دیکھیں!

یہ آیت اے ایمان والوسے شروع ہوتی ہے۔ اس میں نبی کریم ؐاور اصحاب رسول کے ساتھ آخری زمانے تک آنے والے تمام مسلمان شامل ہیں۔ 

تمام مسلمانوں کے لئے اس آیت میں اللہ نے تین احکام پہنچایا ہے۔ 

پہلا حکم اللہ سے ڈرو ۔ یہ حکم صرف ہمارے لئے ہی نہیں بلکہ نبی کریم ؐ بھی اس حکم کے مطابق اللہ سے ڈرنا چاہئے، اسی طرح وہ ڈرتے بھی تھے۔ 

دوسرا حکم اللہ کی قربت کے لئے وسیلہ مانگو۔یہ حکم بھی تمام مسلمانوں کے لئے ہے۔ 

وسیلہ کا مطلب اگر نیک عمل لیا جائے تو نیک عمل کرو کے حکم کو نبی کریم ؐ نے ہمارے سے بہتر طریقے میں ادا کیا تھا، اس لئے وہ مناسبت رکھا ہے۔ 

اگروسیلہ کا مطلب بزرگوں کو تھام لو لیا گیا تو یہ حکم نبی کریمؐ اور دیگر نیک بندوں کے حق میں مناسبت نہیں رکھتا۔

‏’اے محمد! اللہ کی وسیلہ تلاش کرو‘ یعنی اس کایہ مطلب لیا جائے کہ ایک بزرگ کو تلاش کرو تو نبی کریمؐ نے کس بزرگ کو وسیلہ بنایا تھا؟ اس ‏سوال کو وہ لوگ جواب دیں۔ 

یہ لوگ جس بزرگ کی وسیلہ تلاش کر تے ہیں اس بزرگ کے لئے بھی یہ حکم ہے۔ ان بزرگوں نے کس بزرگ کو وسیلہ بنایا؟ اگر وہ کسی کو وسیلہ ‏نہیں بنایا تو کیا انہوں نے اس حکم سے تجاؤذ کر گئے؟ 

اس لئے وسیلہ کے لئے اگر درمیانی دلال کا معنی دیا جائے تو وہ بیکار بکواس کے سوا اس کا کوئی مطلب ہی نہیں ہوگا۔

ہم ایک آدمی سے مدد چاہنے کے لئے جاتے ہیں۔ان سے ایسا سوال کر نا کہ میں نے تمہاری ہر حکم کی بجا آوری کی ہے، تو کیا تم میری مدد نہیں ‏کروگے؟ کچھ معنی رکھتا ہے۔ 

اگر اس طرح مانگا جائے کہ ’’ابراھیم نے تمہاری بات پر چلا تھا ، اس لئے میری مدد کرو ‘‘ تووہ ہمیں پاگل ہی سمجھے گا۔ وہ کہے گا کہ ’’ابراھیم اگر ‏میری بات پر چلے گا تو میں اسی کی تو مدد کروں گا۔ وہ نیک بندہ ہونے کی وجہ سے میں تمہیں کیوں مدد کروں؟ ‘‘

‏’’اس کی خاطرمجھے عطا کر‘‘اس طرح اللہ سے ہم مانگنا بھی اسی طرح کی ایک بکواس ہے۔ 

‏’’نبی کریم ؐ کے واسطے سے مجھے عطا کر‘‘ اس طرح ہم اللہ سے مانگیں تو کیا اللہ کو غصہ نہیں آئے گا؟ کیا وہ نہیں پوچھے گا کہ ’’نبی کریم کے واسطے سے ‏میں تمہیں کیوں دوں؟‘‘ وہ سمجھتے ہیں کہ ایک سادہ لوح انسان کو جو معلوم ہے وہ بھی اللہ نہیں جانتا۔ 

ایک انسان نیک ہے ، اس کو دکھا کر دوسرا ایک انسان مدد مانگتا ہے تو اس سے زیادہ بیوقوفی دوسرا کچھ نہیں ہوسکتا۔ اس طرح کسی سے اگر کوئی پوچھے ‏تو اس کو غصہ آجائے گا۔ مگر اللہ سے کوئی اس طرح مانگا تو کیا اللہ کو غصہ نہیں آئے گا؟ اس سے زیادہ اللہ کی عظمت کو گھٹانے والا عمل اور کیا ہوسکتا ‏ہے؟ 

نبی کریم ؐ سے سبق حاصل کر نے والے اصحاب رسول نبی کریم ؐ کے قبرپر جا کر وسیلہ نہیں مانگا۔ نبی کریم ؐ کی خاطر سے اللہ سے انہوں نے دعا نہیں ‏مانگی۔ 

‏’اس لئے وسیلہ تلاش کرو‘ کے اللہ کے اس حکم کواگر ٹھیک سے سمجھ گئے تو وہ لوگ اس طرح بحث نہیں کریں گے۔ اور سمجھ جائیں گے کہ یہ اللہ کی ‏عظمت کو گھٹانے والا عمل ہے۔ 

درمیانی دلالوں کو سراسر مٹانے کی طرح ترکیب پانے والی اس آیت کو اسطرح الٹا سمجھ بیٹھے ہیں کہ درمیانی دلالوں کو قائم کر لو۔

ایک اور آیت (17:57)بالکل واضح طور پر کہتی ہے کہ بزرگ لوگ بھی وسیلہ تلاش کر تے ہیں۔یہ آیت ثابت کر تی ہے کہ وسیلہ کا مطلب ‏نیک اعمال ہی ہیں۔ 

پیدائشی طور پر ہر انسان برابر ہے۔ نیک چلن ہی سے ایک انسان دوسرے انسان سے بلندی حاصل کر سکتا ہے۔ اسلام کی اس مساوات اور بھائی ‏بندی کو جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 11، 32، 49، 59، 168، 182، 227، 290، 368، 508وغیرہ دیکھیں۔

درگاہ پرست عبادت کو روا رکھنے والوں کے دیگر دعوے کس طرح غلط ہیں، اس کو جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 17، 41، 49، 79، 83، 100، ‏‏104،121، 122، 140، 193، 213، 215، 245، 269، 298، 327، 397، 427، 471 وغیرہ دیکھئے! 

‏140۔ کیا رسول فضل کر سکتے ہیں؟

ان آیتوں(9:59، 9:74) میں جو کہا گیا ہے کہ اللہ اور اس کارسول اس کے فضل کو عطا کر یں گے، اس کو بعض لوگوں نے غلط سمجھ لیا ہے۔ 

ان لوگوں کا خیال ہے کہ نبی کریم ؐ بھی لوگوں کو دولت عطا کر نے کا اختیار رکھتے ہیں اور وہ بھی اللہ ہی کی طرح عطا کرینگے، یہ غلط ہے۔

کیونکہ ان آیتوں (2:245، 13:26، 16:71، 17:30، 28:82، 29:17، 29:62، 30:37، 34:36، 34:39، ‏‏39:52، 42:12) میں اللہ فرماتا ہے کہ میں جسے چاہتا ہوں اس کو دولت عطا کروں گا۔

اور آیت نمبر 6:50 کہتی ہے کہ نبی کریم ؐ کو اللہ نے حکم دیا، اعلان کر دوکہ اللہ کا خزانہ میرے پاس نہیں ہے۔ 

نبی کریم ؐ نے اپنے خود کو بھی مالدار بنا نہیں سکے۔اپنے صحابیوں میں کئی جو غریبی میں لوٹ رہے تھے انہیں بھی وہ دولت مند نہیں بنا سکے۔ 

اس لئے ان آیتوں کو اور نبی کریم ؐ کی رہنمائی کو اختلاف کئے بغیر ان آیتوں(9:59، 9:74) کو سمجھ لینا چاہئے۔ 

نبی کریم ؐ صرف اللہ کے رسول ہی نہیں بلکہ اسلامی حکومت کے سربراہ بھی ہیں۔سربراہ کی حیثیت سے حکومت کے خزانہ سے غریبوں کو عطا کر نے ‏کا فرض بھی انہیں تھا۔ اسی کو یہ آیت کہتی ہے۔ 

آج بھی حکومت میں بااختیار رہنے والے غریبوں کو اگر خوب عطا کر ے تو ان کے بارے میں کہا جا تا ہے کہ غریبوں کو خود کفیل بننے کی حد تک عطا ‏کر نے والے۔ 

ہر کسی کے لئے استعمال ہو نے والے، ایک معمولی سا معنی والے اس لفظ کو کج روی سے تشریح نہ کر نی چاہئے۔ 

یہ دعویٰ کر کے کہ نبی کریم ؐ اللہ کی طرح دولت عطاکر نے والے ہیں ، اسی طرح بزرگ لوگ بھی عطا کرتے ہیں کہہ کر اور بھی زیادہ گمراہی ‏پھیلاتے ہیں۔ اس کے لئے یہ آیت سد باب ہے۔ 

درگاہ پرست عبادت کو روا رکھنے والوں کے دیگر دعوے کس طرح غلط ہیں، اس کو جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 17، 41، 49، 79، 83، 100، ‏‏104،121، 122، 141، 193، 213، 215، 245، 269، 298، 327، 397، 427، 471 وغیرہ دیکھئے! 

‏139۔ مال جمع کر نا گناہ نہیں

‏اس آیت (9:34) میں آگا ہ کیا گیا ہے کہ مال جمع کر نے والوں کو سخت سزا دی جائے گی۔ 

یہ آیت زکوٰۃ فرض ہو نے سے پہلے کی حالات کی ہے۔ زکوٰۃ فرض ہو نے کے بعد مال جمع کر نے والے اس کی مناسبت سے اگر زکوٰۃ ادا کردیں تو ان پر ‏آخرت میں کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ اس طرح حدیثوں کی کتابوں میں کہا گیا ہے۔ (دیکھئے بخاری:1404)

قرآن مجید کی مختلف آیتیں مال جمع کر نے اور اکٹھا کر نے ترغیب دلاتی ہیں۔ اس کو 4:29، 4:32، 4:34، 9:103، 16:71، 17:6، ‏‏33:27، 62:10، 71:12، 73:20وغیرہ آیتوں میں دیکھیں۔

‏138۔ اہل کتاب کی عورت سے نکاح

‏یہ آیت(5:5) کہتی ہے کہ اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کر سکتے ہیں۔ 

اس کا براہ راست معنی، کتاب پر ایمان لانے والے سب لوگ ہیں۔ پھر بھی قرآن کریم یہود و عیسائی کو ہی اہل کتاب کہتا ہے۔ 

یہ نہ سمجھ لینا کہ عام طور پر یہود و عیسائی ہی کی طرف یہ اشارہ کر تی ہے۔ کیونکہ عیسیٰ نبی اور یہودیوں کی طرف بھیجے گئے تمام رسول اسرائیلی قوم کی ‏طرف ہی بھیجے گئے۔ تورات اور انجیل وغیرہ کتاب بھی اسرائیلوں ہی کو دی گئیں۔ اس کو 3:49، 5:72، 7:105، 7:134، 7:138، ‏‏10:90، 17:2، 17:101، 20:47، 20:94، 26:17، 32:23، 40:53، 43:59، 61:6 وغیرہ آیتوں میں دیکھیں۔

یہ آیتیں (3:49، 5:72، 43:59، 61:6)کہتی ہیں کہ عیسیٰ نبی نے کہا کہ اسرائیلوں ہی کی طرف میں بھیجا گیا ہوں۔ 

جو غیر اسرائیل تھے اگر وہ یہود یا عیسائی میں بدل گئے ہوں تو وہ اہل کتاب نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ تورات اور انجیل وغیرہ کتابیں ان کے لئے نہیں دیا ‏گیا۔ 

دھیان میں رکھیں کہ نبی کریم ؐ سارے عالم کے لئے نبی بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ دوسرے سارے نبی ایک مقررہ لوگوں کے لئے اور ایک خاص قوم کے ‏لئے بھیجے گئے تھے۔ 

غیر اسرائیلی یہودو عیسائی کے لئے وہ کتابیں عطا نہ ہو نے کی وجہ سے وہ لوگ اللہ کی نظر میں اہل کتاب نہیں ہوسکتے۔اس لئے اس کا مطلب ہو گا، ‏اسرائیلی عورتوں سے نکاح کر سکتے ہیں۔لیکن غیر اسرائیلی یہود و عیسائی کے عورتوں سے نکاح کر نے کی اجازت نہیں۔

اور زیادہ معلومات کے لئے حاشیہ نمبر 27، 137 دیکھیں۔

More Articles …