Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

‏‏153۔ فرشتوں کو بھیجنا، اس کا مطلب

فرشتوں کو پیدا کر کے اللہ نے ان کے لائق کاموں کو سونپ دیا۔ قرآن مجید کئی جگہوں میں کہتاہے کہ پہلے ہی سے مقرر کاموں کے لئے فرشتے زمین ‏کو آتے جاتے رہتے ہیں۔ 

ان کاموں کے علاوہ بھی برے لوگوں کو ہلاک کر نے کا ارادہ جب اللہ کر تا ہے تواس کے لئے بھی فرشتوں کو بھیجتا ہے۔ وہ فرشتے اللہ کے حکم کے ‏مطابق ہلاک کر دیتے ہیں۔ اسی بات کو یہ آیتیں 2:210، 6:8، 6:158، 15:8، 16:33کہتی ہیں۔ 

‏152۔ قرآن مجید تحریری انداز میں نہیں اتارا گیا

‏بعض مسلمان کہتے ہیں کہ قرآن مجید تحریر ی انداز میں اتارا گیاہے۔

قرآن مجید نبی کریم ؐ پر تحریری انداز میں اتارا گیا ، اس طرح کہنے والوں کے لئے یہ آیتیں 2:97، 4:153، 6:7، 7:157، 7:158، ‏‏20:114، 25:5،195، 26:194،، 29:48، 75:16، 75:18، 87:6 انکار کرتی ہیں۔ 

آیت نمبر 6:7 میں کہا گیا ہے کہ’ ’اگر ہم تحریری انداز میں بھی دیتے تو یہ لوگ نہیں مانیں گے‘‘، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ تحریری انداز میں ‏نہیں اتارا گیا۔ 

آیت نمبر 4:153کہتی ہے کہ اہل کتاب تم سے پوچھتے ہیں، آسمان سے تم ان کے لئے ایک کتاب اتاریں۔اس زمانے کے لو گ یہ پوچھنے سے کہ ‏تحریری انداز میں ایک کتاب آسمان سے اترنا چاہئے ، اس سے کسی شک و شبہ کے بغیرہم جان سکتے ہیں کہ وہ تحریری انداز میں نہیں اتارا گیا۔ 

یہ آیتیں (2:97، 26:194) کہتی ہیں کہ یہ کتاب تحریری انداز میں نہیں اتارا گیا، بلکہ جبرئیل نامی فرشتے کے ذریعے نبی کریم ؐ کے دل میں ‏اتارا گیا ہے۔ 

یہ آیتیں 75:16-19 کہتی ہیں کہ تم اپنی زبان کواس کے لئے جلدی جلدی حرکت نہ دو۔اس کو جمع کر نا اور سنانا ہمارا ذمہ ہے۔ پس جب ہم اس ‏کو سنائیں تو تم اس سنانے کی پیری کرو۔ پھر اس کو واضح کر دینا ہمارا ذمہ ہے۔

اگر جبرئیل ؑ قرآن کو تحریر میں دیتے تو نبی کریمؐ اس کو جلد جلد یاد کرنے کی کوشش نہ کرتے۔ جبرئیل ؑ جانے کے بعد ان کی دی ہوئی چیز کو پڑھاکر ‏دل میں اتارلئے ہوتے۔ 

تحریری انداز میں نہ رہنے کی وجہ سے یہ سمجھ کرکہ کہیں بھول نہ ہو جائے نبی کریم ؐ نے اپنی زبان کو جلد جلد حرکت دینے لگے۔یہ آیت کہتی ہے کہ ‏اس طرح عجلت سے حرکت دینے کی ضرورت نہیں، تمہارے دل میں اس کو پیوسط کر نے کو اللہ نے ذمہ لیا ہے۔

تحریری انداز میں قرآن مجید نازل ہی نہیں ہوا، اس کے لئے یہ بھی ایک دلیل ہے۔ 

آیت نمبر 87:6,7 کہتی ہیں کہ ہم تمہیں پڑھ کر سنائیں گے، اسے تم نہیں بھولوگے، سوائے اللہ کی مرضی کے۔ظاہر بھی اور پوشیدہ بھی وہ جانتا ‏ہے۔ 

ہم تمہیں پڑھ کر سنائیں گے، یہ جملہ کہتا ہے کہ قرآن مجید تحریری انداز میں نازل نہیں ہوا۔ تم اس کو بھول نہ پاؤگے کا جملہ مزید اس کو استوار کرتا ‏ہے۔ بھول نہ پانے کی یادداشت عطا ہو نے کی وجہ سے انہیں تحریری اندازکی ضرورت نہیں، یہ بات بھی اس میں شامل ہے۔ 

چنانچہ کسی شک کے بغیر ثابت ہو تا ہے کہ قرآن مجید تحریری انداز میں نازل ہی نہیں کیا گیا۔

نبی کریم ؐ لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے، اس بات کوقرآن نے کئی آیتوں میں واضح کیا ہے۔ 

اس کے بارے میں جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 312 دیکھئے!‏

‏‏151۔ عیسٰی نبی زندہ اوپر اٹھالئے گئے

آخرت کے سوالات

آخرت میں عیسیٰ نبی سے پوچھے جانے کے بارے میں اور وہ جواب دینے کے بارے میں یہ آیتیں (5:116-118)کہتی ہیں۔

اس آیت میں جو ترجمہ کیا گیا ہے کہ ’’جب تو نے مجھے اٹھالیا‘‘ ، اس کو عربی میں ’’ تَوَفَّےْتَنِیْ ‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ 

کیا اس لفظ کو یہ معنی لینا چاہئے کہ ’’جب تو نے مجھے وفات دی‘‘؟ یا ’’جب تو نے مجھے اٹھالیا؟‘‘اس میں اختلاف رائے ہے۔

بعض لوگ اس کو’’جب تو نے مجھے وفات دی‘‘کا معنی دے کر عیسیٰ نبی وفات پاگئے کے لئے اس آیت کو دلیل ثابت کر تے ہیں۔عیسیٰ نبی نے کہا ‏کہ تو نے مجھے وفات دینے کے بعد ان کی کارروائی کے لئے تو ہی ذمہ دار ہے۔ ان لوگوں کا دعویٰ ہے کہ عیسیٰ نبی کی وفات کے لئے یہی دلیل ہے۔ 

تَوَفّٰی کا لفظ قرآن مجید میں 25جگہوں میں استعمال ہوا ہے۔ اس میں سے 23 جگہوں میں وفات پانے کے معنی میں ہی استعمال ہوا ہے۔ اس لئے ان ‏لوگوں کا دعویٰ ہے کہ اس آیت میں بھی اسی طرح معنی لینا چاہئے۔

ان کا یہ دعویٰ بالکل غلط ہے۔ ان کے دعوے ہی میں اس کا انکار موجود ہے۔ 

انہیں کے دعوے کے مطابق23 جگہوں میں وفات پانے کا معنی آجانے کے باوجود دوجگہوں میں اٹھا لیا کے معنی استعمال کیا گیا ہے۔ اگرفرض کرو ‏کہ ان کا دعویٰ ٹھیک ہے تو 23 جگہوں میں جو معنی لیا گیا ہے اسی کو ان دونوں جگہوں میں بھی لیا جانا چاہئے تھا۔

کس کس جگہ میں کون سی معنی موزوں ہے ، اسی کی طرف دھیان دینا چاہئے ، اس کے سوا اکثریت کی بنیاد پر ہر جگہ کے لئے ایک ہی معنی کو لینا قابل ‏قبول نہیں ہے۔ انہیں کا دعویٰ یہاں پر بطور دلیل پیش کیا جاتاہے۔ 

تَوَفّٰیکابراہ راست معنیٰ ہے پوری طرح سے اٹھا لینا۔وفات پاجانا براہ راست معنی نہیں ہے۔ 

موت کے ذریعے انسان پوری طرح سے اٹھالیا جا تا ہے، اس لئے وفات پانے کے لئے اس لفظ کے ذریعے ذکر کرنا عام ہوگیاہے۔ 

قرآن مجید میں 2:234، 2:240، 3:55، 3:193، 4:97، 6:61، 7:37، 7:126، 8:50، 10:46، 10:104، ‏‏12:101، 13:40،16:28، 16:32، 16:70، 22:5، 32:11، 40:67، 40:77، 47:27 وغیرہ آیتوں میں وفات ‏پانے کے معنی میں اس لفظ کو استعمال کیا گیا ہے۔ 

وہی تمہیں رات میں قبض کر لیتا ہے (قرآن 6:60)۔اس آیت میں وہی لفظ جگہ پانے کے باوجود اس کی معنی یہاں وفات دینا نہیں ہے۔ نیند میں ‏ایک شخص کو اٹھالینا ہی اس کا مطلب ہے۔ 

انہیں موت اپنی قبضے میں کر نے تک گھرمیں روکے رکھو۔(4:15)

اس آیت میں جگہ پائی ہوئی تَوَفّٰی کے ساتھ موت کابھی استعمال کیا گیا ہے۔اس لفظ کومرنے تک کا اگر معنی ہو تو اس کا مطلب ہو گا کہ موت اس کو ‏موت کے قضہ میں لینے تک۔ مگرمرنے تک سے اس کا مطلب پورا ہوجاتا ہے، اس لئے موت اس کو موت کے قبضہ میں لینے تک کہنے کی ضرورت ‏نہیں۔ 

اگر اس کو قبضہ میں لینا معنی لیں تو موت اس کو قبضہ میں لینے تک کا معنی ہو گا۔ اس لئے موت اس کو قبضہ میں لینے تک ہی اس جگہ میں اس کا سہی معنی ‏ہوگا۔ 

روحوں کووفات پاتے وقت اورجو وفات نہ پائے ہوں ان کی نیند کے وقت اللہ ہی قبض کر تا ہے۔ (39:42)

اس آیت میں بھی تَوَفّٰی کا لفظ استعمال ہوا ہے۔اگراس کو یہ معنی لیں کہ نیند کے وقت روحوں کو موت دیتا ہے تو یہ نامناسب مطلب ہی نکلے گا کہ ‏سونے والے مرگئے۔ 

نیند کے وقت روحوں کو اٹھالیتا ہے، اپنے قبضہ میں لے لیتا ہے، اسی طرح اس جگہ میں ہم معنی لیتے ہیں۔ موت دیتا ہے کا معنی نہیں لیتے۔

اس کے سوا ان آیتوں 2:281، 3:161، 3:185، 16:111میں جو کہا گیا ہے کہ آخرت میں پوری طرح سے اجر دیا جائے گا ، اس میں ‏بھی یہی لفظ استعمال کیا گیا ہے۔اس کو یہی معنی دیا جانا چاہئے کہ پوری طرح سے اجر دیا جائے گا ۔ اس طرح معنی نہیں لے سکتے کہ آخرت میں انہیں ‏مرایا جائے گا۔ 

اس لفظ کو موت دینا، قبضہ میں کر نااور پوری طرح دینا وغیرہ معنی موجود ہیں۔جس جگہ میں جو معنی مناسب ہے اس جگہ میں اسی مناسبت سے معنی ‏دینا ہے۔ 

اس کو اور زیادہ واضح طور پر جاننے کے لئے ہم صلوٰۃ کے لفط کو غور کر سکتے ہیں۔ 

صلوٰۃ کے لفظ کا براہ راست معنی ہے دعا۔ نماز کی طرف اشارہ کر نے والا صلوٰۃ کا لفظ اور اس میں سے پیدا ہو نے والے الفاظ قرآن مجید میں 109 ‏جگہوں میں استعمال کیا گیا ہے۔ اس میں سے 102 جگہوں میں نماز کے لئے اور 7 جگہوں میں لغات کے معنی کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ اس طرح ‏بے شمار الفاظ موجود ہیں۔ 

اب آئیے دیکھیں کہ آیت نمبر 5:117 میں تَوَفّٰی کا لفظ جو استعمال ہوا ہے اس کو کس طرح معنی دیں۔

عیسیٰ نبی سے اللہ نے جب دریافت کیا تو انہوں نے جو جواب دیااس جگہ میں تَوَفّٰی کے لفظ کو قبضہ میں کر لیناہی معنی دینا چاہئے۔ اس کے لئے یہ دلیل ‏ہے۔ 

عیسیٰ نبی ایسا نہیں کہیں گے کہ ’’جب تک میں زندہ رہا انہیں میں دیکھ رہا تھا۔جب تو نے مجھے اٹھالیا تو تو ہی ان کا ذمہ دار ہے۔ ‘‘

وہ یہی کہیں گے کہ ’’جب میں ان کے ساتھ رہا تو میں دیکھ رہا تھا۔جب تو نے مجھے اٹھالیا تو توہی ان کا ذمہ دار ہے۔‘‘

‏’جب میں زندہ رہا‘ کہنا اور ’جب میں ان کے ساتھ رہا‘ کہنے میں جو فرق ہے اس پر ہم غور کر نا چاہئے۔ 

‏’میں جب زندہ رہا ‘ کہنے کے بعد اگر وہ کہے فَلَمَّا تَوَفَّےْتَنِیْ توہم اس جگہ میں یہی مطلب اٹھا سکتے ہیں کہ ’جب تم نے مجھے وفات دی‘۔ لیکن اللہ نے ‏ان الفاظ کو نظر انداز کر کے ’جب میں ان کے ساتھ رہا‘ کا بالکل نئے انداز کا لفظ استعمال کیا ہے۔

‏’میں جب ان کے ساتھ رہا تو انہیں نگرانی کر رہا تھا‘ اس جملہ میں دو خبریں موجود ہیں۔ایک یہ کہ عیسیٰ نبی زندہ رہ کر لوگوں کے نگراں رہیں گے ۔ ‏اور دوسری خبر یہ کہ اگر عیسیٰ نبی زندہ رہیں تو بھی لوگوں کونگرانی کر نے کے قابل نہ رہیں گے۔ 

ایسی دو حالت رہنے کی وجہ ہی سے انہوں نے کہا کہ ’’میں جب ان کے ساتھ رہا تو ان کی نگرانی کر رہا تھا۔جب میں اوپر اٹھالیاگیااور ان کے ساتھ نہ ‏رہا، دوسری جگہ رہا تو اس وقت میں کیسے ان کی نگرانی کر سکتا تھا؟ 

‏’’جب میں ان کے ساتھ رہا تو میں ان کی نگرانی کر تا تھا، فَلَمَّا تَوَفَّےْتَنِیْ (جب تو نے مجھے اٹھالیا)یعنی ان کے ساتھ نہ رہ کر دوسری جگہ پر تو نے مجھے اٹھا ‏لینے کے بعد تو ہی تو ان کا نگراں تھا‘‘ اس طرح معنی دینے سے پہلے کا جملہ موزوں ہوجا تا ہے۔ 

ان لوگوں کے ساتھ جب عیسیٰ ؑ نے اس دنیا میں رہے تو ان لوگوں کی وہ نگرانی کر رہے تھے۔ ان سے جب وہ اٹھالئے جا نے کے بعد تو وہ نگرانی نہیں ‏کر سکتے تھے، یہ رائے ہم نے جو پہلے کہا تھا اس آیت سے خوبی کے ساتھ موزوں ہو جا تی ہے۔ 

اگر ہم اس جگہ میں ’’جب تو نے مجھے وفات دی‘‘ کا معنی لیتے تو آیت نمبر 43:61 جو کہتی ہے کہ’’ عیسیٰ نبی قیامت کے دن کی نشانی ہیں‘‘ اور ‏آیت نمبر 4:159 جو کہتی ہے کہ ’’عیسیٰ نبی وفات پانے سے پہلے اہل کتاب ان پر ایمان لائے بغیر نہیں رہیں گے‘‘ دونوں آیتوں کے درمیان ‏تصادہو جا ئے گا۔ اگر اس کوقبضہ کر لینے کا معنی لیتے تو اسی وقت وہ دونوں آیتوں کے ساتھ متفق ہو گا۔ 

عیسیٰ نبی وفات پا گئے یا اوپر اٹھالئے جانے کے بعد آخری زمانے میں واپس آکر وفات پائیں گے ، اس کے متعلق جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 93، ‏‏101، 133، 134، 278، 342، 456 وغیرہ بھی دیکھیں۔

 ‏150۔علمائے دین کے پا س کیا سوال کر سکتے ہیں؟ 

‏اس آیت (5:101) میں کہا گیا ہے کہ وحی اترتے وقت اللہ کے رسول سے سوال نہ کریں۔ 

کئی علمائے دین کسی دلیل کے بغیر دینی فیصلہ سناتے آرہے ہیں۔ ان سے کوئی عام آدمی سوال نہیں اٹھا سکتا کہ اس کی سند کے لئے قرآنی آیت کونسی ‏ہے یاحدیث کونسی ہے ؟کیونکہ وہ لوگ اس آیت کو دکھا کرکہتے ہیں کہ علماء کے پاس سوال نہیں کرنا چاہئے۔ 

لیکن یہ آیت تو کہتی ہے کہ وحی اترتے وقت اللہ کے رسول سے سوال نہ کریں۔اس کے لئے یہ مقصد کہا گیا ہے کہ چند سوالات پوچھتے وقت اس ‏کے لئے اللہ جو جواب دے گاوہ ان سوال اٹھانے والوں کو کچھ متاثر نہ کردے۔ 

نبی کریم ؐ کے پاس چند لوگوں نے ایسا بھی سوال کیا ہے کہ میرا باپ کون ہے؟ (بخاری: 4621، 4622)

ایسے سوالات کئے جائیں تو جس کو اس نے باپ سمجھ رکھا تھا ، اس کے بجائے یہ حقیقت کھل جائے کہ کوئی دوسرا اس کا باپ ہے توبے ضرورت دل ‏آزاری کا سامنا کر نا پڑے گا۔ 

اسی لئے منع کیا گیا تھا کہ اللہ کے رسول سے چند باتوں کے متعلق سوال نہ کریں۔ 

نبی کریم ؐ سے بھی دینی مسئلے پوچھنے کے لئے منع نہیں کیا گیا۔ اللہ نے ظاہرکئے بغیر جوچھپا کر رکھا تھاان باتوں کے بارے میں ہی سوال نہ کر نے کو یہ ‏آیت کہتی ہے۔ 

اللہ نے جو باتیں چھپا کر رکھی ہیں اس کوعلمائے دین اللہ سے حاصل کر کے تمہیں آگاہ کرنے والے نہیں۔ ان سے دلیل مانگنے کواور اس آیت کوکوئی ‏تعلق نہیں۔ 

عام طور پر علماء سے سوال کر نے کو یہ آیت اکساتی ہے۔ دیکھئے آیت نمبر 16:43، 21:7۔

نبی کریم ؐ سے جو مختلف سوالات کئے گئے اس کو ان آیتوں میں دیکھئے: 2:189، 2:215، 2:217، 2:219، 2:220، 2:222، ‏‏5:4، 8:1، 17:85، 18:83، 20:105، 33:63، 51:12، 70:1۔ 

اور زیادہ معلومات کے لئے حاشیہ نمبر 31دیکھئے۔ 

 ‏149۔ واپس کر نے والا آسمان

‏اس آیت (86:11) میں آسمان کو واپس کر نے والا آسمان کہہ کر اللہ نے ایک عجیب لقب استعمال کیا ہے۔ 

آسمان ہمیں کیا واپس کر تا ہے تو وہ بے شمار چیزوں کو ہمیں واپس کر تے رہتا ہے۔ 

سمندر سے اور تالابوں سے پانی جذب کر کے اوپر لے جا کر بارش کی شکل میں آسمان ہمیں واپس کر تا ہے۔ یہاں سے بھیجے جانے والے آواز کی لہروں ‏کو آسمان ہمیں کو واپس کر دیتا ہے۔ 

آسمان واپس کر دینے کی صفت رکھنے کی وجہ ہی سے آج ہم ریڈیو جیسے سہولتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ 

اوپر کی طرف بھیجے جانے والی خبریں ایک مقام پر روکے رکھ کر پھر واپس نیچے کی طرف ہمیں بھیجے جاتے ہیں۔ 

آج مصنوعی سیارے کے ذریعے نشر ہونے والے مناظر ہمیں یہاں آکر پہنچتے ہیں۔

مزید یہ کہ زمین کو جو گرمی چاہئے اس کو وہ سورج سے حاصل کر لیتی ہے۔ جو گرمی آتی ہے اس کو زمین اپنے اندر اگرجمع کر لے تو زمین میں ناقابل ‏برداشت گرمی جاری ہو جائے گا۔ اس لئے زمین اپنے لئے جتنی گرمی ضرورت ہے اس کو لے کر باقی گرمی آسمان کی طرف بھیج دیتی ہے۔ اس ‏طرح آسمان کو بھیجے گئے گرمی کو آسمان منتشر کئے بغیر اپنے پاس جمع کر لیتا ہے۔ جب زمین کو ضرورت سے کم گرمی ہو جا تی ہے تو آسمان جو زمین سے ‏آئی ہوئی گرمی کو جمع کر رکھا تھا اس کو زمین ہی کی طرف بھیج دیتا ہے۔ اس طرح زمین میں انسان جینے کی حد تک گرمی ہمیشگی سے جاری و ساری ‏رہتاہے۔ گرمی کو واپس کر نے کی وجہ سے واپس کر نے والا آسمان کہنا بالکل مناسب ہے۔ 

اوپر سے واپس دینے کی صفت کے ساتھ اللہ نے آسمان بنایا ہے۔ ہم جب غور کریں توہم جان سکتے ہیں کہ اور بھی کئی چیزیںآسمان ہمیں واپس دیتا ‏ہے۔ 

کیا آسمان کو کوئی واپس دینے والا آسمان کا لقب دے سکتا ہے؟وہ بھی چودہ سو سال کے پہلے کہہ سکتا ہے؟ 

اس عظیم الشان سائنسی حقیقت کو لکھنا پڑھنا نہ جاننے والے محمد کہتے ہیں تو بے شک یہ ان کے الفاظ نہیں ہوسکتے۔ انہیں پیدا کر نے والے اللہ ہی کا ‏کلام ہوسکتا ہے۔ 

 ‏148۔ عقل کے خلاف نذریں

‏یہ آیت(5:103) نبی کریم ؐ کے زمانے میں رہنے والے لوگوں کی باطل عقیدے کو سرزنش کرتی ہے۔ 

اس زمانے کے عرب اپنے معبودوں کے لئے جانوروں کو مختلف انداز سے نذریں مانا کر تے تھے۔ چند اونٹنی کو معبودوں کے لئے چھوڑ دیا کر تے ‏تھے۔ اس طرح چھوڑے گئے اونٹنی میں کوئی دودھ دوہنا نہیں۔ اس قسم کے اونٹ کو بحیرہ کہتے تھے۔ 

چند اونٹوں کو اپنے معبودوں کے لئے چھوڑدیا کر تے تھے۔ اس پر کوئی سواری نہیں کرنا چاہئے۔ اس قسم کے اونٹ سائبہ کہلاتا تھا۔ 

ایک اونٹنی لگاتار دو اونٹنیوں کو جنم دے تو اس اونٹنی کو اپنے معبودوں کے لئے چھوڑدیا کر تے تھے۔ اس قسم کے اونٹ کو وصیلہ کہتے تھے۔ 

ایک اونٹ ایک خاص گنتی میں اونٹنیوں کو حاملہ کر دے تو اس اونٹ کو اپنے معبودوں کے لئے چھوڑ دیا کر تے تھے۔ اس کو حام کہتے تھے۔ 

ان کے اس عقیدے ہی کو یہ آیت ملامت کر تی ہے۔ 

 ‏147۔ عیسائی کیا مسلمانوں کے نزدیک ہیں؟

‏اس آیت (5:82) میں تعریف کیا گیا ہے کہ عیسائی دوسری قوم سے زیادہ مسلموں سے قریب تر ہیں۔ 

ہم یہی سمجھنا چاہئے کہ تاریخ کے تعلق سے ایسی خبریں کہے جانے والے اس زمانہ میں اس طرح رہا ہوگا۔یہ ہر زمانے کے لئے موزوں ہے، ایسا نہیں ‏سمجھنا چاہئے۔ 

اصول، قانون اور عبادات وغیرہ باتوں کو اگر قرآن مجید کہے تو ہم سمجھ لینا چاہئے کہ وہ دنیا ختم ہو نے کے زمانے تک سارے لوگوں کے لئے موزوں ‏ہے۔ 

اگر یہودیوں کی تعریف میں کوئی آیت اترے تو وہ تعریف اس آیت نازل ہو نے کے زمانے میں رہنے والوں کے حد تک ہی ہوگا۔ اس کو دلیل بنا ‏کریہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ ہر زمانے کے لئے یہودیوں میں وہ خاصیت ہے۔

عیسائیوں کے بارے میں کہی جانے والی آیت بھی ویسی ہی ہے۔ اس زمانے کے یہودیوں سے زیادہ ، مکہ کے کافروں سے زیادہ عیسائیوں نے ‏مسلمانوں سے قریب رہنے کی وجہ سے انہیں تعریف کیا گیا تھا۔ 

یہ بھی غور طلب بات ہے کہ اسی آیت میں کہا گیا ہے : ’’تم دیکھوگے کہ اپنے کو عیسائی کہنے والے مسلمانوں سے بہت ہی قریبی دوستی رکھتے تھے۔ ‏‏‘‘

تم دیکھو گے سے صاف ظاہر ہو تا ہے کہ نبی کریم ؐ کے آنکھوں کے سامنے والی قوم ہی کی طرف اشارہ ہے۔ 

نبی کریم ؐ کے زمانے کے بعد عیسائی صدارت اور عیسائی حکومت مسلمانوں کے دشمن بن گئے تو وہ اس آیت کے خلاف نہیں۔ گزرے ہوئے صلیبی ‏جنگ ہی اس کے لئے دلیل ہیں۔ 

آج بھی عیسائی قوم کے لوگ مسلمانوں کے ساتھ دوستی سے رہنے کے باوجود عیسائی حکمراں مسلمانوں کے کھلے دشمن ہی ہیں۔ 

اپنی حکومت اور اختیارات وغیرہ کو اپنی مٹھی میں رکھنے کے لئے ، ملک پر قبضہ کر نے کے لئے اور دوسرے ممالک کی زرخیزی کو لوٹنے کے لئے ‏عیسائی مذہب کو بری نیت سے استعمال کر نے والی اقتداری گروہ کی طرف یہ اشارہ نہیں کرتی۔ 

‏146۔ ہفتہ کے دن مچھلی پکڑنے سے کیوں روکا گیا؟ 

‏ہفتہ کے دنوں میں مچھلی پکڑنے کے لئے ایک زمانے میں یہویوں کو روکا گیا تھا۔اس ممانعت کوان لوگوں نے جھٹلا دینے کی وجہ سے وہ لوگ بندر میں ‏تبدیل کر دئے گئے۔ اس کے بارے میں ہم نے حاشیہ نمبر 23 میں وضاحت کردی ہے۔ 

یہ شک پیدا ہو سکتا ہے کہ ہفتہ کے دن مچھلی پکڑنے کے جرم میں کیا بندر بنادیا جاناٹھیک ہے؟ س سے زیادہ بڑے بڑے گناہ کر نے والے کوئی اس ‏طرح تبدیل نہیں کئے گئے!

یہ شک تو انصاف دکھتا ہے۔ کیونکہ عام طور سے کسی بھی قوم کو عبادات ختم کر نے بعدمال کمانے کے لئے منع نہیں کیا گیا۔

مسلمانوں کا ہفتہ وار عبادت کا دن جمعہ میں نماز کے لئے بلائے جا نے کے ساتھ تجارت کو روکنے اور نماز ختم ہو نے کے ساتھ مال کمانے لئے دوڑنے ‏کو قرآن کی آیت نمبر (62:9) کہتی ہے۔

بعض لوگوں کو یہ محسوس ہو سکتا ہے کہ ایک عبادت ادا کر نے کے لئے تھوڑی دیر مال کمانے کو روکنے کے لئے کہنا ہماری سمجھ میںآتا ہے۔لیکن ‏ایک دن تمام مچھلی نہ پکڑنے کے لئے کہنا کوئی انصاف نہیں دکھتا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ بے معنی احکام نہیں دے سکتا۔ لیکن انہیں کیوں اس طرح کا سخت حکم دیا گیا، اس کا جواب یہ آیت (16:124) ‏دیتی ہے۔ 

اللہ کی رحمت سے بے حساب لطف اٹھانے والی وہ قوم اللہ کے دین میں رہتے ہوئے ابراھیم نبی کی سنت کے خلاف اللہ کو شریک ٹہرایا۔ اس لئے ‏انہیں سزا کے طور پر اس سخت قانون کو ڈالا۔ 

اس جملے سے ہم یہ جان سکتے ہیں کہ ابرھیم نبی کو جنہوں نے اختلاف کیا انہیں پر ہفتہ کے دن مچھلی نہ پکڑنے کا حکم اترا۔ 

ایک مدرسے میں طالب علم بیٹھے پڑھتے ہیں۔ لیکن دیر سے آنے والے طالب علم کو کھڑاکردیا جاتا ہے، اس کو ہماری عقل مان لیتی ہے۔سزا کے طور ‏پر عطا ہونے والا قانون سخت ہی ہونا چاہئے۔ وہ لوگ شرک کی گناہ میں مبتلا ہو نے کی وجہ ہی سے نماز کے وقت کے سواسارا دن مچھلی نہ پکڑنے کو ‏منع کیا گیاتھا۔

ہفتہ کے دن مچھلی نہ پکڑنے کی ممانعت ان کے لئے سزا کے طور پر دیا گیا حکم ہے۔ وہ عام دنوں میں نافذ کیا ہوا قانون نہیں ہے۔ 

جرم کر نے کی وجہ سے عدالت جب جرمانہ تعین کر تی ہے اوراگر کوئی اس کونقلی نوٹوں سے جرمانہ ادا کر ے تو اس کو معمولی جرم تسلیم نہیں کریں ‏گے۔ وہ لوگ اللہ کو شرک ٹہرانے کا جرم کرنے سے اس کے لئے جو سزا دی گئی اس کو وہ تجاؤز کرگئے، اس وجہ سے اللہ کو سخت غصہ آنا کوئی حیرت ‏کی بات نہیں ہے۔ 

More Articles …