Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

‏161۔ فرشتوں میں بھی رسول

‏قرآن مجید میں اکثر جگہوں میں کہا گیا ہے کہ اللہ کی طرف سے منتخب شدہ انسان ہی رسول ہیں۔ چند مقامات پرفرشتوں کو بھی رسول کہا گیا ہے۔ 

یہ آیتیں 6:61، 7:37، 10:21، 11:69، 11:77، 11:81، 15:57، 15:61، 19:19، 22:75، 29:31، ‏‏29:33، 35:1، 43:80، 51:31 وہی ہیں۔ 

 ‏160۔ انسان کی حفاظت کر نے والے فرشتے

‏اس آیت(6:61) میں جو محافظ کہا گیا ہے وہ فرشتے ہیں۔

ہر انسان کو مقررہ وقت آنے کے پہلے اس کی حفاظت کے لئے فرشتے موجود ہیں۔ 

ایک حادثہ میں کئی لوگ جب مارے جاتے ہیں توکہا جاتا ہے کہ صرف چند لوگ خوش قسمتی سے بچ گئے۔ ان کے لئے موت کا وقت نہ آنے کی وجہ ‏سے انہیں حفاظت کے ذمہ دار فرشتے صرف انہیں بچا لیتے ہیں۔ یہی اسلام کاعقیدہ ہے اور اسی کو یہاں کہا گیا ہے۔

 ‏159۔ سلام کہنے کا طریقہ

‏ایک سے ایک ملتے وقت جوسلام کہنا ہے اس کے بارے میں ان آیتوں میں کہا گیا ہے: 4:94، 6:54، 7:46، 10:10، 11:69، ‏‏13:24، 14:23، 15:52، 16:32، 19:33، 19:47، 19:62، 24:27، 24:61، 25:63، 25:75، 27:59، ‏‏28:55، 33:44، 33:56، 36:58، 37:79، 37:109، 37:120، 37:130، 37:181، 39:73، 43:89، ‏‏51:25، 56:26، 56:91، 97:5۔ 

مسلمان ایک سے ایک ملاقات کر تے وقت السلام علیکم کہہ کر کورنش بجا لاتے ہیں۔ نبی کریم ؐ نے بھی اس کو مروج کیا اور یہ طریقہ چودہ سو سالوں ‏سے لگاتار چلا آرہا ہے۔ 

لیکن قرآن مجید میں چند آیتوں کو غور کرنے پر السلام علیکم کہنے کے بجائے دوسرے الفاظ کہنے کو رہنمائی کی گئی ہے۔ 

قرآن کی ان آیتوں (7:46، 13:24، 16:32، 39:73) میں کہا گیا ہے کہ جنت میں نیک لوگوں کو فرشتے سلام علیکم کہیں گے۔ 

اسی طرح اس آیت 6:54 میں کہا گیا ہے کہ سلام علیکم کہو۔ 

آیت نمبر 28:55 میں کہا گیا ہے کہ نیک لوگ سلام علیکم کہیں گے۔

لیکن ان آیتوں (10:10، 11:69، 14:23، 15:52، 19:32، 25:63، 25:75، 33:44، 36:58، ‏‏37:79،37:109، 37:120، 37:130، 37:181، 43:89، 51:25، 56:36) میں سلام علیکم کہنے کے بجائے صرف ‏سلام کہا گیا ہے۔ 

اکثر مقامات پر سلام ہی ذکر کیا گیا ہے۔ 

آیت نمبر 19:47 کے ذریعے ہم جان سکتے ہیں کہ جب کسی کو سلام کریں تو سلام علیک کہہ سکتے ہیں۔ 

آیت نمبر 19:33 کے ذریعے ہم جان سکتے ہیں کہ سلام کے لفظ کے ساتھ ال ملا کر السلام بھی کہہ سکتے ہیں۔ 

جب ایک کو ایک سلام کہتے ہیں تو قرآن مجید میں کہے مطابق صرف سلام کہیں یا السلام علیک کہیں ، دین میں غلط نہیں۔ قرآن مجید کی پیروی ہی اس ‏کو مانا جائے گا۔ 

نبی کریم ؐ نے کئی مواقع پر السلام علیکم کہا ہے۔ اس طرح استعمال کر نا مندرجہ آیتوں کے خلاف نہیں ہے۔ 

کیونکہ سلام علیکم اور السلام علیکم ایک ہی جملہ کا دو الگ الگ انداز ہے۔ سلام علیکم کا مطلب ہے تم پر سلامتی ہو اور السلام علیکم کا مطلب ہے وہ سلامتی ‏تم پر ہو۔ 

یعنی وہ اس طرح ترکیب پائی ہے کہ جس سلام کے بارے میں اللہ نے قرآن مجید میں کہا ہے وہ سلام تم پر پیش ہو۔

دوسری بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے درمیان جو سلام مروج ہے اس لفظ کا معنی بہت ہی گہرا ہے۔ 

قرآن مجید کی سکھلائی ہوئی یہ دعا کسی بھی وقت اور ہر ماحول میں استعمال کر نے کے قابل ہے۔ 

اس لفظ کا معنی ہے کہ تم پر سلامتی قائم ہو، اطمینانی قائم ہو، سکون قائم ہو، اللہ کی حفاظت قائم ہو وغیرہ۔

اس کو تم شادی کے گھروں میں مسرور سے رہنے والوں سے بھی بول سکتے ہو، غمگین رہنے والوں سے بھی بول سکتے ہو۔ دونوں گروہوں کے لئے ‏سکون ضروری ہے۔ 

اس کو تم صبح بھی کہہ سکتے ہو، شام بھی کہہ سکتے ہو اور رات میں بھی کہہ سکتے ہو۔ 

بڑے چھوٹوں کو کہہ سکتے ہیں اور چھوٹے بڑوں کو کہہ سکتے ہیں۔

صحت مند مریضوں کو کہہ سکتے ہیں اورمریض صحت مندوں کو کہہ سکتے ہیں۔ 

طلباء استادوں کو اور استادطلباء کو، حاکم خدمت گاروں کو اور خدمت گار حاکموں کو کہہ سکتے ہیں۔ 

کسی قسم کی ذلت یا بے عزتی ہوئے بنا یہ السلام علیکم کا لفظ سب کی عزت کو محفوظ رکھنے والی ہے۔

دنیا بھر میں کئی قسم کی دعائیں مروج ہیں۔ چند دعااچھی صبح کے لئے ہوتی ہے۔ اس کو تم غم کے ماحول میں بول نہیں سکتے۔ وہ انہیں صدمہ پہنچا دے ‏گی۔اچھی صبح کو تم شام میں یا رات میں بھی بول نہیں سکتے۔ 

اسی طرح ایک کو ایک بلند کرکے عزت کے انداز میںیاپوجا کے انداز میںیا پرستش کے انداز میں اگر سمجھا جائے وہ ایک انسان کی خودداری کو متاثر ‏کر دے گی۔ بندگی، تعظیم ، نمستے اور نمسکار وغیرہ الفاظ کا معانی ہے تمہیں میں پوجتا ہوں۔ ایک انسان دوسرے انسان کو پوجنا خودداری کو زک پہنچا ‏دے گا۔ 

اس طرح نہ ہوتے ہوئے ایک شخص کے لئے دوسرا ایک شخص اللہ سے دعا کرنے کے انداز میں ترکیب پایا ہوا یہ سلام اسلام کی ایک خاص ‏خصوصیت ہے۔ 

اکثر مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ صرف مسلمانوں ہی کو سلام کر نا چاہئے۔ اس وجہ سے غیر مسلموں سے ملاقات کے وقت سلام کہنے کو تامل کر تے ‏ہوئے آداب، تسلیم یانمسکار وغیرہ خودداری کو زک پہنچانے والے الفاظ اوراللہ کے ساتھ شرک ٹہرانے والے الفاظ کہنے کی نوبت کو اپنے آپ پر ‏تھوپ لیتے ہیں۔ 

اگر غیر مسلموں کو سلام نہ کہنے کا حکم ہو تو اس کو بے شک پیروی کر نے میں کوئی دوسری رائے نہیں ہوسکتی۔لیکن اللہ اور اس کے رسول نبی کریم ؐ ‏نے ہمیں ایسا حکم نہیں دیا۔ بلکہ غیر مسلموں کوبھی سلام کہنے کے لئے واضح طور پر اجازت دے رکھی ہے۔ 

قرآن مجید کی ان آیتوں (2:130، 2:135، 3:95، 4:125، 6:161، 16:123، 22:78) میں اللہ نے تاکید کیا ہے کہ ابراھیم ‏نبی کے طریقے کو مسلمان پیروی کر نا چاہئے۔

اسلام قبول نہ کر نے والے اپنے باپ کے لئے ابراھیم نبی نے ایک بار مغفرت طلب کی۔ معلوم ہوا کہ وہ غلط ہے تو انہوں نے اس سے ہٹ گئے۔ ‏اللہ نے اس آیت 60:4 میں واضح طور پر فرماتا ہے کہ انہوں نے جو اپنے باپ کے لئے مغفرت چاہی تھی اس کے سوا ان کی دوسری ساری کارروائی ‏میں مسلمانوں کے لئے ایک نمونہ موجود ہے۔ 

آیت نمبر 19:47 کہتی ہے کہ ابراھیم نبی نے کہا: ’’تم پر سلامتی ہو۔ تمہارے لئے میں میرے پروردگار سے مغفرت چاہوں گا۔وہ مجھ پر بڑا ‏مہربان ہے۔ ‘‘

اللہ کو شرک ٹہرانے والے اپنے والدکو ابراھیم نبی نے سلام کیا، اس کو ہم ہمارے لئے ایک نمونہ بنا لینا چاہئے۔ 

بعض لوگ سوال اٹھا سکتے ہیں کہ غیر مسلموں پر سلامتی کے لئے ہم کیسے دعا کر یں؟یہ سوال ہی غلط ہے۔

السلام علیکم کا مطلب ہے تم پر سلامتی ہو۔ 

اسلام کی طریقہ زندگی کو غیر مسلم اختیار کرلینے سے انہیں سلامتی ہو سکتی ہے، یہ مقصد بھی اس میں شامل ہے۔ غیر مسلم اس دنیوی زندگی کی ‏بھلائیوں کوپا کر سلامتی حاصل کریں، یہ معنی بھی اس کے اندر موجود ہے۔ اس دنیا کی بھلائیاں غیر مسلموں کو حاصل ہو نے کے لئے ہم دعا کر سکتے ‏ہیں۔ اس کے لئے کچھ منع نہیں۔ اس لئے غیر مسلموں کو سلام کرنے سے منع کر نے کے لئے کوئی وجہ نہیں۔

نبی کریم ؐ نے فرمایا ہے کہ ’’جاننے والوں کو اور نہ جاننے والوں کو بھی سلام کو پھیلاؤ۔‘‘(دیکھئے بخاری: 12، 28، 6236)

اگرصرف مسلمانوں کو سلام کر نے کا ہوتا تو نبی کریم ؐ فرما دئے ہو تے کہ تم جسے جانتے ہو اس کو سلام کرو۔ اس طرح نہ کہتے ہوئے عام طور سے کہہ ‏دیا کہ تم جسے جانتے ہو اور نا بھی جانتے ہو سب کو سلام کرو۔ 

اگر ایک شخص کے بارے میں ہم کچھ نہیں جانتے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ مسلمان ہے یا نہیں اس سے بھی ہم لاعلم ہیں۔ نبی کریم ؐ کا فرمان ہے کہ ‏جان پہچان والے اور اجنبی میں کسی اختلاف کے بغیر سب کو سلام کرو ،اس سے ہمیں معلوم ہو تا ہے کہ غیر مسلموں کو بھی سلام کر سکتے ہیں۔ 

مزید یہ کہ ان آیتوں 25:63، 28:55 ، 43:88,89 میں اللہ ہمیں رہنمائی کر تا ہے کہ جاہل لوگ جب بات کریں تو سلام کہہ دیا کرو۔ غیر ‏مسلموں سے بعض جاہل لوگ جب نبی کریم ؐ سے حجت کر نے لگتے تھے تو اسی کے بارے میں یہ آیت کہتی ہے۔ 

اس آیت کو سطحی طور پر دیکھنے سے بھی یہ بات واضح ہو جا تی ہے کہ غیر مسلموں کو بھی سلام کر سکتے ہیں۔ 

مندرجہ ذیل حدیث کو دلیل پیش کر کے وہ لوگ دعویٰ کر تے ہیں کہ غیر مسلموں کو سلام نہ کر نا چاہئے۔ 

‏’’نبی کریم ؐ نے کہا : اہل کتاب اگر تمہیں سلام کریں تو وعلیکم (یعنی تم پر بھی) کہہ دیا کرو۔ (بخاری: 6258)

نبی کریم ؐ کی اس فرمان سے کہ اہل کتاب اگر تمہیں سلام کریں تو وعلیکم (یعنی تم پر بھی) کہہ دیا کرو۔اس سے وہ ثابت کر تے ہیں کہ انہیں سلام نہ ‏کہیں۔ 

نبی کریم ؐ کوئی وجہ بتائے بغیرعام طور سے ایک حکم سناتے ہیں تواس کو ہم پوری طرح سے قبول کر لینا چاہئے۔ اورکوئی سبب بتا کرنبی کریم ؐ نے اس کو ‏روکیں تو اسے ہم رسمی رکاوٹ نہ سمجھیں۔ یہ تمام قانون ہر ایک کا قبول کیا ہوا ہے۔ 

اہل کتابوں کے سلام کو جواب دینے کے حد تک نبی کریم ؐ نے وعلیکم کہنے کو جو کہا تھا اس وجہ کو واضح کر دیا ہے۔ 

‏’’اگر یہودی تمہیں سلام کریں تو وہ (السلام علیک کہنے کے بجائے) اسسام علیک (یعنی لا کے لفظ کو حذف کر کے) کہتے ہیں۔ (اس کا مطلب ہے ‏تم پر موت طاری ہوجائے۔)چنانچہ نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ تم وعلیک (تم پر بھی اسی طرح طاری ہوجائے) کہہ دو۔ 

‏(بخاری: 2935، 6024، 6030، 6256، 6257،6395، 6927، 9401)

یہود السلام کہنے کے بجائے اسسام کہنے کی وجہ ہی سے نبی کریم ؐ نے کہا کہ انہیں سلام کا لفظ نہ کہو ۔ اس سے ہم جان سکتے ہیں کہ اگر وہ طریقے سے ‏سلام کہیں تو ہم بھی انہیں طریقے سے جواب دے سکتے ہیں۔ ہم نے جو پہلے بغیر کسی اختلاف رائے کے دلیلیں پیش کی تھیں اسی انداز سے حدیثوں ‏لینا بالکل ٹھیک طریقہ ہے۔ 

‏158۔ کیا صرف ظالم لوگ مٹائے جائیں گے؟

‏ان (6:47، 46:35) آیتوں میں کہا گیا ہے کہ اللہ کا عذاب جب آئے گا تو کیاظالموں کے سوادوسرے بھی عذاب دئے جائیں گے؟ 

یعنی ایسا لگتا ہے کہ یہ آیت کہتی ہے، جب اللہ کا عذاب آتا ہے تو صرف برے لوگوں ہی کو سزا دی جائے گی ، نیک لوگوں کو سزا نہیں دی جائے گی۔ 

لیکن طوفان، بارش ، سیلاب اور زلزلہ جیسے آفت واقع ہو تی ہے تو اس وقت اس آفت میں صرف برے لوگ ہی نہیں بلکہ نیک لوگ بھی متا ثر ہو ‏تے ہیں۔ اس سے بعض لوگ سمجھیں گے کہ یہ آیتیں تو مروج واقعات کے خلاف دکھائی دیتی ہے۔ 

یہ دونوں آیتیں عام طور سے لوگوں کو پیش آنے والے آفت اور آزمائش کے بارے میں نہیں کہتیں۔ بلکہ اللہ کے رسول بھیجے جاتے وقت ان اللہ ‏کے رسولوں کے خلا ف ورزی کر نے والی قوم کو جب عذاب آتی ہے تو نیک لوگوں کو جدا کر کے برے لوگوں ہی کو اللہ نے مٹایا ہے۔ اسی کو یہ ‏آیتیں کہتی ہیں۔ 

قرآن کی آیت 46:35 میں اللہ نے اس کو بالکل واضح طور پر کہا ہے۔ 

‏’’رسولوں میں سے ہمت والے جس طرح صبر کیا اسی طرح تم بھی صبر اختیار کرو،جلدی مت کرو۔‘‘اس طرح کہنے کے بعد اللہ فرماتا ہے کہ ‏‏’’بربادی جب آئے گی تو صرف گناہگار ہی مٹادئے جائیں گے۔ ‘‘

اسی طرح نوح نبی، لوط نبی، ہود نبی، صالح نبی، موسیٰ نبی وغیرہ نبیوں کی قوم سے برے لوگوں کو الگ کرکے مٹادیا گیا اور صرف نیک لوگ بچا لئے ‏گئے۔ 

انبیاء جب نہ ہوتے اس وقت آنے والی آزمائشیں اچھے اور برے لوگوں کے امتیاز کے بغیر ہی آئے گی۔ اس کو اور اس آیت کو کوئی تعلق نہیں ‏ہے۔ 

‏157۔ حفاظت کی ہوئی کتاب سے مراد کیا ہے؟

‏دنیا پیدا کر نے سے پہلے ہی اللہ نے ایک کتاب تیار کی، اس میں آخر دنیا فنا ہو نے تک چلنے والے تمام واقعات کو اپنے حکم سے درج کیا۔ دنیا میں جو کچھ ‏بھی ہواس دفتر میں لکھا ہوا ہوگا۔اگر ایک پتا بھی جھڑے اور وہ کس وقت جھڑے گا، تمام تفصیل اس دفترمیں درج ہوگا۔ وہ دفتر لوح المحفوظ کہلاتا ‏ہے۔

اس دفتر کو درج شدہ کتاب، محفوظ کی ہوئی کتاب، توضیح کی ہوئی کتاب بھی کہاجاتا ہے۔ 

ایک انسان نیک بن کر جینا یا برابن کر جینا اس دفتر کے مطابق ہی چلتا ہے۔ ایک انسان جینا اور مرنا تمام اس دفتر کے مطابق ہی چلتا ہے۔ ایک انسان ‏دولتمند کہلانا یا غریب بن جانا بھی اسی دفتر کے مطابق ہی چلتا ہے۔ 

اس کے بارے میں کہنے والی آیتیں یہ ہیں: 6:38، 6:59، 9:36، 10:61، 11:6، 13:39، 17:58، 20:52، 22:70، ‏‏23:62، 27:75، 30:56، 33:6، 34:3، 35:11، 36:12، 43:4، 50:4، 52:3، 54:43، 56:78، 57:22، ‏‏85:12۔ 

یہ آیتیں 56:77-78، 85:21-22 کہتی ہیں کہ قرآن بھی اس دفتر ہی سے نبی کریم ؐ پر نازل کیا گیا۔ 

اب سوال اٹھتا ہے کہ ہر چیز دفتر ہی کے مطابق چلتی ہیں تو کیا انسان کو کوئی آزادی نہیں؟ ایک انسان کا برارہنا بھی تقدیر کے تختے پر لکھے مطابق ہی ‏ہے تو اس کو سزا دینا کیسا انصاف ہے؟

اس سوال کا جواب جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 289 دیکھیں!

‏156۔ کیا نبی کریم ؐ کو دوہرا عذاب ہوگا؟ 

‏اس آیت (17:75) میں اللہ فرماتا ہے کہ نبی کریم ؐ برے راستوں پر چلنے والوں کے حمایتی ہو تے تو انہیں اس دنیا میں اور آخرت میں دوہرے ‏عذاب کا مزہ چکھاتے۔

نبی کریم ؐ نے اپنی آخری عمر میں جب بیمار ہوئے توانہوں نے کہا کہ میں دوہراتکلیف محسوس کرتا ہوں۔ (بخاری : 5648، 5660,5667)

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ حدیث قرآن کے خلاف ہے۔

اللہ اس آیت میں یہی کہتا ہے کہ سزا کے طور پر ہی دوہرا عذاب دیا جاتا ہے۔ آزمائش کے لئے اور آخرت میں ایک بہت بڑا انعام عطا کرنے کے لئے ‏اس دنیا میں نیک لوگوں کو کئی گنا زیادہ عذاب دیاجاتا ہے، ایسا کہنا اس آیت کے خلاف نہیں ہے۔ 

قرآن مجید میں اس کی سند پائی گئی ہے کہ ایوب نبی کے ساتھ اور بھی کئی نبیوں کو دوہرا عذاب ہی نہیں بلکہ کئی گنا زیادہ عذاب اس دنیا میں دئی تھی۔

سزا دئے جانے کے عذاب کے بارے میں ہی یہ آیت کہتی ہے۔ آزمائش کے لئے نیک لوگوں کو دی جانے والی تکلیفیں سزا نہیں ہوسکتیں۔ چنانچہ ‏نبی کریم ؐ نے جو کہا ہے کہ اس دنیا میں دوہراعذاب پائے ہیں، وہ حدیثیں اس آیت کے خلاف نہیں ہیں۔

‏ ‏155۔ لکھ نہ سکنے والی اللہ کی باتیں

‏اللہ کی باتیں یعنی کلمۃ اللہ کا لفظ قرآن مجید میں چار معانی میں استعمال کیا گیا ہے۔

‏1۔ قرآن مجید

‏2۔ پچھلی کتابیں

‏3۔ لوح المحفوظ میں درج کی ہوئی باتیں

‏4۔ ہر ایک لمحہ میں اللہ کی طرف سے آنے والے کروڑوں احکام۔

چوتھی معنی دینے والی آیتوں میں کلمۃ اللہ کے لفظ کو باتیں کا معنی دینے بجائے ہم نے احکام کہہ کر ترجمہ کیا ہے۔ 

وہ آیتیں یہ ہیں: 6:115، 8:7، 10:64، 10:82، 18:109، 31:27، 42:24۔ 

قرآن کی یہ آیتیں 18:109، 31:27 کہتی ہیں کہ ’’اللہ کی باتوں کو لکھنے کے لئے سمندرکے پانی کے مانندبھی روشنائی ہو یا اس جیسے اور سات ‏سمندر کے مانند بھی روشنائی ہوتو بھی کافی نہیں ہوگا۔ 

بعض لوگ اس طرح کہتے ہیں کہ قرآن کی تفسیر لکھنے کے لئے سمندر سارا روشنائی بن جائے پھر بھی تفسیر لکھ کر ختم نہیں ہوگا۔ 

یہ معنی بالکل غلط ہے۔ اللہ نے تو قرآن مجید کو لوگ سمجھنے کے لئے آسان بنا رکھا ہے۔ سمندر کے پانی کے مانند روشنائی سے لکھنے کی حد تک اللہ نے ‏اس کو مشکل انداز سے نہیں اتارا۔ 

ہر ایک لمحہ میں اللہ کی طرف سے آنے والے کروڑوں احکام ہی یہاں اللہ کی باتیں کہا گیا ہے۔ 

ایک لمحہ میں ایک ہی انسان کو دیا جانے والا احکام ہی ہزاروں کے حساب سے موجود ہیں۔ اس کی ہر ایک اعضاء کی حرکت، جسم کی ہر ایک خلیہ کی ‏حرکت، اندرونی اعضاء کی حرکت ، ان جیسے ہزاروں حرکات ایک انسان کے اندر ایک لمحہ میں سرزد ہوجاتے ہیں۔ اس کے لئے سارے احکام اللہ کی ‏طرف سے لگاتار نافذ ہو تے رہتے ہیں۔ 

ایک انسان کو ایک لمحہ کے اندر ہزاروں احکام نافذ ہو تے ہیں تو پوری کائنات میں پیش ہو نے والے کروڑوں کروڑوں واقعات کو اللہ جو پہنچاتا ہے ان ‏احکام کو اگر لکھنا ہوتواس میں کوئی شک نہیں کہ سات سمندر بھی اگرسیاہی بن جائیں توکافی نہیں ہوگا۔

 ‏154۔ فرشتوں کو نبی بناکر کیوں نہیں بھیجاگیا؟ 

فرشتوں کو رسول بنا کر بھیجنے کے بجائے انسانوں کو رسول بنا کر کیوں بھیجا گیا، لوگوں کے اس سوال کو یہ آیتیں 6:8,9 ، 17:95، 23:24، ‏‏25:7، 41:14 جواب دیتی ہیں۔ 

لوگوں کی خواہش تھی کہ انسانوں کے بجائے فرشتوں کو رسول بناکران کے ذریعے کتاب بھیجا ہوتا تو ہم ایمان لائے ہوتے۔

لوگوں کا دعویٰ یہی تھا کہ کھانے اور پینے والے انسانوں سے زیادہ ان تمام کمزوریوں سے پاک فرشتے اللہ کے رسول بن کر آئے ہوتے تو انہیں ماننے ‏میں ہمیں کوئی تامل نہیں ہوتا۔ 

اپنے جیسے کھانے اور پینے والا ایک انسان اللہ کا رسول کیسے ہوسکتا ہے، اسی شک و شبہ کی وجہ سے لوگوں نے رسولوں کا انکار کیا۔ انہوں نے یہ کہہ کر ‏انکار کیا کہ وہ اللہ کا رسول نہیں ہے، اس لئے اس نے جو لے آیا تھا وہ بھی کتاب الٰہی نہیں ہے۔ 

اسی وجہ سے اللہ کے رسول انکار کردئے گئے۔ اس کے لئے آیت نمبر 6:8,9، 23:24، 25:7، 41:14 ثبوت ہیں۔ 

ایک فرشتہ اللہ کا رسول بن کر کچھ کھائے پئے بغیر اپنے ساتھ جب جیتا ہے تو اس وقت اس کو اللہ کا رسول ماننا آسان ہے۔ یہ بھی مان سکتے ہیں کہ اس ‏کا لایا ہوا کتاب بھی اللہ ہی کاکلام ہے۔ مندرجہ بالا آیتوں سے ہم ثابت کر چکے ہیں کہ یہی لوگوں کی تمنا تھی۔

اس استدعا کو اللہ نے یوں جواب دیا ہے۔ 

آیت نمبر 6:9 کہتی ہے کہ اگر ہم فرشتہ بھی بھیجیں تو اسے بھی ہم انسان ہی بنا تے۔ 

آیت نمبر 17:95 میں اللہ کہتا ہے کہ اگر زمین میں فرشتے سکون سے چل پھر رہے ہو تے تو ہم انہیں آسمان سے فرشتوں ہی کو رسول بنا کر ‏بھیجتے۔ 

اللہ جواب دیتا ہے وہ لوگ پوچھتے ہیں کہ فرشتے کو رسول بنا کر بھیجو۔ اگر ہم فرشتے کو بھیجنے کا فیصلہ بھی کریں تو اس فرشتے کو انسانی مزاج کے ساتھ ہی ‏بھیجیں گے۔ انسانی مزاج کے ساتھ بھیجے جانے والے کھائیں گے اور پئیں گے۔پھر بھی وہ لوگ وہی سوال اٹھائیں گے جو پہلے کئے تھے۔

‏’’اگر ہم فرشتے کو بھیجنے کا بھی ہے تو اس کو انسانی مزاج کے ساتھ ہی بھیجیں گے‘‘ اللہ کے اس فرمان سے ایک اور حقیقت بھی ہمیں سمجھ میں آتی ‏ہے۔ 

کلام اللہ کو لا کر دینا ہی اگر رسول کا کام ہو تا تو فرشتے کو رسول بنا کر بھیجنے میں کوئی مانع نہیں ہے۔ 

رسول کا کام صرف کلام اللہ کو لا کرلوگوں تک پہنچا نا ہی نہیں بلکہ اس کتاب کے موافق زندگی بسر کر کے لوگوں کو سمجھنانا بھی رسول کا کام ہے، اس ‏لئے فرشتے کو رسول بنا کر بھیجا جا نہیں سکتا۔ فرشتے انسان جیسے زندگی بسر نہیں کر سکتے۔انسان ہی جینے کی طریقے کو واضح کر سکتے ہیں، اور عمل پیرا ہو ‏کر دکھا سکتے ہیں۔ اسی لئے فرشتے کو رسول بنا کر بھیجا نہیں گیا۔ 

کتاب لا نیوالے رسول کتاب کی تعلیمات کو تشریح دے کر عمل پیرا ہو نے کا طریقہ بھی بتاناچاہئے، اسی ایک وجہ سے

آسمان سے کلام اللہ کو کتابی اندازمیں اتارے بغیر

فرشتوں کو رسول بنا کر بھیجے بغیر

انسانوں ہی کو اپنا رسول بنا کر بھیجتا ہے۔ 

اس سے ہم جان سکتے ہیں کہ صرف کتاب ہی نہیں بلکہ اس کی وضاحت بھی کرکے جی کر دکھانے کا کام بھی رسولوں ہی کا ہے۔ 

صرف قرآن ہی کافی ہے، اللہ کے رسول کی وضاحت کی ضروری نہیں کہنے والوں کو اس میں کافی تردید ہے۔ 

اگر قرآن ہی کافی ہو تا تو اللہ فرشتے ہی کو رسول بناکر بھیجتا۔ ایک انسان کو اللہ کا رسول ماننے کے بجائے فرشتے کو اللہ کا رسول ماننا بہت ہی آسان ہے۔ 

قرآن کے احکام کی پیروی کر نے کے ساتھ نبی کریم ؐ کی رہنمائی کی بھی پیروی کرنا چاہئے ، اس کے بارے میں اور زیادہ جاننے کے لئے حاشیہ نمبر ‏‏18، 36، 50، 55، 56، 57، 60، 67، 72، 105، 125، 127، 128،132، 164، 184، 244، 255، 256، 258، ‏‏286، 318، 350، 352، 358، 430وغیرہ دیکھئے!‏

More Articles …