Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

‏169۔ قرآن مجید کا اعلیٰ انداز

‏جب نبی کریم ؐنے قرآن مجیدکو کلام اللہ کہہ کر پڑھ کر سنایا تواس کے اعلیٰ انداز کو دیکھ کر اس زمانے کے عربوں نے حیرت میں پڑگئے۔ان لوگوں کو ‏یقین ہوگیا کہ پڑھنا لکھنا نہ جانا ہوا یہ انسان ہرگز اتنی اعلیٰ قسم کی کتاب کو تصنیف نہیں کر سکتا۔ 

اور انہیں یہ کہنے پر بھی تامل رہا کہ وہ اللہ کی طرف سے نبی کریمؐ پر اترا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ یہ کتاب ان کی حیثیت سے اعلیٰ ہو نے کی وجہ سے کسی قابل شخص کے ذریعے ہی وہ سیکھ کر کہہ رہے ہیں۔اسی بات کو اس آیت ‏‏6:105)) میں اشارہ کیا گیا ہے۔ 

اس تنقید کو اللہ نے اس آیت 16:103 میں جواب دی ہے۔اس کو حاشیہ نمبر 142 میں تشریح کیا گیا ہے۔  

‏168۔ نابینا اور نبی کریم ؐ کا نظر انداز کرنا

‏اس سورہ (80:1-12) میں ایک اہم واقعہ درج کیا گیا ہے۔ ام مخدوم کے بیٹے عبد اللہ ایک نابینا تھے۔ اس زمانے میں انہیں حقیر سمجھا گیا تھا۔ ‏ابتدائی زمانے کے مسلم تھے۔ 

نبی کریم ؐ نے ایک اونچی خاندان والوں سے بات کر نے کی مجلس میں وہ آکر نبی کریم ؐ کو سلام کہا۔ 

یہ دیکھ کر کہ ’’ایک اونچی خاندان والوں سے بات کر تے وقت یہ معمولی سا انسان آڑے آگیا‘‘ نبی کریم ؐ کو غصہ آگیااور ان کے چہرے پر ناگواری ‏چھلکنے لگی۔ 

نبی کریم ؐ کو غصہ آگیا اور انہیں ناگوار گزرا، یہ تمام باتیں اس نابینا انسان کو ضرور معلوم نہ ہوا ہوگا۔ 

مگر اللہ کی طرف سے فوراً انتباہ ہو تی ہے۔ 

نبی کریم ؐ کواللہ سرزنش کر تا ہے کہ تمہیں اشتیاق سے تلاش کر تے ہوئے آنے والے اس نابیناکو اونچی نسل والوں کی خاطرکیا تم بھگا رہے ہو؟ اس ‏طرح تاکید کر نے کے بعد ہی وہ واقعہ ان نابینا کو معلوم ہوا۔ 

ایک حقیقت کو یہ ہمیں سمجھاتا ہے۔ 

قرآن مجیدکو اگر محمد نبی نے خود بنایا ہوتو اتنی سختی سے تنقید کر نے والے ایک جملے کو اپنے ہی خلاف بنایا نہیں ہوتا۔ 

آخر زمانے تک اس کتاب کو پڑھنے والے اپنے بارے میں کیا سمجھیں گے، یہ سوچ کروہ اس آیت کو ترکیب نہیں دئے ہوتے۔ 

یہ قرآن اللہ کی طرف سے آیا ہے، اسی لئے اس نابینا کے درمیان بھی اور اپنے کو عزت دینے والی قوم کے درمیان بھی نبی کریم ؐ نے اعلان کرتے ہیں ‏کہ اللہ ہی نے مجھے سرزنش کی ہے۔ 

قرآن مجید اللہ ہی کا کلام ہے، اس کے لئے یہ ایک علمی دلیل ہے۔ 

اس کے علاوہ ہمیں یہ بھی معلوم ہو تا ہے کہ اگر وہ نبی کریم بھی کیوں نہ ہوں ، اللہ کی ناپسندعمل کر نے کو انہیں بھی اختیار نہیں۔ 

اس سے ہمیںیہ بھی معلوم ہو تا ہے کہ اللہ کا فیصلہ اس پر نہ ہو گا کہ کر نیوالا کون ہے بلکہ وہ کئے جانے والے عمل ہی کو دیکھے گا۔ 

نابینا جیسے ایک معمولی انسان کے لئے اللہ نے اپنے رسول ہی کو ڈانٹتا ہے تو یہ کتنا انوکھا مذہب ہوگا! غور کر نا چاہئے کہ اس جیسے ایک اللہ پر عقیدے ‏سے انسانی نسل کو کتنا کچھ فائدہ پہنچے گا۔

ہم اس تاریخ کو دیکھ سکتے ہیں کہ نبی کریم ؐنے بھی اس کے بعد ان نابینا کو پہلے سے زیادہ احترام کر نے لگے تھے۔

پیدائشی طور پر ہم سب برابر ہیں۔ نیک کردار ہی سے ایک سے ایک بلند ہو سکتا ہے۔ اسلام کی مساوات اور بھائی بندی وغیرہ جاننے کے لئے حاشیہ ‏نمبر 11، 32، 49، 59، 141، 182، 227، 290، 368، 508 دیکھئے!   

‏167۔ ٹہرنے کی جگہ اورسپرد کرنے کی جگہ

‏اس آیت (6:98) میں جو ٹہرنے کی جگہ کہا گیا ہے وہ اس دنیا کی طرف اشارہ ہے اور جوسپرد کرنے کی جگہ کہا گیا ہے وہ قبر میں دفن ہو نے کی جگہ ‏ہے، اس کو ہر ایک آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔ 

لیکن اس آیت میں اللہ نے جو سپرد کر نے کی جگہ فرمایا ہے وہ بہت بڑی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے۔ 

انسان اس دنیا میں بہت ہی چھوٹی شکل میں پیدا ہوتا ہے۔ وہ پیدا ہو تے وقت جس انداز میں تھا اس سے کئی گنا زیادہ بڑا ہو کر مرتاہے۔ وہ پیدا ہوتے ‏وقت جتنا وزن تھا اس سے کئی گنا زیادہ وزن اس کو کیسے ملا؟ اس مٹی سے حاصل ہونے والی قوت ہی سے ملا ہے۔ 

مٹی سے پیدا ہو نے والے اناج، دال اور دیگر قوتوں کوحاصل کر کے خود کو بڑھا لینے کی وجہ سے انسان زمین کا وزن گھٹا دیتا ہے۔ 

اگر پچاس کلو وزن والا ایک آدمی جیتا ہے تواس کا مطلب ہے کہ اس کے جینے سے مٹی کا وزن پچاس کلو گھٹ گیا ہے۔ جہاں سے یہ پچاس کلو وزن کو ‏اس نے حاصل کیا اس کو وہ وہیں پر سپرد کر نا ہے۔ 

سپرد کر نیکی جگہ اگر کہا جائے تو وہ اس زمین کی ایک ملکیت ہے۔ کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ وہیں سے اس کو نکالا گیا ہے۔

آدمی زمین کی مٹی کو براہ راست نہیں کھاتا۔ مٹی ایک اور چیز بن کر آدمی اس کو کھانے سے وہ اپنی جسم کو بڑھا لیتا ہے، اس مطلب کو اپنے اندر سمائے ‏ہوئے سپرد کر نے کی جگہ کے لفظ کو اللہ نے بہت خوبی سے استعمال کیا ہے۔ 

اس کے متعلق اور زیادہ تفصیل کے لئے حاشیہ نمبر 331دیکھئے!  

‏166۔ قبر کی زندگی

‏اس مطلب سے کہ قبرنامی روحوں کی دنیا میں برے لوگ عذاب دئے جائیں گے اورنیک لوگ لطف اندوز ہوں گے، نبی کریم ؐ کے کئی مقولے ‏موجود ہیں۔ مسلمانوں نے بھی اس کو مانتے ہیں۔ 

بعض لوگ اس کو اس لئے انکار کرتے ہیں کہ قرآن مجید میں قبر کی زندگی کے بارے میں یا وہاں دئے جانے والے عذاب کے بارے میں کچھ بھی کہا ‏نہیں گیا ہے۔ 

قبر کی عذاب کے بارے میں قرآن مجید میں براہ راست نہ کہنے کے باوجود نبی کریم ؐاس کے متعلق کہنے کی وجہ سے وہی ہمیں کافی ہے۔ پھر بھی یہ ‏حقیقت ہے کہ قرآن میں بھی قبر کی عذاب کے بارے میں کہا گیا ہے۔ 

آیت نمبر 6:93 اور 8:50 میں اللہ فرماتا ہے کہ فرشتے ظالموں کی روح قبض کر تے وقت کہیں گے:’’آج تم ذلت بھرا عذاب چکھو!‘‘

ایک برا آدمی مرنے کے ساتھ دوزخ کو نہیں جائے گا۔ بلکہ تمام دنیا مٹائے جا نے کے بعد،اور انصاف کے فیصلہ کے دن سوال و جواب ہونے کے ‏بعد ہی انہیں جہنم کا ذلت بھرا عذاب دیا جائے گا۔ 

لیکن یہ آیت تو کہتی ہے کہ روحوں کو قبض کر تے وقت ہی فرشتے کہیں گے کہ آج عذاب چکھو۔ یعنی روح قبض ہو نے کے ساتھ عذاب شروع ہو ‏جاتاہے۔ یہ قبر کے عذاب ہی کی طرف اشارہ ہے۔ 

اسی کی وضاحت میں نبی کریم ؐ نے کہاہے کہ قبر میں عذاب ہے۔ یہ قرآن مجید کے خلاف نہیں ہے۔ 

قبر کی زندگی کے بارے میں تفصیل سے جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 332، 349 دیکھئے!  

‏165۔ روح قبض کر نے والے فرشتے

روح قبض کر نے والے فرشتوں کے بارے میں یہ آیتیں 4:97، 6:61، 6:93، 7:37، 8:50، 16:28، 16:32، 32:11، ‏‏47:27، 79:12 کہتی ہیں۔ 

کئی مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ انسانوں کی روح کو قبض کر نے کے لئے عزرائیل نامی ایک فرشتے کو اللہ نے مقرر کی ہے۔ 

لیکن عزرائیل نامی ایک فرشتے کے بارے میں قرآن مجید میںیا نبی کریمؐ کی تعلیمات میں کوئی ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ 

اس کی بھی کوئی دلیل نہیں ہے کہ ایک ہی فرشتہ سب کی روح قبض کر تا ہے۔ 

قرآن مجید میں دیکھو تو آیت نمبر 32:11 کہتی ہے کہ ہر ایک انسان کی روح قبض کر نے کے لئے الگ الگ فرشتے موجود ہیں۔ 

بہت سے لوگوں کے بارے میں جمع کے صیغے میں کہتے وقت ’’ان کی جانوں کو فرشتے قبض کریں گے‘‘ ، اس کو جمع میں ہی کہا گیا ہے۔ اس کو تم ‏‏4:97، 6:93، 8:50، 16:28، 16:32، 47:27 وغیرہ آیتوں میں دیکھ سکتے ہیں۔ 

آیت نمبر 6:61، 7:37میں بھی جمع کے صیغے میں ہی کہا گیا ہے کہ ہمارے رسول ان لوگوں کی جانوں کو قبض کریں گے۔ 

مندرجہ بالا آیتیں واضح کرتی ہیں ، یہ عقیدہ غلط ہے کہ تمام لوگوں کی جانوں کو قبض کر نے کے لئے ایک ہی فرشتہ ہے۔ 

ہر ایک انسان کی جان قبض کر نے کے لئے ایک فرشتے کو اللہ نے مقرر کر رکھا ہے۔ کب قبض کر نا ہے، اس حکم کے لئے ہر ایک لمحہ وہ انتطار میں ‏رہتا ہے۔ یہی بات قرآن مجید سے اور نبی کریم ؐ کی تشریح سے ہمیں حاصل ہو تی ہے۔ 

اس بات کے لئے دین میں کوئی سندموجود نہیں ہے کہ ایک ہی فرشتہ کودنیا کے ہر لوگوں کی روح کو قبض کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔  

‏164۔ اللہ کے رسولوں کو دئے گئے اختیارات کیا ہیں؟

‏ان آیتوں (3:79، 6:89، 19:12، 21:74، 28:14، 45:16) میں نبیوں کے بارے میں کہتے وقت اللہ فرماتا ہے کہ انہیں کتاب ‏اور حکمت دی گئی۔

حکم کا مطلب ہے اقتدار۔ قرآن مجید میں بتائے گئے انبیاء کواگر ہم دیکھیں تومعلوم ہو تا ہے کہ ان میں سے اکثر نبیوں کو اقتدار نہیں دیاگیا۔

اس لحاظ سے ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ اللہ نے جو کہا ہے وہ کس قسم کااقتدار ہے؟

آیت نمبر 19:12 میں اللہ کہتا ہے کہ ہم نے یحیےٰ کو بچپن ہی میں حکم (اقتدار) دے دی۔ 

اللہ کہتا ہے کہ نبیوں کو کتاب عطا کی ، اس کو ہم سمجھتے ہیں۔ لیکن انہیں حکومت و اقتدار دئے بغیر اللہ کہتا ہے کہ دی گئی۔ ہم کیسے سمجھیں کہ وہ کیا ‏ہے؟ 

یہ حکومت و اقتدار کی بات نہیں ہے۔ بلکہ کتاب کی تشریح میں قانون بنا کر دینی حاکم کے لحاظ سے لوگوں کو حکم دینے کی اختیار ہی کو اللہ نے یہاں ‏بیان کیا ہے۔ 

اس طرح معنی نہ لیا جائے تو اللہ نے جو کہا کہ انہیں اقتدار دی تو وہ بے معنی ہو جائے گا۔ 

اگر ہم اس کو اقتدار کا معنی دیں تو مبعوث کئے گئے تمام انبیاء حکومت و اقتدار پائے ہوئے لوگ ہی ہوناچاہئے۔ 

قرآن مجید خود کہتا ہے کہ بہت سارے نبیوں کو ان کے دشمنوں نے قتل کرڈالا۔ تمام نبیوں نے فتح پا کر آگے چل کر حکومت نہیں بنائی۔ 

اس آیت (2:87) میں اللہ فرماتا ہے کہ نبیوں میں ایک گروہ کو جھٹلایا اور اکثریت کو مار ڈالا۔ 

اس لئے ان آیتوں میں جو اقتدار کہا گیا ہے وہ قانون بنانے والی اختیار ہی کو کہا گیا ہے۔ دوسری قسم کی وحی کے ذریعے وہ قانون انہیں پہنچے گی۔ 

اسی لئے صرف یہ نہیں کہا گیا کہ ہم نے کتاب دی بلکہ اللہ کہتا ہے کہ کتاب کے ساتھ اختیار بھی دی۔ 

اس آیت (6:89) میں اللہ فرماتا ہے کہ انہیں کتاب، حکمت اور نبوت بھی عطا کی۔ اگر وہ لوگ اس کا انکار کردیں تو اس کا انکار نہ کر نے والی ایک ‏قوم کو اس کا ذمہ دار بنائیں گے۔ 

اگر کتاب کے سوا نبیوں کو کچھ نہیں دیا گیا ہوتا تو اللہ نہیں کہا ہو گا کہ ہم نے کتاب، حکمت اور نبوت عطا کی۔ 

آخر میں اللہ نے جو خبر دی ہے وہ قابل غور بات ہے۔ ’’اگر انبیاء ان تینوں کو انکار کیا ہو تاتو جو انکار نہیں کر تے اس قوم کے پاس اس ذمہ داری کو ‏سونپ دیں گے۔ ‘‘یہی وہ بات ہے۔ 

اگر وہ انبیاء کہتے کہ صرف کتاب ہی ہم پر نازل ہوئی ، حکم کی اقتدار یا نبوت کی حیثیت ہمیں نہیں چاہئے تو اللہ انتباہ کر تا ہے کہ ان تینوں کو جوقبول کر ‏یں گے انہیں دے کر بھیجیں گے۔

اس آیت میں واضح کیا گیا ہے کہ ان تینوں کو انکار کر نے والے منکرین ہیں۔

یہ آیتیں اس بات کو ثابت کر تی ہیں کہ ’’کتاب کے ساتھ نبیوں کی تشریح بھی ضرورت ہے‘‘

قرآن کے احکام کی پیروی کر نے کے ساتھ نبی کریم ؐ کی رہنمائی کی بھی پیروی کرنا چاہئے ، اس کے بارے میں اور زیادہ جاننے کے لئے حاشیہ نمبر ‏‏18، 36، 50،39، 55، 56، 57، 60، 67، 72، 105، 125، 127، 128،132 ، 154، 184،244، 255، 256، ‏‏258، 286، 318، 350، 352، 358، 430وغیرہ دیکھئے! 

‏‏163۔ مکہ کی کامیابی کے بارے میں پیشنگوئی

‏اللہ نے نبی کریم ؐ کو خواب کے ذریعے دکھا یا کہ نبی کریم ؐ کو نکالے ہوئے اس بستی کو وہ اپنی اقتدار کے اندار لے آئیں گے۔ اس آیت 48:27 میں جو ‏کہا گیا وہ پیشنگوئی پوری ہوئی۔

 ‏162۔ کیا دین پھیلانے کے لئے جھوٹ بول سکتے ہیں؟ 

‏ان آیات (6:76-78)میں کہا گیا ہے کہ ابراھیم نبی نے پہلے ستاروں کو اپنا رب مانا۔ پھر چاند کواپنا رب مانا۔ پھر سورج کو اپنا رب مانا۔ پھر سمجھ ‏میں آگیا کہ یہ سب ر ب نہیں ہو سکتے۔ 

لیکن ان آیتوں 2:135،3:67، 3:95، 6:161، 16:120، 16:123میں کہا گیا ہے کہ ابراھیم ؑ کبھی شریک ٹہرانے والوں میں ‏سے نہ تھے۔ 

ابراھیم نبی اللہ کو کبھی شریک ٹہرانے والے نہ تھے، اس وجہ سے سورج، چاند اور ستارے وغیرہ کو اپنا رب کہنا لوگوں کو بتدریج سمجھانے کے لئے ‏ہی ہوسکتا ہے۔ 

اگر ان چیزوں کو ابراھیم نبی نے حق سمجھا ہو تا تو جو قرآن نے کہا کہ ’’وہ شریک ٹہرانے والوں میں سے نہ تھا‘‘ ان آیتوں کے خلاف بن گیا ہوتا۔ 

ابتداء میں لاعلمی کی وجہ سے ابراھیم نبی نے نبی بننے سے پہلے کیا ایساکہا ہوگا تو وہ بھی غلط ہے۔ 

کیونکہ آیت نمبر 6:83 میں اللہ فرماتا ہے کہ ابراھیم کو یہ دلیل ہم ہی نے عطا کی۔ اس سے معلوم ہو تا ہے کہ اس طرح ابراھیم نبی نے جو دعویٰ کیا ‏تھا وہ اللہ کی سکھلائی ہوئی بنیاد پر ہی تھا۔ اس سے ثابت ہو تا ہے کہ لوگوں کو سمجھانے کے لئے ہی ابراھیم نبی نے اس طرح کہا تھا۔ 

ابراھیم ؑ نے لوگوں کوحقیقت سمجھانے کے لئے چند حکمتانہ طریقے اپنایا تھا۔ 

ان کی سیرت کو عبرت بناکر اللہ نے جو ہمیں سمجھایا ہے، اس سے ہم یہ عبرت حاصل کر سکتے ہیں کہ دوسروں کو سمجھانے کے لئے بتدریج پیام ‏دے سکتے ہیں۔ 

دین کی کوئی مناہی باتیں پیش کئے بغیر ناٹک کی شکل میں نصیحتوں کو پیش کر سکتے ہیں، اس کے لئے بھی یہ آیت سند ہے۔ 

ابراھیم نبی کی اس طریقہ کار کو اللہ بھی اس آیت (6:83) میں تسلیم کر تا ہے۔ 

بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ لوگوں کی اصلاح کے لئے ابراھیم نبی نے جس طرح جھوٹ کہا اسی طرح ہم بھی لوگوں کو راہ راست پر لا نے کے لئے ‏جھوٹ بول سکتے ہیں۔ 

بعض مذہب پرچار کر تے ہیں کہ نابینا دیکھتا ہے اور بہرا سنتا ہے ، بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم بھی اسی طرح تبلیغ کریں ۔ ابراھیم نبی کی اس طریقے کو ‏اپنے لئے ایک سند پیش کر تے ہیں، یہ بالکل غلط ہے۔ 

کیونکہ نابینا دیکھتا ہے جیسے اعلان کر نے والے اس جھوٹ کواس لئے کہتے ہیں کہ لوگ اس کو مان کر قبول کر لیں۔اسے سننے والے لوگ بھی اس کو ‏سچ ہی سمجھتے ہیں۔ 

لیکن ابراھیم نبی نے جو کہا اس کو وہ مان کر نہیں کہا۔ اس لئے بھی نہیں کہا کہ لوگ اس کو سچ سمجھیں۔ سورج یا چاند کو اپنا رب ماننے کے لئے بھی ‏نہیں کہا۔ 

کسی قسم کی قدرت نہ رکھنے والے بت سے ستارے بہتر ہیں کہہ کر ابراھیم نبی نے ایک اور اونچے درجے کی طرف انہیں لے چلتے ہیں۔

ستارے میں اتنی روشنی نہیں ہے، اس سے بڑھ کر روشنی والے چاند ہی بہتر ہے کہہ کر ایک اور اونچے درجے کی طرف انہیں لے چلتے ہیں۔ 

رب ماننے کے لئے یہ کافی نہیں ہے۔ اس کے بعد کہتے ہیں کہ اس سے بڑا جو سورج ہے وہی رب ہونا چاہئے۔ اس کے ذریعے ایک اور اونچے درجے ‏کی طرف لوگوں کی فکر کو تیز کرتے ہیں۔

اس کے بعد ساری کائنات کو پیدا کر نے والا ہی رب ہوسکتا ہے ، کہہ کر ان لوگوں کوٹھیک مقام پر لاکھڑا کرتے ہیں۔ 

نیچے رہنے والوں کو درجہ بدرجہ اوپر کی طرف لا کر کھڑا کرنے ہی کو ابراھیم نبی کے راستے میں ایک نمونہ موجود ہے۔ 

مذہب کو پھیلانے کے لئے جھوٹ بولنے والے اسی لئے جھوٹ بولتے ہیں کہ غلط عقیدے کو لوگ قبول کرتے ہوئے ماننا چاہئے۔اس جھوٹ میں ‏لوگوں کو قائم کر دیتے ہیں۔لوگ جس حال میں رہتے ہیں اسی مقام میں انہیں قائم رہنے کے لئے بولے جانے والے جھوٹ میں اور ابراھیم نبی کے ‏طریقے میں کوئی موافقت نہیں ہے۔ 

اور زیادہ معلومات کے لئے حاشیہ نمبر 236، 336، 432 دیکھئے!‏

More Articles …