Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

‏177۔ آسمان میں دروازے کس کے لئے نہیں کھلیں گے؟ 

‏اس آیت (7:40) میں کہا گیا ہے کہ آسمان کے دروازے بعض لوگوں کو نہیں کھلیں گے۔ 

اس کے لئے بہت ساری تشریح دی گئی ہے۔ بعض علماء اس کو تشریح کرتے ہیں کہ آسمان ہی میں جنت ہے، اس لئے برے لوگ وہاں نہیں جائیں ‏گے۔ یہ تشریح بھی غلط ہے۔ 

کیونکہ وہاں جنت ہی نہیں بلکہ جہنم بھی اس کے قریب ہی ہے۔ دونوں کے درمیان ایک دیوار حائل ہے۔اسی لئے اس سورۃ کا نام آڑ والی دیوار ‏رکھا گیا ہے۔ ان کے دعوے کے مطابق اس کا مطلب یہ ہو جائے گا کہ برے لوگ جنت ہی کو نہیں بلکہ جہنم کو بھی نہیں جائیں گے۔ 

آسمان کے دروازے نہیں کھلیں گے، اس کو نبی کریمؐ نے اس طرح تشریح کی ہے:

نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ’’آدمی مرجانے کے ساتھ اس کی روح کو فرشتے آسمان کو لے جاتے ہیں۔ نیک لوگوں کی روحیں بہت ہی خوشبودار ہوں گی، ہر ‏ایک آسمان میں فرشتے اس کو استقبال کر یں گے۔اللہ کہے گا ، میرے اس بندے کا نام علیین میں درج کر کے اس کو زمین ہی کی طرف لے جاؤ۔اس ‏کو میں نے وہیں پیدا کیا۔وہ روح پھر اس کے جسم میں داخل کیا جائے گا، اورپھر قبر کی پوچھ گچھ شروع ہوگی۔ برے آدمی کی روح بدبودار ہوگی۔ ‏اس کو آسمان کی طرف لے جاتے وقت اس روح کے لئے آسمان کا دروازہ نہیں کھلے گا۔ ‘‘ یہ کہنے کے بعد نبی کریم ؐ نے اس آیت کو (7:40) ‏تلاوت کی۔ ’’اللہ کہے گا اس کا نام زمین کی گہرائی میں رہنے والی سجین میں درج کرادو۔اس کی روح کو اس کے جسم میں داخل کیا جائے گا اور پھر قبر ‏کی پوچھ گچھ شروع ہوگی۔‘‘

(دیکھئے بخاری: 336، 3094)

اور زیادہ تفصیل کے لئے حاشیہ نمبر 434دیکھئے!  

 ‎176‎۔ عبادت کے وقت لباس میں کمی

‏عبادت کرتے وقت چند مذہب والے لباس گھٹا دیتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ مخصوص عبادت گاہوں میں داخل ہو تے وقت وہ بڑا حاکم ہی کیوں نہ ‏ہووہ اپنی اوپری لباس کو نکال کر ہی جانا چاہئے۔

اپنے معبود کی پوجا کر نے والے اوپری لباس کے بغیر ہی پوجا کر تے ہیں۔ اور بھی چند ہیں جوکہتے ہیں کہ برہنہ ہو کر ہی پرستش کر نی چاہئے۔ 

قرآن مجید اس عقیدے کو مانتا نہیں۔ یہ آیت (7:31) کہتی ہے کہ اچھا لباس پہن کر ہی مسجد کے اندر آنا چاہئے۔ 

خاص واقعات میں اچھا لباس پہن کر جا نے والے مسجدوں کو جا تے وقت میلے لباس میں آتے ہیں ، یہ غلط ہے۔ 

ہمارے پاس جو ہے اس میں سے اچھا لباس پہن کر مسجد میں آنا چاہئے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر روز پانچ وقت بھی اچھا لباس پہننے کی عادت رکھنے ‏والا زندگی بھر اچھے لباس پہن کر دوسروں کو ایک مثال بن کر چمکے گا۔ 

بعض مسجدوں میں بچھی ہوئی چٹائیوں میں بیٹھو تو ہمارا لباس ہی گندے ہو نے کے حد تک ناپاک ہوتے ہیں۔ 

ہمارے مساجد بغیر بدبوکے خوشبو دار رہنا چاہئے، اور ظاہری نمائش کے بغیر خوبصورت اور پاکیزگی کے ساتھ رہنا چاہئے۔ مسجدوں کے مہتمم پریہ ‏فرض کیا گیا ہے۔یہ بات بھی اس میں شامل ہے۔ 

‏175۔ انسان زمین ہی میں جی سکتے ہیں

‏ان آیتوں (2:36، 7:10، 7:24، 7:25،30:25) میں کہا گیا ہے کہ ’’اس زمین میں ہی انسان جی سکتا ہے!‘‘

زمین کے بالکل قریب ہی میں چاند کا کرہ موجود ہے۔ انکشاف کیا گیا ہے کہ سورج کی خاندان میں زمین کو بھی ملا کر نو سیارے موجود ہیں۔ثابت کیا ‏گیا ہے کہ زمین کے سوا دوسرے کسی سیارے میں ، یہاں تک کہ ساتھی سیارہ چاند میں بھی انسان جی نہیں سکتا۔

مرکری نامی عطارد سیارہ کو اٹھا لیجئے۔ وہ سورج سے پانچ کروڑ اسی لاکھ 58000000)) کلو میٹر دوری پر واقع ہے۔ دو وجہ سے یہاں آدمی بسر ‏نہیں کرسکتا۔ 

پہلی بات اس سیارے میں ہوا نہیں ہے۔ پھر اس سیارے کی شدت کی گرمی 480 ڈگری سینٹی گریٹ ہے۔ بالکل کم درجہ کی گرمی 180 ڈگری ‏سینٹی گریٹ ہے۔ زمین میں بسر کر نیوالے آدمی جو گرمی سہہ سکتے ہیں یعنی 40 ڈگری گرمی سے وہ بارہ گنا زیادہ ہے۔ 

اور کشش ارضی کی طاقت میں تین میں ایک حصہ کشش کی طاقت ہی اس سیارے میں موجود ہے۔ 

وینس نامی زہرہ سیارے کو اٹھالو تو وہ سورج سے دس کروڑ آٹھ لاکھ (100800000) کلو میٹر دوری پر واقع ہے۔ وہاں پر 457 ڈگری سینتی ‏گریٹ گرمی موجود ہے۔ یہ بھی زمین کی شدت گرمی سے لگ بھگ دس گنا زیادہ ہے۔ اور جاندار زندہ رہنے کو جو آکسیجن ضرورت ہے وہاں نہیں ‏ہے۔ اسی لئے اس کو کھولنے والا سیارہ کہا جاتا ہے۔وہاں بھی انسان بسر نہیں کرسکتا۔ 

مارس نامی مریخ کے سیارے میں بھی انسان بسر نہیں کر سکتا۔ سورج سے وہ تےئیس کروڑ کلو میٹر دوری پر رہنے والے اس سیارے میں زمین کی ‏ہوا میں ایک فی صد ہی ہے۔ اس ہوا میں بھی ایک فی صد آکسیجن ہی ہے۔ یہاں زیادہ سے زیادہ گرمی 87 ڈگری سینٹی گریٹ اور کم سے کم گرمی ‏‏17 ڈگری سینٹی گریٹ ہی ہے۔ اس لئے وہاں پر بھی انسان جی نہیں سکتا۔ 

جوپٹر نامی مشتری سیارہ سورج سے 78 کروڑ کلومیٹر دوری پر قائم ہے۔ یہ چٹان سا کرہ نہیں، بادی کرہ ہے۔ اور پھر ارضی کشش کے طاقت سے وہ ‏اڈھائی گنا زیادہ طاقت رکھتا ہے۔ اس سے ہمارا وزن اس سیارے میں اڈھائی گنا زیادہ ہو جا ئے گا۔ ہمارا وزن اپنے ہی سے سنبھالا نہیں جائے گا۔ اس ‏لئے یہاں بھی انسان جی نہیں سکتا۔

ساٹرن نامی زحل کا سیارہ سورج سے 142کروڑکلو میٹر دوری پر واقع ہے۔ وہاں پر ہر چیز منجمد ہوجانے کی حد تک 143 منفی ڈگری سینٹی گریٹ ‏گرمی ہی ہوگی۔ 

یورینیم سیارہ سورج سے 178 کروڑ کلو میٹر کی دوری پر اور نیپچون سیارہ سورج سے 450کروٹڑڑکلو میٹر کی دوری پراور پلوٹو سیارہ سورج سے ‏‏590 کروڑکلو میٹر کی دوری پر رہنے کی وجہ سے ان سیاروں میں اتنی شدید سردی ہو گی کہ اس کو ہم قیاس بھی نہیں کر سکتے۔اس لئے وہاں پر بھی ‏انسان جی نہیں سکتا۔ 

زمین کا ساتھی سیارہ چاند میں بھی انسان زندگی بسر نہیں کرسکتا۔ انسان کی ضروریاتی چیزیں پانی اور ہوا وغیرہ کچھ بھی وہاں نہیں ہے۔ وہاں دن کی ‏گرمی127 ڈگری سینٹی گریٹ اور رات کی گرمی منفی 173ڈگری سینٹی گریٹ ہوگی۔ 

سورج سے 15کروڑکلو میٹر دوری پر رہنے والی اس زمین پرہی انسان زندگی بسر کر سکتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ بعض سیاروں میں جاندار بسنے کی علامت دکھائی دیتی ہے، پھر بھی وہ ثابت نہیں کیا گیا۔ سائنسدانوں نے بھی مان چکے ہیں کہ انسان ‏صرف زمین میں ہی جی سکتا ہے۔ 

انسان برداشت کر نے کے حد تک گرمی اور سردی صرف زمین ہی میں ہے۔ چند سیاروں میں دکھائی دینے والی گرمی آدمی کو کوئلہ بنا دے گی۔ اور ‏بعض سیاروں میں پائے جانے والی سردی انسانی خون کو منجمد کر دے گی۔ 

زندہ رہنے کے لئے ضروری ہوا اسی زمین میں ہے۔ آکسیجن کی مدد سے چند دن آسمانی فضامیں یا چاند میں ٹہرنا زندگی بسر کر نا نہیں کہہ سکتے۔ 

اور پھر صرف زمین ہی سورج سے 23 ڈگری میں جھکے ہوئے انداز سے گردش کر رہی ہے۔ اس طرح جھکے ہوئے انداز سے گردش کر نے کی وجہ ‏ہی سے گرمی ، سردی، بہار اور خزاں وغیرہ بدلتے رہتی ہے۔ 

اگر سال بھر ایک ہی انداز کی گرمی یا سردی ہوگی تو وہ زندگی بسر کر نے کے قابل نہیں ہوگی۔ 

لکھنا پڑھنا نہ جاننے والے نبی کریمؐ یقیناًکس طرح کہہ سکتے تھے کہ اسی میں تم زندگی بسر کروگے؟ تمام سیاروں کو پیدا کر نے والا رب ہی اس دور ‏میںیہ کہہ سکتا ہے۔اس لئے یہ بھی ایک دلیل ہے کہ یہ قرآن اللہ ہی کا کلام ہے۔ 

بغیر انسان کے جاندار ایک الگ سیارے میں رہ سکتے ہیں؟ اس بارے میں جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 440 دیکھئے!  

‏174۔جنسی جذبات کو پیدا کر نے والا درخت

‏ان آیتوں 7:20، 7:22، 20:121 میں کہا گیا ہے کہ شجر ممنوعہ کو آدم اور ہوا نے چکھنے کے ساتھ ان کی شرم گاہیں انہیں ظاہر ہوگئیں۔

اس کو کیسے سمجھا جائے ، اس کے متعلق کئی رائے کہی جاتی ہیں۔ 

آدم ؑ جنت میں لباس پہنے ہوئے تھے، شجر ممنوعہ کو چھکنے کے ساتھ لباس ہٹ گیا اور وہ برہنہ ہو گئے۔ فوراً انہوں نے جنت کے پتوں سے اپنی شرم ‏گاہوں کو چھپالیا۔ 

یہ بہت سے عالموں کی رائے ہے۔ 

مندرجہ بالا آیتوں کی ترکیب اس رائے ہی کی طرف اشارہ کر نے کی وجہ سے اسی رائے کو اکثر علماء کہتے ہیں۔ 

لیکن اس رائے میں کئی شکوک پائے جاتے ہیں۔ آیت نمبر 20:118کہتی ہے اللہ فرماتا ہے کہ جنت میں تم برہنہ نہیں رہوگے۔ اللہ اگر یہ وعدہ ‏کیا ہو تو وہ تبدیل نہیں ہو نا چاہئے۔ مگراس درخت کو چکھنے کے ساتھ اگر کہا جائے کہ وہ دونوں برہنہ ہوگئے توایسا لگتا ہے کہ اللہ کا وعدہ پورا نہیں ‏ہوا۔

بغیر کسی اختلاف کے اس کو کس طرح تشریح کی جائے؟

آیت نمبر 20:118کواگر’’ درخت کو چکھنے تک برہنہ نہیں ہوؤگے‘‘کامعنی دوگے تو وہ اختلاف ہٹ جائے گا۔ اس سے یہ مطلب نکلے گا کہ ‏درخت کوچکھوگے تو اس کی سزا برہنہ ہی ہے۔

مگر اس میں ایک اوراختلاف پیدا ہوتا ہے۔درخت کو چکھنے کی وجہ سے سزا کے طور پراگر برہنگی دی گئی توفوراً پتوں کے ذریعے اس برہنگی کو چھپانے ‏کا موقع نہیں دینا چاہئے تھا۔ اس سے برہنگی کی سزا تھوڑی دیر بھی نہیں رہتی۔ 

تم برہنہ نہیں ہوؤگے کو تم برہنگی کو محسوس نہیں کروگے بھی معنی لے سکتے ہیں۔ مرد و عورت کی جنسی تفریق کو تب تک وہ لوگ نہ جاننے کی وجہ ‏سے وہ برہنہ رہنے کے باوجود اسے وہ محسوس نہ کرتے تھے۔ 

اگر اس طرح معنی دیا جائے کہ ’’اس درخت کو چکھنے کے ساتھ جنسی خواہش اور جنسی جذبہ پیدا ہوجانے کی وجہ سے برہنگی کو محسوس کر تے ہوئے ‏وہ لوگ جنت کے پتوں سے اپنے آپ کوڈھانپ لیا‘‘تو کوئی اختلاف نہیں آئے گا۔

اس طرح معنی دینے کے لئے اور بھی کئی وجوہات ہیں۔

اللہ نے اس آیت میں ’’درخت سے وہ لوگ چکھنے کے ساتھ ان دونوں کو ان دونوں کی شرمگاہیں ظاہر ہوگئی‘‘ کا جملہ استعمال کیا ہے۔ 

اگر کہا گیا ہوتا کہ’’شرمگاہ دکھائی دی ‘‘توہم سمجھ سکتے تھے کہ وہ برہنہ ہوگئے۔’’ان دونوں کو اپنی اپنی شرمگاہ ‘‘ کے جملے کو اللہ نے استعمال کیا ‏ہے۔

ایک انسان جب کپڑے پہنا ہوا ہے تو اس وقت بھی اس کو اپنی شرمگاہ وقتاً فوقتاًدکھائی دیگی ہی۔ کپڑے ہٹنے کے بعد ہی شرمگاہ اس کو دکھائی دیناکوئی ‏ضروری نہیں ہے۔ 

انہیں کو ان کی شرمگاہ دکھائی دی، کہنے کی وجہ سے ’’شرمگاہ آنکھو ں کو دکھائی دی‘‘ کے معنی سے وہ استعمال نہیں کیا گیا ہے۔ ہمیں معلوم ہوتا ہے ‏کہ انہیں محسوس ہوا کے معنی ہی میں اس کو استعمال کیاگیا ہے۔ 

مزید یہ کہ اللہ فرماتا ہے’’درخت کو چکھنے کے ساتھ ان کی شرمگاہیں انہیں دکھائی دی۔ ‘‘’دکھائی دی‘ کے ترجمہ کی جگہ بَدَتْ کا لفظ استعمال کیا گیا ‏ہے۔ 

یہ لفظ چند جگہوں میں ’’آنکھوں کو دکھائی دینا‘‘کے معنی میں اور چند جگہوں میں دل میں گزرنا کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ 

مثال کے طور پر یوسف نبی قید خانہ میں بند ہو نے کے متعلق آیت نمبر 12:35 میں اللہ فرماتا ہے کہ نشانیاں دیکھنے کے بعد بھی انہیں دل میں گزرا ‏کہ ایک مقررہ مدت تک انہیں قید خانہ میں رکھنا چاہئے۔

اس آیت میں’دل میں گزرا‘ کا جو ترجمہ ہم نے کی ہے وہاں پر بَدَت کا لفظ ہی استعمال کیا گیا ہے۔یہاں اس طرح نہ سمجھا جا سکتا ہے کہ آنکھوں کو ‏دکھائی دی۔ 

ان آیتوں 6:28، 3:154، 5:101، 12:77، 39:48، 45:33 میں بھی بَدَتْ کے لفظ کو آنکھوں کو دکھائی دینے کے معنی میں ‏استعمال نہیں گیا ہے۔ 

اسی لئے 7:22 اور 20:121 آیتوں میں بھی ہم نے یہی معنی لیا ہے کہ ان دونوں کو اپنی شرمگاہوں کی خصوصیت کے متعلق معلوم ہوا ۔

مثلاً بچپنی میں رہنے والوں کو اپنی شرمگاہ آنکھوں کو دکھائی دینے کے باوجود اس کے متعلق انہیں کچھ بھی معلوم نہیں ہوتا۔ بلوغت کو پہنچتے ہی یا ‏بلوغت کے قریب جا تے ہی ان اعضاء کی خصوصیت کوجان لیتے ہیں۔ 

اس طرح آدم اور حوادونوں اس درخت کو چکھنے سے پہلے صرف اس معاملے میں بچوں کی حالت میں تھے۔ اس درخت کو چکھنے کے ساتھ بلوغیت ‏پانے والے کی طرح ہوگئے۔ اس طرح سمجھ لینا ہی ٹھیک معلوم ہو تا ہے۔ 

اس معاملے میں وہ دونوں بچوں کی حالت میں رہنے کی وجہ سے وہ برہنگی قابل ملامت نہیں ہے۔   

‏173۔ ہمیشگی کے جہنم سے استثنیٰ

‏قرآن نے کئی آیتوں میں کہا ہے کہ چند مخصوص گناہ کر نے والے ہمیشگی کا جہنم پائیں گے۔اس کے باوجود ان آیتوں 6:128، 11:107، ‏‏11:108 میں کہا گیا ہے کہ اس میں استثنیٰ ہے۔

ہمیشگی کا جہنم کہنے کے بعد کہا گیا ہے کہ سوائے اللہ کی چاہت کے۔ اس کو بعض لوگ کئی طریقوں سے تشریح کی ہے۔ 

اللہ کو تمام اختیارات ہیں، اس پر ایمان رکھنے والوں کو اس میں کسی قسم کی الجھن نہیں ہوسکتی۔ 

ہمیشگی کی جہنم کا فیصلہ سنانے کی اختیار رکھنے والے اللہ کو چند لوگوں کواس میں مستثنیٰ دینے کی بھی اختیار ہے۔اس استثنیٰ کو حاصل کر نے والے ‏کون ہیں، وہ آخرت میں ہی معلوم ہوگا۔اگر اس بات پر یقین آگیا تو کسی قسم کی الجھن پیدا نہیں ہوگی۔   

‏172۔ فضائی سفر میں سکڑنے والا دل

‏آیت نمبر 6:125کہتی ہے کہ فضا میں آگے بڑھ کر چلنے والے کا دل سکڑتا ہے۔

فضائی سفر اختیار کر نے والوں کے دل تنگ ہوجانے کو آج کا انسان تجربے سے سمجھ گیا ہے۔ ہوائی جہاز میں سفر کرنے والے اس تجربے کو اچھی ‏طرح سے محسوس کر تے ہیں۔ 

لیکن یہ فراست 1400 سال کے پہلے کسی کو نہیں تھی۔ انسان اوپر چڑھ کر جابھی سکتا ہے ، اس کو وہ لوگ قیاس بھی نہیں کرسکتے تھے۔ 

ایسی ایک دور میں فضائی سفر اختیار کر نے والے کا دل تنگئی حال کو پہنچے گی ، اس کو نبی کریم نے کس طرح کہہ سکتے تھے؟ اس دور میں اس حقیقت کو ‏صرف اس کا خالق ہی جان سکتا تھا۔ اس سے ہم جان سکتے ہیں کہ یہ قرآن بے شک اللہ کا کلام ہی ہے۔ 

اور زیادہ معلومات کے لئے حاشیہ نمبر 304، 323 دیکھیں۔  

‏171۔ کیا جانداروں کو ذبح کر کے کھانا انصاف ہے؟ 

‏ان 2:173، 5:3، 5:4، 6:118،6:119، 6:121، 6:145، 11:69، 16:5، 16:14، 16:115، 22:28، ‏‏22:36، 23:21، 35:12، 36:72، 40:79، 51:27 آیتوں میں اجازت دی گئی ہے کہ جانداروں کوذبح کر کے کھا سکتے ہیں۔ ‏بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ اجازت جانداروں پر رحم کے خلاف ہے۔ بالکل گہرائی سے اگر سوچیں توہم سمجھ سکتے ہیں کہ یہ انسانی نسل کے لئے ایک ‏بھلائی پہنچانی والی اجازت ہے۔ 

یہ کہنے والے کہ جانداروں کوکھانے کے لئے نہ مارا جائے، اس کے لئے وہ لوگ یہ سبب دکھاتے ہیں کہ وہ جان پر ظلم کرنا ہے۔ اگر اس کو وہ جان پر ‏ظلم کرنا کہیں تو اور بھی کئی باتوں کو وہ لوگ واضح کر نا چاہئے۔ 

‏1۔ جان پر ظلم کہنے والے جانداروں کو کھیتی کے کاموں میں اور باراٹھانے والے کاموں میں استعمال کر تے ہیں،کیا وہ جان پر ظلم ہے کہ نہیں؟

‏2۔ جان پر ظلم کہنے والے گائے جو بچھڑے کے لئے دودھ دیتی ہے اس کو فریب دے کر خود پی لیتے ہیں، کیا وہ جان پر ظلم ہے کہ نہیں؟ 

‏3۔ آج کی اس سائنسی دور میں تحقیق کیا گیا ہے کہ نباتات کو بھی جان ہے۔ نباتات اور سبزی وغیرہ کھانا کیا جان پر ظلم نہیں ہے؟ 

‏4۔عنقریب انکشاف کیا گیا ہے کہ آدمی جو پانی پیتا ہے اس میں بھی کروڑوں جراثیم پائے جاتے ہیں۔ان جانداروں کے ساتھ جو پانی پیا جا تا ہے کیا وہ ‏جان پر ظلم نہیں ہے؟

‏5۔ مچھر، بچھو، سانپ جیسے کئی جانداروں کو انسان اپنی حفاظت کے لئے جو مارتا ہے کیا وہ جان پر ظلم نہیں؟ 

جانداروں کو نہ کھانے کا سبب جان پر ظلم ہی ہے تو مندرجہ بالا معاملوں میں بھی جان پر ظلم ہی ہے، اس کو ہم سوچنا چاہئے۔ 

جانداروں کو نہ کھانے کی وجہ جان پر ظلم ہی ہے تو جو اپنے آپ مرجا تا ہے ان جانوروں اور مچھلیوں سے کیوں اجتناب کیا جاتا ہے؟

مچھلی کے سوا کوئی بھی غذا نہ ملنے والے قطبی ممالک میں رہنے والے اگر اس اصول کی پیروی کریں تو کیا وہ اس دنیا میں زندہ رہ سکتے ہیں؟ 

اس طرح گوشت سے اجتناب کر نے والے نگاہ کی روشنی بڑھانے کے لئے مچھلی کا تیل استعمال کر تے ہیں۔ اس کو ان کا ضمیر قبول کر لیتا ہے۔ 

چنانچہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جان پر ظلم کا وجہ بتانا غلط بیانی ہے۔ 

یہ بات غور طلب ہے کہ سبزی یا گوشت خوری دونوں قسم کے کھانے کو ہضم کر نے کے لحاظ سے انسان کا معدہ بنایا گیا ہے۔

اس طرح سوچنے سے ہم محسوس کر سکتے ہیں کہ اپنی بھلائی کے لئے دوسری جانداروں کو تکلیف دینا اور مارنا انسانی نفس قبول کرلیتی ہے۔ 

نقلی طور سے اور قدیم لوگوں کی قول پر اندھی اعتماد کے بنا پر جان پر ظلم کی وجہ بتاکر گوشت خوری سے اجتناب کیا جا تا ہے۔ 

معائنے کے ذریعے ثابت کیا گیاہے کہ سلام کے طریقے پر جانداروں کو ذبح کر تے وقت انہیں کسی قسم کی تکلیف نہیں ہوتی۔

جانداروں کوکھانے والے غیر مسلم انہیں پانی میں ڈبوکر یا گلا دبا کر یا لاٹھی سے مار کر یا نیزے سے چبھوکر ایسے کئی طریقوں سے جانوروں کو مار ‏دیتے ہیں۔ 

لیکن جانوروں کو ان طریقوں سے مارنے کو اسلام ملامت کر تا ہے۔ اسلام کہتا ہے کہ جانوروں کے حلق میں تیز چھری کے ذریعے ہی ذبح کر نا ‏چاہئے۔ 

حلق بہت جلد کٹ جانے کی وجہ سے دماغ سے تعلق کٹ جاتی ہے۔قریبی انکشاف کہتا ہے کہ اس سے وہ جانور درد محسوس نہیں کرتا۔ خون کو باہر کر ‏نے کے لئے بدن تڑپتا ہے، درد سے نہیں۔

جرمن کی ہنو ور یونیورسٹی میں ایک تفتیش کی گئی۔

اس تفتیش کے کر نے والے پروفیسر سولٹج اور ان کے نائب پروفیسر ڈاکٹر حاسم ہیں۔

انہوں نے جو تجربہ کیا اس کی تفصیل اور اس نتیجے کی تفصیل نیچے دیا گیا ہے۔

‏1) سب سے پہلے کھانے کے لئے ذبح کئے جانے والے جانوروں کو انتخاب کیا گیا۔ 

‏2) عمل جراحی کر کے ان جانوروں کے سرپر دماغ کو چھونے کی طرح کئی حصوں میں برقی آلہ لگایا گیا۔ 

‏3) ان کے احساسات واپس آنے کے ساتھ پوری طور پرصحت پانے کے لئے کئی ہفتوں تک ویسے ہی چھوڑدیاگیا۔ 

‏4) اس کے بعد آدھے تعداد کے جانوروں کو اسلامی حلال کے طریقے سے ذبح کیا گیا۔ 

‏5) باقی کے آدھے تعداد کے جانوروں کو مغربی ممالک کے طریقے سے کاٹا گیا۔ 

‏6) تجربہ کے دوران مارے گئے تمام جانوروں کو ‏U.U.A‏ اورU.E.A‏.درج کیا گیا۔ یعنی ‏U.U.A‏ کی دماغی حالت اور ‏U.E.A‏. کی ‏دلی کیفیت کو تصویر کھینچ کر دکھایاگیا۔ 

اب دیکھیں مندرجہ بالا تفتیش کا انجام اور اس کی تفصیلات۔

‏1) اسلامی حلال طریقے سے جانور جب ذبح کیا گیا تو پہلے تین منٹ تک ‏U.U.A‏ میں کوئی تبدیلی دکھائی نہیں گئی۔ ذبح کر نے کے پہلے کی ‏حالت میں ہی وہ مسلسل رہی۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جانور ذبح کر تے وقت وہ درد سے تڑپانہیں تھا۔ 

‏2) تین لمحوں کے بعد دوسرے تین لمحوں تک جانور گہری نیند یا بے حسی کے حالت میں پائے گئے، اس کو ‏U.U.A‏ نے درج کی۔ وہ حالت ‏جسم سے باہرہونے والے زیادہ خون کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ 

‏3) مندرجہ بالا چھ لمحوں کے بعد ‏U.U.A‏ نے صفر کی حالت کو درج کی۔اس سے ظاہر ہو تا ہے کہ ذبح کیا ہوا جانور کسی طرح کا درد یا تکلیف کا ‏سامنا نہیں کیا۔

‏4) دماغ کی حالت کو صفر دکھا نے پر بھی دل کی دھڑکن رکے بغیر دھڑکتے رہنے کی وجہ سے اور جسم میں ہونے والے اینٹھن کی وجہ سے جسم سے ‏پورا خون باہر نکل جا تا ہے۔ اس لئے اس کا گوشت کھانے کے قابل تندرست ہو تا ہے۔ 

اس تفتیش سے معلوم ہو تا ہے کہ مغربی ممالک کے طریقے سے مارے جانے والے جانورتکلیف کا سامنا کر تے ہیں۔ 

‏1) اس طریقے سے مارے جانے والے جانورفوراً متزلزل ہو کر بے حس ہو جا تے ہیں۔ 

‏2) اس وقت جانور درد کی شدت سے جوایذا اٹھاتی ہے اس کو ‏U.U.A‏ دکھاتی ہے۔ 

‏3) اسی وقت جانوروں کے دل کو حلال طریقے سے ذبح کئے گئے جانوروں کے ساتھ موازنہ کر یں تو وہ پہلے ہی سے رک جاتاہے۔ اس لئے جسم ‏میں بہت سارا خون ٹہر جاتا ہے۔ منجمد خون کا وہ گوشت کھانے کے قابل تندرست نہیں ہوتا۔ 

مندرجہ بالا تفتیش ثابت کر تی ہے کہ اسلامی حلال طریقہ ہی بہتر ہے اوروہ طریقہ ہی انسانی محبت کا طریقہ ہے۔ 

اس سے یہ ثابت ہو تا ہے کہ جانوروں کو اسلام کے طریقے پر اگر ذبح کریں تو اس میں جانداروں کوکوئی تکلیف نہیں ہوتی۔ 

اس کے بعد یہ سوال اٹھ سکتا ہے کہ اللہ کا نام لے کر جو ذبح کیاجاتا ہے ، اسی کو کھانا ہے ، اگر اس طرح نا م نہ لیاجائے تو نہیں کھانا چاہئے ، اس کی وجہ ‏کیا ہے؟ 

عام طور سے کسی بھی جاندار کو کوئی بھی انسان بنا نہیں سکتا۔ ساری دنیا بھی اگر اکٹھا ہوجائے تو ایک چیونٹی بھی پیدا نہیں کر سکتی۔ ایسی صورت میں ‏اللہ نے جو جاندار پیدا کیا ہے اس کو ہلاک کر نے کا حق کسی بھی انسان کو نہیں ہے۔ 

لیکن ان سب کا خالق اللہ ہی نے جب ان جانداروں کو ذبح کر کے کھانے کی اجازت دی ہے تو ہمیں کسی قسم کی خلش نہ ہونی چاہئے۔ مگر اس اجازت ‏کو اگر استعمال کر نا ہو تو ہر ایک جاندار کو ذبح کر تے وقت بھی اجازت لینی ضروری ہے۔ 

وہ اجازت ہی بسم اللہ کہنا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ میں اللہ کے نام سے ذبح کرتا ہوں۔ 

اس کا مطلب یہ ہے کہ اے اللہ، تیرے پیدا کئے ہوئے ایک جان کو ہلاک کر نے کے لئے یہ میں نے ذبح نہیں کیا، میں اس حد تک ظالم نہیں ‏ہوں۔اس کا مطلب یہی ہے کہ اس جان دار کو پیدا کر نے والا توہی مجھے ذبح کر نے کی اجازت دینے کی وجہ سے میں اس کو ذبح کر تا ہوں۔ ورنہ میں ‏جانوں کو مارنے والا نہیں ہوں۔ 

یہ وعدہ ہی ذبح کر نے کے لئے اجازت ہے۔اگر یہ نہ کہا گیا کہ اللہ کے نام ہی سے اس کو میں ذبح کر تا ہوں ، جانداروں کا حقیقی خالق سے اجازت نہ ‏لینے کی وجہ سے اس کو کاٹنا اور کھانا گناہ ہوجا ئے گا۔ 

ایک شخص کے بکرے کو اگر ہم چرا کر کھاتے ہیں تو ہمیں معلوم ہے کہ وہ جرم ہے۔ وہ آدمی اس کے گوشت ہی کا حقدار ہے۔ اس سے معلوم ہو تا ‏ہے کہ اس کی جان کا حقدار اللہ کے پاس بھی اجازت لینا ضروری ہے۔ 

عام طور سے خون کر نیکا عادی انسان کسی کو ڈرا دھمکا کر کام بنانے والا بدمعاش بن جاتا ہے۔ ہر روز بکرے کاٹنے والا ایک مسلمان اسطرح چھری ‏دکھا کر دھمکی دینیوالا بدمعاش نہیں بن سکتا۔

اس کی وجہ بسم اللہ ہی ہے۔ 

اللہ کی اجازت رہنے کی وجہ ہی سے میں بکرے کاٹتا ہوں، اس طرح وہ ہر روز کہتے اور سوچتے رہتا ہے، اس لئے اس کے دل کی گہرائی میں یہ بات ‏مضبوطی سے بیٹھ گئی ہے کہ اللہ نے انسان کو کاٹنے کی اجازت نہیں دی ہے۔ 

اس طرح کی وجوہات کی بناہی پراسلام ہمیں رہنمائی کرتا ہے کہ بسم اللہ کہہ کر ذبح کر یں ۔ اس پر ہم غور کر یں تو اس وقت ہمیں یہی وجوہات ظاہر ‏ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ کئی اور وجوہات بھی ہوسکتے ہیں۔ 

مچھلیوں کو کیوں ذبح کئے بغیر کھاتے ہیں؟ مرے ہوئے مچھلیوں کو کیوں کھاتے ہیں؟ اس طرح شک کر نے والے حاشیہ نمبر 505 دیکھیں۔  

‏170۔ غیر مذہبوں کے معبودوں کو گالی مت دو

‏یہ آیت 6:108کہتی ہے کہ دوسرے مذہبوں کے معبودوں کو گالی مت دو۔ 

اسلام کی بنیادی عقیدہ ہے کہ ساری دنیا کو ایک ہی معبود ہونا چاہئے۔پوری طرح سے اسلام اس عقیدے پر مضبوطی سے قائم ہے۔ 

اسلام یقینی طور پر کہتاہے کہ اللہ کے سوا پرستش کئے جانے والے تمام ایک قیاس کے سوا کچھ بھی نہیں، وہ معبود نہیں ہو سکتے۔ 

پھر بھی غیر مسلم جسے معبود مانتے ہیں اس کے متعلق حقیر انداز سے تبصرہ کر نے یا گالی دینے کو اسلام سختی سے منع کرتا ہے۔ 

غیر مسلم جس طرح بھی تمہیں اشتعال دلائے جسے وہ تقدس سمجھتے ہیں انہیں کسی بھی وجہ سے گالی نہ دیں۔ اس طرح غیر مذہبوں کے درمیان نیک ‏نہاد کے لئے راستہ دکھا تا ہے۔ 

اسی وقت صرف اللہ ہی معبود ہو سکتا ہے، کئی معبود نہیں ہوسکتے، اس طرح دانائی سے تبصرہ کرنا غیرمذہبوں پر عیب لگانا نہیں ہے۔ ان (3:64، ‏‏3:79، 4:171، 5:72، 5:73، 6:71، 6:100، 6:108، 9:31، 12:39، 12:40، 13:16، 16:51، 17:22، ‏‏17:111، 21:22، 21:24، 23:91، 23:117 آیتوں میں اللہ نے خود اس طرح تبصرہ کیا ہے۔ 

غیر مذاہب کے معبود اور عبادت گاہوں کے متعلق اسلام کے عقیدے کو اور زیادہ جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 432، 433، 473 وغیرہ ‏دیکھیں!  

More Articles …