Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

‏185۔ منافقین باہر نکالے جانے کی پیشنگوئی

‏اس آیت (33:60) میں ایک پیشنگوئی کہی گئی ہے۔ اسی طرح وہ پیشنگوئی پوری ہوئی۔ 

نبی کریم ؐ اور مسلمانوں کے پاس دوہری چال چلنے والے منافقین مدینہ سے باہر نکالے جانے کی نوبت بہت جلد آئے گی، یہی وہ پیشنگوئی ہے۔   

‏184۔ کتاب نازل ہو نے سے پہلے موسیٰ نبی کی تبلیغ

‏یہ آیت 7:145 کہتی ہے کہ موسیٰ نبی کو تحریری انداز میں کتاب عطا کی گئی تھی۔ 

یہ کتاب کب عطا کی گئی، اس پر خاص طور پر غور کر نا چاہئے۔

موسیٰ نبی اور ہارون نبی نے فرعون اور اس کی قوم کے پاس تبلیغ کر نے لگے۔ اپنے کو اللہ کا رسول ثابت کر نے کے لئے اللہ کا دیا ہوا معجزات کو موسیٰ ‏نبی نے کر دکھایا۔ فرعون کے لوگوں نے اس کو جادو کہہ کر ماننے سے انکار کر دیا۔انہوں نے سوال کیا کہ کیا تم اپنے ملک کے جادو گروں سے مقابلہ ‏کر سکتے ہو؟ موسیٰ نبی نے اس شرط کو مان لیا تو موسیٰ نبی اور ان جادوگروں کے درمیان مقابلہ ہوا۔اس وقت موسیٰ نبی پرکتاب نازل نہیں ہوئی ‏تھی۔ 

اسرائیلی قوم پر فرعون نے ظلم کر نے لگا۔ موسیٰ نبی اور ان کی قوم نے اس کو برداشت کر گئے۔ اس وقت بھی موسیٰ نبی کوکتاب عطا نہیں ہوئی ‏تھی۔ 

فرعون کی جماعت قحط، زوردار بارش، ٹڈی، جوئیں، مینڈک اور خون وغیرہ کئی آزمائشوں سے مبتلا کئے گئے۔ اس وقت بھی موسٰی نبی پر کتاب نازل ‏نہیں ہوئی تھی۔ 

پھر موسیٰ نبی اور ان کی قوم نے بستی چھوڑ کر بھاگ گئے۔ فرعون انہیں بھگاتے ہوئے آتا ہے۔ آخر میں موسیٰ نبی اور ان کی قوم بچا لئے جاتے ہیں۔ ‏فرعون سمندر میں ڈبودیا گیا۔ اس وقت بھی موسیٰ نبی کو کتاب نازل نہیں کی گئی تھی۔ 

ان تمام واردات کے بعد ہی موسیٰ نبی کو اللہ کتاب عطا کر تا ہے۔

ساتویں سورۃ میں103 سے 150 کی آیتوں کو پڑھو تو یہ حقیقت تمہیں سمجھ میں آئے گی۔ 

‏103 ویں آیت سے 141 ویں آیت تک موسیٰ نبی کی تبلیغ ، آزمائش، فرعون کی تباہی وغیرہ کہنے کے بعد 142 سے 145 آیت تک اللہ انہیں ‏کتاب عطا کرنے کے بارے میں کہتا ہے۔ 

چالیس دن کے بعد اللہ نے کوہ طورپرموسیٰ نبی کو بلوایا۔اس وقت ہی تحریری انداز کی کتاب موسیٰ نبی کو عطا کی گئی۔ 

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی کتاب کے بغیر فرعون اور اس کی قوم کے پاس کئی سالوں تک موسیٰ نبی نے تبلیغ کی تھی۔ اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ‏سمندر پار کر کے بچائے جانے تک بغیر کوئی کتاب ہی کے موسیٰ نبی نے اپنی قوم کی رہنمائی کر رہے تھے۔ 

اس سے معلوم ہو تا ہے کہ بغیر کسی کتاب کے پیغام الٰہی اور رہنمائی دوسری طریقے سے بھی اللہ نے نبیوں کو عطا کر تا ہے۔ 

اس سے ہم معلوم کر سکتے ہیں کہ بغیر کتاب کے دین کے متعلق انبیاء جو بھی کہتے ہیں وہ سب پیغام الٰہی ہی ہے۔ 

اسی طرح نبی کریم ؐ کوبھی قرآن مجیدجو کلام الٰہی ہے جس طرح عطا کیا گیا تھا اس کا خلاصہ بھی اللہ ہی کی طرف سے عطاکیا گیا ہے۔ اس کی پیروی کرنا ‏ضروری ہے۔ 

قرآن کے احکام کی پیروی کر نے کے ساتھ نبی کریم ؐ کی رہنمائی کی بھی پیروی کرنا چاہئے ، اس کے بارے میں اور زیادہ جاننے کے لئے حاشیہ نمبر ‏‏18، 36، 50،39، 55، 56، 57، 60، 67، 72، 105، 125، 127، 128،132 ، 154،164،244، 255، 256، ‏‏258، 286، 318، 350، 352، 358، 430وغیرہ دیکھئے!   

‏183۔ جنات کی طاقت

‏اس آیت 27:39 میں کہا گیا ہے کہ عفریت نامی جن سلیمان نبی سے کہا کہ وہ اٹھنے سے پہلے تخت کو لے آؤں گا۔ 

اس میں کوئی اختلاف رائے نہیں ہے۔ 

پھر بھی اس کی اگلی (27:40)آیت میں ذکر کیا گیا ہے کہ کتاب الٰہی کی علم رکھنے والے نے کہا کہ آنکھ جھپکنے کے پہلے اس کو لے آؤں گا۔ اس ‏بات میں اختلاف رائے پا یا جاتا ہے کہ کتاب الٰہی کا علم رکھنے والے کا اشارہ انسان کی طرف ہے یا جن کی طرف؟ 

‏27:39آیت میں ’جنوں میں سے ایک‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے اور آیت نمبر 27:40 میں صرف ’کتاب الٰہی کی علم رکھنے والے ‘ کہا گیا ‏ہے۔یہی اختلاف را ئے کی وجہ ہے۔ 

قرآن میں آدمی کی طاقت اور جنوں کی طاقت کے بارے میں کہی ہوئی آیتوں کو جاننے والے یہ سمجھ جائیں گے کہ 27:40آیت بھی جنوں ہی کی ‏طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ آیت نمبر 72:8,9وغیرہ آیتیں کہتی ہیں کہ جنوں کی طاقت انسان کی طاقت سے کئی گنا زیادہ ہے۔ 

جنوں کو کسی قسم کی اوزار کے بغیر آسمان کی حدتک جا نے اور واپس آنے کی طاقت دیا گیاتھا۔ ایک انسان آنکھ جھپکنے کے پہلے دوسرے ملک میں ‏رہنے والے تخت کو لے کر آنہیں سکتا۔ اس طرح کی طاقت انسان کو دئے جانے کے بارے میں قرآن یا حدیث میں کوئی دلیل نہیں ہے، اس لئے ‏اس میں اختلاف رائے ہو نے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ 

چنانچہ اس کی صحیح رائے یہی ہے کہ کافی عقل و علم نہ رکھنے والے جن نے جو کہا تھااس کو پچھلی آیت میں کہا گیا تھا اور علم و عقل رکھنے والے جن نے ‏جو کہا تھا اس کو آگے کی آیت میں کہا گیا تھا۔

بعض لوگ یہ کہہ کر لوگوں کودھوکہ دے رہے ہیں کہ ہم جنوں کو اپنے قبضہ میں لے رکھا ہے۔ 

یہ ایک حقیقت ہے کہ کوئی بھی انسان جنوں کو قبضہ میں نہیں کرسکتا۔

نا سمجھ جانداروں کو انسان کے قبضے میں اللہ نے دے رکھا ہے، اس کے لئے دلیلیں موجود ہیں۔ 

‏14:32، 16:14، 22:36، 22:37، 22:65، 31:20، 43:13، 45:12، 45:13 ان آیتوں میں اللہ نے اس کو وضاحت ‏سے کہا ہے۔ 

لیکن انسان کی طرح سمجھدار اور انسان سے زیادہ طاقتور جنوں کو انسان اپنے قبضے میں لے سکتا ہے، کیا اللہ نے ایسا کہا ہے؟جنوں کو کس طرح قبضہ کیا ‏جائے ، اس کے بارے میں اللہ یا اس کے رسول نے سکھلایا ہے؟ہر گز نہیں۔ 

آگ سے پیداکئے جا نے والے جنات انسانوں کے آنکھوں کو دکھائی نہیں دے سکتے۔ پھر بھی وہ انسانوں کی طرح دانشمندی حاصل کئے ہوئے ‏مخلوق ہیں ، اس کے لئے دلیل موجود ہے۔ 

قرآن کی یہ آیتیں 6:130، 7:38، 7:179، 11:19، 32:13، 51:56، 55:31 وغیرہ کہتی ہیں کہ انسانوں کی بھلائی اور برائی کے ‏مطابق جس طرح جنت اور جہنم عطا کی جاتی ہے اسی طرح جنات کے لئے بھی عطا کی جائے گی، اور جنوں کے لئے بھی عبادات و پرستش ہے۔ 

آیت نمبر 7:179 صریح طور سے کہتی ہے کہ جنات کو بھی فہم و فراست ہے۔ 

بے عقل جانوروں کو انسان اپنے بس میں کرسکتا ہے۔لیکن عقلمند جنوں کو کس طرح قابو میں کیا جا سکتا ہے؟

ایک عقلمند انسان دوسرے ایک عقلمند انسان پرجب قابو پا نہیں سکتا تو عقلمند جنوں پر کیسے قابو پاسکتا ہے؟

صرف اتنا ہی نہیں بلکہ ہم نے اوپر دیکھا کہ طاقت میں انسان سے بھی زیادہ جنات ہیں۔ 

جنوں کو انسانوں کی طرح دانشمندی موجود ہے۔ طاقت میں وہ انسانوں سے کئی ہزارگنا زیادہ طاقت رکھتے ہیں۔ معاملہ ایسا رہنے سے یہ ثابت ہوجا تا ‏ہے کہ اگر جنات چاہے تو انسانوں کو قابو میں کر سکتے ہیں ، لیکن جنوں کو انسان اپنی قابو میں نہیں کرسکتا۔

اور بھی اس کو تشریح کر نا ہو تو انسان سے جنوں کو ہرگز قابومیں نہیں لاسکتے ، اسی کے لئے دلیلیں موجود ہیں۔ 

سلیمان نبی کو اللہ نے جنوں کوقابو میں کیا تھا، اس کے بارے میں چند آیتیں دیکھئے:

شیاطین میں سے ہم نے انہیں غوطہ لگانے والوں کے سوادوسرے کام کر نے والوں کو بھی (تابع کر)د یا تھا۔ ہم انہیں نگرانی کر نے والے تھے۔ ‏‏(قرآن مجید 21:82)

سلیمان کو ہم نے ہوا کو مسخر کردیا۔اس کی روانگی ایک ماہ تھی۔ اس کی واپسی ایک ماہ تھی۔ ان کے لئے ہم نے تانبے کا چشمہ بہایا۔ اللہ کی مرضی کے ‏مطابق ان کے پاس کام کرنے والے جنات بھی تھے۔ ان میں سے اگر کوئی ہمارے حکم کو جھٹلائے تو انہیں جہنم کا عذاب چکھائیں گے۔ ان کی ‏چاہت کے مطابق عمارتیں، مجسمے، حوض جیسے لگن اور ہٹائے نہ جانے والے دیگیں(بڑا برتن) وہ بناتے تھے۔(ہم نے کہا) اے آل داؤد! شکر ‏کے ساتھ عمل کرو۔ میرے بندوں میں شکر گزار بہت کم ہی ہیں۔ (قرآن مجید 34:12,13) 

اللہ اس طرح نگرانی کر نے کی وجہ سے کہ کیا جنات ہر لمحہ سلیمان نبی کے تابع ہیں ، وہ جنوں کو تابع کر سکتے تھے۔ 

سلیمان نبی کو اللہ نے ہواکو مسخر کیا تھا، پرندوں کو مسخر کیا تھا، اور چیونٹیوں کی باتوں کی سمجھ دیا تھا۔ اسی طرح جنوں کو بھی انہیں مسخر کیا تھا۔ 

اگر انسانوں نے جنات کو قابو کر سکتے تھے تو سلیمان کو مسخر کر دیا تھا کا جملہ بے معنی ہوجائے گا۔ 

سلیمان نبی کو اللہ نے جنات کو مسخر کر دیا تھا کا مطلب ہے کہ انسان اپنے ہاتھوں سے انہیں مسخر کر نہیں سکتے۔

اللہ کی اس عظیم الشان نعمتوں کو اپنائے ہوئے سلیمان نبی نے یہ بھی دعا فرمادی کہ جو حکومت مجھے دی گئی ہے اس جیسی حکومت کسی کو نہ دے۔ 

اے میرے رب! مجھ کو معاف فرما۔مجھ کو ایسی سلطنت دے جو میرے بعد کسی کو نہ ملے، توہی فیاض ہے۔( 38:35)

اس دعاکو اللہ نے قبول فرمالیا۔ اس کی دلیل حدیث میں موجود ہے۔

ابو ہریرہؓ نے فرمایا: 

‏(ایک دن) نبی کریم ؐ نے کہاکہ کل رات ایک وحشی جن میری نماز(کو درمیان ) میں توڑنے کے لئے اچانک آ کھڑا ہوایا اسی جیسا جملہ کہا۔ پھر اللہ ‏نے اس پر مجھے طاقت عطا کی۔ تم لوگ صبح آکر دیکھنے تک اس کو اس مسجدہی میں باندھ کر رکھنا چاہتا تھا۔ تو اس وقت مجھے میرے بھائی سلیمان نے جو ‏کہا تھا: ’’اے میرے پروردگار!مجھ کو ایک ایسی سلطنت عطا فرما کہ میرے بعدکسی کو میسر نہ ہو‘‘ مجھے فوراً یا د آگیا۔ (بخاری : 461)

سلیمان نبی نے جودعا کی تھی اللہ نے نبی کریم ؐ کو یاد دلاکر جن کو قابو میں کر نے کی حالت میں رہنے والے نبی کوروک دیا۔یہ ایک دلیل ہے کہ ‏سلیمان نبی کی دعا میں یہ بھی شامل ہے۔

اس سے ہم جان سکتے ہیں کہ نبی کریم ؐ بھی جنوں کو قابو میں نہیں کرسکتے۔

قرآن مجید میں واضح طور پر کہہ دیا گیا ہے کہ انسان جنوں کو قابو میں نہیں کر سکتا۔اس کے باوجود اس کے بر خلاف دعویٰ کیا جائے کہ انسان جنوں کو ‏قابومیں کرسکتا ہے تو کیسے مان سکتے ہیں؟ 

اگر جنوں کو بس میں کئے رکھے ہو تے تو کیا اپنی ضرورت کے لئے لوگوں کے پاس ہاتھ پھیلائے ہوتے؟

جن کو قابو میں رکھے ہو ئے انسان کے پاس جاکراگرکوئی کہے کہ میں تجھے ماروں گا، تم مجھے کچھ نہ کرنا۔ تم جس جن کو قابو میں کر رکھا ہے وہی مجھے ‏روکنا چاہئے تو کیا وہ مانے گا؟ 

جنوں کو قابو میں رکھنااگرسچ ہو تا تو زمین کے اندر مدفون کئی کروڑوں روپیوں کے سونے کو لے آنے کے لئے اپنے قابو میں رہنے والے جنوں کو حکم ‏دے سکتے ہے نا؟ 

امریکہ اور اسریل جیسے دہشت انگیز ممالک کو چار جنوں کو بھیجتے تو وہ ان ممالک کی دھجیاں اڑا دیتے؟ جنوں کواتنی طاقت تو ہے نا؟ 

کہیں دور مقام میں رہنے والے تخت کو آنکھ جھپکنے کے پہلے لے آنے کی طاقت والے جنوں کو اگر حکم دیں تو پینڈگن کی قابومیں رہنے والے تمام ‏اوزار کو مٹا دے سکتے۔

جنوں کو قابو میں کر نے کی جھوٹ بولنے والے معمولی سا کام ہی کر رہے ہیں۔ جنات جو کام کر تے ہیں وہ یہ نہیں کرتے۔ 

عقلمندی سے اگر غور کریں تو آنکھوں سے اوجھل ذی عقل مخلوق ہی کو بس میں کر نے کا موقع زیادہ ہوگا۔آیت نمبر7:27 میں اللہ فرماتا ہے کہ ‏جنات ہمیں دیکھ سکتے ہیں، ہم جنات کودیکھ نہیں سکتے۔

جنات اگر انسان کے سر میں ضرب لگا کر کہے کہ میری بات سنو تو انسان انکار نہیں کرے گا۔ کیونکہ وہ آنکھوں سے اوجھل رہنے سے معلوم نہیں ‏کہ ضرب کدھر سے آئے گا۔ جنات سے سامنا نہ ہوسکتا ، اس لئے ہم مان سکتے ہیں کہ انسان جنوں کے تابع ہوسکتا ہے۔ 

انسان کی طرح ذی عقل ، انسان سے زیادہ طاقت اور آنکھوں سے اوجھل رہنے سے ایک اور طاقت ان سب کو حاصل کر نے کی وجہ سے جنات کو ‏انسان ہرگز قابو میں نہیں کر سکتا۔ 

اس سے ثابت ہو تا ہے کہ وہ یہ کہہ کر ڈرا رہے ہیں کہ جنات کے ذریعے جنات کے مناسب سے کسی کام کو یہ لوگ نہیں کرتے۔بلکہ لوگوں کو ‏فریب دے کر پیسے اینٹنے کے لئے ہی جنوں کوقابو میں رکھنے کی دعوہ کرتے ہیں۔  

‏182۔ سب کے لئے ایک دین

‏مسلم سماج میں بعض لوگوں کے پاس چند غلط عقیدے پائے جاتے ہیں، اسی کے انکارمیں یہ آیت (21:109) تشکیل پائی ہے۔ 

وہ غلط عقیدہ یہی ہے:

نبی کریم ؐ نے جو معمولی انسانوں کو سنایا تھا وہ قرآن اور حدیث ہی ہے۔ اس کے علاوہ راز کی باتیں بھی نبی کریم ؐ نے سکھلایا ہے۔ اس کو عام انسانوں کو ‏نہیں سکھایا بلکہ منتخب شدہ صرف چند صحابیوں ہی کو سکھایا۔ ان صحابیوں نے بھی ان کے بعد آنے والی تمام نسلوں کو سنانے کے بجائے صرف منتخب ‏شدہ چند اشخاص کو بیعت کے نام سے عہد لے کرصرف انہیں کو سکھلایا۔ 

منتخب شدہ ان لوگوں کوشریعت کا قانون پابند نہیں کر سکتا۔ رازدارانہ علم کے ذریعے جو جانا گیا ہے اس کے مطابق وہ لوگ عمل کریں گے۔ یہی ان ‏کابیہودہ عقیدہ ہے۔ 

اسی کو بنیاد بنا کر اسلام کے خلاف طریقے ایجاد کئے گئے۔ ان کا صدر شیخ کہلاتا ہے اور ان کے غلام مرید کہلاتے ہیں۔ 

شیخ اگر کچھ بھی کہے مریدین اس کو بغیرکسی دلیل کے پیروی کر نا چاہئے۔ جو کچھ وہ کہے اگر وہ قرآن اور حدیث میں بھی نہ ہوتو تب بھی اس کے لئے ‏کوئی دلیل نہ مانگنا چاہئے۔ اس کو اس طرح قبول کر لینا چاہئے کہ وہ روحانی علم کے ذریعے ہمیں حکم دے رہے ہیں۔ 

اس طرح کہنے والے شیطان بھی شیخ نبے بیٹھے ہیں کہ نماز پڑھناضروری نہیں،وہ معمولی آدمیوں کے لئے ہے۔ ہم دل سے نماز پڑھیں گے۔گانجہ ‏پئیں گے، ناچ گانوں سے لطف اندوز ہوں گے۔ غیرعورتوں کے ساتھ تنہائی میں رہیں گے۔معمولی لوگوں کے قانون کے مطابق اگر وہ غلط بھی ہو ‏تو ہمیں وہ پابند نہیں کرسکتا۔ 

شریعت الگ ہے اورطریقت الگ ہے کہہ کر اسلام کو جدا کر نے والے اپنے آپ کو روحانی پیشواسمجھ بیٹھے ہیں۔ 

لیکن اسلام سب کے لئے ایک ہی اسلام ہے۔ وہ کوئی بھی ہو ایک ہی اسلام کی پیروی کرنا ضروری ہے۔ نبی کریم ؐ نے رازدارانہ علم کے نام سے کوئی ‏بات نہیں سکھلائی۔ اسی کو یہ آیت (21:109) وضاحت کے ساتھ کہتی ہے۔ 

یہ آیت نبی کریمؐ کو حکم دیتی ہے سب لوگوں سے کہہ دو کہ میں نے سب کو یکساں طور پر اطلاع کر چکا ہوں۔یہ آیت بالکل وضاحت کے ساتھ کہتی ‏ہے کہ نبی کریم ؐ نے جو لایا تھا اس دین کو اور اس کی تعلیمات کو سب کے لئے یکساں سنادیا ، اور مخصوص طور پر صرف چند لوگوں کو کوئی روحانی تعلیم ‏نہیں سکھلائی ۔جعلی شیخوں کے پنجے میں لوگ گرفتار ہو نے سے یہ آیت بچاتی ہے۔ 

شیخ سے عہد و پیمان ،بیعت، تصوف وغیرہ اسلام میں نہیں ہے۔ اس کو اور زیادہ جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 81، 273، 334وغیرہ دیکھئے!

پیدائشی طور پر سب لوگ برابر ہیں۔ نیک کردار ہی سے ایک سے ایک بلند ہو سکتا ہے۔ اسلام کی مساوات اور بھائی بندی وغیرہ جاننے کے لئے ‏حاشیہ نمبر 11، 32، 49، 59، 141، 168، 227، 290، 368، 508 دیکھئے!   

‏181۔ مجبوروں کے لئے محنت کرنا

‏ایک غیر مسلم بادشاہ کے پاس مغلوب انسانوں کے لئے موسیٰ نبی نے جو حق کی آواز اٹھائی اس کی تفصیل ان آیتوں ،7:105 7:134، ‏‏20:47، 26:17، 26:22، 44:18) میں کہا گیا ہے۔ 

موسیٰ نبی کو وحدانیت کی تبلیغ کے ساتھ ایک اور کام کے لئے بھی بھیجا گیا تھا۔ 

اس زمانے کے حکمراں فرعون کے نسل والے اسرائیل کے قوم پرتشدد کرنے لگے تھے اور انہیں کمترین شہریوں کی طرح سلوک کرنے لگے ‏تھے۔ 

موسیٰ نبی نے فرعون کو وحدانیت کے ساتھ ساتھ اسرائیلوں کی حقوق کے لئے بھی آواز اٹھائی تھی۔ اور استدعا بھی کی تھی کہ انہیں اپنے ساتھ بھیج ‏دی جائے اور ان پر ظلم نہ کیا جائے۔اسی بات کو اللہ نے اس آیت میں فرمایاہے۔

یہ آیتیں دلیل ہیں کہ غیر مسلموں کی حکومت میں حق کا مطالبہ کر نااور مظالم قوم کے لئے آواز اٹھانادین میں اجازت ہے۔

جہاں اسلامی حکومت نہیں ہے اس ممالک میں مسلمان پر ظلم ڈھایا جائے یا ان کے حقوق چھین لیا جائے یا انہیں کمترین شہریوں کی طرح سلوک کیا ‏جائے تو ان حکمرانوں کے پاس حق کی آواز اٹھا سکتے ہیں اور اٹھانا بھی چاہئے۔ اس کے لئے موسیٰ نبی کی تاریخ گواہ ہے۔  

‏180۔ پوشیدگی اور عاجزی کے ساتھ دعا کرنا

‏یہ آیت (7:55)اس طریقے کو ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ سے کس طرح دعا کرنا ہے ۔

ہم جانتے ہیں کہ ایک حاکم یا ایک وزیر کے پاس ہماری کوئی گذارش رکھنا ہے تو اس کے لئے چند قانون کی پیروی کر نی چاہئے۔

ہم درخواست کر تے وقت اگر ہم تجنیس کے ساتھ مکالمہ کریں یا طرز کے ساتھ گاکر استدعا کریں یا ناچتے گاتے ہوئے گزارش پیش کریں یابلند ‏آواز کے ساتھ درخواست دیں تووہ گزارش کتنا ہی اعلیٰ درجے کا ہوبھی تو اس کو حاکم قبول نہیں کریگا۔ 

ایک انسان سے گزارش کر تے وقت جس طرح عاجزی دکھاتے ہیں اس سے کہیں زیادہ اللہ کے پاس عاجزی دکھانا چائے۔اسی کو اللہ یہاں فرماتا ‏ہے۔

عاجزی کے ساتھ تم اپنے رب سے دعا کرنا پہلا اصول ہے۔ اللہ کے پاس درخواست کر تے وقت راگ الاپ کر یا تجنیس سے مکالمہ کر کے یا اچھلتے ‏کودتے مانگو گے تو وہاں تمہاری عاجزی غائب ہوجائے گی۔ 

بغیر کسی عاجزی کے اور بغیر یہ احساس کر تے ہوئے کہ کس سے مانگ رہے ہیں ، اکثر مسلمان ایک رواج کے طور پر دعا کر رہے ہیں۔ اس آیت سے ‏ہم معلوم کر سکتے ہیں کہ وہ غلط عمل ہے۔ 

مزید یہ کہ اس آیت میں کہا گیا ہے کہ پوشیدہ طور پر دعا کرنا بھی دعا کا ایک سلیقہ ہے۔

اس سے یہ معلوم ہو تا ہے کہ بلند آواز کے ساتھ سب مل کر دعاکرنا دستور کے مطابق دعانہیں ہے۔ 

ہر ایک کو الگ الگ قسم کی ضروریات ہو تی ہیں۔ ہر آدمی اپنی اپنی ضروریات کو اپنے ہی زبان میں عاجزی اور انکساری کے ساتھ پوشیدہ طور پر دعا کرنا ‏ہی دعا کی اصل الاصول ہے۔ 

یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ نے جس طرح دعا کر نے کا حکم دیا تھا اس طرح کی جانے والی دعا ہی کو وہ قبول فرمائے گا۔ 

اس کے متعلق اور زیادہ تفصیل کے لئے حاشیہ نمبر 190، 192، 270 وغیرہ دیکھئے!  

 ‏‏179۔کتنے دنوں میں دنیا کی تخلیق ہوئی؟

‏آسمانوں، زمین اور اس کے درمیان جو کچھ ہیں سب کی تخلیق کے بارے میں یہ آیتیں (7:54، 10:3، 11:7، 25:59، 32:4، ‏‏41:9,10، 41:12، 50:38، 57:4) کہتی ہیں۔ اس کو سطحی طور پر اگر دیکھا گیا تو ایک سے ایک اختلاف سا دکھنے کے باوجود حقیقت ‏میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ 

ان آیتوں (7:54، 10:3، 11:7، 57:4) میں کہا گیا ہے کہ آسمانوں اور زمین کو اللہ نے چھ دنوں میں پیدا کیا ۔

آیت نمبر 41:9 میں کہا گیا ہے کہ زمین کو دو دنوں میں پیدا کیا ہے اور آیت نمبر 41:12 میں کہا گیا ہے کہ آسمانوں کو دو دنوں میں پیدا کیا ہے۔ ‏اس طرح دیکھا گیا تو آسمانوں اور زمین چار دنوں میں پیدا کیا گیا ہے۔ 

یہ شک پیدا ہوسکتا ہے کہ چھ دنوں میں پیدا کیا گیا کہنے کو یہ فرق دکھتا ہے۔ قرآن میں عیب تلاش کر نے کی کوشش کر نے والے یہ سوال بھی ‏اٹھاتے ہیں۔ 

سطحی طور پر دیکھیں تو اختلاف دکھائی دینے کے باوجود ایک اور آیت میں اس اختلاف کو دور کر نے کے طریقے سے خود قرآن نے وضاحت کی ‏ہے۔ 

زمین کی تخلیق کو دو طرح سے تقسیم کیا گیا ہے۔ زمین کے سیارے کو دو دن میں تخلیق کیا گیا۔ انسان زندگی بسر کر نے کے لئے زمین کو تخلیق کیا گیا، ‏اس میں بہت زیادہ انتظامات کرنا ضروری تھا۔نباتات اگنے کے لئے ، پہاڑوں کو کھونٹی بنانے کے لئے،زمین کے اندر پانی وغیرہ بہت سی انتظامات کی ‏ترکیب کرنی تھی۔آگے آنے والی آیت میں قرآن کہتا ہے ان جیسے انتظامات کے لئے دودن ہیں۔

چار دنوں میں اس کے اوپر کھونٹیاں قائم کیں۔ اس پر برکت رکھا۔اس کی خوراک کو اس میں مقرر کیا۔ آیت نمبر 41:10 کہتی ہے کہ سوال کر ‏نے والوں کویہی ٹھیک جواب ہے۔ 

قرآن خود واضح کر دیا کہ آسمان و زمین کی تخلیق لئے چھ دن جو کہا گیا ہے اس کا مطلب یہی ہے۔ 

آسمان کی تخلیق کے لئے دو دن۔

زمین کی تخلیق کے لئے دو دن۔ 

زمین میں بعض مخصوص انتظامات کے لئے دو دن۔

کل ملا کر چھ دن ہی اس کا مطلب ہے۔ صرف زمین کو الگ کہتے وقت اگر دو دن کہاگیا تو اس مخصوص انتظامات کو چھوڑ کردو دن کا معنی لینا چاہئے۔ 

تخلیق کے متعلق کہنے والی ان آیتوں میں صرف آسمان و زمین کی تخلیق کے بارے میں ہی بات کیا جاتا ہے۔ اگر ایسا ہو تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیازمین ‏کے سوااللہ نے دوسرے سیاروں کو پیدا نہیں کیا؟ 

اس سوال کا جواب بھی قرآن مجید میں دے دیا گیا ہے۔ آسمان کے پیدا کر نے میںیہ آیتیں (25:59، 32:4، 50:38) کہتی ہیں کہ اس میں ‏آسمان اور زمین کے درمیان جو کچھ ہے وہ سب بھی شامل ہیں۔ 

آدمی زندگی بسر کر نے کے لئے خصوصی انتظامات کی ضرورت دوسرے سیاروں کو نہ رہنے کی وجہ سے اس کو اور آسمانوں کو تخلیق کر نے کے لئے ملا ‏کر اللہ نے دو دن لیا ہے۔ 

بعض لوگ پوچھتے ہیں کہ کُن کہنے سے ہوجانے کی قدرت رکھنے والے اللہ نے اس کائنات کو پیدا کر نے کے لئے چھ دن کیوں لگائے؟بعض لوگ یہ ‏بھی پوچھتے ہیں کن کہہ کر فوراً بنانے کی قدرت رکھنے والا اللہ پھر بھی اس کو پیدا کر نے کے لئے چھ دن لگایا، ان باتوں میں اختلاف کیوں ہے؟ 

اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ ایک مثال کے ذریعے اس کو ہم سمجھ سکتے ہیں۔ 

ہم کہتے ہیں کہ دنیا کا مشہور پہلوان 200کلو کواٹھاسکتا ہے۔ ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ 200کلو کی چیز کو اس نے پچیس پچیس کلو کے حساب سے الگ ‏الگ جگہ میں بدل کر رکھا۔ ہم نہیں کہہ سکتے کہ ان دونوں میں اختلاف ہے۔ اگر وہ چاہے تو ایک ہی دم میں 200کلو وزن اٹھا سکتاہے، اس میں ‏کوئی تبدیلی نہیں ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ جب بھی اٹھائیں گے 200کلو ہی اٹھائیں گے ۔اس کا مطلب ہے وہ اٹھا سکیں گے۔ 

اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسی طرح اللہ جسے بھی پیدا کرے تو ہوجا کہہ کر اسی لمحے میں پیدا کر سکتا ہے۔اگر وہ چاہے تو کن کہہ کر پیدا کرسکتا ‏ہے۔ اگر وہ چاہے تو تاخیر سے اورآہستگی سے بھی پیدا کر سکتا ہے۔ اس لئے اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ 

‏178۔ جنت میں داخل ہو نے والے اعراف والے

‏اس آیت (7:49) میں یہ جملہ استعمال کیا گیا ہے کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ! تمہیں کوئی خوف ہوگااور نہ کوئی غم۔

یہ کہنے والے کون ہیں اورکس کی طرف مخاطب ہیں، اس معاملے میں مفسرین کے درمیان اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ 

بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ آڑ والی دیوار میں رہنے والوں سے مخاطب ہو کر اللہ کہتا ہے۔ 

اس رائے کے مطابق آڑ والی دیوار میں رہنے والے تمام جنت میں جائیں گے۔

بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ آڑ والی دیوارمیں رہنے والوں کا قول ہے۔ 

وہ لوگ کہتے ہیں،آڑ والی دیوار میں رہنے والے جنتیوں کی طرف اشارہ کر کے جہنم والوں سے کہنے کے الفاظ ہیں کہ ’’تم نے تو قسم کھاکر کہا تھا کہ ان ‏پر اللہ رحمت نہیں فرمائے گا۔ اب تو انہیں جنت میں داخل ہو نے کے لئے کہہ دیا گیاہے؟‘‘

دونوں قسم کی رائے کے لئے اس آیت میں جگہ ہے۔   

More Articles …