Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

‏193۔ وحدانیت کی لاعلمی

‏اس آیت (8:17) میں اللہ کہتا ہے کہ جنگ بدر میں نبی کریم ؐ نے جودشمنوں پر پتھرپھینکا اس کو تم نے نہیں پھینکا بلکہ ہم ہی نے پھینکا۔ 

اللہ اور اس کے رسول ایک ہی ہیں کہہ کر وحدانیت کی بات کر نے والا ایک گمراہ گروہ اس کو دلیل بناکربیکار بکواس کر رہاہے۔ اس لئے یہ آیت کیا ‏کہتی ہے، اس کے بارے میں ہم تفصیل سے جان لینا چاہئے۔

ہم جانتے ہیں کہ جنگ بدر ہی نبی کریم ؐکی پہلی جنگ ہے۔ 

اسلامی سرگرمی کو بڑھانے والی اس جنگ میں اللہ نے بیشمار معجزات دکھا کر مسلمانوں کو فتح عطا کی۔ 

‏* ہزار فرشتوں کو اللہ نے میدان جنگ میں اتارا۔ (8:9) 

‏* چست ہو کرجنگ لڑنے کے لئے مسلمانوں کو ایک چھوٹی سی نیند دے کر ان کے دلوں میں سکون پیدا کیا۔ (8:11)

‏* اس رات بارش برسا کر انہیں پاکیزہ بنانے کے ساتھ ان کے قدموں کو بھی مضبوط کیا۔ (8:11) 

‏* فرشتوں نے بھی میدان میں اتر کر جنگ کی۔ (8:12)

‏* دشمنوں کے دل میں اللہ نے خوف پیدا کردیا۔ (8:12) 

ان سارے معجزات کے ساتھ ایک اور معجزہ کے بارے میں ہی اللہ نے اس آیت (8:17)میں فرمایا ہے۔

نبی کریم ؐ نے علیؓ سے فرمایا کہ مٹھی بھر سنگریزے لے آؤ۔ انہوں نے لے آیا۔ نبی کریم ؐ نے اس کو دشمنوں کے منہ کی طرف پھینکا۔ ہر ایک دشمنوں ‏کی آنکھوں میں وہ جا لگا۔ اس موقع پر ہی اللہ نے فرمایا کہ ’’جب تم نے پھینکاتو اس کو تم نے نہیں پھینکابلکہ ہم ہی نے پھینکا۔(طبرانی)

اسی کو اللہ نے مندرجہ بالا آیت میں ذکر کیا ہے۔ 

انسان پتھر پھینکنے سے جو نتیجہ نکلے گااس جیسا نتیجہ نکلنے کے بجائے اللہ جب پھینکتا ہے تو جو نتیجہ نکلے گا اس سے وہی نتیجہ نکلا۔ 

ان جیسے معجزات ہی کی وجہ سے وہ لوگ فتح پائے، اس کے سوا جنگ میں حصہ لینے والوں کی طاقت کی وجہ سے نہیں۔ اس کو احساس دلانے ہی کے ‏لئے اللہ نے اس طرح فرمایا ہے۔ 

ایسی واضح آیت ہی کو انہوں نے اپنے غلط عقیدے کے لئے دلیل بنا لئے ہیں۔ 

اس طرہ یہ کہ ’’اللہ اور نبی کریم ؐ الگ الگ نہیں ہیں، دونوں ایک ہی ہیں‘‘ اس طرح کابکواس بھی کر رہے ہیں۔اس کی مناسبت سے جھوٹی کہانیاں ‏بھی بکثرت انہوں نے بنا رکھی ہیں۔ عیسیٰ نبی کے معاملے میں عیسائیوں نے جو حد سے تجاؤذ کر گئے تھے اس سے بھی یہ گئے گزرے لوگ ہیں۔ 

اسلام کو ایک غلط وضع دینے والاان کا سردار ابن عربی نے دوسرے مذاہب سے وحدانیت کے عقیدے کو نقل کر کے اسلام کے اندر داخل کر نے ‏کی کوشش کی۔اس نے کہا کہ دکھائی دینے والی ہر چیز اللہ ہی ہے۔ اس کو بہت بڑا بزرگ ماننے والے بیوقوف بھی ہمارے سماج میں موجود ہیں۔

قرآن اور حدیث میں استعمال ہو نے والے ذومعنی جملوں کو غلط معنی د ے کر وہ لوگوں کو گمراہ کر نے کی کوشش کی۔ 

‏(ذومعنی والے آیتوں کو کس طرح سمجھنا چاہئے ، اس کو جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 86 دیکھئے!)

قرآن کی آیتوں کو یا حدیثوں کو موڑ کر اپنی بکواس کے لئے کیا کوئی نیاراستہ ڈھونڈ سکتا ہے؟اس بات کی تلاش کر نے والوں کو یہ آیت بہت بڑی سند ‏ثابت ہوئی۔ 

ان کا کہنا ہے کہ ’’نبی کریم ؐ اگر انسان ہوتے تو ایک مٹھی سنگریزے سے کیاسارے دشمنوں کے منہ پر پھینک سکتے تھے؟محمد نبی خود اللہ ہوتے تو ہی ‏اس طرح پھینک سکتے تھے۔اللہ تو یہ کہتا ہے کہ انہوں نے جو پھینکا تھا اس کو ہم ہی نے پھینکاتھا۔ اسی لئے نبی کریم ؐاور اللہ ایک ہیں۔ ‘‘

شرک کے دروازے کو بالکل سختی سے بند کر نے والے اس دین میں ہی وہ لوگ کھیل رہے ہیں۔ 

لیکن یہ آیت ان کے دعوے کا بالکل خلاف ہے۔ 

‏’’اے محمد! تم یہ نہ سمجھ لینا کہ اگر میں سنگریزے پھینکوں تو دشمن بھاگ جائیں گے۔ بلکہ خصوصاً اس واقعہ میں جب تم نے پتھر پھینکا تو میری ‏قدرت سے میں نے اس کو بکھیر دیا‘‘ یہی اس آیت کا مفہوم ہے۔ 

یہ سمجھنے کے لئے کہ یہی اس آیت کا معنی ہے، ہم کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں۔ اسی آیت میں اس کی وجہ بھی موجود ہے۔ 

نبی کریم ؐ سنگریزے کو پھینک دینے کے متعلق کہنے سے پہلے اصحاب رسول جنگ میں دشمنوں کو کاٹ پھینکنے کو اللہ نے اس طرح فرماتا ہے: ’’تم نے ‏انہیں قتل نہیں کی، بلکہ اللہ ہی نے انہیں قتل کیا۔‘‘

اصحاب رسول اپنے تلوار وں اور نیزوں سے دشمنوں کو قتل کیا۔اصحاب رسول کے ہاتھوں سے کئے گئے اس دلیرانہ عمل کو اللہ اپنا کہہ رہا ہے۔ 

نبی کریم ؐ کے پتھر پھینکنے کے بارے میں جو جملہ استعمال کیا گیا تھا اسی طرح کا جملہ یہاں پر بھی اللہ نے استعمال کیا ہے۔ 

انہیں دعویٰ کر نا چاہئے تھا کہ صرف نبی کریم ؐ ہی نہیں بلکہ جنگ بدر میں شامل ہو نیوالے تمام اصحاب رسول بھی اللہ ہی تھے۔

اس طرح کہنے والے کہ اللہ ہی نبی اور نبی ہی اللہ ہے، انہیں اس طرح بھی کہنے کی نوبت آجا ئے گی کہ اللہ ہی اصحاب رسول اور رسول ہی اصحاب ‏رسول ہیں۔ 

جنگ بدر میں کئی صحابی مارے گئے۔ ان لوگوں کی احمقانہ دعوے کے مطابق یہ مطلب ہو جائے گا کہ اللہ ہی مارا گیا۔ 

‏’’دشمنوں کی فوجی طاقت میں تم تین میں ایک حصہ رہنے کے باوجود تم ہی کامیاب رہے۔ اسی مناسبت سے کئی قسم کی ماحول کو میں نے ہی پیدا ‏کیا۔‘‘اس رائے کو قائم کر نے کے لئے ہی اللہ نے اس طرح فرمایا ہے۔ 

اس کامیابی کو نبی کریم ؐ یاان کے اصحاب اپنی ذاتی کامیابی نہیں کہہ سکتے، اسی لئے اللہ نے جو معجزات دکھائے تھے اس کو پہلے کی آیت میں یاد دلایا ‏تھا۔ 

میں بھی تمہارے ہی جیساایک انسان ہوں، اس طرح صریح طور پر کہہ دینے کونبی کریم ؐ سے اللہ فرماتا ہے۔ (18:110)

نبی کریم ؐ کھاتے پیتے تھے،بیت الخلاء وغیرہ جا تے تھے، گھریلو زندگی بسر کر تے تھے، دوسروں کی طرح والدین سے پیدا ہوئے تھے، بیوی بچوں کو کھو ‏کر غمگین ہو تے تھے، تکلیفیں برداشت کرتے تھے، شہر چھوڑ کر جلا وطن ہوئے تھے، اپنے بیوی پر جب دشمن تہمت دھر ے تو سچائی کو نہ جانے ‏ہوئے تھے، ایک گروہ کی دعوت پر بھیجے جانے والے ستر صحابی مارے جائیں گے ، اس کو نہیں جانتے تھے اور غربت میں بسر کر تے تھے ،ایسے ‏ہزاروں واقعات کے ذریعے نبی کریم ؐ نے یہ ثابت کرچکے تھے کہ وہ ایک بشر ہی ہیں۔یہ جاننے کے باوجود بھی یہ لوگ بکواس کر رہے ہیں۔ 

نبی کریمؐ اور اصحاب رسول ہی نہیں بلکہ سب آدمیوں کے معاملے میں بھی اللہ نے ایسے جملے استعمال کیا ہے۔ 

اللہ ان (53:63,64) آیتوں میں پوچھتا ہے کہ اس بارے میں کہو جوتم بوتے ہو ۔ کیا تم ہی زراعت کر تے ہو یا ہم کرتے ہیں؟ 

انسان کی زراعت کے بارے میں کہنے کے بعد اللہ فرماتا ہے کہ حقیقت میں زراعت تم نہیں کر تے ہو، بلکہ ہم ہی کر تے ہیں۔ اب کہو کہ کیا تمام ‏کسان اللہ ہیں؟ کیا اس پر غورکرنا نہیں چاہئے؟ 

ہم ہی بیج بوتے ہیں، لیکن بوتے ہوئے بیج کو اگا کر ایک کے بدلے سواور اس سے بھی زیادہ جو اگاتا ہے وہ اس کی قدرت میں جمع ہے، اس کو ہم اچھی ‏طرح جانتے ہیں۔ 

اسی طرح مندرجہ بالا آیت کو بھی سمجھنا چاہئے۔ 

ایک اور زاویہ سے سوچا جائے توہم آسانی سے سمجھ سکتے ہیں کہ ان کا یہ دعویٰ کتنی بیہودہ ہے۔

تم نے جب پھینکا

تم نے نہیں پھینکا

یہاں دو جملے استعمال ہوئے ہیں۔ جب تم نے پھینکا کہتے وقت اللہ مان لیتا ہے کہ وہ نبی کریمؐ ہیں۔جس کو اس نے مان لیا اسی کو یہ کہہ کر انکار بھی کرتا ‏ہے کہ تم نے نہیں پھینکا۔ 

اللہ کے کلام میں ہر گزاختلاف نہیں ہوسکتا۔ اگر ہم کہیں کہ میں نے جب کھایا تو میں نے نہیں کھایاتو اس کو ہم بیہودگی کہہ سکتے ہیں۔

اگر وہ غور کرتے کہ اللہ کیسے اس طرح بے ربط بات کہہ سکتاہے تو اس معنی کو ٹھیک سے سمجھ سکتے ہیں، بکواس نہیں کریں گے۔

اس طرح استعمال ہو نے والے جملے کو ہم براہ راست معنی میں نہیں لیتے۔ دو اختلاف جملے کو دو الگ الگ معنی ہی لینا چاہئے۔ 

اگرکہا جائے کہ جب ہم زراعت کر تے ہیں توہم زراعت نہیں کرتے، اللہ ہی زراعت کر تا ہے، ان دونوں جگہوں میں ہم دو الگ معنی ہی سمجھتے ‏ہیں۔ 

یعنی کہ ہم جب( زراعت کرتے ہیں)بیج بوتے ہیں تو اس کو ہم نہیں اگاتے۔ 

اسی طرح ہم اس آیت کو بھی لینا چاہئے۔ 

تم نے جب پھینکا

تم نے نہیں پھینکا

یہاں مختلف دو جملوں میں ہر ایک جملہ مختلف معنوں میں استعمال کیا گیا ہے۔ 

تم نے جب پھینکا یعنی’’ سنگریزے تم نے جب پھینکا‘‘

تم نے نہیں پھینکا یعنی ’’ہر ایک کے چہرے پر تم نے نہیں پہنچایا!‘‘

اس طرح معانی لوگے تو ہی بغیر کسی اختلاف کے ایک جملہ ترکیب پائے گا۔ 

اس طرح کے لفظوں کا استعمال ہر زبان کے ادب میں اور لوگوں کے بات چیت میں بھی پایا جا تا ہے۔ یہ بات صرف قرآن مجید تک ہی محدود ‏نہیں۔ 

اس قانون کے مطابق مندرجہ بالا آیت کا اگر معانی لیا جائے تومطلب نکلے گا ، پھینکنے والے نبی تھے اور اس کو لے جا کر پہنچانے والا اللہ تھا۔ اللہ نے ‏جو کیا تھا وہ الگ ہے اور اس کے رسول نے جو کیا تھا وہ الگ ہے۔ اس سے یہ بات ثابت ہو تی ہے کہ اللہ الگ ہے اور رسول الگ ہے۔ 

بخاری کی حدیث 6502میں درج کیا گیا ہے ، اللہ فرماتا ہے کہ نفلی عبادت کے ذریعے جوبندہ میرے قریب آتا ہے تو اس کو میں پسند کر تا ‏ہوں۔اگر میں اس کو پسند کر لیا تو اس کی سننے والی کان بن جاتا ہوں، اس کی دیکھنے والی آنکھ بن جاتا ہوں، اس کا تھامنے والا ہاتھ بن جاتا ہوں، اور اس کا ‏چلنے والا پاؤں بن جاتا ہوں۔اس جیسی حدیث کو بھی انہوں نے اپنی گمراہی کے لئے سند بنالیا ہے۔ 

‏’’دیکھا آپ نے؟ اولیاء الگ اور اللہ الگ نہیں ہے۔ اللہ ہی نے اولیاء کا اوتار بنا ہوا ہے۔‘‘ اس طرح کہہ کر لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ‏ہیں۔

اللہ کے کئی ولی مارے گئے ہیں، اپاہج کئے گئے ہیں اور وفات بھی پائے ہیں۔ اگرولی ہی اللہ ہے تو کیا اللہ ہی مارا گیا؟ کیا اللہ ہی اپاہج کردیاگیا؟ کیا اللہ ہی ‏وفات پاگیا؟ اگر وہ اس طرح سوچے ہو تے تواس طرح بکواس نہیں کئے ہوتے۔ 

عام طور سے ایک شخص پر زیادہ چاہت ہو تواس کو دکھانے کے لئے اس جیسے الفاظ کو استعمال کیا جانا عام بات ہے۔ اگر کوئی کہے کہ یہ شخص میراداہنا ‏ہاتھ ہے تو ہم اس کو براہ راست معنی میں نہیں لیتے۔ اگر کہا جائے کہ وہ ایک جان دو جسم ہیں تو اس کو بھی ہم براہ راست معنی میں نہیں سمجھتے۔

ان کی جہالت کو سمجھانے کے لئے ایک اور حدیث کوپیش کرنا یہاں موزوں ہے: 

آخرت میں اللہ پوچھے گا کہ’’جب میں بھوکا تھا توتو نے مجھے کھاناکیوں نہیں کھلایا؟ جب میں پیاسا تھاتو تو نے مجھے پانی کیوں نہیں پلایا؟ جب میں ‏کپڑے کے بغیرتھا تو تو نے مجھے کپڑا کیوں نہیں پہنایا؟ ‘‘تو بندہ کہے گا کہ’’ تم تو میرے رب ہو۔ تمہیں بھوک کیسے اور پیاس کیسے؟ ‘‘وہ سن کر اللہ ‏کہے گا:’’ بھوک کا مارا ایک غریب جب تجھ سے کھانا مانگا تو تواگر اس کو کھانا کھلایا ہو تا تو تو مجھے وہاں پاتا۔ (دیکھئے:مسلم 5021)

اگر ایسا ہوتو کیا تمام بھکاری اللہ ہے؟کیا ان کے پاس دعا کر سکتے ہیں؟ کیابھکاریوں کو درگاہ بن سکتے ہیں؟ 

اس کو جیسے ہم سمجھتے ہیں اسی طرح متشابہات (ذو معنی والے) آیتوں کو بھی سمجھنا چاہئے۔ 

گمراہ لوگ ہی متشابہات آیتوں کو غلط معنی سکھلائیں گے ، اس کو تفصیل سے جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 86دیکھئے!

درگاہ پرست عبادت کو روا رکھنے والوں کے دیگر دعوے کس طرح غلط ہیں، اس کو جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 17، 41، 49، 79، 83، 100، ‏‏104،121، 122، 140، 141، 213، 215، 245، 269، 298، 327، 397، 427، 471 وغیرہ دیکھئے! ‏

‏192۔ بغیر بلند آواز کے ذکر کرنا

یہ آیت(7:205)کہتی ہے کہ اللہ کا ذکر کیسے کیا جائے؟

اللہ کے نام سے ذکر کرنا اسلام میں ایک عبادت ہے۔ نماز روزہ وغیرہ کوئی بھی عبادت اگر ہمیں کر نا ہو تو ہماری خواہش کے مطابق نہیں کر سکتے۔ ‏ان عبادات کا ہر دستور عمل اللہ اور اس کے رسول کی سکھائے ہوئے طریقے پر ہو نا چاہئے۔ 

قبلہ کی طرف نماز پڑھنے کے بجائے دوسری طرف منہ کر کے اگر نماز پڑھا جائے تو وہ نماز نہیں ہوسکتی۔ اللہ کی عبادت کو مذاق اڑانے کا جرم ہی ‏لاحق ہوگا۔ 

اس طرح ہی اللہ کا نام اوراس کی حمد کے لئے نبی کریم ؐ کے سکھلائے ہوئے الفاظ کو ذکر کر نا چاہو تو اللہ اور اس کے رسول جس طرح سکھلایا اسی بنیاد ‏پر کر نا چاہئے۔ 

اللہ کا ذکر کس طرح کی جائے ، اس کا طریقہ یہاں کہا گیا ہے۔ سب سے پہلے عاجزی اور خوف سے اللہ کا ذکر کیا جائے۔ پھریہ کہ صرف زبان سے ‏ذکر کر نے کے بجائے دل سے بھی ذکر کرنا ضروری ہے۔ تیسرا یہ کہ بغیر بلند آواز کے ذکرکرنا چاہئے۔

آج کے زمانے میں ہندوستان کے مسلمانوں میں ’راتب‘ کے نام سے اور ’حلقہ‘ کے نام سے شورو غل اور اچھل کود کرکے ، یہ سمجھ کر کہ اللہ کا ذکر ‏کر تے ہیں، گناہوں کا بوجھ بڑھا رہے ہیں۔ 

اس سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ وہ لوگ بھلائی کے نام سے گناہوں کا بوجھ اٹھارہے ہیں۔ 

اس کے بارے میں اور زیادہ معلومات کے لئے حاشیہ نمبر 180، 190، 270 دیکھئے!

‏191۔ کیا آدم نبی نے شرک سکھایا؟

‏ان آیتوں (7:189,190)سے بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ آدم ؑ اور ان کی بیوی نے اللہ کے ساتھ شرک ٹہرایا۔

ان آیتوں کے آغاز میں انسان کے بارے میں کہنے کی وجہ سے لوگ سمجھتے ہیں کہ ’’شرک ٹہرایا‘‘ کا جملہ آدم ہی کی طرف اشارہ ہے۔

لیکن انہوں نے یہ نہیں سمجھا کہ آدم ؑ ایک رسول ہیں اور رسول کبھی شرک ٹہراتے نہیں ۔مزید یہ کہ پہلے انسان کے بارے میں کہنے والی یہ آیت ‏عام طور سے انسانوں کی طرف اشارہ کر تے ہوئے جمع کے صیغے میں بدل جانے کو انہوں نے غور نہیں کیا۔

عام طور سے انسان اس طرح عمل کرجا تا ہے، اسی طرح اس آیت کو سمجھ لینا چاہئے۔ 

اس آیت کے بعد کہا گیا ہے کہ ’’تم جسے پکارتے ہو وہ تمہارے ہی جیسے بندے ہیں۔‘‘یہ یقیناآدم ؑ کی طرف اشارہ نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ ان سے پہلے ‏کوئی بھی بندہ پیدا ہو کر مرا نہیں۔ 

چنانچہ کسی بھی بندے کووہ اللہ کے ساتھ شریک نہیں ٹہرائے ہوں گے۔ بعدمیں آنے والی آیتوں کوبھی ملا کر ان دونوں آیتوں پر غور کیا جائے تو ‏ہم جان سکتے ہیں کہ عام طور سے انسان کی خصلت کے بارے میں ہی کہا گیا ہے۔

 ‏190۔ اللہ کے نام میں کجی کرنا

‏یہ آیتیں 7:180، 17:110 کہتی ہیں کہ اللہ کے خوبصورت نام ہیں، اسی ناموں سے اس کو پکارنا چاہئے۔

یہ آیت سختی سے تاکید کرتی ہے کہ اللہ کے نام کو موڑ کر کہنااور اس کو بگاڑنا سخت جرم ہے اوراس طرح کر نے والوں کو سزا دی جائے گی۔

آج کے مسلم سماج میں کئی لوگ ’مراقبہ‘ کے نام سے اللہ کے نام کو بگاڑ کر اپنے آپ کو جہنم کے لئے تیار کرتے ہوئے ہم دیکھ رہے ہیں۔ 

راتب اور ذکر کے نام سے ھو ھو کہہ کر اللہ کا دھیان کر رہے ہیں۔ یہ اللہ کانام نہیں ہے۔ ھو کا مطلب ہے وہ۔ شیطان کو بھی ہم ھو کہہ سکتے ہیں۔ 

ایسا لفظ جس میں کوئی صفت نہیں ہے ، اور اس میں اللہ کا نام بھی نہیں ہے ، اس کو اللہ کا ذکر کر نے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ انہیں لوگوں کے ‏لئے یہ آیت سخت تاکید کرتی ہے۔ 

حق تو حق کہہ کر عربی اور اردو سے ملے جلے ایک نیا نام تلاش کر کے ذکر کے نام سے چلاتے ہیں۔ رمضان کی مبارک ماہ میں مسجدوں میں بھی ‏راتب کے نام سے اللہ کو غصہ دلاتے ہوئے اس عمل کو دہراتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ 

اللہ کے نام میں سے پہلا حرف اور آخری حرف دونوں کو ہٹا کر ’’اہ‘‘کا ایک نیا لفظ بناکر اللہ کا ذکر کرتے ہیں۔ 

اگران کا نام ابراھیم ہے تو اس کو مختصر کر کے’’ام‘‘ کہا گیا تو کیا وہ خوش ہوں گے؟اللہ کے نام میں کجی کر نے والے یہ کون ہوتے ہیں؟اس پر غور ‏کر نا چاہئے۔ 

اللہ نے اس کو جانتے ہوئے کہ اس طرح کر نے والے پیدا ہوں گے، پہلے ہی سے ان کے بارے میں اس آیت میں تاکید فرمادی۔ اس آیت سے ہم ‏جان سکتے ہیں کہ بھلائی کرنے کی سوچ کر یہ لوگ جو کرتے ہیں وہ انہیں جہنم ہی میں جھونکے گی، اس میں کوئی شک نہیں۔ 

اس کے بارے میں اورزیادہ جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 180 اور192 دیکھئے!

 ‏189۔ آدم کی اولادوں کے پیٹھ سے 

‏اس آیت (7:172) میں اللہ فرماتا ہے کہ آدم کے اولادوں کی پیٹھوں سے ان کی نسلوں کو نکالا۔ 

آج کی سائنسی دنیا انکشاف کی ہے کہ آدمیوں کی شکل، عقل اور اچھے اخلاق تمام اپنے آباؤ اجداد کے جین ہی سے حاصل کرتے ہیں۔ 

اپنی ماں یا باپ یا کئی نسلوں کے پہلے مرے ہوئے آباؤ اجداد کے خصلت ہی سے آدمی پیدا ہو تا ہے۔ ان کے ماں باپ کے پاس جو آباؤ اجداد کے ‏اچھے اخلاق کو فیصلہ کر نے والے جین ہیں وہ لگاتار محفوظ کیا جاناہی اس کی وجہ ہے۔ 

اس سے ثابت ہو تا ہے کہ دنیا کے تمام لوگوں کی شکل و صورت اور اچھے اخلاق کو فیصلہ کرنے والا جین پہلے آدمی ہی سے اغوا کیا جاتاہے۔ 

اس حقیقت کو یہ آیت7:172 اپنے اندر سمایا ہوا ہے۔ یہ بھی ایک دلیل ہے کہ یہ انسان کو بنانے والے اللہ ہی کا کلام ہے۔

آدم کی پیٹھ سے ان کی نسل کو پیدا کیا، ایسا کہنا ہی تو صحیح ہوگا؟ بعض لوگ سوچ سکتے ہیں کہ اس آیت میں ایسا کیوں کہا گیا ہے کہ آدم کے اولادوں کی ‏پیٹھوں سے ؟

آدم کی پیٹھ سے کہا گیاہوتا توصرف ان کے براہ راست اولاد ہی ہوں گے۔ آدم کے اولادوں کی پیٹھوں سے کہا جانے سے اس میں آدم کے برا ہ ‏راست اولاد بھی ہیں اور ان اولادوں کے ذریعے لگاتار آنے والے تمام انسانوں کی طرف بھی وہ اشارہ ہے۔

اس لئے یہ لفظ بالکل موزوں انداز ہی سے استعمال کیاگیا ہے۔ 

‏‏188۔ برائی کو نہ روکنا بھی جرم ہے

پچھلی قوم میں گناہ کر نے والے، برائی کو روکنے و الے اور برائی سے نہ روکنے والے تین قسم کے ہوتے تھے۔آیت نمبر 7:165 کہتی ہے کہ ان ‏میں سے برائی سے روکنے والے ہی کو اللہ نے بچایا۔

یہ آیت یہ بھی کہتی ہے کہ برائی نہ کر تے ہوئے اوردوسروں کی برائی کو نہ روکتے ہوئے رہنے والے برائی کرنے والوں کے ساتھ ملا کر مارے ‏گئے۔ 

اس آیت سے معلوم ہو تا ہے کہ برائی کو روکے بغیر اپنی حد تک نیک بن کر رہنے والے اللہ کی خوشنودی کو حاصل نہیں کر سکتے۔  

 ‏187۔ آخر ی نبی محمد ؐ

‏یہ آیتیں 4:79، 6:19، 7:158، 14:52، 21:107، 22:49، 33:40، 34:28، 62:3 کہتی ہیں کہ نبی کریم ؐ آخر نبی ہیں اور ‏ان کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں۔ 

بعض لوگ پوچھ سکتے ہیں کہ پہلے نبی آدم ؑ سے لے کر لگاتار نبیوں کو بھیجتے رہنے والے اللہ نے محمد نبی سے کیوں بندکر دیا؟ نبیوں کا آنا بھلائی تو ہے؟

کوئی بھی کام کر نا ہو تو اس کی ضرورت ہو تو ہی عقلمند لوگ کریں گے۔

اعلیٰ ترین عقل والے اللہ کوئی بے ضرورت کام نہیں کر یگا۔ 

نبی کریم ؐ سے پہلے لگاتار نبیوں کو بھیجنے کے لئے مناسب وجوہات تھیں۔ 

نبی کریم ؐ کے بعد ان وجوہات میں سے کچھ نہیں تھا۔ 

انسانوں کو نیک راہ دکھانے کے لئے اللہ نے ایک کتاب کے ساتھ رسول کو بھیجتا رہا، وہ کتاب اور اس رسول کی وضاحت جب غیر محفوظ حال کو ‏پہنچتاہے تو دوسرے ایک رسول کو بھیجنے کی ضرورت آن پڑتی ہے۔ 

یا ایک رسول مرجانے کے بعد ان کی لائی ہوئی کتاب اور ان کی تعلیمات کو بڑھا گھٹا کر تبدیل کر کے یا چھپا کر جب انسان اپنا کام دکھاتا ہے تو اس ‏وقت اس کو صحیح کرانے کے لئے دوسرے ایک رسول بھیجنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ 

لیکن نبی کریم ؐ کے حد تک ان وجوہات میں کوئی نہیں۔ انہیں اللہ نے جو قرآن عطا کی تھی وہ کتاب پوری طرح سے حفاظت کی گئی ہے۔ اس میں کچھ ‏بھی نہ بڑھایا گیا ہے اور نہ گھٹایا گیا ہے۔ انسانی رائے کچھ بھی اس میں داخل نہیں کیاگیا ہے۔ اس کو قرآن نے ایک مخصوص شان کہتا ہے۔ 

آیت نمبر 15:9 میں تم دیکھ سکتے ہو کہ اللہ نے خود اس کی ضمانت دیتا ہے ’’اس کو ہم ہی نے نازل کی ، اس کو ہم ہی حفاظت کریں گے‘‘۔ اس آیت ‏میں کہے مطابق اس دن سے آج تک قرآن مجیدحفاظت کیا جارہاہے۔ 

اسی طرح نبی کریم ؐ کی رہنمائی بھی حفاظت کی جارہی ہے۔ اس میں چند جاہلوں اور بدمعاشوں نے نبی کے زمانے کے بعد تحریف کرنے کے ‏باوجوداس کو تلاش کر کے ان کانٹوں کواٹھا کر پھینک دیا گیا اور تصحیح کر کے الگ کر نے کاکام نبی کریم ؐ کے وفات کے سو سال بعد علماء کے ذریعے اللہ ‏نے پوری کردی۔ 

نبی کے قول میں اگر کوئی تحریف ہو تو اس کو قرآن مجید کے ساتھ موازنہ کر کے پہچان لے سکتے ہیں۔ 

قرآن مجید کو سو فیصد اور حدیثوں کو ضرورت کے مطابق جب حفاظت کیا گیا ہے تو پھر ایک نبی آنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ 

ہر ایک زمانے میں اللہ جب بھی رسول بھیجتا ہے تو اس قوم کی حالات کو دیکھ کر اس کے مطابق قانون نافذ کر کے بھیجتا ہے۔ اس سے ایک زمانے ‏کے لوگوں کو اللہ نے جو کتاب اور رسول کی تعلیم بھیجتا ہے وہ اس کے بعد کے لوگوں کو نامناسب ہوسکتاہے۔ 

ایک نبی مرنے کے بعد اس نبی کی تعلیمات بعد میں آنے والے نسل کو نامناسب ہوگا، یہ حالت جب پیدا ہو تی ہے تو دوسری ایک کتاب نازل ‏ہونے کی ضرورت پڑتی ہے۔ 

اسی طرح ایک رسول کے زمانے میں نافذ ہونے والے قانون سے اورزیادہ قانون اس کے بعد آنے والی قوم کو سنانے کی نوبت آتی ہے تو اس وقت ‏بھی ایک اور رسول کی آمد ضروری ہے۔ 

قرآن مجید کے لحاظ سے یہ حالت نہیں ہے۔ 

اس کو نازل کر تے وقت ہی دنیا بھر کے لئے مناسب طورپر تمام احکام پوری طرح سے ترکیب پاکر نازل کی گئی۔ 

اس میں کوئی چیز ملانے، گھٹانے،تصحیح کر نے کی ضرورت ہی نہیں ہے، اس انداز سے مکمل ہے۔ 

اگر اب ایک رسول آئے تو وہ لانے والی کتاب جس انداز سے ہوگی اس انداز سے قرآن مجید جب محفوظ ہے تو اب کوئی کتاب اور رسول آنے کی ‏ضرورت نہیں ہے۔ 

اسلام کے خلاف دشمن کئی طریقوں کے تنقید کر رہے ہیں۔ لیکن قرآن مجید میں فلاں فلاں قانون اس زمانے کے لئے نامناسب ہے کہہ کے ایک ‏بھی تبصرہ مناسب وجہ کے ساتھ ان لوگوں سے ثابت کرنے نہیں ہوسکا۔ اس سے ہم جان سکتے ہیں کہ ہر زمانے کے لئے مناسب طریقے سے قرآن ‏مجید موجود ہے۔ 

ہم جانتے ہیں کہ تمام دنیا کی صدارت کے لئے امریکی سلطنت تڑپ رہی ہے۔ دنیاکی سب سے بہترین قانونی حق اور جرمیاتی قانون نافذ کر نے ‏والے 10 لوگوں میں سے ایک نبی کریم ؐ کو بھی منتخب کیا گیا ۔ اس ملک کی اعلیٰ عدالت میں امریکی حکومت نے نبی کریم ؐ کا مجسمہ بناکر کھڑا نے کے لئے ‏کوشش کی گئی۔اس کے لئے یہ دلیل ہے کہ قرآن مجید ہر زمانے کے لئے ہم آہنگ ہے ۔

اسلام پر سخت نفرت رکھنے والے صدروں میں سے ایک ادوانی جیسے لوگ بھی ملک میں پھیلی ہوئی جرمیات کو دیکھ کر یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ ‏اسلامی قانون کے ذریعے ہی ان جرموں کو روک سکتے ہیں۔اس سے ہم جان سکتے ہیں کہ قرآن مجید ہر زمانے کے لئے موزوں ہے۔ 

ہر زمانے کے لئے موزوں رہنے کی وجہ سے اوراس وجہ سے بھی کہ جو بیان کیا گیا ہے اس کو موقوف نہیں کر سکتے ، قرآن مجید للکارتا ہے کہ اس جیسا ‏کوئی بنا نہیں سکتا۔ (اس کے متعلق اور زیادہ تفصیل کے لئے اس ترجمہ کے آغاز میں مقدمہ میں ’یہ اللہ کا کلام ہے‘ کا مضمون پڑھئے۔)

آج کی یہ تہذیب یافتہ دنیاپہلے کی قوم سے زیادہ کئی قسم کے نئے مسائل سے دوچار ہے۔ ان جیسے نئے مسائل کو کوئی بھی مذہب اپنی ذاتی رائے کے ‏بنا پر ہی فیصلہ سناتے ہیں۔ لیکن مسلمانوں کے حد تک جو بھی نیا مسئلہ پیش آئے اس کو قرآن مجید کے ذریعے اور حفاظت شدہ حدیث کے ذریعے ‏دلائل پیش کر کے علماء فیصلہ کر تے ہیں۔ یعنی تمام نئے مسائل کا بھی قرآن مجید میں حل رہنے کی وجہ سے ہی انہیں اس طرح پیش کرنے ہوتا ‏ہے۔ 

ہر زمانے کے لئے موزوں قانون ایک کتاب الٰہی میں موجود ہے تو دوسری کوئی کتاب کی ضرورت نہیں۔ 

اللہ کی دی ہوئی کتاب سب لوگوں تک پہنچنے کے بجائے مخصوص گروہ تک اگر موقوف کر دیا گیا ہو تاتو اس کو پھیلانے کے لئے ایک رسول کی آمد ‏ضروری ہوتی ہے۔

قرآن مجید کی حد تک وہ بات بھی نہیں ہے۔ ایسی کوئی ملک نہیں جہاں قرآن مجید پہنچا نہ ہو۔ تقریباً دنیا کی ہر زبان میں قرآن مجید ترجمہ کیا گیا ہے۔ 

بے شک یہ اللہ ہی کا کلام ہے ، اس پر ایمان رکھنے والے دو سو کروڑ سے زیادہ لوگوں تک یہ پہنچ چکا ہے۔ 

یہ خبر تمام غیر مسلوں تک پہنچ چکا ہے کہ مسلمانوں کے پاس کلام اللہ یعنی قرآن موجود ہے ۔ وہ کلام کیا کہتا ہے یہ جاننے کے لئے جو بھی غیر مسلم ‏اگرچاہے تو انہیں کے زبان میں قرآن بہ آسانی مل جا تا ہے۔ 

اللہ کے رسول اگر اب ہو تے تو جتنے لوگوں کو ان کی تعلیم پہنچے گی کہیں اس سے کئی گنا زیادہ لوگوں تک قرآن مجید پہنچ چکا ہے، تو اس عالم میں ایک اور ‏رسول کس لئے؟ 

نبی کریم ؐ کے بعد کوئی رسول نہیں آئے گا، اس کو اچھی طرح جاننے والے چند کذاب اپنے آپ کو رسول کہہ کر دعویٰ کیا۔ 

ایک مکمل کتاب اور نبی کریم ؐ کی کامل رہنمائی زندہ جاوید رہنے کی وجہ سے اس کے سامنے ان کا جھوٹا دعویٰ ریزہ ریزہ ہوگیا۔ 

وہ کسی بات کو کہہ نہیں سکے جو قرآن میں نہیں ہے۔ قرآن میں جو ہے اس میں سے ایک قانون بھی وہ تبدیل نہیں کرسکے۔

جھوٹے نبی کی دو قریبی مثال یہاں ہم پیش کر تے ہیں۔ 

نبی کریم ؐ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا ، اس کے لئے کئی دلائل موجود رہنے کے باوجود قریب کے زمانے میں رشاد خلیفہ نامی ایک شخص نے اپنے کو ‏نبی کہہ کر دعویٰ کیا۔ لیکن اللہ کے فضل سے اس کی تحریروں ہی سے ثابت ہو گیا کہ وہ بہت بڑا جھوٹا ہے۔ 

اس کے بارے میں حاشیہ نمبر 354 میں مکمل تفصیل ہے۔

اسی طرح پاکستان میں قادیان نامی شہرمیں پیدا ہو نے والا مرزا غلام نامی شخص نے بھی اپنے آپ کو نبی کا دعویٰ کیا۔ اس کی زندگی ہی میں یہ ثابت ہو ‏گیا کہ وہ ایک جھوٹا ہے۔ 

اس کے مذہب والوں کے ساتھ کووئی میں 19.11.1994 سے 27.11.1994 تک ہم نے نو دن مناظرہ کیا۔ اس مناظرہ میں قادیانی ‏کے صدر مقام سے ان کے مذہبی پیشواؤں نے بھی شامل ہوگئے۔ 

اس مناظرہ میں انہیں کے سامنے اسی کے کتاب سے ہم نے ثابت کیا کہ وہ ایک جھوٹاتھا۔ آخر تک بھی ان لوگوں نے اس کا جواب نہ دے سکے۔ ‏اس کو ہم نے ویڈیو اور آڈیو کی شکل میں محفوظ رکھا ہے۔ 

onlinepj.com‏ کے ویب سائٹ میں بھی اس کو دیکھ سکتے ہیں

MIRZA GULAM

آج تک جس کا جواب نہیں دیا گیا ان سوالوں میں سے چند یہاں ہم پیش کر تے ہیں۔

‏(1) ’’موسیٰ نبی مرے نہیں ، وہ آسمان میں زندہ ہیں، وہ مرے ہوؤں میں سے نہیں ہیں، اس طرح ایمان لانے کے لئے اللہ نے ہم پر فرض ‏کیاہے‘‘ اس طرح مرزا غلام نے اپنی کتاب ’نور الحق‘ کی صفحہ نمبر 68 اور 69 میں لکھا ہے۔ 

ہم نے پوچھا کہ اللہ نے اس طرح کس آیت میں کہا ہے؟آخر تک وہ لوگ اس کا جواب نہ دے سکے۔ہم نے پوچھا کہ اللہ پر جھوٹ بولنے والا کیسے ‏نبی ہوسکتا ہے؟ اس کا بھی ان کے پاس جواب نہیں۔ 

‏(2) کشتی نوح نامی کتاب میں صفحہ نمبر 5 سے 9 تک مرزا غلام نے لکھا ہے کہ ’’قرآن اور تورات میں کہا گیا ہے کہ مسیح آنے کے زمانے میں ‏طاعون کی بیماری ہوگی۔‘‘

ہم نے پوچھا کہ بتاؤ اللہ نے اس طرح کس آیت میں کہا ہے؟ قرآن میں ایسی کوئی بات نہیں ہے، اس لئے انہوں نے آخر تک بتا نہیں سکے۔ جو قرآن ‏میں نہیں ہے اس کو قرآن میں ہے کہنے والاکیا جھوٹا ہے یا نبی؟ اس سوال کا بھی انہوں نے آخر تک جواب نہیں دیا۔ 

(3) مسیح آنے کے زمانے میں آسمان سے آواز آئے گی، یہی اللہ کا خلیفہ مہدی ہے۔اس طرح مرزا غلام نے اپنی کتاب شہادت القرآن کے صفحہ نمبر ‏‏41میں کہتا ہے کہ قرآن کے بعد مستند کتاب مانے جانے والی صحیح بخاری میں یہ موجود ہے۔

صحیح بخاری یہ لو سامنے ہے۔ ہم نے پوچھا کہ اس میں سے وہ حدیث دکھاؤ ۔ بخاری میں ایسی کوئی حدیث نہیں ہے ، اس لئے قادیانیوں سے وہ ہونہیں ‏سکا۔ اپنے آپ کوبہت بڑا کذاب ثابت کر نے والا کیسے نبی ہوسکتاہے؟

(4) مرزا غلام نے اپنی کتاب حقیقت الوحی کے صفحہ نمبر 86سے 89تک کہا ہے کہ اللہ نے مجھ سے کہا : ’’تو میرے عرش کی حیثیت سے ہے! تو ‏میرے بیٹے کے حیثیت سے ہے! کوئی مخلوق جو نہیں جان سکتا ایسی ایک حیثیت میں تو ہے!‘‘

اللہ کا کوئی اولاد نہیں ہوسکتا۔ اللہ نے فرمایا ہے کہ وہ اللہ کو غصہ دلانے والا لفظ ہے۔عیسیٰ نبی کواللہ کا بیٹا کہنے والے اس معنی میں نہیں کہتے کہ وہ اللہ کو ‏پیدا ہوئے۔بیٹے کے حیثیت میں ہے کے معنی ہی میں کہتے تھے۔ اسی لئے وہ لوگ اللہ کے منکر بن گئے۔ 

عیسائیوں کے اللہ کے عقیدے کو کہنے والا اللہ کا رسول کیسے ہوسکتا ہے؟ 

اس طرح کہنے کو کوئی دلیل دکھاؤ کہہ کر ہم نے سلسلہ وار دلائل کے ساتھ سوال کیا۔ آخر تک جواب نہیں ملا۔ اللہ کی نظر میں کافر بن جانے والا وہ ‏کیسے نبی ہوسکتا ہے؟ 

(5) ‏’قمر‘ کا لفظ تین دن کے بعد کے ہلال ہی کو کہتے ہیں۔ ا س دن سے آج تک تمام عربوں کے پاس بھی یہی مطلب پایا جاتا ہے۔ اس کے خلاف کوئی ‏عربی عالم نے بھی آج تک کچھ نہیں کہا۔ زبان نہ جاننے والا کوئی بیوقوف ہی اس کے خلاف کہہ سکتا ہے۔ یہ بات مرزا غلام نے اپنی کتاب نورالحق ‏کی 10/98میں کہا ہے۔

لیکن قمر کے لفظ کو اللہ نے پہلی چاند کے لئے بھی استعمال کیا ہے۔اس بارے میں ہم نے کئی دلائل کے ساتھ ان سے سوال کیا۔اورہم نے پوچھا کہ ‏اللہ ہی پر تبصرہ کر نے والا، جھوٹی بات کو تراشنے والاایک بے وقوف کیسے نبی بن سکتا ہے تووہ جواب نہیں دے سکے۔ 

‏(6) تریاق القلوب کے صفحہ نمبر432 میں ’’مجھے نبی نہ ماننے والا کافر نہیں ہوسکتا‘‘ کہنے والا حقیقت الوحی کے صفحہ نمبر 167 میں کہتا ہے کہ ‏‏’’مجھے نبی نہ ماننے والا مسلمان نہیں۔‘‘ اس طرح خلاف بات کر نے والا نبی کیسے ہوسکتاہے؟ اس کا بھی ان کے پاس جواب نہیں۔ 

‏(7) آئینہ کمالات اسلام نامی کتاب کے صفحہ نمبر 565 میں کہتا ہے: ’’میں نے مجھ کو پوری طرح کھودیا۔ اب میرارب میرے اندر داخل ہو ‏گیا۔ میں خود اللہ ہوگیا۔ میں نے ہی آسمان پیدا کئے ، پھر ستاروں کو سجایا، پھر میں نے ہی چکنی مٹی سے انسانوں کو پیدا کیا۔‘‘اپنے آپ کو اللہ کہنے والا ‏یہ کیا فرعون ہے یانبی؟اس سوال کا بھی کوئی جواب نہیں۔

‏(8) اگر لعنت بھیجنا ہوتو ایک ہی لفظ میں ہزارہا لعنت کہہ دے تواس کو ایک باشعور آدمی کہہ سکتے ہیں۔جب اس کو کسی پر غصہ آگیا تویہ اس پر ‏لعنت لکھ دیتا ہے۔ لعنت بھیجتے وقت لعنت۔1، لعنت۔2، لعنت۔3، لعنت۔4، لعنت۔999، لعنت۔1000، اس طرح کئی صفحوں میں لکھ ‏دیتا ہے۔ ایک پاگل کے سوا ایسا کوئی لکھ نہیں سکتا۔ وہ اپنی کتاب نور الحق کے صفحہ نمبر 158 میں اسی طرح لکھا ہے۔ہم نے پوچھا کہ کیا یہ کوئی ‏ذہنی بیمار ہے یا نبی؟ تو کوئی جواب نہیں۔ 

‏(9) کشتی نوح کی کتاب میں صفحہ نمبر 68 میں لکھتا ہے کہ ’’مریم بھی میں ہوں، عیسیٰ بھی میں ہوں!‘‘ ہم نے پوچھا کیا یہ پاگل ہے یانبی؟ تو ‏انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ 

‏(10) نورالحق اتمام الحجۃ نامی کتاب کے صفحہ میں296 میں ’’عیسیٰ نبی کی قبر فلسطین میں ہے‘‘لکھنے والا یہ کذاب کشتی نوح نامی کتاب کے صفحہ ‏نمبر 25(14) میں لکھتا ہے کہ ’’عیسیٰ نبی کی قبر کشمیر میں ہے۔‘‘ہم نے پوچھا کہ کیا اس طرح خلاف لکھنے والا شخص جھوٹا ہوسکتاہے یا نبی؟کوئی ‏جواب نہیں۔ 

‏(11) آئینہ کمالات اسلام نامی کتاب کے صفحہ نمبر 409 میں لکھتا ہے کہ ’’کیا لوگوں کو یہ جاننا نہیں چاہئے کہ مسیح عیسیٰ آسمان سے اتریں گے؟ ‏اس کو لوگ جانے بغیر کیوں ہیں؟ ‘‘اسی کتاب کے صفحہ نمبر 44میں یہ کذاب لکھتا ہے : ’’یہ ماننا کہ عیسیٰ نبی آسمان سے اتریں گے، شرک ہے!‘‘ ‏وہ کیسے نبی ہوسکتا ہے؟ 

‏(12) اس کو انگریزی میں وحی آتی ہے کہہ کر اس نے چند جملے کہے۔ وہ بالکل قواعد زبان سے عاری تھا۔اس نے کہا کہ ’’وحی جب تیزی سے آتی ‏ہے تواس طرح کی غلطیاں ہوجانا معمولی ہے۔ ‘‘ (حقیقت الوحی،صفحہ نمبر:317)اللہ بھی غلطی سے بات کرسکتا ہے کیا ایساکہنے والا نبی کوسکتا ‏ہے؟ 

‏(13) محمدی بیگم نامی ایک عورت سے نکاح کر کے دینے کواس نے اس عورت کے باپ سے پوچھا۔ باپ نے انکار کر دیا۔ اس کے بجائے سلطان ‏محمد نامی ایک شخص سے نکاح کرانے کا ارادہ کیا تھا۔ 

مرزا غلام اپنی آئینہ کمالات اسلام نامی کتاب میں صفحہ نمبر 325میں لکھتا ہے کہ ’’سلطان محمد سے اگر وہ شادی رچائی تو تیس ماہ میں سلطان محمد ‏مرجائے گا۔ وہ مرنے کے بعد عدہ ختم ہو نے کے ساتھ میں محمدی بیگم سے شادی کرلوں گا۔ اگر میں اس سے شادی نہ کروں تو وہی میرے کذاب ‏ہو نے کی دلیل ہے۔ ‘‘ لیکن سلطان محمد کے پہلے ہی اس کی موت واقع ہوگئی۔ اس سے اپنے آپ کو اس نے کذاب ثابت کردیا۔ 

مندرجہ بالا تمام باتیں قادیانیوں کے بہت بڑے سربراہوں کے سامنے ان کی کتابوں کو انہیں دکھا کر ہم نے سوال کی تھی۔ یہ سوالات ان کی ‏غیرموجودگی میں نہیں پوچھا گیا ۔ ان میں سے ایک سوال کو بھی ان سے جواب نہ بن سکا۔ 

مرزا غلام نے جوبکواس کی تھی ان میں سے صرف چند باتوں ہی کوہم نے اظہار کیا ہے۔ اس پر وحی آتی ہے کہہ کر بے شمار بکواس اور وحدت کی باتیں ‏اس نے کہی ہے۔وہ سارے بکواس فراہین احمدیہ نامی ایک کتاب میں جمع ہے۔ اس کو قادیانی کے مذہب والے چھپا کر رکھتے ہیں، اور کسی کو نہیں ‏دکھاتے۔ 

قادیانی جو مرزا غلام کے مذہب کے پیروکار ہیں، جس کو وہ وحی کہتے ہیں اس کو تمام لوگوں تک پہنچانے کے لئے کھلے طور پر کیا شائع کر سکتے ‏ہیں؟مسلمانوں کے اس سوال کو انہوں نے ابھی تک جواب نہیں دیا۔ اور اس کو کھلے عام پھیلایا بھی نہیں۔ چوری کا مال چھپا کر رکھنے کی طرح قادیا ‏نی مرزا غلام کی بکواسوں کو پوشیدہ رکھے ہوئے ہیں۔ 

‏’’اس پر کوئی غور کر نے والا ہے؟‘‘کہتے ہوئے عالم دنیا کو للکار نے کی طرح نبی کریم ؐ پر نازل ہونے والا قرآن تشکیل پایاہے۔

لیکن مرزا غلام تو یہ کہہ کر کہ مجھ پر بھی وحی آتی ہے، اس کو چھپا کر رکھا ہے۔ اس طرح چھپا کر رکھنے کے لئے کیا کوئی رسول کی ضرورت ہے؟ ‏کیارسول کا فرض سب کو سنانا ہے یا چھپا کر رکھنا ؟ اس پر اگر غور فرمائیں تو قادیانی مذہب میں کوئی بھی نہیں رہے گا۔ 

قرآن مجید پوری طرح سے محفوظ رہنے کی وجہ سے، اس کی تعلیمات آخر زمانے تک موزوں رہنے کی وجہ سے، تمام قسم کے مسائل کا مناسب حل ‏اس میں موجود رہنے کی وجہ سے، دنیا کے تمام لوگوں تک یہ پہنچ جانے کی وجہ سے، قرآن کے بعد ایک اور کتاب، نبی کریم ؐ کے بعدایک اور رسول ‏آنہیں سکتے۔ اس میں کسی بھی طرح کی شک نہیں۔ 

نبی کریم ؐ آخری نبی ہیں، آخری رسول ہیں۔ تمام دنیاکے لئے آخر دن تک کے لئے وہی رسول ہیں۔ ان کے بعد کوئی بھی نبی یا رسول آہی نہیں سکتا۔ ‏اس کے لئے یہ آیتیں سند ہیں: 4:79، 4:170، 6:19، 7:158، 9:33، 10:57، 10:108، 14:52، 21:107، ‏‏22:49، 25:1، 33:40، 34:28، 62:3 ۔ 

نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ مجھے اور مجھ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاؤں کا مثال یہی ہے۔ ایک شخص ایک عمارت بنایا۔ اس کو سنوارا سجایا۔ ایک کونے میں ‏ایک اینٹ کے سوا سب چیزوں کو خوبصورتی سے تشکیل دی۔ لوگ اسے گھوم کر دیکھا اور متعجب ہوئے۔اور کہنے لگے کہ اس اینٹ کو بھی اس طرح ‏رکھا ہو تا تو کتنا اچھا تھا ۔ جان لو کہ میں ہی وہ اینٹ ہوں۔ میں ہی انبیاؤں کا مہر ہوں۔

‏(بخاری: 3535) 

اسرائیلی قوم کو انبیاؤں نے راہ چلاتے رہے۔ ایک نبی کے وفات کے بعد فوراً ایک اور نبی انہیں راہ چلایا کرتے۔ نبی کریم ؐ نے کہا کہ میرے بعد کوئی ‏نبی نہیں۔

‏(بخاری: 3249،3455)

اس طرح نبی کریم ؐ کا فرمایا ہوا کئی حدیثیں موجود ہیں۔ یعنی بالکل صریح طور سے کہا گیا ہے کہ ا ن کے بعد کوئی نبی یا رسول نہیں آئیں گے۔ 

‏186۔ ناپاک کو روکنے کا اختیار

‏ان آیتوں میں کہا گیا ہے کہ نبی کریم ؐ کو ایک چیز کو حلال کرنے اور حرام کرنے کا اختیار ہے۔ 

ایک چیز کا اجازت دینا اور منع کرنا اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔اللہ نے جو اجازت دیدی اس کوروکنا یا اللہ نے جو منع کرد ی اس کو اجازت دینا ، کسی کے ‏اختیار میں نہیں ہے۔ 

ان آیتوں 5:87، 6:138،6:139، 6:150، 7:32، 10:59، 16:116 میں صاف طور سے کہا گیا ہے کہ حلال کو حرام کرنے کا ‏اختیار صرف اللہ ہی کو ہے۔ 

پھر بھی ان دو آیتوں (7:157، 9:29) میں اللہ فرماتا ہے کہ نبی کریمؐ کو وہ اختیار دیا گیا ہے۔ 

اس کو اس آیت کے خلاف نہ سمجھیں۔ 

کیونکہ نبی کریم ؐ کو قرآن کا پیغام جبرئیل ؑ کے ذریعے ملاہے۔ اسی طرح ایک اور قسم کا پیغام بھی اللہ کی طرف سے ملا ہے۔

اس پیغام کی بنیاد پر ہی نبی کریم ؐ حلال یا حرام کہیں گے ، اس لئے وہ بھی اللہ کی طرف سے آیا ہواپیغام ہی ہے۔ 

آیت نمبر 66:1 میں جو کہا گیا ہے کہ اللہ نے جسے حلال کیا ہے اس کو تم کیسے حرام کر سکتے ہو؟اس کو بھی تم خلاف مت سمجھنا۔

اس 66:1 آیت میں جو حرام کہا گیا ہے وہ لوگوں کو حرام کر نے کے بارے میں نہیں کہا گیا۔بلکہ جو حلال ہے اس کو نبی کریم ؐ نے اپنے حد تک حرام ‏کرلیاتھا۔ 

حلال کی ہوئی ایک چیز کسی کو پسند نہ آئے تو اس کو وہ اجتناب کر دے تو کوئی حرج نہیں۔ لیکن نبی کریم ؐ کو شہد بہت پسند رہنے کے باوجود دوسری کسی ‏وجہ سے انہوں نے قسم کھالی کہ میں اس کونہیں چھوؤں گا۔ اسی کو یہ آیت منع کرتی ہے۔اپنی بیویوں کی خوشنودی کی خاطر کیوں ایسا کر تے ہو؟ اس ‏سوال ہی سے اس کو ہم جان سکتے ہیں۔ 

اور زیادہ تفصیل کے لئے حاشیہ نمبر 42 اور 272 دیکھئے!   

More Articles …