Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

‏201۔ دوسرے مذہب والوں کو جزیہ کیوں؟‏

اس آیت (9:29) میں کہا گیا ہے کہ غیر مسلموں سے جزیہ وصول کریں۔ 

یہ ایسا معلوم ہو تا ہے کہ غیر مذہبوں پر ظلم ہو رہا ہے۔اس کے متعلق اگر حقیقی حال معلوم ہوجائے تو جزیہ کو کوئی غلط نہیں کہیں گے۔ 

اسلامی حکومت میں کس طرح خراج تعین کیاجا تا ہے؟

اس کو پہلے سمجھ لینا چاہئے۔ مسلمانو ں پر اسلام نے زکوٰۃ کے نام سے خراج فرض کیا ہے۔ مسلمان اپنے پاس جو سونا، چاندی، پیسے، تجارتی چیزیں، ‏گائے، بکرے ، اونٹ ، اگانے والی چیزیں اور اناج وغیرہ رکھتے ہیں ان میں سے زکوٰۃ دینا فرض کیا گیا ہے۔ 

سونا، چاندی اور پیسوں کے لئے اڈھائی فیصد ، آب پاشی سے اگانے والی چیزوں میں سے پانچ فیصد، فطری طور سے پیدا ہو نے والے چیزوں میں سے ‏دس فیصد زکوٰۃ کے نام سے مسلمان خراج ادا کرناچاہئے۔ غور کر نا چاہئے کہ یہ کتنا مناسب خراج ہے۔ 

اسلامی حکومت حساب کر کے زبردستی وصول کیا جانے والا خراج زکوٰۃ ہے۔زکوٰۃ کے نام سے اسلامی سماج ایک کثیر رقم حکومت کو ادا کر نا فرض ‏ہے۔ 

مسکینوں ، بالکل غریبوں ، قرض میں ڈوبے ہوئے لوگوں ، غلاموں ، جہاد کے لئے اپنے آپ کو قربان کر نے والے فوجیوں اور مسافروں کو ان کی ‏بہبودی کے لئے اس خراج کو حکومت خرچ کر ے گی۔ اگر مختصراً کہا گیا تو ایک حکومت عوام کے لئے جو کرنا چاہئے تھا ان تمام فرائض کو ان ہی خراج ‏سے کیا گیا تھا۔ 

تمام حکومت مسلمانوں سے حاصل کئے جانے والی زکوٰۃ ہی سے جب چلتی ہے تو اس ملک میں موجود غیر مسلم کچھ بھی خراج نہ دیں تو یہ کیسے انصاف ‏ہوگا۔ 

جب صرف مسلمان ہی زکوٰۃ دیتے آئیں تو غیر مسلم جو ہیں ان کے معاملے میں مندرجہ ذیل تین طریقوں میں سے ایک پر عمل پیرا ہوسکتے ہیں۔ 

‏1۔ غیر مسلموں پر کوئی خراج تعین نہ کرنا۔

‏2۔ مسلموں ہی کیطرح غیر مسلموں پر بھی زکوٰۃ مقرر کرنا۔

‏3۔ غیر مسلموں پر دوسری طرح سے خراج متعین کرنا۔ 

اس میں پہلے طریقے کو اپنائیں تو کیا انجام ہوگا، اس کو دیکھتے ہیں۔

صرف مسلم ہی اگر خراج ادا کریں اورغیر مسلم کوئی بھی خراج ادا کئے بغیر حکومت کے فائدوں کو حاصل کر تے آئیں تو خراج دینے والے مسلمان ‏اور زیادہ حقوق کے طلبگار ہوں گے۔ 

اس وقت اس کے خلاف آواز اٹھے گاکہ خراج دئے بغیر غیر مسلم حکومت سے فائدہ نہ اٹھائیں۔

غیر مسلم خراج نہ دینے کی وجہ سے وہ خود بھی اپنے حق کو مانگنے سے تامل کر یں گے۔نفسیاتی طور پر سوچنے لگیں گے کہ ہم دوسرے درجے کے ‏عوام ہیں۔ 

ایک قوم سے خراج لے کر دوسری قوم سے اگر نہ لیا جائے تو ان کے لئے وہ شرمندگی ہوگی۔یہ اس کی نشانی ہوگی کہ انہیں قانون کے مطابق خراج ‏نہیں لیناہے۔ اس لحاظ سے دونوں طرفین میں مخالفت سخت ہو گی۔ 

صرف اپنے سے خراج حاصل کر کے دوسروں کو استثناء کریں تو مسلمان مخالفت کر یں گے۔ اپنے پاس خراج نہ لینے سے یہ سوچ کر کہ اپنے کوقانونی ‏حق نہیں دیا گیاہے، غیر مسلم بھی مخالفت کر یں گے۔ اس لئے پہلا طریقہ ممکن نہ ہوگا۔ 

دوسرے طریقے کو اگر جاری کریں توکیا نتیجہ نکلے گا، آئیے دیکھیں!

زکوٰۃ ایک طریقے سے خراج رہنے کے باوجود مسلم کے لحاظ سے نماز روزے کی طرح وہ بھی ایک دینی فرض بنتا ہے۔ اس زکوٰۃ کو غیر مسلوں پر اگر ‏تھوپیں تو انہیں محسوس ہو گا کہ ہم پر دوسرے ایک مذہب کا قانون تھوپا جارہا ہے۔ انہیں یہ خوف پیدا ہوجائے گا کہ مسلمانوں کی عبادات اور ‏فرائض کہیں ہم پر بھی لاگو نہ ہوجائے۔ ان سے یہ قبول نہیں ہوسکتا۔ 

ایسا معلوم ہوگا کہ غیر مسلموں کی ذاتی معاملے میں اسلامی حکومت مخل ہورہی ہے۔ اس لئے ان پر زکوٰۃ فرض نہیں کرسکتے۔

ہر ایک کی جائداد کو اندازہ کر کے جووصول کی جاتی ہے وہی زکوٰۃ ہے۔ جائداد کے جو مالک ہیں وہ ٹھیک سے حساب دکھا کر تعاون کریں ہی تو زکوٰۃ کو ‏پوری طرح سے وصول کر سکتے ہیں۔ مسلمانوں کے حد تک انہیں وہ ایک دینی فرض رہنے کی وجہ سے وہ اللہ سے ڈرتے ہوئے ٹھیک طورسے حساب ‏دکھائیں گے۔ 

غیر مسلموں کے حد تک یہ صرف ایک خراج ہی سمجھا جائے گا۔ دوسرے مذہب کے لئے فرض رہنے کی وجہ سے اس معاملے میں وہ پوری طرح ‏سے تعاون نہیں کریں گے۔ ممکن حد تک غلط حساب دکھا کر کم خراج دینے کی کوشش کریں گے۔ اس وجہ سے بھی زکوٰۃ ان پر فرض نہیں کر ‏سکتے۔ 

خراج وصول کئے بغیر بھی رہ نہیں سکتے۔ اورمسلمانوں پر جو فرض ہے اس طرح کوئی خراج بھی ان پر فرض نہیں کر سکتے۔

اب اس تیسرے طریقے کو جاری کر نے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ 

بغیرزکوٰۃ قسم کے ایک نئے خراج کو ان پر لاگو کر نے کے ذریعے ہی اس برے انجام کو جھٹلاسکتے ہیں۔اس بنیاد پر ہی ’جزیہ‘ نامی خراج ان پر فرض ‏کیا گیا۔ مسلمان زکوٰۃ کے نام سے اس جزیہ سے کئی گنا زیادہ خراج دیتے ہیں۔ 

اسلامی حکومت میں خراج دینے کے معاملے میں مسلمان ہی کو بہت زیادہ تکلیف کا سامنا کرنا پڑاہے،پر غیر مسلموں کو نہیں۔ اس کو نہ سمجھنے کی وجہ ‏سے جزیہ نامی خراج کے بارے میں غلط تبصرہ کیا جارہاہے۔ 

اس آیت میں جو’ذلیل ہو کر ‘ کہا گیا ہے ، جنگ میں ناکام ہو کر ذلیل ہو نے کو کہا گیا ہے۔   

‏200۔ غیر مذہب کعبہ آنے سے ممانعت کیوں؟

‏اس آیت (9:28) میں کہا گیا ہے کہ غیر مذہب کعبہ میں نہ آئے۔

اسلامی عبادت گاہیں مسجدوں میں غیر لوگ پاکیزگی سے آنے کو اسلا م منع نہیں کر تا۔ 

نبی کریم ؐ کے زمانے میں مسجد ہی ان کا صدر عمل گاہ تھا۔میدان جنگ میں قید کئے جانے والوں کو مسجد ہی میں باندھ کر رکھا جاتا تھا۔ لوگوں کے ‏درمیان ہو نے والے مقدمہ بھی نبی کریم ؐ نے مسجد ہی میں دریافت کیا کر تے تھے۔ 

مسلموں اور یہودیوں کے درمیان ہو نے والے مقدمے بھی اس میں شامل ہے۔کئی غیر مسلم ممالک کے سرداروں نے بھی نبی کریم ؐ سے مسجد ہی ‏میں ملاقات کی تھی۔ اس لئے دنیا کی کسی بھی مسجد میں غیر مسلم کا آنا اجازت دیا جانا چاہئے۔ 

اسلامی عبادت گاہ مسجدوں کو غیرمسلم پاکیزگی سے آنے کے لئے اسلام روکتا نہیں۔ پھر بھی دنیابھر میں ایک ہی معبود کی عبادت کے لئے تعمیر کی ‏گئی پہلی عبادت گاہ مکہ اور اس کے اطراف کے مقامات ہی میں کئی معبودوں کو ماننے والوں کو منع کرنے کے لئے اسلام حکم دیتا ہے۔ 

اس کو محب انسانی کے خلاف نہ سمجھیں۔ کیونکہ اللہ نے کعبہ کو امن کامقام قراردیاہے۔اس عبادت گاہ کو اور اس کے اطراف کو مخصوص الگ ‏قانون ہیں۔ ایسے قانون بھی ہیں کہ وہاں پر انتقام لینا نہیں چاہئے اور وہاں سے گھاس پھوس بھی توڑنا نہیں چاہئے۔

ان مخصوص قانون کو اسلام کے قبول کر نے والے ہی پیروی کر سکتے ہیں۔ دنیا فنا ہو نے تک امن کی جگہ قرار پانے والی یہ مقدس زمین ہی اس مناہی ‏کے لئے ایک اور وجہ ہے۔ 

مزید یہ کہ کعبہ کوئی تفریح گاہ نہیں ہے۔ وہاں پر ایک ہی معبود پر ایمان لا نے والے صرف عبادت کر نے ہی کے لئے جانے والی جگہ ہے۔ 

غیر مسلم ایک ہی معبود اللہ پر ایمان نہ لانے کی وجہ سے ، اورکعبہ اللہ کی عبادت کر نے کے لئے تعمیر کی جانے والی پہلی عبادت گاہ رہنے کی وجہ سے اور ‏اس کی تقدس کو یہ لوگ نہ ماننے کی وجہ سے وہ لوگ تفریحی ارادے سے ہی آئیں گے۔ اسی لئے کعبہ کی تقدس کو نہ ماننے والے غیر مسلم وہاں آنے ‏کے لئے منع کئے گئے ہیں۔ 

اس عبادت گاہ میں غیر مسلموں کو جگہ نہیں کے لفظ میں دوسری مسجدوں میں منع نہیں کا مطلب بھی شامل ہے۔ 

‏199۔ دشمنوں کو پوری طرح سے پسپا کرنا

‏اگر جنگ کر نے کی حالت پیدا ہوگئی توہارجانے والوں کو قید کر کے پھر انہیں آزاد نہیں کر نا چاہئے۔ اگر ایسا کرو گے تو وہ لوگ پھر فوج اکٹھا کر کے ‏دوسری جنگ کے لئے تیار ہوجائیں گے۔ اسی وقت دشمن جب پوری طرح سے پسپا ہو کر پھر مقابلہ کے لئے ڈرنے کی نوبت آجائے تو اس وقت قید ‏کئے ہوئے لوگوں کو بعد میں آزاد کر سکتے ہیں۔ اس آیت (8:67) کی یہی رائے ہے۔ 

کوئی بھی ملک ہو اپنی حفاظت کے لئے اس طرح کی کارروائی اٹھانی پڑتی ہے۔ اس کو تشدد نہ سمجھنا چاہئے۔ 

جنگ، دہشتگری اور جہاد وغیرہ کے بارے میں اور زیادہ جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 53،54، 55، 76، 89، 197، 198، 203، 359 ‏وغیرہ دیکھئے!

‏‏198۔ کمزور حکومت پر جنگ فرض نہیں

‏مسلم حکومت مناسب وجہ کے ساتھ جنگ کر نے کو اسلام اجازت ہی نہیں دیتا بلکہ اس کو فرض بھی قرارکرتا ہے۔  

اس فرض کے لئے فوجی طاقت ہی پہلی شرط ہے۔مناسب طاقت کے بغیر میدان میں اترناخودکشی کی مترادف ہے۔ 

ابتداء میں دشمنوں کی طاقت میں دس میں سے ایک حصہ اگر ہو تو جنگ فرض تھا۔ اس کے بعدکم کردیا گیا کہ دشمنوں کی طاقت میں آدھا حصہ ہوتو ‏ہی جنگ فرض ہوگا۔ یہ آیتیں (8:65,66) رہنمائی کر تی ہیں کہ اگر آدھا سے کم ہوگا تو جنگ فرض نہیں ہے۔ 

اس آیت سے ہم جان سکتے ہیں کہ دشمنوں کی طاقت میں آدھے سے کم ہونے کی حالت میں اگر مسلمانوں کی فوج ہو تو جنگ کئے بغیر رہنا یادشمن ‏ملک کے ساتھ چھوٹ دے کر مصالحت کر لینا، اس میں کوئی حرج نہیں۔

جنگ، دہشتگری اور جہاد وغیرہ کے بارے میں اور زیادہ جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 53،54، 55، 76، 89، 197، 199، 203، 359 ‏وغیرہ دیکھئے!

‏197۔ فوجی طاقت بڑھانا حکومت کا فرض ہے

‏یہ آیت 8:60 کہتی ہے کہ فوجی طاقت بڑھالیا جائے۔ مسلمان اپنے ملک میں فوج جمع کرنافرض ہے۔لیکن اس آیت سے یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ ایک ‏ملک کی اقلیتی فرقہ اس طرح فوج جمع کریں۔ 

مکہ میں رہتے وقت بھی ،ابھی مدینہ میں پناہ لیتے وقت بھی مسلمانوں نے اس طرح فوج جمع نہیں کیا۔ بلکہ مدینہ میں حکومت قائم کر نے کے بعد ہی ‏اس پر عمل کیا۔ اس وقت ہی یہ ممکن تھا۔

ایک ملک تشکیل پانے کے بعد وہ اپنی حفاظت کو مضبوط کرنا کوئی غلط کہہ نہیں سکتا۔ غور کر نے کی بات یہ ہے کہ نبی کریم ؐ ایک بہترین حکومت ‏بنانے کے بعد ہی یہ آیت نازل ہوئی ۔ انہوں نے مکہ میں تکلیف پر تکلیف برداشت کر تے وقت یہ نہیں اتری۔

جنگ، دہشتگری اور جہاد وغیرہ کے بارے میں اور زیادہ جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 53،54، 55، 76، 89، 198، 199، 203، 359 ‏وغیرہ دیکھئے!

 ‏196۔ بغیر منصوبہ کے ہونے والی جنگ بدر 

‏اسلامی تاریخ میں پہلی بار جو جنگ ہوئی وہ جنگ بدر ہے۔ آیت نمبر 8:42کہتی ہے کہ وہ جنگ بغیر منصوبہ کے ہوئی۔

نبی کریمؐ اور ان کے ا صحاب جنگ بدر کے توقع میں نہیں نکلے ۔ بلکہ یہ سن کر کہ اپنے ملک کی سرحد کے اندر داخل ہو کر مکہ کے۔۔ تجارتی گروہ سفر ‏کر رہے ہیں ، انہیں راستہ روکنے کے لئے نکلے تھے۔ 

لیکن اس بات کو سن کر مکہ والوں نے فوج جمع کر کے آگئے، اس سے اچانک جنگ بدر کا سامنا کر نا پڑا، اسی کو یہ آیت کہتی ہے۔

 ‏195۔ مال غنیمت میں غریبوں کا بھی حصہ ہے

‏اس آیت (8:41) میں کہا گیا ہے کہ میدان جنگ میں دشمنوں سے قبضہ کر نے والی چیزوں کو پانچ حصوں میں بانٹ کر اس میں سے چار حصوں کو ‏جنگ میں حصہ لینے والوں کو بانٹ دینا چاہئے اور باقی کا ایک حصہ نبی کریم ؐ اور ان کے رشتہ داروں کواور یتیموں ، غریبوں اور مسافروں کو بانٹ دینا ‏چاہئے۔ 

یعنی جنگ میں حصہ لینے والوں کو اسی فی صد، نبی کریمؐ اور ان کے رشتہ داروں کو ، اور یتیموں، غریبوں ، مسافروں کو ملاکر بیس فیصد کے حساب سے ‏بانٹ کر دینا چاہئے۔ 

اس میں اللہ کے لئے بھی کہا جانے کی وجہ سے اس کو بھی ایک حصہ نہ سمجھ لیں۔ کیونکہ اللہ کے لئے کہے جانے والے تمام چیزیں مسکینوں ‏اورمحتاجوں کو تقسیم کر نا ہی اسلام کی بنیاد ہے۔ 

نبی کریم ؐ اور ان کے گھر والے زکوٰۃ کے رقم سے کچھ بھی نہ چھونے کومنع کئے جانے کی وجہ سے جنگ میں ملنے والے چیزوں میں سے انہیں بھی اللہ ‏نے حصہ بانٹا ہے۔ 

‏‏194۔ اگر اللہ جانتا کا مطلب

‏ان (8:23، 8:70) آیتوں میں کہا گیا ہے کہ ان کے دلوں میں بھلائی جو ہے اس کواگر اللہ جانتا ۔

‏’اگرجانتا ‘کہنے سے ایسا نہ سمجھیں کہ اللہ نہ جانتا بھی ہے۔ 

کیونکہ اللہ اپنے بارے میں کہتے وقت کئی آیتوں میں ذکر کیا ہے کہ وہ سب کچھ جاننے والاہے اورایسی کوئی بات نہیں جو وہ نہ جانتا ہو۔ 

چنانچہ ان کے دلوں میں بھلائی ہے یا نہیں ہے وہ بے شک جانتا ہے۔ اس صفت الٰہی کوکسی تفاوت کے بغیر ان دونوں آیتوں کو سمجھنا چاہئے۔ 

ان کے دلوں میں جو بھلائی ہے اس کو اگر اللہ جانتا ہوتاکے جملے کامطلب ہے کہ ’’ان کے دلوں میں بھلائی اگر ہوتا۔‘‘ 

اگر ان کے دلوں میں بھلائی ہوتا تو ضرور وہ اللہ کو معلوم ہوتا۔

اگر کہا جائے کہ ان کے دلوں کی بھلائی کو اللہ نہیں جانتاتو اس کا مطلب ہے ان کے پاس بھلائی نہیں ہے۔یعنی ان کے پاس تھوڑا بہت بھی بھلائی ‏اگر ہوتا تو اس حقیقی قول کو وہ قبول کر لئے ہوتے، اسی بات کو یہ آیت کہتی ہے۔ 

More Articles …