Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

‏209۔ قتل کے تاوان کا مقدار

‏یہ آیت 4:92 کہتی ہے کہ ایک شخص دوسرے ایک شخص کوغلطی سے اگر قتل کر دے تو اس کو تاوان دینا چاہئے۔ تاوان کا مقدار قرآن مجیدمیں ‏نہیں کہا گیا۔

نبی کریم ؐ نے وضاحت سے فرمایا کہ اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو قتل کر دے تو سو اونٹیں یا دو سو گائے یا دو ہزار بکرے تاوان میں دینا ‏چاہئے۔اس تاوان کو قاتل کے تمام وارثوں سے ایک ساتھ وصول کرنا چاہئے۔ جو تاوان وصول کیا گیا اس کو مقتول کے وارث اسلامی قانون کے ‏مطابق تقسیم کر لے نا چاہئے۔

‏(دیکھئے نسائی: 4719)  

‏208۔ انگلیوں کے پوروں کو بھی درست کرنا

‏اللہ کہتا ہے کہ ہم انسان کو پھر سے پیدا کر سکتے ہیں، اس کے ساتھ اس آیت (75:4) میں یہ بھی کہتا ہے کہ اس کی انگلیوں کے پوروں تک ‏درست کر سکتے ہیں۔

اس سے زیادہ اہم اعضاء جسم میں رہنے کے باوجود انگلیوں کے پوروں کا ذکر کر نے کی وجہ یہ ہے کہ انسان کی کوئی بھی عضو ہو اس عضو کے بارے ‏میں مثبت انداز میں کہہ نہیں سکتے کہ یہ اس خاص آدمی ہی کا ہے۔ 

کیونکہ اس جیسے اعضاء کئی لوگوں کے ہوں گے۔ ایک انسان دوسرے انسان سے اگر مختلف ہوتا ہے تو وہ اس کی انگلیوں میں موجود ریکھاؤں کی وجہ ‏سے۔

ایک انسان کی ریکھا دوسرے انسان کی ریکھا جیسی نہیں ہوگی۔اس سائنسی حقیقت کو بھی ملا کر اللہ فرماتا ہے کہ ان ریکھاؤں 

کو بھی ہم واپس لے آئیں گے ۔  

‏207۔ آبادی کے اضافہ میں عورتوں کا حصہ

‏انسان کی پیدائش کے بارے میں کہتے وقت اللہ نے کئی آیتوں میں کہا ہے کہ انہیں منی کے قطرے سے پیدا کیا۔ 

ہم نے جو قطرہ کا لفظ ترجمہ کیاہے، اس کے باوجود اللہ نے اس 76:2آیت میں کہتا ہے کہ منی کے قطرے کی ایک خلیہ سے پیدا کیا اور وہ مخلوط منی ‏کا قطرہ ہے۔ 

مرد سے نکلنے والا خلیہ عورت سے نکلنے والے بیضہ کے ساتھ خلط ملط ہو نے کے بعدہی وہ عورت کے رحم میں داخل ہو کر انسان بنتا ہے۔ 

انسان کی بناوٹ میں مردکا خلیہ عورت کی بیضہ کے ساتھ شامل ہو نا چاہئے ، اس سائنسی حقیقت کو چودہ سو سال پہلے ہی مخلوط منی کا قطرہ کہہ کر قرآن ‏نے ثابت کر دیا کہ یہ اللہ ہی کا کلام ہے۔  

‏206۔خانہ بدوشوں کے لئے بھی زکوٰۃ‏

اس آیت (9:60) میں کہا گیا ہے کہ خانہ بدوشوں کو بھی زکوٰۃ کی رقم دینا ہے۔

اور بھی کئی آیتوں میں(2:177، 2:215، 4:36، 8:41، 17:26، 30:38، 59:7) کہا گیا ہے کہ خانہ بدوشوں کو بھی صدقہ و ‏خیرات دینا چاہئے۔ 

ہم نے جوخانہ بدوش ترجمہ کیا ہے اس جگہ پر ابن السبیل کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اس لفظ کا براہ راست معنی راستے کا بیٹا ہے۔ 

ایک شخص کے پاس ایک عمل اگر زیادہ پایا جائے تو اس عمل کے ساتھ بیٹے کا لفظ بھی ملا کر کہنا عربوں کی عادت تھی۔ 

جب بھی دیکھو جنگ میں حصہ لینے والوں کو ’جنگ کا بیٹا‘ کہنے کی عادت تھی۔ جب بھی دیکھو بستی بستی جانے والے کو راستے کا بیٹا کہا جا تا تھا۔ 

معمولی سفر کر نے والوں کو اس نام سے پکارانہیں جائے گا۔ سفر ہی زندگی بنائے ہوئے لوگوں کو اس نام سے پکارا جائے گا۔ اس لئے خانہ بدوش اس ‏لفظ کے لئے بالکل موزوں ہے۔ 

اس کا مطلب ہے کہ کوئی شخص بغیرکسی گھر بارکے بستی بستی گھومتا پھرتا ہے تو اس کوکسی جگہ قائم رہنے کے لئے زکوٰۃ کی رقم خرچ کر سکتے ہیں۔

اس لفظ کو کئی لوگ مسافر اور راہ گیرکا معنی دیتے ہیں۔ اس کواس طرح وضاحت کر تے ہیں کہ سفر اختیار کر تے ہوئے سب کچھ کھوکر ایسی حالت ‏ہوجائے کہ وہ اپنی بستی کو واپس نہ جا سکے۔ 

ان کے دعوے کے مطابق صرف مسافرہی اس لفظ کا معنی ہے۔ سب کچھ کھوکر اپنی بستی کو واپس جانے سے مجبور جو کہا گیا ہے وہ اس لفظ میں نہیں ‏ہے۔ یہ ان کی قیاسی تشریح ہے۔ 

مزید یہ کہ معمولی مسافر کے لئے دوسرا ایک لفظ ہے۔ جب دیکھو سفر میں رہنے والے خانہ بدوش ہی کوراستے کا بیٹاکہا جاتا ہے۔ اگر خانہ بدوش کا معنی ‏لیں تووہ خانہ بدوش رہنے کی وجہ ہی سے زکوٰۃ کا حقدار بنتا ہے، یہی بات قابل قبول ہے۔ 

سفراختیار کر کے سب کچھ کھونے والا فقیر یعنی حاجتمند کہلائے گا۔ اس کے لئے مسکین اور ضرورتمند کا دو لفظ استعمال کئے جانے کی وجہ سے ‏مسافروں کو راستے کا بیٹا نہیں کہا جائے گا۔   

‏205۔ اللہ کی راہ میں زکوٰۃ

‏آیت نمبر9:60کہتی ہے کہ زکوٰۃ کی رقم آٹھ طریقوں میں خرچ کر نا ہے۔اس میں ایک حصہ اللہ کی راہ کا بھی ہے۔

اللہ کی راہ میں والا لفظ ہر نیک کاموں کی طرف اشارہ کر نے کے باوجود چند موقعوں پر سچائی کے لئے میدان جنگ میں اتر کر جنگ کر نے کی طرف ہی ‏اشارہ ہے۔ 

اس آیت میں دوسری ہی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اللہ کی راہ میں کامطلب ہے کہ ہر نیک کاموں کو خرچ کر نے کے لئے خاص کر اس آیت کو معنی ‏نہیں دینا چاہئے۔ 

اس کے لئے دو وجہ ہیں۔ نبی کریم ؐ نے اس کے متعلق ذکرکرتے وقت وضاحت کی ہے کہ اللہ کی راہ میں جنگ کر نے والے۔ (ابوداؤد: ‏‏1393) 

یہ پہلی وجہ ہے۔

اس آیت میں جو کہا گیا ہے کہ’’ اللہ کی راہ میں‘‘ ، اگر اس کا مطلب ہر نیک کام ہوتا تو آٹھ قسم کے لوگوں کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں کہنے کے بعداس کو ‏فہرست بنانے کی ضرورت نہیں۔اللہ کی راہ میں کہہ کر ایک ہی لفظ سے ختم کردیا ہوگا۔ اسی میں دیگر وہ سات قسم بھی شامل ہوگیا ہوتا۔ 

کیونکہ دیگر سات بھی پہلے کی معنی کے مطابق اللہ ہی کی راہیں ہیں۔ اس لئے اس جگہ میں جنگ کر نے والے کا معنی ہی لینا چاہئے۔ 

نبی کریم ؐ کے زمانے میں جنگ کر نے والوں کو اجرت نہیں دی جاتی تھی۔ اسی لئے اسلام رہنمائی کرتاہے کہ انہیں زکوٰۃ کی رقم میں سے دیا جائے۔ 

دینی کام، کتابیں شائع کرنا،مسجدیں تعمیر کرناوغیرہ کاموں کے لئے اس رقم سے نہیں دینا چاہئے۔ عام طور سے یہ اللہ کی راہ ہی میں شامل ہو نے کے ‏باوجود اس آیت (9:60) میں جو اللہ کی راہ کہا گیا ہے اس میں یہ کام تمام جمع نہیں ہوگا۔   

‏204۔ دلوں کو مائل کرنے کے لئے زکوٰۃ

‏یہ آیت 9:60 کہتی ہے کہ زکوٰۃ کی رقم حاصل کر نے کے قابل لوگوں میں غیر مسلم بھی ہیں۔ غیر مسلموں میں جو اسلام پراور مسلمانوں پر دشمنی ‏نہیں رکھتے ، انہیں بھی زکوٰۃ کا مال خرچ کرسکتے ہیں۔ 

دلوں کومائل کرنے کے لیے جو کہا گیا ہے یہ وہی لو گ ہیں۔ دشمنی کرنے والے غیر مسلم اگر دشمنی کوچھوڑ دیں گے تو انہیں بھی زکوٰۃ دے سکتے ‏ہیں۔ دلوں کوما یل کرنے والوں میں یہ بھی شامل ہیں۔ 

اسلام کی عبادتوں میں ایک عبادت زکوٰۃ بھی ہے۔ اس کے باوجود اسلام نے قانون بنایاہے کہ زکوٰۃ کوغیر مسلموں کو بھی دے سکتے ہیں۔ اس کے ‏برابری کا ایک انسانی محبت دنیا میں کہیں بھی نہیں دیکھ سکتے۔   

‏203۔ فوجی طاقت اگر کم ہوتو کیا جنگ فرض ہے؟

‏یہ آیت (9:41) کہتی ہے کہ تعداد اور فوجی طاقت کم بھی ہوں تو جنگ کر نا فرض ہے۔ 

آیت نمبر8:66 کہتی ہے کہ دشمنوں کی طاقت میں آدھا حصہ ہو تو ہی جنگ فرض ہے، اس سے اگر کم ہو تو جنگ فرض نہیں ہے۔ان دونوں میں ‏اختلاف ہے، یہ نہیں سمجھنا چاہئے۔ 

کیونکہ آیت نمبر8:66 میں’’اللہ نے اب تمہارے لئے آسان کر دیا ‘‘ کہنے کے بعد کہتا ہے کہ دشمنوں کی طاقت میں نصف حصہ ہو نا ‏چاہئے۔اس سے ہم معلوم کر سکتے ہیں جو پہلے کی حالت تھی اب اس کے ذریعے تبدیل کردیا گیا۔ 

ملک پر حکومت کر نے والے عوام کی حفاظت کے لئے ذمہ دار ٹہرائے گئے ہیں۔ فوج اکٹھا کر کے آنے والوں کے مقابلہ میں میدان میں اتریں ہی تو ‏دشمنوں سے عوام کی حفاظت کرسکتے ہیں۔ لیکن بعض وقتوں میں دشمنوں کی طاقت بہت زیادہ ہو تو ان کے مقابلے میں جنگ میں اتریں توعوام کو ‏بچانے کے بجائے ان کی بربادی کے لئے ہم ذریعہ بن جائیں گے۔ 

ان جیسے مواقع پر رعایت کرتے ہوئے دشمنوں سے عاجز ہو کر جنگ کو ملتوی کرنے ہی سے عوام کو ہم بربادی سے بچا سکتے ہیں۔ اسی طریقے کو اللہ ‏نے ان آیتوں میں وضاحت کر تے ہوئے حکمرانوں کو نصیحت کر تا ہے۔ 

دشمنوں کی طاقت میں آدھا حصہ ہوتو ہی جنگ کر نا فرض ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو جنگ سے دست بردار ہو کر عوام کو بچانا چاہئے، یہی وہ نصیحت ہے۔ 

جنگ، دہشتگری اور جہاد وغیرہ کے بارے میں اور زیادہ جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 53،54، 55، 76، 89، 197،198، 199، 203، ‏‏359 وغیرہ دیکھئے!  

‏202۔ صبح کا تارا؟ آواز دینے والا ستارہ؟

‏اس آیت (86:1) میں طارق پر قسم کھا یا گیا ہے۔ اس کی دوسری آیت میں کہاگیا ہے کہ طارق کیا ہے۔ یعنی اس سے ہمیں معلوم ہو تا ہے کہ ‏طارق ایک چمکتا ہوا تارا کانام ہے۔ 

صبح میں زوردار چمک کے ساتھ نظر آنے والا چمکتا ہوا تارا ہی طارق کہلاتا ہے۔ لغات میں بھی صبح کا تارا ہی کہا گیا ہے۔ رات بھر نظر نہ آ کر اچانک صبح ‏میں روشنی دینے کی وجہ سے اس کو طارق (یعنی اچانک روشنی دینے والا) کہا گیا ہے۔ 

ہر روز ہر شخص کو نظر آنے والا ، ہر شخص کا جانا ہواچیز ہی کو یہ آیت کہتی ہے۔ طارق کو کوئی دوسرا معنی نہ دیں، اسی لئے اس کو چمکتا ہوا تارا بھی کہا گیا ‏ہے۔ 

لیکن اس آیت کو نئے زمانے کے مطابق تشریح کرنے کے ارادے سے بعض لوگ اس کو نئے معنی دے رہے ہیں۔ یعنی وہ کہہ رہے ہیں کہ اس کا ‏مطلب ہے آواز دینے والا، ستاروں میں آواز دینے والا دو لاکھ سے زیادہ ہے، اسی کو یہ آیت کہتی ہے۔ 

قرآن میں کئی سائنسی حقائق کہی گئیں ہیں۔ لیکن اس آیت کو یہ لوگ جو تشریح دیتے ہیں وہ قابل قبول نہیں ہیں۔ یہ آیت کہتی ہے کہ طارق ایک ‏مخصوص ستارے کا نام ہے۔ایسا کہنا کہ آواز دینے والے دو لاکھ ستاروں کے بارے میں یہ آیت کہتی ہے، زبردستی ٹھونسے جانے والا قیاس ہے۔ 

اور پھر سائنسدانوں نے انکشاف کر کے لوگوں کے نظروں کو نہ دکھائی دینے والے ستاروں کے بارے میں یہ لفظ نہیں کہتی ہے۔یہ لوگوں کے ‏نظروں کو دکھائی دینے والاچمکدار تارا ہی ہے۔ اسکے بعد آنے والی دوسری آیت ہی اس کوواضح کرتی ہے۔ 

اسی لئے ہی ہم نے اس کو آواز دینے والا ستارہ کا معنی نہیں دیا۔ طارق کا معنی دروازہ کھٹکھٹانا، ہتھوڑے سے مارنابھی ہوتا ہے، اسی طرح اچانک آجانا، ‏ناگہاں نظر آنااور کسی کو معلوم ہوئے بغیر آجانا وغیر ہ معنا بھی ہیں۔ اس لئے یہاں آواز دینے والاستارہ نامناسب معلوم ہوتا ہے۔   

More Articles …