Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

217۔ حفاظت سے رکھا گیا فرعون کا جسم

اللہ نے اس آیت (10:92) میں فرمایا ہے کہ تباہ شدہ فرعون کے جسم کو ہم نے ایک نشانی بنادیا ہے۔

اس آیت کو علماء نے دو طرح کی تشریح دیتے ہیں۔

بعض علماء نے اس کی تشریح یوں کی ہے کہ سمندرمیں ڈوبے ہوئے فرعون کے جسم کو اللہ نے حفاظت سے رکھ کر آخری زمانے میں ظاہر کرے گا۔

ان لوگوں کا کہنا ہے کہ قرآن کے کہنے کے مطابق حفاظت کیاہوا فرعون کا جسم کچھ زمانے کے بعد ڈھونڈ نکالا جا ئے گا، اسی طرح اس کا جسم ڈھونڈ نکالا گیا۔

قدیم زمانے کے مصری لوگ مرنے والے کے جسم کو حفاظت کرنے کے لئے واجب کیمیکل استعمال کر کے ایک صندوق میں اس بدن کو رکھ کر بند کر دیں گے۔ اس طرح حفاظت کیا ہوا بدن کو ’ممی‘ کہا جاتا ہے۔ پھر اس کے اوپر پیرامڈ نامی ایک گنبد بنائیں گے۔

1898سن عیسوی میں لارڈ نامی ایک شخص کے ذریعے ایک وادی میں انکشاف کیاگیا۔ اس کو مصر کے دارالسلطنت کیرو کو لے جایا گیا۔ پھر اس کو 1907سن عیسوی میں پوری طرح سے جانچنے کے لئے مصر کی حکومت نے ایلیٹ سمتھ نامی شخص کے پاس سونپ دیا۔ اس نے خوب اچھی طرح جانچ کر کے ثابت کر دیا کہ وہ فرعون ہی کا جسم ہے۔

تحقیقات کر نے والوں کی رائے ہے کہ سمندر میں غرق کر کے مارے جانے والے فرعون کا جسم کنارے پرپہنچا۔ اس زمانے کے لوگ اسے اٹھاکر ’ممی‘ بنا کر بادشاہوں کو دفن کر نے والی وادی میں دفن کر دئے ہوں گے۔

قرآن نازل ہو نے کے کئی سوسال بعد فرعون کا جسم ڈھونڈ نکالا گیا۔ یہ بھی ایک سند ہے کہ قرآن اللہ ہی کا کلام ہے۔

ایک جسم انکشاف ہواتوتحقیق کر نے والوں نے کہا کہ وہ فرعون ہی کا جسم ہوگا۔اس لئے اسی رائے کو آج کے مسلمانوں نے اپنا لیا ہے۔

ایک جسم کے انکشاف کی وجہ سے ایک رائے کو اپنا لینا کوئی غلطی نہیں ہے۔لیکن وہ رائے قرآن مجید میں استعمال کئے گئے جملہ کے مطابق ہونا چاہئے۔ لیکن اس جگہ ایسا نہیں ہے۔

اس آیت میں استعمال کیا گیا جملہ کیا ہے؟

اس آیت میں براہ راست یہی کہا گیا ہے کہ تمہارے بعدوالوں کو نشانی بنانے کی خاطر آج تمہیں تمہارے جسم کے ساتھ بچائے رکھیں گے۔ تمہیں تمہارے جسم کے ساتھ ہم بچائیں گے کا لفظ مرے ہوئے جسم کے معنی میں نہیں آئے گا۔

یہ آیت کہتی ہے کہ جس دن فرعون غرق کیا گیا اسی دن وہ بچالیا گیا۔آج تمہیں تمہارے جسم کے ساتھ بچائیں گے کے جملے سے اسے ہم جان سکتے ہیں۔

صرف جسم ہی کوبچانا ہوتواللہ یہی کہا ہوگا کہ تمہارے جسم کو ہم بچائیں گے۔اس طرح کہا نہ ہو گا کہ ہم تمہیں تمہارے جسم کے ساتھ بچائیں گے۔

تمہیں تمہارے جسم کے ساتھ بچائیں گے، کہنے کی وجہ سے دوسرے لوگ جس طرح غرق ہو کر مرگئے اس طرح وہ نہیں مرا۔ بلکہ جسم اور جان کے ساتھ ہی وہ کنارے پہنچا ہوگا، یہی رائے ہم اس جملہ سے اخذ کر سکتے ہیں۔

اس آیت میں اللہ فرمایا ہے کہ تمہارے پیچھے آنے والوں کو نشانی بن کر رہنے کے لئے تمہیں تمہارے جسم کے ساتھ ہم بچائیں گے۔

اس کے صرف جسم کو بچا کر کئی سالوں کے بعد ظاہر کر نے سے اس میں کوئی عبرت یا سبق نہیں مل سکتا۔ یہ قیاس کر تے ہوئے کہ کیا یہ اسی کا جسم ہے، اس بناپر انکار کر نے کا موقع بھی زیادہ ہے۔

مزید یہ کہ کیمیکل استعمال کر نے سے صرف فرعون کا جسم ہی نہیں بلکہ اور کئی اجسام حفاظت کئے جانے کی وجہ سے یہ کہنے کا موقع بھی ہے کہ اس میں کوئی بڑی عبرت نہیں ہے۔

اورغور کر نے کی بات ہے کہ حفاظت کیا ہوا جسم ، جسم نہیں رہتا، بلکہ سوکھی مچھلی کی طرح ہو جا تا ہے۔

فرعون اور اس کی قوم غرق کر نے کے بعد صرف فرعون جان سے لڑتے ہوئے کنارے پر پہنچا ہوگا۔ فوجی طاقت اور اختیارات نہ ہو تے ہوئے وہ کنارے پر پہنچنے کی وجہ سے عام انسانوں کو وہ ایک عبرت بن کر مرگیا ہوگا۔ یہی بات اس آیت میں استعمال کئے گئے جملے کے مطابق ہے۔

تمہیں تمہارے جسم کے ساتھ آج ہم بچائیں گے ، ان براہ راست لفظوں کو یہی وضاحت قریب تر ہے۔

جب اس طرح اگر سمجھنے لگیں تو جوانکشاف ہوااس کو فرعون کا جسم کہنے کی نوبت نہیں آئے گی۔ اگر وہ فرعون کا جسم ہی کیوں نہ ہو وہ قرآن کی کہی ہوئی پیشگوئی نہیں ہوسکتی۔

216۔ آمنے سامنے گھر بنانا

اس آیت (10:87)میں کہا گیا ہے کہ گھروں کو قبلہ بنالو۔

نماز پڑھتے وقت جس سمت ہم منہ کر تے ہیں وہ بھی قبلہ کہلاتاہے اوراس کو آمنے سامنے کا مطلب بھی ہے۔

نماز پڑھتے وقت منہ کر نے کی سمت ہی کو اکثر امام قبلہ کہتے آرہے ہیں۔ اگر ان کے کہنے کے مطابق ہر ایک اپنے گھر ہی کو قبلہ بنا لیں تو اسی کی سمت نماز پڑھنا ہوجا ئے گا۔ اس سے بے شمار قبلے قائم ہوجائیں گے۔

یہ آیت یہودیوں کو دی گئی حکم کی طرف اشارہ ہے۔اگر اس کا مطلب یہ ہوتا کہ ہر ایک یہودی اپنے گھروں کو قبلہ بنا لیں تو یہ اس کے خلاف ہو جائے گا کہ یہود کے لئے بیت المقدس قبلہ تھا۔

گھروں کو قبلہ بنانا اور نماز پڑھنے کی سمت بنا لینا کچھ بے معنی لگتا ہے۔ ایک قوم جس سمت کی طرف منہ کرے وہی قبلہ ہے۔ اگرہر ایک کا گھر قبلہ ہو توایسا ہوجائے گا کہ کوئی بھی قبلہ نہیں ۔

ہر گھر قبلہ ہے ،اس مطلب کے مطابق ہر آدمی اپنے گھر سے باہر آکر اپنے گھر کی طرف ہی منہ کر نا پڑے گا۔

ایک قوم کوایک ہی ٹھکانے پر کھڑا کرکے اتحاد پیدا کر نے والا قبلہ کسی بھی منزل کے بغیراور کوئی ترتیب کے بغیر بکھر جانے کی نوبت اس سے پیدا ہوسکتی ہے۔

اس کو اس معنی میں بھی لے سکتے ہیں کہ گھر کے دروازے کو قبلہ کی طرف ترتیب دیتے ہوئے گھروں کو تعمیر کرالیں۔لیکن اس کو مروج کرنا ناممکن ہے۔

ایک گلی میں دائیں طرف رہنے والے گھریں اگر قبلہ کی طرف ہو تو بائیں طرف رہنے والے گھریں قبلہ کے مقابل سمت ہی ہوں گے۔ تمام گھر قبلہ کی طرف نہیں ہو سکتے۔

مزید یہ کہ نبی کریم ؐ کی قوم کے سوا دیگر قوموں کو تمام زمین نماز پڑھنے کے لئے نہیں بنایا گیا۔ انہیں حکم دیا گیا ہے کہ عبادت گاہ ہی میں وہ لوگ عبادت کر یں۔اس طرح کی کئی احایث موجود ہیں۔ (دیکھئے: بخاری: 335، 438)

چنانچہ اس آیت کو یہ معنی نہیں دے سکتے کہ گھروں کو قبلہ بنالو۔

اللہ فرماتا ہے کہ گھر بناتے وقت ادھر ایک اور ادھرایک نہ بنائیں، درمیان میں ایک گلی بنا کر گھروں کو آمنے سامنے بنالیا جائے۔ یہی اس کا اصل معنی ہو سکتا ہے۔

اسی لئے ہم نے ترجمہ کیا ہے کہ تمہارے گھروں کو آمنے سامنے بنالو۔

تاریخ کہتا ہے کہ تہذیب میں مصر کی تہذیب ہی بہت پرانی ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی رہنمائی ہی سے اللہ کے رسولوں کے ذریعے اس کو سکھایا گیا تھا۔

215۔ اللہ کے دوستوں کوخوف نہیں

اس آیت( 10:62) کو غلطی سے سمجھتے ہوئے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ بزرگوں کی پرستش کر سکتے ہیں۔اس آیت کا کہنا ہے کہ ہر شخص اللہ کا ولی بننے کے لئے کوشش کریں۔

مزید یہ کہ دوسری ہی آیت میں واضح کیا گیا ہے کہ اللہ کا ولی کون ہے؟

ایک شخص حقیقت میں اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور اس سے ڈرتا ہے ، اس کو کوئی نہیں جان سکتا۔ کیونکہ یہ دونوں صفات باہر دکھائی نہیں دیتیں، وہ سب دل کی باتیں ہیں۔

یہ آیتیں یہی کہتی ہیں کہ انسان یہ جان نہیں سکتا کہ اللہ کا ولی کون ہے؟ اس لئے بزرگوں کا جشن منانے کی بات ہی یہاں نہیں ہے۔

ایک شخص ہماری نظر میں نیک انسان دکھائی دیتا ہے، پھر بھی وہ ہماری ہی نظر میں اچھا آدمی دکھائی دے گا، پروہ اللہ کی نظر میں بھی اچھا انسان ہو گا، یہ ہم فیصلہ نہیں کر سکتے۔

عثمان بن مظعون نامی ایک صحابی جب وفات پائے تو ان سے مخاطب ہو کر ام الاعلیٰ نامی عورت نے کہا کہ اللہ تمہیں عزت دی۔اسے سن کر نبی کریم ؐ نے اس عورت کو تنبیہ کی کہ تمہیں کیسے معلوم کہ اللہ نے اس کو عزت دی۔ (بخاری: 1243)

عثمان بن مظعونؓ بہت ہی اچھے صحابی تھے، مہاجر تھے۔ ظاہری انداز کو دیکھ کر اگر کسی کو ولی کہنا ہو تو انہیں کہہ سکتے تھے۔ پھر بھی ان کے مرجانے کے بعد ام الاعلیٰ نے جو کہا کہ انہیں اللہ نے عزت دے دی تو ان کے اس فیصلے کونبی کریم نے سرزنش کی۔

میدان جنگ میں بڑے ہی جوش و خروش سے لڑنے والے ایک شخص کو دیکھ کر صحابیوں نے انہیں بڑھا چڑھا کرتعریف کر رہے تھے۔ لیکن نبی کریم ؐ نے ان کو جہنمی کہا تھا۔ ان کے کہنے کے مطابق جنگ میں پیش آنے والے تکلیف کو نہ سہتے ہوئے اس نے خودکشی کرلی۔ (بخاری: 2898)

اصحاب رسول تک بھی ایک شخص کوپہچان نہ سکے کہ وہ ایک نیک انسان ہے تو ہم جیسے معمولی انسان سے ایک بزرگ شخص کی شناخت کیسے ہوسکتی ہے؟

نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ محشر میں ایک شہید، ایک عالم اور ایک دولتمند وغیرہ پوچھ گچھ کے لئے کھڑا کئے جائیں گے۔ ان کے نیک اعمال کے بارے میں اللہ دریافت کر ے گا۔ وہ اپنے نیک اعمال بتائیں گے۔ اس وقت اللہ فرمائے گا، تم لوگوں نے دنیا میں شہرت پانے کے لئے ہی وہ عمل کئے تھے، اوراس کو تم نے پالیا۔ کہا جائے گا کہ انہیں جہنم کی طرف کھینچ کر لے جاؤ۔ (مسلم: 3865)

یہ حدیث کہتی ہے کہ لوگوں کے ذریعے شہداء، سخی اور عالم وغیرہ کہلائے جانے والے تینوں اللہ کی نظروں میں جہنمی ہیں۔ ایسے میں ہم کسی کوکیسے فیصلہ کر سکتے ہیں کہ یہ بزرگ ہیں ؟

ایک بچہ جب انتقال ہو ا تو عائشہؓ نے فرمایا کہ یہ جنت کی چڑیا ہے۔اور یہ بھی کہا کہ یہ بچہ کوئی گناہ نہیں کیا۔ اس طرح کہنے سے بھی نبی کریم ؐ نے منع کر دیا۔ (مسلم: 5174، 5175)

یہ حدیث کہتی ہے کہ معصوم بچے کی حالت کو بھی ہم فیصلہ نہیں کرسکتے۔

نیک بندوں کو ہم جان سکتے ہیں ، اس کے لئے چند دلیلیں موجود تو ہیں؟ اس کو بھی جان لینا ضروری ہے۔

اے ایمان والو! اللہ سے ڈرواور سچے لوگوں کے ساتھ ہوجاؤ۔ (قرآن 9:119)

شرک ٹہرانے والی عورتیں ایمان لا نے تک ان سے شادی نہ کرو۔ (قرآن 2:221)

شرک ٹہرانے والے جہنمی ہیں، یہ جاننے کے بعد وہ خاص رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں ، ان کے لئے بخشش مانگنا ایمان والوں کو اور اس نبی کو بھی جائز نہیں۔ (قرآن 9:113)

ان آیتوں سے اللہ حکم دیتا ہے کہ سچے مومنوں کے ساتھ ہی رہا کر یں، مشرک عورتوں سے نکاح نہ کریں اور شرک ٹہرانے والوں کے لئے بخشش نہ مانگیں۔

ایک شخص نیک ہے یا برا، اس کا فیصلہ کر نے ہی پر مندرجہ بالا احکام کاہم پیروی کرسکتے ہیں، اس میں کوئی الجھن نہیں ہے۔

ہماری نظر میں اسلامی قانون کو مانتے ہوئے جینے والوں ہی کو ہم نیک کہہ کر فیصلہ کر سکتے ہیں۔ لیکن اسی وقت ہماری نظروں میں جو نیک دکھائی دیتے ہیں وہ اللہ کی نظروں میں بھی نیک ہوں ، اس کا ہم فیصلہ نہیں کر سکتے۔ یہی اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے۔

ہماری نظر میں جو ایماندار دکھائی دیں تو ان جیسے سچے لوگوں کے ساتھ ہم گذارہ کر نا ہے۔اسی وقت ہمیںیہ بھی ماننا چاہئے کہ وہ ہماری ہی نظر میں نیک ہے بلکہ اس کی حقیقت کو اللہ ہی جانتا ہے۔اللہ بھی اسی طرح ایمان لا نے کو کہا ہے۔

اے ایمان والو! ایمان لائی ہوئی عورتیں ہجرت کر کے اگر تمہارے پاس آئیں تو انہیں آزما کر دیکھو۔ ان کے ایمان کو اللہ اچھی طرح جانتا ہے۔ اگر تم جان لئے کہ وہ ایمان والے ہیں تو انہیں کافروں کے پاس واپس نہ بھیجو۔ (قرآن 60:10)

یہ آیت حکم دیتی ہے کہ ایمان والی عورتیں مکہ چھوڑکر مدینہ آئیں توجانچ لو کہ کیا وہ ایمان والیاں ہیں یاکسی اور مقصد سے آئی ہوئی ہیں؟ اس طرح جانچنے کے بعداگر معلوم ہوا کہ وہ مسلمان ہی ہیں،اس کو بھی ہم یقین کے ساتھ کہہ نہیں سکتے کہ وہ ٹھیک ہے۔اس لئے اس جملے سے ہم جان سکتے ہیں کہ ان کے دلوں میں ایمان موجود ہے یا نہیں اس کو اللہ ہی جانتا ہے۔

یہ آیتیں یہی کہتی ہیں کہ ہماری نظروں میں نیک بنے رہنے والے مرنے کے بعد بھی اللہ کے پاس وہ نیک ہی ہیں، یہ فیصلہ ہم نہیں کرسکتے ۔

لیکن قبروں کی پرستش کر نے والے اس بنیادی اصول کو جانے بغیر مندرجہ بالا آیتوں کو دلیل ثابت کر کے کہتے ہیں کہ ہماری نظروں میں جو نیک دکھائی دیتے ہیں ان کے بارے میں فیصلہ کر سکتے ہیں کہ وہ اللہ کے پاس بھی نیک ہیں ۔یہ ان کی جہالت کو ثابت کرتی ہے۔

مزید یہ کہ لوگ ایک شخص کے بارے میں فیصلہ کر سکتے ہیں کہ وہ ایک اچھا آدمی ہے، اس کے لئے وہ لوگ اس حدیث کو دلیل دکھاتے ہیں۔

انسؓ نے فرمایا:

ایک دفعہ لوگ ایک جنازے سے گزرتے وقت مرنے والے کی عمدہ اخلاق کے بارے میں تعریف کر رہے تھے۔ نبی کریم ؐ نے کہا کہ ثابت ہوگیا۔ پھر ایک بار ایک اور جنازے سے گزرتے وقت لوگ ان کی بد اخلاقی کے بارے میں برا بھلا کہنے لگے۔ اس وقت بھی نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ ثابت ہوگیا۔ عمرؓ نے پوچھا کہ کیا ثابت ہوگیا۔ نبی کریم ؐ نے کہا: اُس کے بارے میں اچھائی کہہ کر تعریف کیا گیا ، اس لئے اس کو جنت ثابت ہو گیا، اور اس کے بارے میں برابھلا کہنے لگے، اس لئے اس کو دوزخ ثابت ہوگیا۔ چنانچہ تم لوگ ہی اس زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔ (بخاری:1367)

اس حدیث سے ایسا معلوم ہو تا ہے کہ لوگ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ ایک شخص کی تعریف کریں تو وہ جنتی ہے اورایک شخص کی برائی کریں تووہ دوزخی ہے۔

اس بات کو کہ لوگ ہی اچھوں کے بارے میں فیصلہ کر نے والے ہیں،یہ رائے اس حدیث میں ہونے کے باوجود کسی کو اچھا کہہ کر فیصلہ کر نا ہمیں حق نہیں ہے، اور اتنی عقل بھی نہیں ہے۔ اس مطلب سے ہم نے جو دلیلیں پیش کی تھیں یہ اس کے خلاف دکھائی دیتا ہے۔

مزید یہ کہ یہ دستورالعمل کے بھی خلاف ہے۔ہم دیکھ رہے ہیں کہ اسلام کے بالکل خلاف عمل کرنے والوں کو بڑا بزرگ مانا جاتا ہے۔گانجا مارنے والا، بیڑی پینے والا ، بغیرنہائے بالوں کو بڑھائے ہوئے گھومتے پھرنے والا، ایسے لوگوں کو بزرگ بنا کر لوگ ان کے لئے درگاہ بنائے بیٹھے ہیں۔ لوگ ٹھیک سے فیصلہ نہیں کرتے ،یہ اس کے لئے ایک سند ہے ۔

ایک آدمی کے دل میں کیا ہے اس کوکوئی نہیں جان سکتا، اس اسلامی بنیاد کے بھی یہ خلاف ہے۔

اس لئے ہم نے سوچا کہ یہ حدیث کسی اور مطلب سے کہا گیا ہوگا، اس بنیاد پر جب ہم نے تلاش کیا تو ہمیں ایک اور حدیث ملی جو اس کی تشریح کرتی ہے۔

مندرجہ بالا حدیث میں نبی کی بہت سی باتیں چھوٹ گئی ہیں۔اسی لئے لوگ فیصلہ کر سکتے ہیں کا معنی نکلتا ہے۔ نبی کا کہا ہوا مکمل جملہ دوسری حدیثوں میں جگہ پائی ہیں۔

انسؓ نے فرمایا:

ایک دفعہ میں نبی کریم ؐ کے ساتھ تھا۔ اس وقت ہمارے پاس سے ایک جنازہ گزرا۔نبی کریم ؐ نے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا کہ یہ فلاںآدمی کا جنازہ ہے۔ وہ اللہ اور اس کے رسول کو چاہنے والا تھا۔ اللہ کی اطاعت کر تے ہوئے نیک عمل کر نے والا اور اس کے لئے کوشش میں مبتلا بھی تھا۔ یہ سن کر اللہ کے رسول نے کہا ثابت ہوگیا، ثابت ہوگیا، ثابت ہوگیا ۔ پھر ایک اور جنازہ گزرا۔ اس وقت لوگوں نے کہا کہ یہ فلاں شخص کا جنازہ ہے۔وہ اللہ اور اسکے رسول سے نفرت کر نے والا تھا۔ اللہ کی مرضی کے خلاف عمل کر نے والا اور اس کے لئے کوشش کر نے والا بھی تھا۔ یہ سن کر اللہ کے رسول نے کہا ثابت ہوگیا، ثابت ہوگیا، ثابت ہوگیا۔جب لوگوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! پہلے جنازہ کو لوگ تعریف کرنے لگے تو آپ نے کہاثابت ہوگیا ۔ دوسرے جنازہ کو لوگ برا کہنے لگے تو بھی آپ نے ثابت ہوگیا کہا۔ اس کا مطلب کیا ہے؟ نبی کریم ؐ نے جواب دیاکہ زمین میں اللہ کے لئے چند فرشتے موجود ہیں۔ ایک آدمی اچھا ہے یا برا؟ اس کو وہ لوگوں کی زبان سے بات کرتے ہیں۔ (حاکم : باب:1، صفحہ: 533)

لوگ اپنی خودی سے بات کر نے کو یہ حدیث نہیں کہتی۔ بلکہ وہ اسی کے بارے میں کہتی ہے کہ جو فرشتے لوگوں کی زبان سے ایک آدمی اچھا ہے یا برا کہتے ہیں۔ نبی، اللہ کے رسول رہنے کی وجہ سے اللہ نے ان کو سمجھا دیا کہ لوگوں کی زبان میں بولنے والے فرشتہ تھے۔ اسی کی وجہ سے نبی نے فیصلہ کیاکہ لوگوں نے جن کی تعریف کی وہ جنتی ہیں اور جن کی برائی کی وہ دوزخی ہیں۔

یہ حدیث تشریح کرتی ہے کہ لوگوں کی زبان میں فرشتے اگر بات کریں توہی وہ اللہ کے گواہ ہوں گے۔ ان کی زبانوں میں فرشتوں کے بجائے انسان خود بات کریں تو وہ اللہ کے گواہ نہ بن سکیں گے۔

انسان کی زبان میں کیا فرشتوں نے بات کی؟ یا وہ انسان کی ذاتی قول ہے؟اس کو اللہ کی سکھائی ہوئی بنیاد پراس کے رسول جان لے سکتے ہیں۔دوسرا کوئی جان نہیں سکتا۔ دنیا بھر کے لوگ بھی جمع ہو کر اگر ایک شخص کو اچھا انسان کہیں تو بھی اس کو اچھا انسان کہہ نہیں سکتے۔ اس حدیث کا یہی مفہوم ہے۔

یہ وضاحت اس طرح ترکیب پائی ہے کہ ہم نے پہلے جو دلیلیں پیش کی تھیں اس کے بھی خلاف نہیں ہے اور اسلام کی بنیادکی بھی خلاف نہیں ہے۔

درگاہ پرستی کی عبادت کو روا رکھنے والوں کے دیگر دعوے کس طرح غلط ہیں، اس کو جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 17، 41، 49، 79، 83، 100، 104،121، 122، 140، 141، 193، 213، 245، 269، 298، 327، 397، 427، 471 وغیرہ دیکھئے!

214۔ ایک قوم کے لئے ایک رسول

ان دونوں 10:47، 16:36 آیتوں میں کہا گیا ہے کہ ہر ایک قوم کے لئے ایک رسول بھیجا گیا ہے۔

قرآن کہتا ہے کہ پھر بھی بعض قوم کو ایک سے زیادہ رسول بھی بھیجے گئے۔

قرآن کی یہ آیتیں 10:75، 19:53، 20:30، 21:48، 23:45، 25:35، 26:13، 28:34 کہتی ہیں کہ موسیٰ نبی اور ہارون نبی ایک قوم کی طرف ایک ہی وقت میں بھیجے گئے دو رسول ہیں۔

آیت نمبر 36:13 میں اللہ فرماتا ہے کہ ایک اور قوم کی طرف ایک ہی وقت میں تین رسول بھیجے گئے تھے۔

ایسا نہ سمجھنا چاہئے کہ یہ دونوں خبریں ایک سے ایک اختلاف رکھتی ہیں۔ کیونکہ ایک ہی وقت میں ایک سے زیادہ رسول بھیجے جانے کے باوجود ان سب کو ملا کر ایک کتاب اور ایک رہنمائی ہی عطا کی گئی۔ ہر ایک کے لئے الگ الگ کتاب یا رہنمائی دیا نہیں جائے گا۔ اس لئے ایک وقت میں کئی رسول بھیجے جانے کے باوجود پیغام کے حد تک وہ سب ایک ہی رسول کی حالت میں ہیں۔ اگر اس طرح سوچیں تو کسی قسم کی اختلاف نہیں ہوگی۔

‏213۔ کیا بزرگوں کے پاس سفار ش کی درخواست کر سکتے ہیں؟‏

یہ آیتیں 10:18، 39:3 باطل خدا کے عقیدے کو سخت جواب دی ہیں۔

بعض مسلمان یہ دعویٰ کر تے ہوئے اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اللہ سے قریب تر کریں گے اوراللہ سے ہمارے لئے ‏سفارش کریں گے،۔ جو دعا صرف اللہ کے پاس کرنا چاہئے تھا وہ مرے ہوئے لوگوں سے کر تے ہیں۔ 

ان کا دعویٰ ہے کہ ’بزرگوں سے ہم لوگ جو دعا کر تے ہیں یہ نہیں کہتے کہ ان کے پاس قدرت ہے۔ اور یہی کہتے ہیں کہ وہ لوگ بھی اللہ کے ‏بندے ہیں۔‘ ہمارا بھروسہ ہے کہ ’ وہ لوگ اللہ کا قرب حاصل کئے ہوئے ہیں، اس لئے وہ ہمیں اللہ سے قربت حاصل کر کے دیں گے‘ ۔’ہم ‏اس کے منتظر نہیں ہیں کہ وہ لوگ خود سے کچھ کریں گے۔ اس طرح بھروسہ کر نا کیسے غلط ہوگا؟‘

سطحی طور پر اگر دیکھا گیا تواس میں کوئی نا انصافی دکھائی نہیں دیتی، پھر بھی وہ صحیح نہیں ہے۔ 

اللہ کی قدرت ان بزرگوں کو نہیں ہے ، یہ حقیقت ہے کہ اس کو وہ لوگ نہیں مانتے۔ لیکن اس حقیقت کو بھی انکار نہیں کر سکتے کہ وہ اس بات کو ‏مانتے ہیں ، ایک اور طریقے سے اللہ کے برابر کی قدرت ان بزرگوں کو ہے۔

کہیں سے بھی پکارو، کتنے لوگ بھی پکارو، جس وقت بھی پکارو، کسی زبان سے پکارو، وہ سب کچھ ایک ہی وقت میں جاننے کی قدرت صرف اللہ ہی کی ‏ذات کو ہے۔ مگران لوگوں کا بھروسہ ہے کہ اسی طرح کی طاقت ان بزرگوں کو بھی ہے۔ 

اسی وجہ سے دنیا کے ہر حصے میں رہنے والے اکثر لوگ ان بزرگوں سے دعا کررہے ہیں۔ان لوگوں کا ماننا ہے کہ اپنی دعائیں جس طرح اللہ سنتا ہے ‏اسی طرح وہ بزرگ بھی سنتے ہیں۔ایسا معلوم ہو تا ہے کہ وہ بزرگوں کو اللہ کے برابر مانتے ہیں۔ 

دوسروں کوکامل طور سے قدرت والا سمجھ لینا ہی صرف شرک نہیں ، بلکہ اگرکوئی سوچے کہ اللہ کی صفت میں کوئی ایک صفت بھی دوسروں کو ہے ‏تو وہ بھی شرک ہی ہے۔ اس کو نا سمجھنے کی وجہ ہی سے وہ لوگ غیر اللہ سے دعا کر رہے ہیں۔ 

اسلام قبول نہ کرنے والے مکہ کے لوگ بزرگوں کے بارے میں جو ایمان رکھے ہوئے تھے اس کو یہ دونوں آیتیں10:18، 39:3 تشریح ‏کرتی ہیں۔وہ بزرگوں کے پاس صرف اس لئے دعا کرتے تھے کہ وہ اللہ کے پاس سفارش کریں گے۔لیکن اللہ نے اس کو قبول نہ کر تے ہوئے ‏انہیں کافر کہہ کر اعلان کر دیا۔ 

اس وقت مکہ میں جو مشرک تھے وہ لوگ ایک ہی معبود کو اختیار کئے ہوئے تھے۔اس ارادے سے کہ اس ایک ہی اللہ کے پاس سفارش کریں گے ، ‏وہ چھوٹے چھوٹے معبودوں کو بنا رکھے تھے۔ 

آسمان بنانے والا اللہ ہی ہے، زمین کو پیداکر نے والا اللہ ہی ہے، رزق دینے والا اللہ ہی ہے، ہمیں پیدا کر نے والااللہ ہی ہے، سب کچھ بنانے والا اللہ ‏ہی ہے، اسلام کو قبول نہ کرنے والے مکہ کے لوگوں کا یہی عقیدہ تھا۔ اسی بات کو یہ آیتیں (10:31، 23:84-89،29:61، 29:63، ‏‏31:25، 39:38، 43:9، 43:87 کہتی ہیں۔

اسلام کو قبول نہ کر نے والے مکہ کے لوگ اللہ پر ایمان رکھتے تھے۔ اس کی طاقت کو جان رکھے تھے۔ اسی بات کو یہ آیتیں یقین کے ساتھ کہتی ‏ہیں۔ 

اس سے ہم جان سکتے ہیں کہ درگاہ پرستی کر نے والوں کا عقیدہ اور مکہ کے مشرکوں کا عقیدہ دونوں ایک جیسا ہی ہے۔

اگر کہا جائے تو اسلام کو قبول نہ کر نے والے مکہ کے لوگوں کا عقیدہ درگاہ پرستوں کے عقیدے سے بہتر تھا۔ مکہ والے معمولی حالت ہی میں چھوٹے ‏معبودوں کی پرستش کرتے تھے۔ اگرکوئی بڑا مسئلہ پیش آگیا تو وہ اللہ ہی کو پکارا کرتے تھے۔اس بات کو یہ آیتیں (6:40, 41، 6:63,64، ‏‏10:22، 17:67، 29:65،30:33,34، 31:32، 39:8، 39:49، 41:51) وغیرہ کہتی ہیں۔ 

بعض لوگ سوچ سکتے ہیں کہ اللہ سے سفارش کرنے والا جس کو مکہ والے کہتے تھے وہ تو ایک بے جان پتھر کے بت تھے، بزرگ نہیں تھے۔ 

یہ توایک بے بنیاد شک تھا۔ 

ہمیں جو حکم ملا ہے وہ اللہ کے سوا کسی کو اور کسی چیز کو پرستش نہ کریں۔ اس میں قبر اور بت میں تفریق کر نے کے لئے کوئی سند بھی نہیں اور نہ کوئی ‏وجہ ہے۔ قبر اور بت سب برابر ہیں۔ 

بعض لوگ پوچھتے ہیں کہ اسلام قبول نہ کر نے والے مکہ کے لوگ جس کی عبادت کر تے تھے وہ بروں کے بت ہی تھے۔ ہم تو بزرگ لوگوں کی ‏قبروں ہی کی تو عبادت کر تے ہیں؟

یہ دعویٰ بھی غلط ہے۔ کیونکہ اسلام نہ قبول کر نے والے مکہ کے لوگ بھی اکثر نیک صالح لوگ اور نبیوں ہی کی پرستش کر تے تھے۔اس کو حدیث ‏گواہ ہے۔

نبی کریم ؐنے جب مکہ پر فتح پائی تو کعبہ کے اندر ابراھیم ؑ اوراسماعیل ؐ کے مجسموں کو دیکھا۔ انہیں اپنی لاٹھی سے دور کر نے کے بعد ہی آپ اندر داخل ‏ہوئے۔ 

راوی:ابن عباسؓ ۔ بخاری: 1601،3352، 4289۔ 

ایک اور روایت میں کہا گیا ہے کہ ابراھیم ؑ اورمریم ؑ کے بت تھے۔ (بخاری: 2351)

نیک بندوں سے دعا کرنا اور اس بھروسے کے ساتھ کہ وہ اللہ کے پاس سفارش کریں گے، ان کی پیروی کرنا اگر دین میں جائز ہوتا تو نبی کریم کوؐ ان ‏نبیوں کے بتوں کو دورکرنے کی ضرورت نہیں تھی۔

نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ یہودو و نصارٰی پر اللہ کی لعنت ہو۔کیونکہ وہ لوگ اپنے نبیوں کی قبروں کو عبادت گاہ بنادیا ہے۔

راوی: عائشہؓ 

بخاری: 436، 437،1390، 3454، 4441، 4444، 5816

نبی کریمؐ نے فرمایا کہ تمہارے گھروں کو قبریں مت بناؤ۔ اور میرے مقبرے پر جشن نہ مناؤ۔

راوی : ابو ہریرہؓ ۔ ابو داؤد : 1746 

نبی کریمؐ نے فرمایا کہ ان میں سے کوئی نیک آدمی اگر مرجائے تو اس کی قبر پر ایک عبادت گاہ تعمیر کر لیا۔ ان کی شکل بھی اس میں تراش لیا۔ اللہ کی ‏مخلوق ہی میں وہی لوگ بہت خراب ہیں۔ 

راوی: عائشہؓ 

بخاری: 427، 434، 1341، 3873

قبروں پر عمارت بنانا اور اس پر رنگ و روغن کر نا اور اس پر بیٹھنا ، نبی کریم ؐ نے منع فرمایا ہے۔ 

راوی: جابرؓ ۔ مسلم: 1765

اسلام کی نظر میں قبریں اور بت وغیرہ یکساں ہیں۔ یہ حدیثیں اس کے لئے سند ہیں۔ 

نبی کریم ؐ نے جب واضح طور پر کہہ دیا کہ قبر کی شکل میں بھی ہو تو وہ اللہ کی لعنت کے قابل ہی ہے۔پھر بھی اگر وہ کہیں کہ قبر کی پرستش کر سکتے ہیں ‏تو ہمیں سمجھنا چاہئے کہ ان کے دعوے میں کوئی عدل نہیں ہے۔ 

اعلیٰ عہدے میں رہنے والے ایک شخص کے قریب جانا یا ان سے ملاقات کرنا آسان نہیں ہے۔ ہمارے بارے میں ان سے سفارش کر نے کے ‏لئے ایک دلال کو ہم مقرر کر لیتے ہیں۔ ان کے ذریعے ہم ہمارا کام بنا لیتے ہیں۔ 

قبر پرست لوگ اپنے اس عمل کو صحیح ثابت کر نے کی کوشش کر تے ہیں،یہ کہتے ہوئے کہ ان سے زیادہ بہت ہی اعلیٰ مقام میں رہنے والے اللہ سے ‏ہم کیسے براہ راست مل سکتے ہیں؟ اسی لئے ہم بزرگوں کو استعمال کر لیتے ہیں۔ 

ان کا دعویٰ ہے کہ اعلیٰ عہدے پر رہنے والوں سے ہم براہ راست مل نہیں سکتے۔ ایک دلال کے ذریعے ہی ملنا ہو تا ہے۔ ایسے میں ہم اللہ سے کیسے ‏براہ راست مل سکیں گے؟ 

ان کے برے اعمال کو شیطان اسی طرح خوبصورت بنا کر پیش کرتا ہے۔ حقیقت میں یہ بھی ایک بے علم دعویٰ ہی ہے۔ 

یہ سچ ہے کہ اعلیٰ عہدے میں رہنے والوں سے ہم براہ راست نہیں مل سکتے۔ کیوں مل نہیں سکتے؟ اس لئے کہ اس حاکم کو ہمارے متعلق معلوم ‏نہیں۔ 

اس حاکم کو جیسے ہمارے بارے میں نہیں معلوم کیا اسی طرح اللہ بھی ہمارے بارے میں نہیں جانتا؟ کیا وہ بزرگ لوگ ہمارے بارے میں کہنے ‏کے بعد ہی اللہ ہمارے بارے میں جان سکتا ہے؟ اس طرح سوچنے سے وہ چوک گئے۔ 

ہر چیز کو جاننے والا ، ہر زمانے کا علم رکھنے والا،دل کے اندر جو چھپاہواہے اس کی باریک بینی بھی سمجھنے والا، اس زبردست رب کو اس کے غلاموں ‏میں سے ایک حاکم کے برابری میں سمجھا جائے تو اس سے زیادہ ایک رذیل مثال کیا ہوسکتی ہے؟ 

ہمارے مقدمے کو ہم خود نہیں لڑتے۔ کسی وکیل کو ہم مقرر کر لیتے ہیں۔ان لوگوں کا سوال ہے ،اس لئے ہم ولیوں کو اللہ سے بحث کر نے والے ‏وکیل سمجھیں تو اس میں کیا غلطی ہے؟ 

جج سے بحث کر نے کے لئے وکیل کی ضرورت تو ہے۔ وکیل اپنی حجت کی صلاحیت سے مجرم کو بے گناہ اور بے گناہ کو مجرم ثابت کر دیگا۔ اس پر یقین ‏کر تے ہوئے جج بھی فیصلہ سنادے گا۔ 

کیا اللہ کی حیثیت جج کے برابر ہے؟ شاطر بحث کی بنیاد پر مجرم کو بے گناہ سمجھ کر فیصلہ سنانے والے جج کی طرح کیا اللہ بھی غلط فیصلہ سنائے گا؟ 

کون مجرم ہے ؟ اور کون بے گناہ؟ جیسے اس جج کو معلوم نہیں ہے، کیا اسی طرح اللہ کوبھی معلوم نہیں ہے؟

اللہ کے نیک بندوں کا کام بھی کیااس وکیل جیسا ہے؟ کیا وہ مجرموں کو اللہ کے پاس بے گناہ ثابت کر نے کے لئے بحث کریں گے؟ اگر نہیں تو وکیل ‏کیوں؟

اگر اللہ کے بارے میں کچھ کہنا ہو تو وکیل، جج اور حاکم جیسے مثالوں کو چھوڑدینا چاہئے۔اللہ جیسا کچھ بھی نہیں، اس لئے اللہ خود کہتا ہے کہ اللہ کو کوئی ‏مثال دے کر باتیں نہ کرو۔ 

اللہ کے لئے مثالیں بیان نہ کرو۔اللہ جانتا ہے، تم نہیں جانتے۔ (قرآن 16:74) 

اس کے جیسا کچھ بھی نہیں۔ وہ سننے والا، دیکھنے والا ہے۔ (قرآن 42:11)

اس کے برابر کوئی نہیں۔ (قرآن 112:4)

وہ ہمارے لئے مثالیں دیتا ہے۔ اس کو ہم نے جو پیدا کیا ہے اس کو وہ بھول گیا۔ (قرآن 36:78)

یہ آیتیں کہتی ہیں کہ اللہ کو کوئی مثالیں نہ دو۔ 

ہم جب کہتے ہیں کہ صرف اللہ کے پاس ہی مدد چاہو تو وہ ایک اورسوال اٹھاتے ہیں۔ 

ہماری زندگی میں ہم کئی ضروریات ہم جیسے انسانوں سے مانگ رہے ہیں۔ ایسا کوئی انسان نہیں جو نہیں مانگے۔ دوسروں کی مدد کے بغیر کوئی انسان ‏اس دنیا میں جی نہیں سکتا۔ نبی کریم ؐ کے ساتھ ہر انسان دوسرے انسانوں سے مدد مانگنے والے ہی تھے۔ 

ان لوگوں کا سوال یہ ہے کہ ایک انسان جب دوسروں کی مدد کے بغیر جی نہیں سکتا تو مرے ہوئے بزرگوں سے مدد مانگنے میں کیا حرج ہے؟ 

اس کے متعلق تفصیل کے ساتھ اور وضاحت کے ساتھ سمجھانا ہمارا فرض ہے۔ 

نیک کاموں میں اور اللہ سے ڈرنے میں تم ایک دوسرے کی مدد کیاکرو۔گناہ میں اور سر کشی میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔ (قرآن 5:2)

اس آیت میں انسان ایک دوسرے کی مدد کر نے کے لئے اللہ نے اجازت دی ہے اور تاکید بھی کی ہے۔

یہ مانتے ہوئے کہ ایک انسان میں اللہ کی صفت موجود ہے، اس سے مدد مانگنے ہی کو اسلام روکتا ہے۔ 

مرے ہوئے شخص کو پکار کر جب کوئی مدد مانگتا ہے تویہ مانا جاتا ہے کہ اس میں اللہ کی صفت موجودہے۔ زندہ انسان کے پاس جو معمولی مدد مانگا جا تا ‏ہے وہ اس جیسا نہیں ہوسکتا۔

ایک آدمی مرے ہوئے شخص سے التجا کر تا ہے کہ اپنی بیماری کو صحتیاب کردے۔ ایک اور شخص طبیب کے پاس جا کر اپنی بیماری کو دور کر نے کی ‏درخواست کر تا ہے ۔ دونوں کو اگر سطحی طور پر دیکھا گیا تو دونوں ایک جیسا دکھائی دینے کے باوجود دونوں کے درمیان بہت سا فرق موجود ہے۔ 

طبیب کے پاس جانے والا اس طبیب کو اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے ۔طبیب بھی اس کو دیکھتا ہے۔ 

لیکن مرے ہوئے شخص کے پاس جا نے والا اس کو آنکھوں سے نہیں دیکھتا۔ اللہ جس طرح غیب میں رہ کر اس کی نگہبانی کر تا ہے اسی طرح وہ ‏بزرگ بھی اس کی نگرانی کر تے ہیں ، اس طرح ایمان رکھنے کی وجہ ہی سے ان کووہ پکارتا ہے۔ 

آنکھوں سے اوجھل رہتے ہوئے ہر چیز کی نگہبانی کر نے والے اللہ کی صفت کو مرے ہوئے شخص کو بھی وہ دے دیتا ہے۔ طبیب سے طلب کرنے ‏والی امداد اس طرح کی نہیں ہے۔ 

طبیب سے مدد طلب کرنے والے کا عقیدہ یہ ہے کہ وہ جب طبیب کے پاس جاتا ہے تو اس کا بھروسہ ہوتا ہے کہ وہ ممکن حد تک کوشش کر ے گا ۔ ‏وہ کتنا بھی کوشش کر ے اور بہترین انداز کا علاج بھی کرے تواس کی کوشش ناکام بھی ہوسکتاہے۔ اگر وہ طبیب ارادہ کرے کہ اس کو کسی طرح ‏صحتیاب کردے، ایسا ہو نا ضروری نہیں ہے۔ 

مرے ہوئے شخص کے پاس جانے والے کا عقیدہ ویسا نہیں ہوتا۔ ان کا ایمان ہوتا ہے کہ اگر یہ بزرگ ٹھان لے کہ ہمیں مدد کریں تو بے شک ‏ہماری بیماری دور ہوجائے گی۔ ا ن کا ایمان ہے کہ اگر وہ چاہیں تو وہ ہو کر ہی رہے گا ۔یعنی وہ بزرگ ایسے سمجھے جارہے ہیں گویا کہ ان کی کوئی کمزوری ‏نہیں ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والے ہیں۔

جب ہم طبیب کے پاس جاتے ہیں تو یہی سمجھ کر جا تے ہیں کہ یہ طبیب ایک وقت ایک ہی شخص کا بات سن سکتا ہے، اگر ایک ہی وقت میں کئی ‏لوگ اپنی بیماری کا اعلان کریں تو اس کو وہ طبیب سن نہیں سکے گا۔ 

لیکن مرے ہوئے شخص کے پاس جب کوئی جاتا ہے تو یہ جان کر ہی جاتا ہے کہ جب ایک آدمی مدد طلب کرتا ہے تو اسی وقت ان سے اور بھی کئی ‏لوگ مدد طلب کر سکتے ہیں، دنیا کے ہر کونے سے انہیں پکار سکتے ہیں۔ یعنی وہ اسی بھروسے سے پکارتے ہیں کہ کہیں سے بھی پکارو اورکتنے ہی آدمی ‏پکارو، یہ بزرگ سنتے ہیں۔ یہ صفت صرف اللہ ہی کی ذاتی صفت ہے۔

طبیب کی سننے کی طاقت اپنی ہی طاقت جیسا سمجھنے والا شخص مرے ہوئے آدمی کے سننے کی طاقت کو اللہ کے سننے کی طاقت کے برابر سمجھتا ہے۔ 

طبیب کی طبی طاقت کو ہم آنکھوں کے سامنے دیکھ سکتے ہیں۔ اللہ نے انسان کو اس طرح کی طاقت عطا کیا ہے ، اس کے لئے دلیل بھی موجود ہے۔ 

مرے ہوئے لوگوں میں ایسی کوئی طاقت ہم دیکھ نہیں سکتے۔اس کی کوئی سندنہیں ہے کہ مرنے کے بعد ان میں ایسی کوئی طاقت پائی جاتی ‏ہے۔اگر کہا گیا تو زندہ رہتے وقت ان کے پاس جو طاقت تھی مرنے کے بعد وہ بھی نہیں رہی، اس کے لئے سندیں موجود ہیں۔ 

دوا، گولیاں، انجکشن اورہتھیار وغیرہ چیزوں کے ذریعے ہی طبیب علاج کر تا ہے، اسے ہم آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔

لیکن مرا ہوا آدمی اس طرح کی کوئی چیز استعمال کئے بغیر اعتماد کیا جاتا ہے کہ جادوئی قوت سے وہ صحتیاب کر تا ہے۔ یعنی یہ عقیدہ رکھے ہوئے ہیں کہ ‏اللہ ہی کی طرح مرے ہوئے بھی مدد پہنچاتے ہیں۔ 

ہم مثال ہی کے لئے طبیب کے پاس مدد چاہنے کے بارے میں کہا ہے۔کوئی وزیر کے پاس، حاکم کے پاس، سوداگر کے پاس، مزدور کے پاس، ‏بیوپاری کے پاس یا کسی اور کے پاس جو مدد چاہتے ہیں وہ طبیب کے پاس مدد چاہنے جیسا ہی ہے۔ 

لیکن بزرگ، عارف اور صوفی وغیر ہ جیسے مانے جانے والوں کے پاس طلب کی جانے والی امدادایسالگتا ہے کہ اللہ کے 

پاس مانگا جا رہا ہے۔اس اختلاف کو نہ سمجھنے کی وجہ ہی سے ایسے سوال اٹھا رہے ہیں۔ 

انسان ایک دوسرے سے مددلیتے وقت اور مدد دیتے وقت کوئی بھی یہ نہیں سمجھتا کہ کسی کو اللہ کی صفت حاصل ہے۔لیکن قبروں پر جا کرجب مدد ‏مانگا جاتا ہے تواس وقت اس میں مدفون شخص کو اللہ کی صفت دے دیتے ہیں۔ 

درگاہ پرستی کی عبادت کو روا رکھنے والوں کے دیگر دعوے کس طرح غلط ہیں، اس کو جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 17، 41، 49، 79، 83، 100، ‏‏104،121، 122، 140، 141، 193، 215، 245، 269، 298، 327، 397، 427، 471 وغیرہ دیکھئے!   

‏212۔ نبی کریم ؐ کی پاکیزہ زندگی‏

اس آیت 10:16 میں نبی کریم ؐ کواللہ حکم فرماتا ہے کہ اپنی پاکیزہ زندگی کو دلیل بنا کر رسالت کی تعمیر کریں۔ 

نبی کریم ؐ نے اپنی گزشتہ زندگی کوخاص دلیل بنا کرلوگوں کے سامنے ہیش کردیا کہ وہ ایک رسول ہی ہیں۔ 

وہ لوگ اچھی طرح جانتے تھے کہ نبی کریم ؐ کسی کو دھوکہ نہیں دیا اور کسی پر ظلم نہیں کیا۔ 

اس شہر میں بہت بڑے دولتمند رہنے کے باوجود اس سے پیدا ہونے والی شان و شوکت کونبی کریم ؐ کے پاس کسی نے نہیں دیکھا۔ بلکہ اپنی دولت ‏کودوسروں کے لئے تقسیم کرنے میں ہی خوشی محسوس کرتے ہوئے دیکھا۔ 

ان کی زندگی ایسی تھی جس میں خود غرضی نہیں تھی۔ ایسی ہی پاکیزہ زندگی کو انہوں نے دیکھا۔ 

‏’ان پرپوری طرح سے یقین کر سکتے ہیں‘ یہی یقین نبی کریم ؐ کواسلام پھیلانے کے لئے خاص وجہ بن گیا۔ 

کوئی بھی انسان اپنی گزشتہ زندگی کویاد دلاکر کہہ نہیں سکتا کہ مجھ پر بھروسہ کرو۔ کیونکہ کسی بھی انسان کی گزشتہ زندگی مکمل طور پر پاکیزہ ہو نہیں ‏سکتی۔ برگزیدہ بزرگ بھی کیوں نہ ہو ان کا حال ہی دیکھا جا نا چاہئے ، مگر ان کی گزشتہ زندگی کی طرف نظر نہ کرنا چاہئے۔

رسول کی سند کے لئے اپنی گزشتہ زندگی کو دکھانے کی ہمت صرف نبی کریم ؐ ہی کو تھی۔ 

اسی کو پیش کر تے ہوئے رسول کی سند کو قائم کر نے کے لئے قرآن انہیں حکم دیتا ہے۔ 

نبی کریمؐ اپنی رسالت کو تعارف کر نے سے پہلے کوئی جھوٹ، مکاری، بد اخلاقی یا بری عادات وغیرہ سے بالکل دور ہوتے ہوئے پاکیزہ زندگی اختیار ‏کئے ہوئے تھے، یہ آیت اس کے لئے دلیل ثابت ہے۔ 

اللہ کے رسول بننے کے بعد اس سے کہیں زیادہ پاکیزہ زندگی گزارے تھے، یہ الگ بات ہے۔ 

نبی کریم ؐ نے اپنی رسالت کو پیش کرتے وقت ان کے خلاف اٹھائے گئے تبصروں کو کس طرح باطل قرار دی، اس کو اور زیادہ جاننے کے لئے حاشیہ ‏نمبر 468دیکھئے!  

‏211۔ کیا سب لوگ علم حاصل کرنا چاہئے؟ ‏

اس آیت (9:122) میں کہا گیا ہے کہ دین کو سمجھنے کے لئے کچھ لوگ تو کوچ کر نا چاہئے تھا؟ 

دین کو سمجھنا ہر ایک کے لئے ضروری ہے۔ پھر بھی تمام باتوں کو جان لیناسب کے لئے فرض نہیں ہے۔ جس چیز کی پیروی کرنا اوراس پر قائم رہنا ‏ہے، اس حد تک معلوم کر لینا ہی فرض ہے۔ 

چنانچہ چند لوگ ہی سہی اپنے وقت کو صرف کر کے علم حاصل کرنا چاہئے اور دوسروں کو بھی سمجھانا چاہئے۔اس سے ہم جان سکتے ہیں ، اس آیت ‏میں کہا گیا ہے کہ ہر ایک جماعت سے ایک گروہ کوچ کر نا چاہئے تھا ؟  

‏210۔ فیصلہ کے لئے ٹہرائے ہوئے تین اشخاص

اس آیت 9:118 میں کہا گیا ہے کہ تین اشخاص کو اللہ نے معاف کردیا۔

بہت ہی تناتنی کے عالم میں اور تکلیف کے موقع پر واقع ہو نے والی جنگوں میں جنگ تبوک بھی ایک ہے۔ اس جنگ میں تمام لوگ شامل ہو نے کے ‏لئے نبی کریم ؐ نے حکم دیا تھا۔ پھر بھی تین صحابیوں نے جنگ میں حصہ نہیں لیا۔یہ خیال کر تے ہوئے دیری کردی کہ بعد میں جا کر نبی کریم کے ‏ساتھ شامل ہوجائیں گے۔ کل جائیں گے، پرسوں جائیں گے کہتے کہتے آخر تک انہوں نے جنگ میں حصہ نہیں لیا۔ 

اس لئے نبی کریم ؐ نے مسلمانوں کوحکم دیا کہ ان تینوں سے کسی بھی معاملہ میں تعلق نہ رکھا جائے۔ 

ان تینوں نے اپنے کئے پر بہت ہی نادم ہوئے۔اس لئے اللہ نے انہیں معاف کردیا۔ اسی کو اس آیت میں کہا گیا ہے۔ 

اس واقعے کو تفصیل سے جاننے کے لئے بخاری کی احادیث 4418، 4676، 4677، 6690وغیرہ دیکھئے!   

More Articles …