Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

225۔ کیا آسمان اور زمین قائم رہیں گے؟

ان آیتوں (11:107,108)میں کہا گیا ہے کہ ’’آسمان اور زمین قائم رہنے تک نیک لوگ جنت میں اور برے لوگ جہنم میں رہیں گے۔‘‘

یعنی اس کا مطلب ہے کہ آسمان اور زمین جیسے فنا نہ ہو گا اسی طرح جنتی اور دوزخیوں کو فنا نہیں ہے۔

لیکن یہ آیتیں (55:26,27) کہتی ہیں کہ دنیا جب فنا ہو گی تو آسمان اور زمین کے ساتھ تمام چیزیں فنا ہوجا ئیں گی۔

یہ آیتیں (55:26,27) کہتی ہیں کہ آسمان اور زمین فنا ہوجائے گی، اس کے برخلاف یہ آیتیں (11:107,108) کہتی ہیں کہ آسمان اور زمین قائم رہے گی ، ایسا نہ سمجھنا چاہئے۔

بغیر اختلاف کے کس طرح سمجھا جائے ، اس کو مندرجہ ذیل آیتوں سے معلوم کر سکتے ہیں۔

یہ آیتیں (14:48، 21:104، 39:67) کہتی ہیں کہ یہ زمین کوئی اور زمین سے، یہ آسمان کوئی اور آسمان سے بدل دیا جائے گا۔

یعنی جو آیتیں کہتی ہیں کہ آسمان اور زمین فنا کر دیا جائے گا، وہ آج کے اس زمین و آسمان کی طرف ہی اشارہ کرتی ہے۔

آسمان اور زمین قائم رہیں گے ، کہنے والی آیتیں ایک نئے آسمان اور زمین جو پیدا کیا جائے گا اس کے بارے میں کہتی ہیں۔ چنانچہ اس میں کسی طرح کااختلاف نہیں ہے۔

اور زیادہ معلومات کے لئے حاشیہ نمبر 453دیکھئے!

224۔ فضیلت والے ابراھیم کے خاندان

اس آیت (11:73) کے ذریعے بتایا جاتا ہے کہ دوسرے نبیوں کو جو کیا گیا تھا اس سے کہیں زیادہ اللہ نے ابراھیم نبی کو رحمتیں عطا کی تھی۔

نبی کریم ؐ نے فرمایا تھا کہ ہر مسلم ہر ایک نماز میں میرے لئے اللہ سے رحمت چاہتے ہوئے دعا کیا کریں۔

اس کے لئے دعا بھی سکھایا۔ نماز کے قعدہ میں ہم جو دعا کر تے ہیں : ’’یا اللہ!ابراھیم نبی اور ان کے گھر والوں کو تو نے جس طرح فضل کیا تھااسی طرح محمد نبی اور ان کے گھر والوں پر بھی رحمت فرما۔‘‘یہ دعا ہمیں سمجھاتا ہے کہ ابراھیم نبی پر اللہ نے کتنی بڑی فضیلت عطا کی تھی۔

223۔ ذبح کر نے کے لئے کس کو لے جایا گیا؟

ابراھیم نبی نے اپنے ایک بیٹے کو اللہ کے لئے قربان کر نا چاہا۔ تو اس کو روک کر ایک مینڈھے کو ذبح کر نے کے لئے کہہ کر اس بیٹے کو اللہ نے بچادیا ۔ اس طرح مسلمان ہی نہیں عیسائی بھی مانتے ہیں۔

ذبح کر نے کے لئے جس بیٹے کو لے جا یا گیا، عیسائی کہتے ہیں کہ وہ اسحاق تھے۔ مسلمان کہتے ہیں کہ وہ اسماعیل ہی تھے۔ چند مسلمان بھی کہتے ہیں کہ وہ اسحاق ہی تھے۔ ان لوگوں کے لئے یہ آیت (11:71) انکار کر تا ہے۔

اسحاق کے پیدا ہو نے کی خوشخبری اللہ نے ابراھیم نبی سے کہا۔اس آیت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسی وقت یعقوب نامی پوتے کے بارے میں بھی کہاگیا ۔

پوتے کے بارے میں خوشخبری سنانے کی وجہ سے ابراھیم نبی سمجھ گئے کہ ان کے بیٹے اسحاق بچپن میں انتقال نہیں ہوں گے اور ان کی شادی ہوگی، پھر ان سے یعقوب پیدا ہوں گے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ بات انہیں پہلے ہی بتا دیاگیا۔

اس طرح اطلاع دینے کے بعد اسحاق کو ذبح کر نے کا حکم دے کر ابراھیم نبی کو آزما نہیں سکتے۔ اللہ ہی جب کہہ دیا کہ اسحاق ابھی مریں گے نہیں تو اس کے بعد ابراھیم نبی اپنے بیٹے کو ذبح کر نے آگے بڑھے تو اس میں کوئی بڑی قربانی نہیں ہے۔

یقینی طور پر یہ معلوم ہو جا نے کے بعدکہ اپنا بیٹااب نہیں مرے گاتو کوئی بھی وہ کام کرنے آگے بڑھ سکتا ہے۔ چنانچہ اسماعیل کو ذبح کر نے اللہ کا حکم ہونا ہی دونوں کو آزمانے کی طرح ہوسکتا ہے۔

بائبل کے رائے کے مطابق بھی اسماعیل ہی کو ذبح کے لئے لے جایا گیاتھا۔ اس کو دلیلوں کے ساتھ اگر دیکھنا ہو تو حاشیہ نمبر 455دیکھئے!

222۔ جودی پہاڑ پر کشتی ٹہر گئی

ان آیتوں (7:64، 10:73، 11:44، 23:30، 26:121، 29:15، 54:15، 69:12 ) میں قرآن کہتا ہے کہ نوح نبی کی کشتی کو نشان بنا کر ہم نے پہاڑ پر چھوڑ رکھا ہے۔

جب پہاڑ کی اونچائی تک سیلاب آئی اور پانی سوکھنے لگا تو کشتی جودی پہاڈ پر ٹہر گئی۔ یہ پہاڑترکی کی سرحد پرموجود ہے۔ تحقیقات کر نے والے انکشاف کئے ہیں کہ پوتان علاقے کی عررات پہاڑ ہی جودی پہاڑ ہے۔

امریکہ کی پہاڑی تفتیش کی ایک گرو ہ نے اس پہاڑ کو تحقیق کر تے وقت برفیلی چٹانوں کے نیچے کشتی کے ٹکڑوں کو دیکھا۔

1969سن عیسوی اگست کے دو تاریخ کو مشرقی ترکستان کی روسی سرحد میں موجود عررات پہاڑی سلسلہ میں ایک کشتی کے چند لکڑی کے حصوں کو تفتیش کر نے والوں نے دریافت کیا۔

اس پہاڑ ی سلسلہ کی مغربی حصہ میں چودہ ہزار قد اونچائی میں برف سے ڈھکے ہوئے چٹانوں کے درمیان بیس میٹر گہرائی میں اس کشتی کے لکڑی کے ٹکڑے مدفون تھے۔

چودہ ہزار قد اونچے پہاڑ پر ایک کشتی ٹہرتی ہے تو اس انداز کا سیلاب آنا چاہئے تھا۔ اس وجہ سے جب کشتی پہاڑ پر تیرتے ہوئے رہتے وقت سیلاب دب گیا ہوگا۔ اس کو تفتیش کر نے والے گروہ کا قیاس ہے کہ اس وجہ سے وہ کشتی پہاڑ پر ٹہر گئی ہوگی۔ اس کو قرآن مجید نے چودہ سو سال کے پہلی ہی کہہ چکا ہے۔

پہاڑ پر کشتی کو کس نے جا رکھا تھا؟ اس سوال کا جواب صرف قرآن ٹھیک سے دیتاہے۔

’’اس کشتی کو نشان بنا کر ہم رکھے ہوئے ہیں، کوئی ہے سوچنے والا؟‘‘ یہ کہہ کر قریب ہی میں چالیس سال پہلے تفتیش کی ہوئی اس حقیقت کو چودہ سو سال پہلے ہی قرآن نے پیشنگوئی کردی ہے۔

221۔ پانی جب ابل پڑا

ان آیتوں (11:40، 23:27) میں جہاں ہم نے پانی کا ترجمہ کیا ہے وہاں تنور کا لفظ جگہ پایا ہے۔

یہ لفظ عربی نہیں ، عجمی زبان ہے۔ اکثر علماء نے اس کو چولھا کا معنی دی ہے۔ فارسی اور اردو زبان میں اس لفظ کو چولھا کہا جاتا ہے۔

بعض اصحاب رسول نے کہا ہے کہ اس کا مطلب پانی ہی ہے۔ وہی یہاں مناسب بھی ہے۔یہی موزوں دکھائی دیتی ہے کہ پانی ابلنا ظاہر میں دکھنے والی برباد کر نے کی نشانی ہے۔ اسی لئے ہم نے تنور کے لفظ کو پانی سے ترجمہ کیا ہے۔

220۔ کتاب کو نہ بھولے ہوئے نبی کریمؐ

اس آیت میں (87:6)کہا گیا ہے کہ نبی کریم ؐکتاب کو نہیں بھولیں گے۔

عام طور سے لوگ کئی باتوں کو بھول جانے والے ہیں۔ اس طرح کی بھول سے انبیاء بھی استثناء نہیں ہیں۔

پھر بھی اللہ کی طرف سے آنے والی وحی کو اگر انبیاء بھول گئے تو لوگوں کو ملنے والی ایک چیز سے وہ محروم ہوجائیں گے۔اسی لئے یہ کہا گیا ہے کہ’’ ہم پڑھائیں گے، تم نہیں بھولوگے!‘‘ یعنی یہ کہا گیا ہے کہ کتاب کے حد تک نبی کریم ؐ کو بھول نہیں ہوگی۔‘‘

نبی کریم ؐ اپنے پرنازل ہو نے والی قرآنی آیتوں میں سے کسی چیز کو بھول کی وجہ سے ہمیں سنانے سے کچھ چھوڑ دئے ہوں، یہ اس بات کی دلیل ہے ایسا نہ سمجھ بیٹھیں ۔

اس جگہ میں ہم ایک اور شک بھی دور کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔

حدیث میں جو درج کیا گیا ہے کہ نبی کریم ؐ پر جادو کیا گیا تھا، اس کو ہم من گھڑت کہانی کہتے ہیں۔ اس کے لئے کئی دلائل ان حاشیہ نمبر 285، 357، 468، 495، 499، وغیرہ میں ہم نے تشریح کی ہے۔

اگر کوئی یقین کرے کہ نبی کریم ؐ پر جادو کر کے اس کی وجہ سے وہ دل کے مرض میں مبتلا ہو گئے تو وہ قرآن میں شک پیدا کردے گا۔ یعنی دل کے مرض کی وجہ سے یہ شک پیدا ہو سکتا ہے کہ وہ ایسی باتیں کہہ دی ہوں جو قرآن نہیں ہے۔

بعض لوگ جادو کو قائم کر نے کے لئے یہ دلیل پیش کر کے سوال کرتے ہیں کہ نبی کریم ؐ کو عام طور سے اگر بھول بھی ہوتو قرآن کے لحاظ سے انہیں بھول نہ ہونے کی طرح اور اگر انہیں دل کا مرض ہو نے کے باوجودغیرقرانی باتوں کو قرآن کیساتھ ملانے سے کیا اللہ انہیں بچانہیں سکتا؟

بھول الگ ہے اور دل کا مرض الگ ہے ، اس کو ہم حاشیہ نمبر 357 میں تشریح کئے ہیں۔

219۔ یونس نبی کی قوم کی فضیلت

رسولوں کو جب بھیجا جا تا ہے تو انہیں نہ ماننے والی قوم کومناسب مہلت دینے کے بعد مٹا دئے جاتے ہیں۔

سزا کی نشانی دیکھنے کے بعدآخر وقت تک بھی کوئی بھی قوم سدھر کر سیدھی راہ کی طرف نہیں آئے۔ اس سے بالکل الگ یونس نبی کی قوم نے اللہ کے عذاب کی نشانیوں کودیکھنے کے بعد اپنی غلطیوں کو سدھارتے ہوئے بخشش چاہنے سے سزا سے وہ بچ گئے۔

آیت نمبر 10:98 میں اللہ پوچھتا ہے کہ اس طرح سزا کی نشان آنے کے بعد دوسری قوم بھی بخشش چاہتے ہوئے کیا بچنا نہیں چاہئے تھا؟

218۔ کیا نبی کریم ؐ ہی کو شک ہے؟

اس آیت (10:94) میں کہا گیا ہے :ہم نے تمہیں جو نازل کی ہے اس میں تمہیں شک ہو توان سے پوچھو جو تم سے پہلے کتاب پڑھنے والے تھے۔ تمہارے پروردگار ہی کی طرف سے یہ حق تم تک پہنچی ہے۔ تم شک کر نے والوں میں سے نہ ہوجاؤ۔

اس کو اس طرح نہ سمجھ لینا کہ نبی کریمؐ کو شک ہوگا اور اس کو اہل کتاب والی قوم تصفیہ کر ے گی۔

اگر اس کوسطحی طور پر دیکھا گیا تو ایسا معلوم ہوگا کہ قرآن میں اگر کوئی شک پید اہو تو اہل کتاب والی قوم سے نبی کریم ؐ اس کی وضاحت حاصل کریں۔

لیکن اس مطلب سے یہ آیت نازل نہیں ہوئی۔ کسی بھی آیت کے متعلق نبی کریم ؐ کو شک پیدا نہیں ہوئی، اور اس کے متعلق وہ کسی سے سوال بھی نہیں کئے۔

تو اس آیت کا مطلب ہی کیا ہے؟ وہ بھی اسی آیت میں کہا گیا ہے۔

نبی کریم ؐ کو ابتداء میں ایک ہی شک تھا۔وہ رسول مقرر کئے جانے کے بعدجو وحی آتی تھی کیا وہ سچ مچ اللہ کی طرف سے آتی ہے یا ہم کو کچھ ہوگیا ہے؟ یہی وہ شک تھا۔ (دیکھئے بخاری کی چوتھی حدیث)

ان کو ابتداء میں جو شک تھا وہ یہی تھا کہ کیا انسانوں کو اللہ کی طرف سے کتاب حاصل ہو سکتی ہے؟ پہلے جنہیں کتاب دی گئی تھی انہیں پوچھیں تو وہ لوگ ثابت کریں گے کہ اس طرح اللہ کی طرف سے کتاب آسکتی ہے۔اسی کو یہ آیت کہتی ہے۔

اس آیت میں جو جملہ پایا گیا ہے کہ’’ تمہارے رب کی طرف سے ہی یہ حقیقت تمہارے پاس آئی ہے، تم شک کرنے والوں میں سے نہ ہوجاؤ‘‘ اس سے ہم جان سکتے ہیں۔

اس بناء پر ہی ورقہ نامی کتابی پنڈت کے پاس جا کر نبی کریم ؐ نے تفصیل پوچھا۔ ورقہ نے یہ کہہ کر ان کے شک کو دور کردیا کہ موسیٰ کے پاس جو فرشتہ آتا تھا وہی فرشتہ تمہارے پاس بھی آیا ہے۔ (دیکھئے بخاری کی چوتھی حدیث)

اس آیت کو پہلے کی آیت کے ساتھ ملا کر دیکھنے سے یہ آیت ایک اور معنی بھی دکھلا تی ہے۔

اس سے پہلے کی آیت میں یہودیوا ں کو اللہ نے جو فضیلتیں دی تھیں اسے کہا گیا ہے۔ ان کی زندگی گزارنے کی خطۂ زمین بہت ہی بہتر زمین تھی، اور انہیں پاکیزہ غذا کشادگی سے عطا کی گئی تھی۔ وہ سب کہنے کے بعد ہی ا للہ نے اس کی دوسری ہی آیت میں کہتا ہے کہ اگر تمہیں شک ہو تو ان سے پوچھ کر دیکھو جنہیں کتاب عطا کی گئی تھی۔

اس کے متعلق پوچھا گیا تو وہ حق ہی کہیں گے۔ ان کی شان سے متعلق رہنے سے دوسری چیزوں کو چھپانے کی طرح اس کو وہ چھپا نہیں سکتے۔ اسی لئے اللہ نے اس آیت (10:94) میں فرماتا ہے کہ ان سے دریافت کرکے دیکھو۔

اس کو ایسا نہ سمجھ لینا چاہئے کہ قرآن میں جو کہا گیا ہے اس کی تفصیل پنڈتوں سے پوچھو۔

More Articles …