Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

233۔ کیا عہدے کو مانگ کر حاصل کر سکتے ہیں؟

اس آیت 12:55 میں کہا گیا ہے کہ یوسف نبی نے پوچھا : اس زمین کے خزانے پر مجھے حاکم مقرر کر دو۔

نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ ’’عہدہ مت مانگو۔ اگر تم اس کو مانگ کر وہ تمہیں مل گیاتو اس کو تمہارے ہی ذمہ چھوڑدیا جائے گا۔ اگر تم کو وہ بن مانگے مل جائے تو تم اللہ کی طرف سے مدد کئے جاؤگے۔‘‘

(بخاری: 6622)

یہ نہ سمجھ لینا کہ یہ حدیث اس آیت کے خلاف ہے۔

آیت نمبر 12:7 کہتی ہے کہ یوسف نبی کی تاریخ کے بارے میں کہتے وقت اس میں سوال کر نے والوں کے لئے مناسب نشانیاں ہیں۔

مجھے خزانے کاحاکم مقرر کردو،یوسف نبی نے پوچھا۔ اس واقعے میں بھی ہمیں ایک نمونہ ہے۔

مندرجہ بالا حدیث کی یہی رائے ہوسکتی ہے کہ عہدے کی خواہش میں اور ناقابلیت کی حالت میں عہدہ نہ مانگا جائے۔

اگر کوئی یہ سمجھے کہ ایک عہدہ ہے اس کو ہم دوسروں سے زیادہ بہتر انداز سے کر سکتے ہیں ، اس کے لئے ہمارے پاس قابلیت ہے ، یا ناقامل آدمی کے پاس ایک کام سپرد کر کے اس کو وہ تباہ ہو تے ہوئے دیکھیں تو اس عہدے کو مانگ کر لینا غلط نہیں ہے۔ اس کے لئے یہ آیت دلیل ہے۔

اور پھر وہ حکومت یوسف نبی پر الزام لگا کر قید خانہ کو بھجوانے کے باوجود اس جسیے حکومت میں اپنے حق کویوسف نبی نے پوچھا ہے اور عہدہ بھی مانگا ہے۔

اسلامی حکومت نہ چلنے والے حصوں میں اس جیسے عہدے اور حقوق کو غیر مسلم حکمرانوں کے پاس مانگ کر لے سکتے ہیں، اس کے لئے یہ سند ہے۔

232۔ کس نے کہا کہ میں نے خیانت نہیں کی؟

اس آیت 12:52 میں یہ جملہ پایا گیا ہے کہ جب وہ درپردہ تھے توبھی یہ جاننے کے لئے کہ ان کو میں نے خیانت نہیں کی۔

میں نے خیانت نہیں کی ایسا کہنے والے کون تھے؟اس معاملے میں دو الگ رائے پائی جاتی ہیں۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ عزیز کی بیوی کا قول ہے۔ لیکن اس آیت میں پائے جانے والے الفاظ صریح طور پر کہتی ہیں کہ وہ ان کی قول نہیں ہوسکتی۔

جب وہ درپردہ تھے تووہ یہ جاننے کے لئے کہ ان کو میں نے خیانت نہیں کی، یہ جملہ عزیز کی بیوی ہرگز کہہ نہیں سکتی تھی۔

کیونکہ عزیز کی بیوی اپنے شوہر کو خیانت کی تھی۔ اپنی اس غلطی کو اس نے مان بھی لیا تھا۔’’میں نے ہی غلطی کی، وہ سچے ہیں‘‘ یہ کہنے کے بعد اگر کہنے لگے کہ میں نے کوئی خیانت نہیں کی تو ان کا کہا بے ربط ہو جائے گا۔

اس لئے ’’درپردہ میں نے خیانت نہیں کی‘‘ کہنے کے لائق صرف یوسف ہی تھے۔

باون کی آیت اگر یوسف کا قول تھا توترپن کی آیت میں جو کہا گیا کہ میں نہیں کہتا میرا دل پاک ہے ، یہ بھی یوسف ہی کا قول ہوسکتا ہے۔ اس کو عزیز کی بیوی کا قول کہنا غلط ہے۔ اس کو باون کی آیت پر غور کریں تو سمجھ سکتے ہیں۔

231۔ منی کہاں سے خارج ہوتی ہے؟

یہ آیت 86:7 منی کے خارج کے بارے میں جب کہتی ہے تو بیان کرتی ہے کہ ریڑھ کی ہڈی اور سینے کے درمیان سے خارج ہوتی ہے۔

قریبی زمانے کے پہلے تک یہی بھروسہ کیا جاتا تھا کہ آدمی کے خصیہ کی تھیلی ہی سے خارج ہو تی ہے۔ لیکن قریب کے زمانے ہی میں انکشاف کیا گیا ہے کہ خصیہ کی تھیلی سے منی پیدا ہو نے کے باوجود وہ اوپر کی طرف چڑھ کر ریڑھ کی ہڈی اور سینے کے درمیان ایک خاص مقام تک پہنچ کر وہیں سے وہ تیزی سے نکلتی ہے۔

اس کو چودہ سو سال کے پہلے ہی اس جملے کے ذریعے ذکر کیا گیا ہے، اس سے ثابت ہو تا ہے کہ یہ محمد نبی کے الفاظ نہیں، بلکہ یہ اللہ ہی کا کلام ہے۔

230۔ شیطان کس کو بھلانے رکھا؟

اس آیت (12:42) کو دوسرے مترجم کی ترجمہ سے بدل کرہم نے ترجمہ کی ہے۔

ہمارا ترجمہ یہ ہے:

ان دونوں میں جو آزاد ہو نے کا خیال جس نے کیا اس کے پاس یوسف نے کہا : ’’میرے بارے میں تمہارے مالک سے کہو!‘‘وہ اپنے مالک سے کہنے کو شیطان نے بھلا دیا۔ اس لئے یوسف قید خانہ میں کئی سالوں تک ٹہرے رہے۔

ساتھی قیدی جو تھا اس کو شیطان نے بھلا دیا ، اس معانی سے ہم نے اس آیت کا ترجمہ کیا ہے۔

بعض لوگوں نے کہا ہے کہ شیطان نے اللہ کی یاد کو انہیں یعنی یوسف کو بھلا دیا۔

یوسف نبی جو قید خانہ میں تھے، اللہ سے مدد چاہنے کے بجائے ساتھی قیدی سے مدد چاہی کہ’’ تم اپنے مالک سے میرے بارے میں کہو۔‘‘ان لوگوں کا کہنا ہے کہ اس طرح مدد چاہنا اللہ کو بھولے ہوئے لوگوں کا کام ہے، اس لئے اس کو مندرجہ بالا معنی ہی دینا چاہئے۔

کیونکہ اس دنیا میں انسانوں سے مدد چاہنے والے معاملے میں انسانوں سے مدد چاہنا اللہ سے غفلت برتنا نہیں ہوگا۔’’میرے بارے میں تمہارے مالک سے کہو ‘‘ وغیرہ جملے ایمان کو کسی حالت سے متاثر نہیں کر ے گا۔

اس آیت 5:2 میں کہا گیا ہے کہ نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔

اگر یوسف نبی کا ویسا کہنا غلط تھا تواس طرح کہنا چاہئے تھا کہ ہم بھی اس دنیا میں کسی سے مدد نہ مانگیں ۔ اس لئے یہ معانی لاعلمی کا نتیجہ ہے۔

اس آیت میں ’’ذکر ربہ ‘‘ کا لفظ جگہ پایا ہے۔ رب کا لفظ اللہ کو بھی کہا جا تا ہے۔اور سرداروں اور مالکوں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔

اسی طرح ایک اور لفظ ذکر بھی ہے۔ اس کا معانی یاد کرنا اور منہ سے کہنا بھی ہے۔

’’ذکر ربہ ‘‘ کا معانی اللہ کو یاد کرنا بھی ہے اور اپنے مالک سے کہنا بھی ہے۔ دو طرح سے معانی لینے کے لئے عربی قواعد میں اجازت ہے۔

چنانچہ اس آیت کو عربی قواعد کے مطابق اسطرح بھی معانی لے سکتے ہیں کہ اپنے پروردگار کی یاد کوانہیں شیطان نے بھلا دیا۔

یا عربی قواعد کے مطابق اس کو اس طرح بھی معانی دے سکتے ہیں کہ اپنے مالک سے کہنے کو شیطان نے اس(ساتھی قیدی) کو بھلا دیا۔

دو طریقوں سے معانی لینے کے لئے موقع رہنے کے باوجود پہلے طریقے سے معانی لیا جائے تو قرآن کی آیت’’ ایک دوسرے کی مدد کرو‘‘ کا انکار ہوجا ئے گا۔ اس لئے دوسرے قسم کے معانی ہی کو ہم لینا چاہئے۔

229۔ یوسف نبی نے جودل میں چاہا کیا وہ جرم ہے؟

اس آیت (12:24) میں کہا گیا ہے کہ عورت نے بھی اس کو چاہا اور اس نے بھی اس کو چاہا۔

اس آیت میں کہا گیا ہے کہ یوسف نبی کی مالکن غلط مقصد سے یوسف نبی کی قریب آئی توپہلے یوسف نبی نے بالکل پابند رہے، پھر ایک موقع پر انہوں نے بھی ڈگمگا گئے۔ پھر بھی اللہ کی مہربانی سے وہ اپنے آپ کو سنبھال لیا۔

لیکن بعض عالموں نے ا س کے برعکس کہا ہے۔

’’اس عورت نے ان پر مائل ہوئی ، اگراللہ کا برہان وہ نہیں دیکھے ہوتے تو وہ بھی اس پرمائل ہوگئے ہوتے‘‘اس طرح مطلب اخذ کرکے وہ کہتے ہیں کہ یوسف نبی نے اس عورت پر مائل نہیں ہوئے۔

یوسف نبی اللہ کے رسول تھے۔ وہ کیسے ایک عورت پر مائل ہوسکتے تھے، اسی ارادے سے وہ لوگ اس طرح مطلب نکالا ہے۔

لیکن ابن کثیرجیسے عالم کہتے ہیں کہ اس آیت کو اس طرح مطلب نکالنا عربی دستور کے مطابق اور ادب کے خلاف ہے۔

عربی ادب کے لحاظ سے ’’عورت نے اس پر مائل ہوئی، وہ بھی اس پرمائل ہوئے۔ اگر اللہ کی برہان وہ دیکھ نہ لیتا تو ڈگمگا گیا ہوتا۔‘‘ اس طرح معنی لیناہی ٹھیک ہوگا۔ قرآن مجید صریح عربی زبان میں نازل ہو نے کی وجہ سے دوسری وجوہات بتا کر اس زبان کے اصول کے خلاف معنی نہیں دے سکتے۔

مزید یہ کہ دل میں جذبہ پیدا ہوجانا اسلام میں کوئی جرم نہیں ہے۔وہ انسان کے قابو کے باہر ہو نے والی چیز ہے۔ اس جذبہ پر عمل پیرا ہونا ہی جرم ہے۔

تنہائی میں ایک شخص کوکوئی خوبصورت لڑکی اپنی طرف مائل کر تی ہے تو وہ کوئی بھی ہو اس کے دل میں ہلچل پیدا ہوگی ہی۔ اس طرح یوسف نبی کو بھی پیدا ہوی۔لیکن انہوں نے اپنے کو سنبھالتے ہوئے اس سے فوراً ہٹ گئے۔ یہ رسول کی حیثیت کو کسی طرح کی نقص پیدا نہیں کر سکتی۔

مزید یہ کہ اسی سورۃ کی 53 ویں آیت میں کہا گیا ہے کہ یوسف نبی نے کہا: میں یہ نہیں کہتا کہ میرا دل پاک ہے۔دل کی اس طرح کے جذبات سے کوئی بھی مرد بچ نہیں سکتا۔

ایک حدیث کہتی ہے کہ کوئی بھی مرد ایک عورت کے ساتھ تنہائی میں رہے تو اس کے ساتھ تیسراشیطان ہو تا ہے۔

(ترمذی : 1091)

اس لئے یوسف نبی کے دل میں جو جذبہ پیدا ہو نے کے بارے میں صریح طور پر قرآن جب کہتا ہے تو دوسری کوئی وضاحت دینے کے لئے کوئی گنجائش نہیں ہے۔

mn228۔ یوسف نبی کے بھائی

یعقوب نبی کے سب بیٹے یوسف نبی کے بھائی رہنے کے باوجود ان آیتوں میں 12:7,8,59, 76, 77صرف ایک کو یوسف کے بھائی کہا گیا ہے۔

یوسف نبی نے صرف ایک کو الگ کر کے کہا کہ یہ میرے بھائی ہیں۔ اسی طرح دوسرے بھائیوں نے بھی ’’یوسف اور ان کے بھائی ہم سے زیادہ ہمارے والد کو پسندیدہ ہیں‘‘ کہہ کر ان دونوں کو الگ ہی سمجھتے ہیں۔

اس طرح الگ کر نے کی وجہ وہ دونوں شاید دو بیویوں کے اولاد ہوسکتے ہیں۔ یعنی یوسف اور ان کے ایک بھائی یعقوب نبی کے دوسری بیوی کے اولاد ہوں گے اور دیگر بھائیاں پہلی بیوی کے اولاد ہوں گے۔

227۔ قرآن مجید عربی زبان میں کیوں ہے؟

یہ آیتیں 12:2،7 13:3، 16:103، 20:113، 26:195، 39:28، 41:3، 41:44، 42:7، 43:3، 46:12 وغیرہ کہتی ہیں کہ قرآن عربی زبان میں اتارا گیا۔ اس لئے یہ نہ سمجھ لینا کہ عربی زبان ہی اعلیٰ ترین زبان ہے۔

اسلام کی نظر میں کوئی زبان دوسری ایک زبان سے بہتر نہیں ہے۔ ہر زبان برابری کا درجہ رکھتا ہے۔ اسلام میں کسی مخصوص زبان کو زیادہ قدر نہیں ہے۔

نبی کریم ؐ نے فرمایا:

عربی زبان کے سوائے دوسری زبان بولنے والے سے زیادہ عربی بولنے والے کی کوئی بڑائی نہیں ہے۔ عربی زبان بولنے والے سے زیادہ بغیر عربی کے دوسری زبان بولنے والے کی کوئی بڑائی نہیں ہے۔ (احمد: 22391)

اللہ فرماتا ہے کہ ہر قوم کے لئے رسولوں کو بھیجا گیا ہے۔

ہم نے تمہیں خوشخبری دینے والااور تنبیہ کر نے والا بنا کر سچائی کے ساتھ بھیجا ہے۔ کوئی بھی قوم ہو ان میں تنبیہ کر نے والے آئے بغیر نہیں رہے۔ (قرآن : 35:24)

جو بھی رسول بھیجا اس کی قوم کو کھل کر بیان کر نے کے لئے اس کی قوم کی زبان ہی میں بھیجا۔اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے، اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ وہ زبردست ہے، حکمت والا ہے۔ (قرآن : 14:4)

مندرجہ بالا آیتیں کہتی ہیں کہ ہر زبان کے بولنے والوں کی طرف اللہ کے رسول بھیجے گئے ہیں۔ ان ان کے زبانوں میں ان لوگوں کو کتب الٰہی عطا کی گئیں تھی۔

قرآن مجید کو اللہ کی طرف سے حاصل کر کے لوگوں تک پہنچانے کے لئے اللہ نے نبی کریم ؐ کو اپنا رسول مقرر کیا۔ محمد ؐ صرف عربی زبان جانتے تھے۔ اسی لئے عربی زبان میں قرآن نازل کیا گیا۔

قرآن کو عربی زبان میں اس لئے نہیں اتارا گیا کہ وہ دنیا کی زبانوں میں اللہ کا پسندیدہ زبان ہے۔ بلکہ اس قرآن کو لوگوں تک پہنچانے کے لئے کوئی ایک زبان کی ضرورت ہے، اسی بنیاد پر عربی زبان میں قرآن اتارا گیا۔

کسی بھی زبان میں قرآن اتارا گیا ہو ، دوسری زبان کے بولنے والے یہی سوال کریں گے کہ اس کو ہماری زبان میں کیوں نہیں اتارا گیا؟ اردو زبان میں اگر قرآن اتارا گیا ہو تا توانگریز پوچھیں گے کہ اس قرآن کو کیوں انگریزی میں نہیں اتارا گیا؟

ان آیتوں میں کہا گیا ہے کہ عربی زبان میں اتارا گیا ہے، اس کے لئے ایک اور وجہ بھی ہے۔

نبی کریم ؐ نے جس کتاب الٰہی کو قرآن کہہ کرتعارف کیا وہ بہت ہی اعلیٰ درجہ کا تھا۔ اور نبی کریم ؐ تو لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے۔ اس لئے وہ لوگ قیاس بھی نہیں کر سکتے تھے کہ نبی کریم ؐ نے اس کو خود اپنے خیالات سے کہا ہوگا۔

اس لئے انہوں نے کہا کہ نبی کریم ؐ سے ہر وقت ملنے والا کوئی شخص ہی نے انہیں سکھا رہا ہے۔لیکن جس شخص کے بارے میں گمان تھا کہ وہ نبی کریم ؐ کو سکھاتے ہیں، ان کی مادری زبان عربی نہیں تھی۔ مگر قرآن تو بالکل صریح عربی زبان میں تھا۔آیت نمبر 16:103کہتی ہے کہ اس کو سمجھانے کے لئے ہی عربی زبان میں نازل کیا گیاہے۔

قرآن کہتا ہے کہ صریح عربی زبان میں نازل کیا گیا ہے، اس کے برخلاف قرآن میں دیگر زبان کے الفاظ بھی شامل ہیں۔ سوال کیاجاتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے؟ اس کے بارے میں حاشیہ نمبر 489 دیکھیں!

پیدائشی طور پر سب لوگ برابر ہیں۔ نیک کردار ہی سے ایک سے ایک بلند ہو سکتا ہے۔بولنے والی زبان سے کوئی اعلیٰ نہیں ہوسکتا۔ اسلام کی مساوات اور بھائی بندی وغیرہ جاننے کے لئے ہے۔ حاشیہ نمبر 11، 32، 49، 59، 141، 168،182، 290، 368، 508 دیکھئے!

226۔ کیا پانچ وقت نماز کے لئے قرآن میں دلیل ہے؟

ہر مسلمان جانتا ہے کہ اسلام میں پانچ وقت کی نماز فرض ہے۔

قرآن میں براہ راست نہیں کہا گیا ہے کہ پانچ وقت کی نماز یں ہیں۔نبی کریم ؐ کی حدیث ہی میں کہا گیا ہے کہ پانچ وقت کی نمازیں ہیں۔

قرآن مجید میں پانچ وقت کی نمازوں کے بارے میں براہ راست نہ کہنے کے باوجود ایک چھپی انداز میں کہا گیا ہے۔ ایسی آیتوں میں 11:114بھی ایک ہے۔

اس آیت میں کہا گیا ہے کہ دن کے دونوں حصوں میں اور رات کے کچھ حصوں میں نماز قائم کرو۔رات کے کچھ حصے، جمع کے صیغے میں کہا گیا ہے۔

عربی زبان میں جمع کم از کم تین ہو تا ہے۔ دوکے لئے اثنین کا لفظ الگ ہے۔ اس لئے رات ہی میں کم از کم تین نمازیں ہوتو ہی ’’رات کے حصوں میں ‘‘کہا جاسکتا ہے۔

مغرب، عشاء اور فجر نمازوں کی طرف یہ اشارہ کر تا ہے۔ دن کے دونوں حصوں سے دو نمازیں مطلب ہے۔ ظہر اور عصر دونوں نمازوں ہی کو اس طرح کہا گیا ہے۔

قرآن مجیدپوشیدہ طور پر پانچ وقت کی نمازوں کے بارے میں جو کہا ہے ، اسی کو نبی کریم ؐ نے وضاحت کی ہے۔ ہر دن تین وقت کی نماز ہی ہے، کہنے والے قرآن اور حدیث کے خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

(پانچ وقت کی نمازوں کے لئے اور دلیل چاہنے والے حاشیہ نمبر 71دیکھیں!)

More Articles …