Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

241۔ بھاگتے ہی رہنے والا سورج

ان آیتوں میں 13:2، 31:29، 35:13، 36:38، 39:5کہا گیا ہے کہ سورج ایک مقررہ وقت تک دوڑتے ہی رہے گا، دیگر تمام سیارے بھی اسی طرح دوڑتے ہی رہتے ہیں۔ ان آیتوں 21:33، 36:40میں بھی وہی کہا گیا ہے۔

ایک زمانے میں لوگوں کا یقین تھا کہ زمین چپٹی ہے۔

پھر کہا کہ زمین گول ہے۔ گول رہنے والی زمین ہی مرکز سمجھ کر کہنے لگے کہ سورج زمین کا چکر لگا رہا ہے۔

پھر کہنے لگے کہ زمین ہی سورج کی چکر لگارہی ہے اور سورج تو ساکن ہے۔

آج آدمی نے سمجھ گیا کہ زمین اپنے آپ کوگردش کرتی ہے اور سورج پر بھی گردش کرتی ہے۔زمین اپنے آپ کوگردش کرنے کے لئے ایک دن اور سورج کوگردش کرکے ختم کر نے کے لئے ایک سال لگتا ہے۔

زمین اس طرح سورج کے گرد گھومتے وقت سورج کیا کر تا ہے۔ سائنسدانوں نے تفتیش کی ہے کہ سورج اپنے آپ کو گردش کرتے ہوئے اس زمین کواور دیگر سیاروں کو ساتھ لے کر ایک گھنٹہ میں نو لاکھ کلو میٹر کی رفتار سے دوڑتا ہی رہتا ہے۔

صرف یہی نہیں کہ سورج گردش کر تے ہی رہتا ہے بلکہ وہ دوڑتا بھی رہتا ہے۔ وہ بھی ایک مقررہ وقت تک دوڑتے ہی رہیگا۔ اگر کہا جائے تو یہ بے شک اللہ ہی کاقول ہوسکتا ہے۔

اس حقیقت کو چودہ سو سال پہلے ہی لکھنا پڑھنا نہ جاننے والے محمد نبی کا قول نہیں ہوسکتا۔

یہاں جس انداز میں جملوں کا استعمال ہوا ہے اگر اس کو کوئی نیک نگاہی سے دیکھتا تو وہ واضح طور پر جان لے گا کہ یہ کسی انسان کی بولی نہیں ہوسکتی ، بے شک یہ اللہ ہی کا کلام ہوسکتاہے۔ قرآن مجیداللہ ہی کا کلام ہے ، اس کے لئے یہ ایک اور سند ہے۔

240۔ آسمان کی بھی ستونیں ہیں

ان آیتوں میں 13:2، 31:10، 22:65کہا گیا ہے کہ جو تم دیکھ رہے ہو بغیر ستون کے ان آسمانوں اور زمین کو اللہ نے پیدا کیا۔

یہ آیتیں اس معانی سے ترکیب پائی ہیں کہ آسمانوں اور زمین کو ستونیں ہیں، لیکن تم اس کو دیکھ نہیں سکتے۔

کیا ایسے ستون ہیں جو دیکھ نہیں سکتے؟ ہاں ضرور ہیں۔ دنیا میں موجود زمین کے ساتھ ہر سیارہ ان ان کے مقام پر تیرتے رہنے کو اس کو ایک مخصوص تیزی کے ساتھ کھینچ کر پکڑنے کے لئے ایک کشش کی طاقت ہر حصہ میں پھیلی ہوئی ہے، یہی اس کی وجہ ہے۔

مثال کے طور پر ہم جو جی رہے ہیں یہ زمین ایک گھنٹہ میں 1670 کلو میٹر کی تیزی سے گھوم رہی ہے۔ اسی وقت سورج کو وہ ایک گھنٹہ میں 1,07,000 کلو میٹرکی تیزی سے گھوم رہی ہے۔

اتنی تیزی سے اپنے آپ کوگھومتے ہوئے سورج کو بھی گھومتے وقت اس کو کشش کے ساتھ کھینچ کر پکڑنے والی ایک طاقت نہ ہو تو اپنی لمبی گولائی کے راستے سے یہ زمین دور پھینک دی جائے گی۔

زمین کا وزن 6,000,000,000,000,000,000,000,000کلو گرام ہے۔

اس تیزی کے ساتھ گھومنے والی اتنی وز ن دار ایک چیز کو اس کے راستے سے ہٹے بغیر روکے رکھنے کے لئے پانچ میٹر قطر والی ایک لاکھ کروڑ پگھلے ہوئے تارکے ستون کے ذریعے ہی زمین سے سورج تک جوڑنا پڑے گا۔یہ سائنسدانوں کا اندازہ ہے۔

ان ستونوں کے بغیرہی زمین اپنے راستے سے ہٹے بغیر رہنے کے لئے کشش کی طاقت نامی آنکھوں کو دکھائی نہ دینے والے ستون ہی سبب ہیں۔

اس سائنسی حقیقت ہی کو اللہ فرماتا ہے کہ تمہیں دکھائی دینے والے ستون کے بغیر۔

اس کشش کی طاقت کی وجہ ہی سے ہر سیارہ فضاء میں کسی قسم کی گرفت کے بغیر لٹکتے ہو ئے منظر کو ہم دیکھ رہے ہیں۔

اس لئے 17 ویں صدی میں انسان کی تحقیقی کشش کی طاقت والی تفتیش کو چودہ سو سال پہلے ہی قرآن نے کہا ہے۔

آسمانوں اور زمین کو کوئی بھی ستون نہیں ، واضح طور پر کہنے کے بعد ’’دیکھنے والی ستون کے بغیر‘‘ کا جملہ بنا ضرورت کے استعمال نہیں کیا ہوگا۔

ان آسمانوں اور زمین کے پیدا کر نے والے کی یہ بات رہنے ہی سے ’’دیکھنے والی ستون کے بغیر‘‘ کے لفظ کو استعمال کر کے نہ دیکھنے والی ستون بھی ہیں کی حقیقت کو پوشیدگی سے کہا گیا ہے۔

قرآن مجید نبی کریم ؐ کی قیاس نہیں ہے بلکہ اللہ ہی کا کلام ہے ۔ اس کے لئے یہ ایک اور دلیل ہے۔

239۔ عورتوں میں انبیاء کیوں نہیں ہوئے؟

یہ آیتیں 12:109، 16:43، 21:7کہتی ہیں کہ انسانوں کو نیک راہ دکھانے کے لئے بھیجے گئے رسول تمام مرد ہی تھے۔

عورتوں میں کسی کو اللہ کا رسول نہیں بھیجا گیا، اس سے یہ نہ سمجھ لینا کہ اس کی وجہ عورتوں کو ذلیل کرنا ہے۔

روحانیت میں اعلیٰ مقام حاصل کر نے کے لئے مردوں اور عورتوں کے درمیان مختلف مذہبوں میں فرق بتایا جاتا ہے۔ اسلام کے لحاظ سے اس طرح کا کوئی فرق نہیں ہے ، اس کو قرآن نے کئی جگہوں میں اشارہ کیا ہے۔

نیک عمل کے ذریعے اعلیٰ مقام حاصل کر نے میں، اس کے لئے اللہ سے انعامات حاصل کر نے میں مرودں اور عورتوں کے درمیان اللہ کوئی فرق نہیں دیکھتا۔ اس بات کو قرآن کی یہ آیتیں 3:195، 4:124، 16:97، 33:35، 40:40 واضح کرتی ہیں۔

کم نیک عمل کر نے والے مردوں سے نیک عمل زیادہ کر نے والی عورتیں ہی اللہ کے پاس بلند مرتبہ والی ہیں۔ وہ مرد ہے یا عورت اس کو دیکھ کر آخرت میں انعامات عطا نہیں کی جاتی بلکہ عقیدہ اور نیک چلن ہی دیکھا جاتا ہے۔

اس لئے اس سے ہم معلوم کر سکتے ہیں کہ روحانی کیفیت میں عورتیں ناقابل رہنے کی وجہ سے عورتوں میں رسولوں کو بھیجنا روکا نہیں گیاہے۔

اللہ سے وحی حاصل کر نے کے لئے اور وحی لانے والے جبرئیل سے ملنے کے لئے عورتیں ناقابل ہیں، کیا اس لئے اللہ نے عورتوں میں رسولوں کو نہیں بھیجا، ایسا بھی نہیں ہے۔

موسیٰ نبی کی والدہ کو ایک خبر اپنی طرف سے اللہ نے وحی کی ہے، اس کو آیت نمبر 20:38 اور 28:7 میں دیکھ سکتے ہیں۔

آیت نمبر 3:47 اور 19:17 میں دیکھ سکتے ہیں کہ مریمؑ کے پاس جبرئیل آئے تھے اور اللہ کا حکم سنائے تھے۔

آیت نمبر 66:11,12 کہتی ہیں کہ کوئی شخص اگر سچا مسلمان بننا چاہے تو وہ گزشتہ زمانے کے دو شخص جیسے جینا چاہئے۔ وہ دونوں ہی مسلمانوں کے لئے ایک نمونہ ہیں۔ وہ دونوں عورت ہی ہیں۔

روحانیت میں دنیا کے سارے مسلمانوں کواللہ نے نمونے کے طور پردو عورتوں ہی کا ذکر کیا ہے ۔اس سے ہم جان سکتے ہیں کہ مردوں سے مقابلہ کر کے ان سے بھی عورتیں آگے بڑھ سکتی ہیں۔

پھر کیوں عورتوں کو نبی بنا کر نہیں بھیجا گیا؟

اللہ کا پیغام پہنچانے کا کام بہت ہی کٹھن ذمہ داری ہے۔اس ذمہ داری کو سنبھالنا مردوں میں بھی سب سے ممکن نہیں ہوسکتا۔

رسول بنا کر بھیجے جا نے والے اپنی قوم کی تمام عقیدے اور اصولوں کو تنہا کھڑے ہوکرمقابلہ کر نا ہے۔

* اسطرح مقابلہ کر تے وقت مارے جاسکتے ہیں۔

* جلا وطن کئے جا سکتے ہیں۔

* پتھر پھینک کرظلم و ستم کئے جاسکتے ہیں۔

* کپڑے پھاڑ کر ننگے کئے جا سکتے ہیں۔

اور بھی کئی قسم کے تکالیف کا سامنا کر نا پڑے گا۔

اگر وہ عورت ہو تو ان اذیتوں کے علاوہ انہیں زبردستی عصمت دری بھی کیا جا سکتا ہے۔

پوری قوم کے مقابلے میں تنہا کھڑے ہو کر مخالفت کر نے سے جو مشکلیں درپیش ہو تی ہیں اس کو کوئی بھی عورت ہر گز سنبھال نہیں سکتی۔

آج بھی عورتیں بغیر مشکل کے کام ہی کو چاہتے ہیں ، بوجھ اٹھانے یا باربردار کا کام کر نے میں عورتیں شامل نہیں ہوتیں، اوراس کو پسند بھی نہیں کرتیں۔ اللہ کے رسول والا کام اس سے کہیں زیادہ سخت ہوتا ہے۔

اس طرح کہنا کہ عورتوں کو ذلیل کر نے کے لئے یہ ذمہ داری انہیں سونپا نہیں گیا ، بالکل غلط ہے۔ اس کو ہماری یہ دلیلیں بیشک ثابت کرے گی۔

238۔ قربان گاہ کی طرف، اس کا مطلب کیا ہے؟

اس آیت (70:43) میں کہا گیا ہے کہ قربان گاہ کی طرف تیزی سے چلنے والوں کی طرح۔

قربان گاہ میں قربانی دینے کے بعد اسے اٹھانے کے لئے لوگ جوق در جوق دوڑتے ہوئے جائیں گے۔

ہمارے ملک میں غیر مسلم اپنی عبادت گاہوں میں جب ناریل توڑتے ہیں تو اس کو چننے کے لئے لوگ جوق در جوق دوڑتے ہوئے جائیں گے، اسی طرح قربان گاہ میں کوئی قربانی دیتا ہے تو اس گوشت کو حاصل کر نے کے لئے دوڑیں گے۔

قبروں سے جب اٹھائے جائیں گے تو وہ لوگ بہت تیزی سے دوڑتے ہوئے آئیں گے، اس کو بیان کرنے کے لئے ہی اللہ نے یہ مثال دی ہے۔

237۔ غیر مسلم حکمراں کی اطاعت کر نا

ان آیتوں میں 12:74-76 کہا گیا ہے کہ یوسف نبی ایک ملک کے وزیر تھے۔ اپنے بھائی کو اپنے ساتھ رکھنے کے معاملے میں اپنے والد یعقوب نبی کے ملک کے قانون کو استعمال کیا، دیگر معاملوں میں اپنے حکمراں ہی کے قانون کو مروج کیا۔

یوسف نبی مصر کے وزیر تھے۔ اور اس ملک کے حکمراں کے قانون پر پابند رہ کر اس کو رائج کر نے کی ذمہ داری بھی انہیں تھی۔ اسی وقت ان کے خاص ملک میں ان کے والد یعقوب نبی کے ذریعے اللہ کا عطا کردہ قانون رہتے ہو ئے بھی اس کو مصر میں رائج کر نے کے بجائے مصرکے قانون ہی کو عمل میں لایاگیا۔

اس آیت میں تشریح کی گئی ہے کہ اپنے اس ملک کے قانون کو اگر پیروی کریں تو اپنے بھائی کو اپنے ساتھ رکھ نہیں سکتے، اس لئے صرف ان کے معاملے میں اپنے خاص ملک کے قانون کو رائج کرکے اپنے بھائی کو اپنے ساتھ رکھ لیتے ہیں۔

اپنے دیگر بھائیوں سے پوچھتے ہیں کہ تمہارے ملک میں چوروں کی سزا کیا ہے؟ وہ لوگ کہتے ہیں کہ اسکوپکڑ لینا ہی اس کی سزا ہے۔ اس جواب کو پاتے ہی اسی بنیاد پر اپنے بھائی کو پکڑ لیتے ہیں۔

اس آیت کے اس جملے سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ حکمراں کے قانون کے مطابق اپنے بھائی کو وہ روکے رکھ نہیں سکتے۔

مزید یہ کہ اپنے بھائی کو اپنے ساتھ رکھنے کے لئے ہی یعقوب نبی کے ملک کے قانون کے بارے میں پوچھ کر اس کو استعمال کر تے ہیں۔ دوسروں کے بارے میں اپنے والد کے ذریعے ملے ہوئے قانون کو انہوں نے استعمال نہیں کیا، یہ بات بھی ان آیتوں سے معلوم ہوتا ہے۔

چنانچہ غیر مسلموں کی حکومت میں دین اور عبادات کے معاملوں کے سوا دیگر قانون میں اس حکومت کی پابندی کرنااور اس پر عمل پیراہونا غلط نہیں ہے، اس کے لئے یہ آیتیں سند ہیں۔

اللہ ہی کی سیاسی قانون کے پیروی کے لئے جو آیتیں اصرار کرتی ہیں ، اس کے لئے حکومت اور اختیارات ملنے کے بعد وہ عمل پیرا ہونے کی بات ہے۔ اس لئے اس آیت کو اس کے خلاف نہ سمجھیں۔

جہاں اسلامی حکومت نہیں ہے وہاں رہنے والے مسلمان اس حکومت کے پابند رہنا چاہئے۔ اس حکومت کے تحت مسلمان مزدور یا حاکم بنایا جاسکتا ہے۔ جب بھی وہ اسلامی قانون کے مطابق کارروائی نہیں کر سکتے۔ اس ملک کے قانون کے مطابق ہی کارروائی کر سکتے ہیں۔

مثال کے طور پر کوئی مسلمان جج ہے ، اس کے پاس کوئی شخص چوری کے الزام میں پیش کیا گیا تو اس کے ہاتھ کاٹنے کے لئے وہ فیصلہ نہیں کر سکتا۔ اس ملک میں اس کے لئے کیا سزا ہے ، اسی کووہ دے سکتا ہے۔

کیا اس طرح سزا دینے میں دین میں کوئی گناہ ہے؟ نہیں ہے۔ اسلامی حکومت اگر قائم ہو تو ہی اسلامی قانون کے متعلق اللہ سوال کر ے گا۔ جہاں اسلامی حکومت نہیں ہے اس ملک کے قانون کے پابند رہنا یا اس قانون کو رائج کرنا گناہ نہیں ہے۔

اس بنیادی اصول کو ہم اس آیت سے جان سکتے ہیں۔

حاشیہ نمبر 234 دیکھئے!

236۔کیا کام بنا نے کے لئے سازش کر سکتے ہیں؟

یہ آیت 12:76کہتی ہے کہ یوسف نبی نے اپنے بھائی کو اپنے پاس رکھ لینے کے ارادے سے ان پر چوری کا الزام لگا کر ، اسی کو وجہ بنا کر اپنے بھائی کو پکڑ رکھا۔

یہ آیت ایسے معانی دیتی ہے کہ ایک شخص پر جھوٹا الزام لگا سکتے ہیں،اور کام بنانے کے لئے سازش کر سکتے ہیں۔

اس کو ایسا نہ سمجھ سکتے ہیں کہ یوسف نبی نے اس کو اپنی خواہش سے کی۔کیونکہ اسی آیت کے سلسلہ میں اللہ فرماتا ہے کہ اس تدبیر کو ہم نے ہی انہیں سکھایا۔

اس طرح کہا جانے کی وجہ سے کہ اللہ ہی نے اس تدبیر کو انہیں سکھایا، اس کے باوجود ہم اس کو عام اجازت نہ سمجھیں کہ ہم بھی اس طرح تدبیر کر سکتے ہیں۔

اس واقع میں چوری نہ کرنے والے پر جھوٹا الزام لگانے کے باوجود اس سے انہیں ذلیل کرنا مقصد نہیں تھا۔ جھوٹا الزام لگائے جانے والے کو اور بھی بہترانتظام کر نا ہی مقصد تھا۔

یوسف نبی کے بھائیاں قحط میں مبتلا ہو کرغلہ مانگتے ہوئے آئے۔ ان کے ساتھ رہنے والے اپنے چھوٹے بھائی وہاں رہ کر تکلیف اٹھانے کے بجائے اپنے ساتھ رہنا بہتر ہے ، یہ سوچ کر ہی یوسف نبی نے ویسی تدبیر کی۔

سب سے ایک اہم بات قابل غور ہے۔ اپنے بھائی پر چوری کا الزام لگانے سے پہلے انہیں تنہائی میں بلا کرحقیقت کہہ دیا کہ میں ایسی ایک تدبیر کر نے والا ہوں ، اس کو انہوں نے بھی مان لینے کے بعد ہی یوسف نبی نے اس تدبیرکو کام میں لایا۔

اس جیسے ماحول میں ایسے طریقوں کو خیال میں رکھتے ہوئے تدبیر کر سکتے ہیں۔

دھوکہ دینے کے لئے یادوسروں کو برائی پہنچانے کے لئے یا دین کو موڑنے کے لئے تدبیر کرنا یہ واقعہ دلیل نہیں ہے۔

اس کے متعلق اور زیادہ معلومات کے لئے حاشیہ نمبر 162 اور 336 دیکھئے!

235۔ ایک ہی دروازے سے نہ گزرو کیوں کہا گیا؟

ان آیتوں میں(12:67,68) کہا گیا ہے کہ یعقوب نبی نے اپنے بیٹوں کو یہ کہہ کر بھیجا تھا کہ ایک ہی دروازے سے نہ گزرو، بلکہ کئی دروازوں سے گزرو۔ بعض لو گوں نے اس کواس طرح تشریح کی ہے کہ آنکھوں کی بری نظر نہ لگ جائے اسی لئے یعقوب نبی نے اس طرح کہاتھا۔

اس طرح سمجھنے کے لئے اس آیت میں کوئی وجہ نہیں ہے۔اس طرح نبی کریم ؐ نے بھی تشریح نہیں کی۔

اس آیت پر ذرا غور کریں تو سمجھ میں آجائے گی کہ یہ آیت آنکھوں کی بری نظرکے بارے میں نہیں ہے۔

چیزیں تقسیم کر نے کی جگہوں میں ایک ہی خاندان کے لوگ اکٹھا ہو کر اسے حاصل کر نے کی کوشش کریں تو دوسرے لوگ اس کو نفرت سے دیکھنے کی نوبت آئے گی۔ ان جیسے مواقع سے بچنے کے لئے ہی یعقوب نبی نے کہا ہوگا کہ تم ایک ہی دروازے سے نہ گزرو، بلکہ جدا جدا ہو کر گزرو۔

اس لئے ان آیتوں کے ساتھ آنکھوں کی بری نظرکو ملا کر کہنا قابل قبول نہیں ہے۔

234۔ کیا انسانی قانون کی پابندی کر سکتے ہیں؟

ان آیتوں (4:65، 5:44، 5:45، 5:47، 5:50، 6:57، 6:114، 12:40، 12:67، 24:48، 24:51، 40:12) میں کہا گیا ہے کہ اللہ کے قانون ہی کی پابندی کر نا چاہئے۔

بعض لوگ پرچار کرتے ہیں کہ ایسے ملک میں جینے والے جہاں اسلامی قانون نہیں ہے ، اس ملک کے قانون کی پابندی نہیں کر نی چاہئے اور کسی بھی عہدے کو اختیار نہیں کر نا چاہئے ۔اور یہ بھی کہتے ہیں کہ اللہ کی پابندی کئے بغیر اکثریت کے یعنی جمہوریت کے پابند ہونا بہت بڑا شرک ہے۔

اس کے متعلق ہم ٹھیک طریقے سے جان لینا چاہئے۔

ہندوستان کے ساتھ اکثر ممالک میں بھی حاکموں کومنتخب کرنے کے لئے جمہوریت کا طریقہ اپنایا جا تا ہے۔ لوگوں میں اکثریت جس کو ووٹ دیتے ہیں انہیں منتخب کرنا ہی جمہوریت کہلاتاہے۔

شاہی حکومت کے طریقے پر بادشاہ مر نے کے بعد ان کے وارث بادشاہ منتخب کئے جاتے ہیں۔ شاہی حکومت کی ماہیت میں اپنے حاکموں کو انتخاب کر نے کا حق شہریوں کو نہیں ہے۔

لیکن عوامی حکومت نامی جمہوریت کی ماہیت میں پورے کے پورے عوام ہی اپنے حاکموں کو منتخب کرتے ہیں۔ یعنی حکمرانی کرنے والا کون ہے، اس کا فیصلہ کر نے کا اختیار عوام کے ہاتھوں میں ہے۔ اس لئے اس کو عوامی حکومت کہا جا تا ہے۔

اکثریت جنہیں حمایت کر تے ہیں انہیں کو حاکم بنا نے کا جوانتخاب کیا جاتا ہے وہ جمہوری طریقہ کیا اسلام کے خلاف ہے؟ ہرگز خلاف نہیں ہے۔

نبی کریم ؐ دینی صدر ہی نہیں بلکہ حکومت کے حاکم بھی تھے۔ اس لئے ان کے زمانے میں لوگ کسی کو صدر منتخب کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔

نبی کریم ؐ نے اپنے بعد فلاں شخص ہی حاکم بننا ہے ، یہ مقرر کئے بغیر وفات پاگئے۔کئی موقعوں پر ابوبکرؓ کی طرف اشارہ کیا تھا کہ اپنے بعد ابوبکر ہی میرے جانشین ہوں گے، پھر بھی ان کے بعد حاکم کون ہوگا، یہ براہ راست انہوں نے نہیں کہا۔

اس لئے نبی کریم ؐ کے وفات کے بعد حکومت کیلئے سردار انتخاب کر نے میں پیچیدگی پیدا ہوئی۔ کئی طرح کی بحث و مباحثہ کے بعد ہی ابوبکرؓ کو عوام نے سردار مان کر انہیں انتخاب کیا۔ اس کے بعد آئے ہوئے سرداروں کو بھی اسی طرح انتخاب کیا گیا۔ اس سے ہمیں معلوم ہو تا ہے کہ عوامی حکومت کی ماہیت اسلام کے خلاف نہیں ہے۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ اسلام میں جمہوریت کی اجازت نہیں ہے اور چناؤ میں ووٹ دینا کفر ہے۔

کوئی بھی تحریک ہو یا ملک ہو ، اس کے حاکم کو بیشتر رکن ہی انتخاب کر سکتے ہیں۔ اللہ سے وحی نہیں آئے گی کہ سردار کون ہے؟ اس لئے ان لوگوں کا دعویٰ بالکل غلط ہے۔

جمہوریت شرک ہے ، ا س طرح کا دعویٰ کر نے والے تحریک کے سردار کہیںآسمان سے نہیں اترے۔انہیں اللہ نے سردار نہیں بنایا۔ ان کی تحریک میں رہنے والے اکثر لوگ مان لینے کی وجہ ہی سے وہ سردار بنے۔ جمہوریت کی بنیاد پر اپنی تحریک کی صدارت کی ذمہ داری سنبھالتے ہوئے اس کو شرک کہنے والوں پر تمہیں غور کرنا ہے ۔

ان آیتوں 5:49,50، 6:57، 12:40، 12:67 میں کہا گیا ہے کہ حکومت اور قانون نافذ کر نے کی اختیارات صرف اللہ ہی کو ہے۔ جمہوریت کو بدعت کہنے والے ان آیتوں ہی کواپنے دعوے کے لئے دلیل پیش کر تے ہیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ ہندوستان کی جمہوریت کہتی ہے کہ حکومت اور قانون بنانے کا اختیار عوام ہی کو ہے۔ اس لئے جمہوریت قرآن کے خلاف ہے۔ اللہ کے اختیار کو چھین کر وہ انسانوں کے حوالے کر نے سے یہ بدعت کہلاتا ہے۔

ایسا دعویٰ کوئی نئی چیز نہیں۔ خارجیوں نے اسی طرح کی آیتوں کو پیش کر کے انہیں کی طرح حجت کی تھی۔ایسی رائے کو انہوں نے قرآن میں ٹھونساجو قرآن نے نہیں کہا ، اس لئے انہیں علیؓ اور معاویہؓ کے ذریعے مکمل طور سے مٹایا گیا۔

اس تاریخ کو اگر ہم جان لیں تو ان نئے زمانے کے خارجیوں کو آسانی سے پہچان سکتے ہیں۔

اسلامی جمہوریت کے سردارعثمانؓ دار السلطنت مدینہ میں مارے گئے۔

اس کے بعد علیؓ کو صدر انتخاب کیاگیا۔اکثر لوگوں کی حمایت انہیں رہنے کے باوجود ان کے دشمن بھی بڑی تعداد میں تھے۔ علیؓ کے دشمن ایک ہی حال میں قائم نہیں رہے۔

بعض لوگوں کاحال یہ رہا کہ عثمانؓ کے مارے جانے میں علیؓ کا ہاتھ اور تعاون تھا۔

بعض لوگوں کا خیال تھا کہ عثمانؓ کے مارے جا نے میں علیؓ کا تعاون یا تعلق نہیں تھا۔ پھر بھی قاتلوں کو ڈھونڈ نکا ل کر سزا دینے میں علیؓ پس و پیش کر رہے تھے، قاتلوں پر مہربانی سے پیش آرہے تھے۔ عائشہؓ اور معاویہؓ وغیرہ لوگوں کی کیفیت بھی یہی تھی۔

علیؓ کے حمایتیوں کا حال بھی یکساں نہیں تھا۔ علیؓ پر پوری طرح بھروسہ رکھ کر انہیں قابل صدر ماننے والے بھی ان میں تھے۔

عثمانؓ کے قتل میں ملوث ہو نے والے اپنے آپ کوبچانے کے لئے علیؓ کے حمایتی سا دکھانے والے بھی تھے۔

عثمانؓ کے رشتہ دار اور سریہ کے گورنر مقرر کئے گئے معاویہؓ نے علیؓ کی صدارت کو ماننے سے انکار کر دیا۔ سریہ کو ایک الگ ملک بنا کر اس کے صدر بن بیٹھے۔ معاویہؓ کے قبضہ میں جو زمین تھی اس کو ایک ہی قانون کے تحت لا نے کے لئے علیؓ نے جنگ چھیڑا۔ سفین کے مقام پر دونوں فوج کے درمیان جنگ چلا۔ اس جنگ میں دونوں طرفین کو سخت نقصان کا سامنا کر نا پڑا۔

اسے دیکھ کر افسوس کر نے والے نیک نہاد لوگ دونوں طرفین میں تھے۔ دونوں طرفین کی اتحاد کے کئے صلح کامعاہدہ لے کر جنگ کو فوراً روکنے کے لئے انہوں نے کوشش کی اور کامیاب بھی ہوئے۔ دونوں طرفین میں ایک منصف کو انتخاب کر نا ، وہ دونوں منصف مسئلہ کو تحقیق کر کے ایک ساتھ مل کر ایک اچھا سا فیصلہ کرنا اور اس فیصلہ کو دونوں طرفین مان لینا ہی اس صلح کا معاہدہ تھا۔

اس منصوبہ کو دونوں طرفین نے مان لی۔ اس طر ح علیؓ کی طرف سے ابو موسیٰؓ اور معاویہؓ کی طرف سے امر بن عاصؓ منصف مقرر کئے گئے۔ یہ معاہدہ دو نوں طر ف میں رہنے والے اچھے لوگوں کو خوشی حاصل ہو نے کے باوجود عثمانؓ کو قتل کر کے علیؓ کے گروہ میں ملے ہوئے قاتلوں کو بے چینی ہونے لگی۔عثمانؓ کو قتل کر نے والے ڈرنے لگے کہ اس معاہدے کے ذریعے سماج اگر متفق ہوجائے تو ہم بچ نہیں سکتے۔

انہیں یہ بھی احساس تھا کہ اگر ہم اس صلح کی کوشش کو براہ راست مخالف کریں تو لوگوں کے نفرت کا سامنا کر نا پڑے گا۔ اس لئے صلح کی کوشش کو نقاب اوڑھ کر خلاف کر نے کی تجویز کر نے لگے۔ اسلامی حکومت کے خلاف لوگوں کو اکٹھا کر نے کے لئے اصولی رنگ بھر کر، صلح کا وہ معاہدہ اسلام کے خلاف ہے کہہ کر، علیؓ اور معاہدہؓ دونوں کو ایک ساتھ مل کر مخالفت کر نے لگے۔ وہی لوگ اسلامی تاریخ میں خارجی کہلاتے ہیں۔

اس زہریلی مقصد کو وہ لوگ کس طرح رنگ دئے اسے بھی ہم تفصیل سے جانتے چلیں۔

ان کا دعویٰ یہ تھا کہ قرآن کہتا ہے کہ اختیار اللہ ہی کو ہے۔ اس لئے دونوں منصفوں کو اختیار دے کر ان کے فیصلے کو مان لینا قرآن کے خلاف ہے۔

علیؓ اور معاویہؓ دونوں کو ایک ساتھ مخالف کر نے والے یہ لوگ ہرورہ نام سے ایک مقام مقرر کر لئے۔ اور فتویٰ دینے لگے کہ اللہ کے فیصلے کو جھٹلا کر انسانوں کو منصف قرار دینے والے علیؓ اور معاویہؓ دونوں اور ان کے ساتھ رہنے والے دیگر لوگ بھی کافر ہیں۔

544 آیتوں کو غلط مقام پر استعمال کر کے تمام نیک لوگوں کو بھی کافر کہہ دیا۔ یہی نہیں کہ تمام لوگوں کو کافر کہہ دیا بلکہ ایک اور شوشہ بھی نکالا کہ کافروں سے لڑنا چاہئے اور انہیں قتل کرنا چاہئے۔ اور علیؓ اور معاویہؓ کو قتل کر نا جہاد ہے۔

جہاد کے متعلق جو آیتیں ہیں انہیں پیش کر کے اس کو وہ عدل ثابت کر نے لگے۔ وہ لوگ قرآن کو من مانی معانی دے کر جہاد کے نام سے مسلمانوں کو قتل کر نے لگے تو ہجری 38 میں علیؓ نے خارجیوں کی صدر مقام ہرورہ پر جنگ کر کے ان لوگوں کی غرور کو توڑا۔ اس کے بعد معاویہؓ نے خارجیوں پر جنگ کر کے انہیں پوری طرح سے مٹادیا۔ اب سنئے!

خارجیوں نے جس طرح دعویٰ کیا کہ انسانوں کے فیصلہ کو ماننا کفر ہے ، اسی طرح آج کے یہ جدید خارجی بھی انسانوں کے فیصلے کو ماننا جدید بدعت کہتے ہیں۔ وہ لوگ جن آیتوں کو غلط استعمال کئے تھے اسی آیتوں کو اسی مقام پر یہ لوگ بھی استعمال کرتے ہیں۔

ان کا دعویٰ اور ان کے پیشوا خارجیوں کا دعویٰ کیا ٹھیک ہے؟ آئیے دیکھیں !

قرآن جو کہتا ہے کہ اللہ کے سوا کسی کو اختیار نہیں ، وہ سچ ہے۔ لیکن وہ جو اس کے رخ کو بدل کرمعانی دیا جاتا ہے کیا یہ آیتیں وہی کہتی ہیں تو ہر گز نہیں۔

اللہ نے جس قدرت کو اسی کے لائق کہتا ہے اسی اختیارات کے بارے میں یہ آیتیں کہتی ہیں۔ جن اختیارات کواللہ نے کہا ہے کہ اس نے لوگوں کو عطا کی ہے ان اختیارات کو لوگوں کو عطا کر نے میں یہ آیتیں خلاف نہیں ہیں۔

انسانوں کے درمیان جب مسئلے پیدا ہوتی ہیں تو اس وقت دوسرے انسان اس میں مخل ہو کر فیصلہ کر نے کو اللہ نے اجازت دی ہے۔ مختلف مسئلوں میں وہ لوگ بھی اس بنیاد پر عمل پیراہو نے والے تھے۔ اپنے آپ کو محفوظ کرنے ہی کے لئے ضمیر کے خلاف وہ لوگ اس طرح دعویٰ کئے تھے۔

بعض لوگوں نے یہ سمجھ کر کہ ان کا دعویٰ دینی بنیاد پر ہی ہے، ان کی پیروی کر نے لگے، وہی افسوس کن بات ہے۔ ان کا دعویٰ کتنا ناپائیدار ہے ، اس کو ان آیتوں سے سمجھ سکتے ہیں۔

آیت نمبر 4:35 میں اللہ فرماتا ہے کہ زوجین کے درمیان مسئلہ کھڑا ہوجائے تو دو منصفوں کے فیصلے کو قبول کرلینا چاہئے۔ کیا یہ’’ صرف اللہ ہی کو اختیار ہے ‘‘کے مخالف ہے؟ ہر گز نہیں۔

آیت نمبر 4:58 اور 5:42 میں اللہ فرمایا ہے کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر تے وقت تم عدل کے ساتھ فیصلہ کر نا چاہئے۔ اختیار اللہ ہی کیلئے ہے ، اس کیلئے وہ ہرگز اختلاف نہیں ہے۔

آیت نمبر 5:95 میں اللہ فرماتا ہے کہ تم میں سے عدل کرنے والے دو شخص اس کے بارے میں فیصلہ کر نا چاہئے۔ اختیار اللہ ہی کے لئے ہے، اسکے لئے یہ بھی اختلاف نہیں ہے۔

آیت نمبر 38:21 اور 21:78 میں اللہ فرماتا ہے کہ داؤد اور سلیمان کے فیصلے کی ہم گواہ تھے۔ اختیار اللہ ہی کے لئے ہے، اس کے لئے یہ بھی اختلاف نہیں ہے۔

یہ آیت 49:9 واضح طور پرکہتی ہے کہ آدمیوں کے درمیان جب مسئلے پیدا ہو جاتے ہیں تو دوسرے لوگ مخل ہو کر عدل کے ساتھ فیصلہ کر نا چاہئے۔

اللہ ہی کے لئے تمام اختیارات ہیں ، اس کے معانی کو ہم واضح طور پر سمجھ سکتے ہیں۔

اللہ فرماتا ہے کہ محشر میں کامیابی حاصل کر نے کے لئے عبادات ، حلال و حرام کے بارے میں قانون نافذ کر نے کا اختیار صرف اللہ ہی کو ہے۔اس کے سوا جو اختیارات ہیں وہ انسانوں کو بھی ہیں۔ اس کو ان آیتوں میں اور دیگر کئی آیتوں میں اللہ نے واضح طور پر فرمایا ہے۔

آخرت میں کامیابی حاصل کر نے کی طریقوں کو بتانے کے لئے ہی نبی کریم ؐبھیجے گئے تھے۔ اس کے ساتھ غیر ضروری دنیوی باتوں کو دکھانے کے لئے وہ بھیجے نہیں گئے۔ وہ علم اور حکمت انسانوں کو فطری طور پر عطا کی گئی ہے۔

نبی کریم ؐ جب مدینہ آئے تومدینے کے صحابیوں کے پاس ایک نیا طریقہ دیکھا۔کھجور کے درخت کی کاشت کر کے پیشہ کر نے والے مدینے کے لوگ قلم لگانے کے طریقے سے جوڑنے کا کام کر رہے تھے۔ اس کو دیکھ کر نبی کریمؐ نے فرمایا کہ اس طرح نہ کریں تو اچھا ہے۔ مدینے کے لوگ فوراً اس کو چھوڑدیا۔ اس کے ذریعے پہلے جو محصول ہو رہا تھا وہ کم ہوگیا۔ وہ دیکھ کر نبی کریم ؐ نے پوچھا کہ ان درختوں کو کیا ہوگیا؟ جب صحابیوں نے انہیں ان کا کہا یاد دلانے لگے۔تو نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ تمہاری دنیا کے معاملے تم ہی اچھی طرح جان سکتے ہو۔ (مسلم: (4173، 4711، 4712)

اللہ کا اختیار کون سا ہے؟ انسان کا اختیار کون سا ہے؟ اس حدیث میں بالکل واضح طور پر کہا گیا ہے۔

دنیا کی جمہوری ممالک میں عوام کی رائے سن کر آخرت کے طریقے کو فیصلہ نہیں کرتے۔کس طرح نماز پڑھا جائے، اس کو عوام سے پوچھ کر فیصلہ نہیں کیاجاتا۔ انسانوں کو جو اختیار دیا گیا ہے اس کے بارے میں فیصلہ کر نے ہی کے لئے جمہوریت استعمال ہوتا ہے۔

چند معاملوں میں اسلام نے جن کو حرام کیا ہے ان کاموں کو حلال ہونے کی طرح حکمراں قانون نافذ کر دیں گے۔صرف ان باتو سے اہتیات کر لینا چاہئے۔اس طرح آسانی سے جاننے کی چیز کو خارجیوں کی پیروی کر تے ہوئے لوگوں کو گمراہ کر نے کے لئے رخ بدل دیتے ہیں۔

ان کی کارروائی اچھی طرح ظاہر کرتی ہے کہ اس مقا م میں یہ لوگ اپنی ضمیر کے خلاف غلط رائے کو قرآن مجید میں ٹھونستے ہیں ۔

اللہ انسانوں کو جو عطا کیا ہے اس اختیار ہی کو انکار کر نے والے یہ لوگ جو اختیار اللہ ہی کا ہے اس اختیار کو لوگوں کو دیدیتے ہیں۔

نبی کریم ؐ نے واضح طور سے کہہ دیا کہ آخرت میں کامیابی حاصل کرنے کے سلسلہ میں اللہ ہی کو اختیار ہے، یہ لوگ مذہب کی حمایت کریں گے، اور اس کی پیروی کریں گے۔ اس کا مطلب کیا ہے؟ کیا ان کا خیال یہ ہے کہ عبادات میں قانون بنانے کا اختیار اماموں کو ہے، اور اللہ کو نہیں ہے؟

یہ لوگ مذہب کی بنیاد پر ہی نماز پڑھیں گے اور دیگر تمام عبادات بھی مذہب کے کہنے کے مطابق ہی ادا کریں گے۔

دنیوی معاملے میں انسانوں کو اختیار دینا شرک کہنے والے ان لوگوں کے عقیدے کے مطابق عبادات میں انسانوں کو اختیار دینا سخت شرک ہو نا چاہئے تھا نا؟

میلاد کا جلسہ وغیرہ تمام بدعات یہ کر تے ہیں۔ اللہ اور اس کے رسول نے جس چیزکو نہیں کہا وہی تو بدعت ہے؟ تمام اختیارات اللہ ہی کو ہے، یہ چیز اب کیوں بھول گئے؟

اس سے کیا معلوم ہو تا ہے؟ جن معاملے میں صرف اللہ ہی کو اختیار ہے ، وہ بدل دینا چاہتے ہیں کہ ان معاملے میں اللہ کو اختیار نہیں ہے۔

جن معاملے میں اللہ نے انسانوں کو اختیار دی ہے ، ان کا کہنا ہے کہ ان معاملے میں اللہ ہی کااختیار ہے۔ اس سے ان کی جہالت اور بددیانتی ظاہر ہوتی ہے۔

ان کی کارروائی سے ہم اچھی طرح جان سکتے ہیں کہ اس دعوے میں وہ جھوٹے ہیں۔

اس طرح دعویٰ کر نے والے فرض کرو کہ اپنی تحریک کے لئے یا اپنے لئے ایک جائداد خریدتے ہیں۔ اس جائداد کے مالک کے پاس بات چیت کر نے کے بعدجب پیسہ دیدیاجاتا ہے تو وہ جائداد ان کا ہوجاتا ہے۔اس کو اور بھی مضبوط بنانا چاہیں تواس کو لکھ لینا چاہئے۔یہی بات قرآن اور حدیث کہتی ہیں۔

لیکن اس جائداد کی قیمت کے لحاظ سے مہر والی کاغذات خریدنا، اس کاغذات پر اس جائداد کا تفصیل لکھنااور اس کے بعد دستاویز ی افسر کے پاس اس کو درج کرانا یہ سب انسانوں کابنایا ہوا قانون ہے۔

یہ دعویٰ کر نے والے کہ اخیتارات سب اللہ ہی کا ہے، اگر اپنے دعوے میں سچے ہوں تو مندرجہ بالا انسانی قانون کوجھٹلا دینا چاہئے۔ اور اس کو صرف ایک سفید کاغذ پر لکھ لینا چاہئے۔

یہ دعویٰ کرنے والا کوئی بھی شخص اس طرح نہیں کرے گا۔ جو اختیار انسانوں کو نہیں کہنے والے اسی اختیار کے تابع ہو کراپنے آپ کو بھول کر یہ کہنا پڑتا ہے کہ اپنا یہ دعویٰ جھوٹا ہے ۔

اس جیسے دعوے کر نے والے اپنی دفتر کے لئے یا اپنی ضروریات کے لئے چاہتے ہیں کہ ایک عمارت تعمیر کریں۔ یا کوئی مسجد ہی بنانا چاہیں۔ ہمارے خاص مقام میں ہماری چاہت کی عمارت تعمیر کر نے کے لئے اسلام ہمیں اجازت دیتی ہے۔

لیکن انسانی قانون اس میں کئی قسم کے قوانین عائد کی ہے۔

تعمیر کئے جانے والی عمارت کاناپ، استعمال کئے جانے والی بنیادی چیزیں، عمارت کی اونچائی اور درجے ان تمام باتوں کو پہلے ہی سے تجویز کر نے کے بعد کئی محکموں سے منظوری لینا پڑتا ہے۔ بغیر منظوری کے عمارت نہ بنیں، یہ انسانی قانون ہے۔

اگر یہ لوگ اپنے دعوے میں سچے ہوں تو کیا کر نا چاہئے؟ انہیں کہنا یہ چاہئے کہ میری خاص جگہ میں خاص عمارت بنانے کے لئے مجھے کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔لیکن اپنے دعوے کی لحاظ نہ کرتے ہوئے وہی لوگ اس انسانی قانون کے تابع ہوتے ہوئے ہم دیکھ سکتے ہیں۔ اللہ ہی کے لئے تمام اختیارات کووہ بھول جاتے ہیں۔

یہ لوگ اپنے عقیدوں کو لوگوں سے کہنے کے لئے ہفتہ وار اورماہانہ جریدے نکالتے ہیں۔اسلام اس کے لئے اجازت دی ہے۔ لیکن یہ لوگ ڈاک خانہ کی رعایت کے لئے اخباروں کے نام درج کرتے ہیں۔اس کے لئے کئی محکموں سے منظوری حاصل کرتے ہیں۔

یہ ظاہر کرتے ہوئے وہ رجسٹر نمبر درج کرتے ہیں کہ انسانی قانون کو مطیع ہو کر ہم نے اجازت لی ہے ۔اب تو وہ مان لیتے ہیں کہ قانون بنانے کا اختیار انسانوں کو ہے ۔

یہ دعویٰ کر نے والو نکو اگر کوئی دھوکہ دے دے تو یہ کیا کرتے ہیں؟ انسانی قانون کے تحت بنائے گئے ہندوستانی جرمیات کے قانون کے مطابق یا ہندوستانی حقوقیات کے قانون کے مطابق فریاد کر تے ہیں۔ اور عدالتوں میں مقدمہ دائر کرتے ہیں۔

انسانی قانون کے مطابق ہمیں انصاف چاہئے کہتے ہوئے جب یہ عدالت میں جاتے ہیں تو اسی وقت یہ اپنے دعوے کی ناپائیداری کو قبول کر لیتے ہیں۔انہیں کہنا چاہئے تھا کہ انسانی قانون قبول کر نے ہی سے غبن کیاہوا مال ہمیں مل سکتا ہے تو وہ مال ہمیں نہیں چاہئے ۔

ان کے گھر سے کوئی چرا لیتا ہے ۔ لاکھوں کا مال اور قیمتی چیزیں چوری ہوجاتی ہیں۔ اسلامی قانون کے مطابق چور کا ہاتھ کاٹ دینا چاہئے۔ لیکن ہندوستان میں چند مہینے قید خانہ کی سزا ہی دی جائے گی۔

اللہ کے قانون کا بدل قانون ہی ہندوستان میں چلتا ہے ، یہ جانتے ہوئے بھی وہ لوگ تھانے میں فریاد کرتے ہیں۔وہ یہ کہتے ہوئے درخواست کر تے ہیں کہ انسانی قانون کے مطابق ہی سہی ہمیں انصاف دلائیے۔ ان کا وہ دعویٰ اب کیا ہوا؟

حج کا فرض ادا کر نے کے لئے کسی انسان کے پاس اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔ لیکن انسانی قانون کہتی ہے کہ پاسپورٹ اور ویزاوغیرہ مختلف منظوریاں لینے کے بعد ہی حج کو جاسکتے ہیں۔

کیا وہ اس فیصلے کو آئیں گے کہ انسانی قانون کے تابع ہو کر حج کرنے کی ضرورت نہیں ؟ یاکیا وہ ایسا کہیں گے کہ انسانی قانون کے تابع ہو کر حج کر نا چاہئے؟

یہ لوگ روپیوں کا نوٹ دے کر ہی ہر قسم کالین دین کر تے آرہے ہیں۔

سونا چاندی وغیرہ قدرتی طور پر قدر و قیمت والی چیزیں ہیں۔اس کے ذریعے اگرلین دین کریں تو اس میں کوئی نقص نہیں کہہ سکتے۔

یا اشیاء کے ادل بدل کے طریقے سے لین دین کریں تو اسے بھی نقص نہیں کہہ سکتے۔ کیونکہ چیزوں کو قدرتی طور پر قدرہے۔

لیکن نوٹوں کو قدرتی طور پر کوئی قدرو قیمت نہیں ہے۔ ہزار کے نوٹ کے لئے اس کی قدرتی قیمت اسکو بنانے کا خرچ ہی ہے۔ یعنی ہزار کا نوٹ بنانے کے لئے دس روپئے اگر خرچ ہو تووہ اس کاغذ کی قیمت ہے۔ اگر حکومت اعلان کر دے کہ وہ نہیں چلے گی تو اس کی قیمت وہ بھی نہیں رہے گی۔

انسانی قانون کی بناء پر قائم کئے گئے ہندوستانی ریزرو بینک یہ ضمانت دیتی ہے کہ ان کاغذات کو لانے والے کو ایک ہزار کی چیزیں دے سکتے ہیں ، اسی لئے اس کو مصنوعی قدر بڑھ جاتی ہے۔

ایک شخص نوٹوں کو استعمال کر تے ہوئے جب لین دین کر تا ہے تو اسی وقت وہ مان لیتا ہے کہ انسانی قانون کی پیروی کئے بغیر ہم جی نہیں سکتے۔

ریشن کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس، شناختی کارڈ،راستے کے قانون ایسے ہزاروں معاملوں میں سب لوگ قبول کرلیتے ہیں کہ قانون بنانے کا اختیار انسان کو ہے ۔یہ واضح طور سے دکھائی دیتا ہے کہ اس کو اپنائے بغیر کوئی بھی جی نہیں سکتا۔

ایسی بات کہی جائے جو اب تک کوئی نہ کہا ہو تو لوگوں کو جمع سکتے ہیں، اس بنا پر لوگوں کو بے وقوف بناسکتے ہیں، اس کے سوا ان کے دعوے میں ذرہ برابرحقیقت نہیں ہے۔

صرف انتخاب کونظر انداز کر نے کے لئے ہی ان کے دعوے کورائج کر سکتے ہیں، اس کے سوا دوسرے کسی معاملے میں ان کا دعویٰ قابل قبول نہیں ہو سکتا۔

اپنے دعوے کو وہ خود انکارکرنے کی ذلت انہیں ملی ہے۔

انسانی قانون کی وجہ ہی سے شراب خانے کھولے جاتے ہیں۔ خاندانی منصوبی بندی جیسے قانون بھی اسی وجہ سے قائم کیا جاتا ہے۔ جمہوریت کی انکار کے لئے ان لوگوں کی یہ بھی وجوہات ہیں۔

اگر حکومت شراب خانے کھولیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہر مسلمان شراب پئیں۔ کسی ملک میں یہ قانون قائم نہیں کر سکتے کہ ہر شخص کو شراب پینا ہے۔ پینا یا نہ پینا ہماراحق ہے۔

اسی طرح خاندانی منصوبہ بندی کے لئے بھی کوئی زبردستی قانون نہیں ہے۔ انسانی قانون حکومت کر نے والے ممالک میں کروڑوں لوگ منصوبہ بندی کے بغیر ہی جی رہے ہیں۔

اسلام کے خلاف مسلمانوں پراگرایک دو قانون ٹھونسے گئے تو صرف اس کے خلاف جد و جہد کر کے اس کو رد کر سکتے ہیں۔

طلاق دی گئی عورتوں کو زبردستی نان و نفقہ دینے کے بارے میں قانون لا یا گیا تو سارے مسلمان اکٹھا ہو کر اس قانون کو بدلنے کے لئے جو جدو جہد کی گئی اس کی وجہ یہی جمہوریت ہے۔

مسلمان اگر حقیقی مسلمان جینا چاہیں تو اس کو کوئی انسانی قانون انکار نہیں کر سکتا، یہی حقیقی کیفیت ہے۔

عبادات کے سوا دوسرے معاملوں میں قانون بنانے کا اختیار انسانوں کوعطا کیا گیا ہے۔ اس کو استعمال کر تے ہو ئے انسان کا نافذ کردہ قانون دین کے خلاف نہ ہوں تو اس کو اختیار کر نے میں کوئی حرج نہیں۔ اگر دین کے خلاف ہوں تو اس کے خلاف جد و جہد کرنے کی ذمہ داری ہمیں کو ہے، اس کے سوا انسان کو اللہ کی طرف سے عطا کئے گئے اختیارات کو یکمشت چھین لینا ہمارا کام نہیں ہے۔ اس کو وہ لوگ سمجھ لینا چاہئے۔

ایک اور زاویہ سے بھی اس پر ہم غور کر نا چاہئے۔

انسانی قانون کا دعویٰ کر نے والے کئی مدارس اور تعلیم خانہ چلا رہے ہیں۔ کئی ادارے اور کاروبار چلا رہے ہیں۔ وہاں وہ لوگ خود قانون بنانے کا اختیار لئے ہوئے ہیں، یہ کیسے ممکن ہے؟

کہا جا تا ہے کہ اپنے مدرسہ میں تمام طلباء ایک خاص رنگ میں ، ایک خاص لباس ہی پہننا چاہئے۔اس طرح قانون نافذ کرنے کا اختیار وہ اپنے ہاتھوں میں لے لیتے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ اپنے ادارے پرمزدور فلاں وقت پر آنا ہے اور فلاں وقت تک کام کر نا ہے۔ اس کے ذریعے قانون بنانے کا اختیار وہ اپنے ہاتھوں میں لے لیتے ہیں۔

ایک خاندان کا سردار اپنی بیوی اور بچوں کو چند آداب اور پابندیاں سکھاتا ہے۔ اس طرح ہر انسان اپنے اپنے دائرے کے اندر قانون عائد کر نے کا اختیار اٹھائے بغیر نہیں رہتا۔

اسی طرح حکمرانی کا ذمہ اٹھانے والا اس کے لائق قانون عائد کر نے کا اختیار رکھتا ہے ۔ ایسی عام جانکاری بھی نہ رکھتے ہوئے اس طرح کا دعویٰ کر رہے ہیں۔

جس ملک میں مسلمانوں کی اقلیت ہے وہاں اسلام کے قانون کو رائج کرنے کی حکومت قائم نہیں کرسکتے۔ ان ممالک میں حکومت پرقبضہ کرنے کے لئے میدان میں اترنے والی جماعتوں میں ایک جماعت برائی کر نے والی جماعت اور دوسری جماعت کم برائی کرنے والی جماعت ہوسکتی ہے۔

ہماری جمہوری حقوق کو استعمال کر نے کے ذریعے زیادہ برائی کر نے والوں کے ہاتھوں میں حکومت نہ چلے جائے، اس کو ہم روک سکتے ہیں۔ اگر ہم اس کو نظر انداز کر دیں توہماری بے وقوفی سے بہت زیادہ برائی کرنے والے حکومت پر قبضہ کر سکتے ہیں۔اس بات کو بھی وہ لوگ محسوس نہیں کئے۔

انسانی قانون کے تحت قائم ہو نے والی حکومت بنانے کے لئے ووٹ دینا ایک طرف رہنے دو، اس طرح کی حکومت میں ہم رکن بننے کے لئے بھی ہمیں اجازت ہے۔

ہماری عزت و احترام اورہمارے عقیدے وغیرہ سے پرے نہ جاتے ہوئے اس طرح کا موقع اگر مل جائے تو وہ بھی دین میں داخلہ ہی ہے ۔ اس کے لئے یوسف نبی کی تاریخ سند ہے۔

یوسف نبی کے تاریخ کو اللہ واضح کرتے ہوئے کہتا ہے کہ سوال کر نے والوں کو ان کی تاریخ میں دلیلیں موجود ہیں۔

یوسف نبی اللہ کے رسول رہنے کے باوجود انسانی قانون کے مطابق چلنے والی حکومت میں وزیر کے عہدے کو مانگ کر حاصل کی۔ (قرآن: 12:55)

اس کے متعلق اور زیادہ معلومات کے لئے حاشیہ نمبر 233 اور 237دیکھئے!

جمہوریت ایک شرک ہی ہے، اس کے لئے وہ لوگ ایک اور دلیل پیش کر تے ہیں۔

جمہوریت لوگوں کی اکثریت کے خواہش کے مطابق فیصلہ کئے جانے والی چیز ہے۔ لیکن قرآن نے مختلف مقامات پر تنبیہ کی ہے کہ اکثریت کے پابند نہ ہوں۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ اکثریت کے فیصلے کو قبول کر نا قرآن کے خلاف ہے۔ یہ بھی غلط دعویٰ ہے۔

بنیادی عقیدہ، عبادات، حلال و حرام وغیرہ آخرت کی کامیابی کے طریقے میں اکثریت کی پیروی نہ کریں، یہی اس کا مطلب ہے۔

اکثرلوگ گہیوں کو غذا کے طور پر استعمال کرنے سے نبی کریم ؐ نے اسے روکے نہیں۔ اکثر لوگ جب بیمار ہوتے تو علاج کر لینے سے نبی کریم ؐ نے اسے روکے نہیں۔

اکثر لوگ کپڑے پہنتے تھے، ان کے خلاف ننگا رہنے کو نبی کریم ؐ نے تعلیم نہیں دی۔

آج بھی اکثر لوگ جو کام کر تے ہیں وہی کام ہم بھی کر رہے ہیں۔

لیکن کسی بھی جمہوری حکومت میں انتخاب نہیں کیا جاتا کہ دو رکعت نماز پڑھا جائے یا چار رکعت؟

وہ کوئی بھی تحریک ہو اکثریت کی حمایت کے بناء پر ہی اس کے صدر کو انتخاب کیا جاسکتا ہے۔ تبلیغ اور طریقہ جیسے تحریکوں میں سردار کو لوگ انتخاب نہیں کر تے۔ پھر بھی تحریک کے ارکان سب مان لینے کی وجہ سے صدارت تشکیل پاتی ہے۔ رکن میں اگر اکثر لوگ نہ مانیں تو کوئی صدر نہیں بن سکتا۔

تمہارے تحریک کو تم کیسے صدر بنے؟ کیا اللہ نے وحی کے ذریعے تمہیں صدر بنایا؟ یاتمہارے رکن انتخاب کر کے سب لوگ مان لینے کی وجہ سے صدر نبے؟ اس سوال کا وہ جو جواب دیں گے اسی کے ذریعے ہم جان لے سکتے ہیں کہ جمہوریت شرک نہیں۔

More Articles …