Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

249۔ ’پنڈلی کھولی جائے گی‘کا مطلب

اس آیت 68:42 میں کہا گیا ہے کہ پنڈلی کھولی جائیگی۔

اسلام کہتا ہے کہ اس دنیا میں انسان کے آنکھوں کو اللہ دکھائی نہیں دے گا۔ لیکن اسلام نے یہ نہیں کہا کہ اللہ ایک سونا خالی پن ہے۔ بلکہ انسان مر کر پھر سے زندہ ہو نے کے بعد آخرت کے دن اللہ کو دیکھ سکتا ہے۔

آخرت میں حساب کتاب لینے کے لئے آیت نمبر 89:22کہتی ہے کہ فرشتوں کے جھرمٹ میں اللہ آئے گا۔

اس طرح جب وہ آئے گا اپنے قدموں پہ گرکر مطیع ہو نے کے لئے لوگوں سے کہے گا۔ وہی بات یہاں کہی گئی ہے۔

’’پنڈلی کھولے جانے والے دن‘‘ کا مطلب ہے کہ اللہ اپنی بنڈلی میں گر کر لوگوں کو جھکنے کے لئے کہے گا۔

اس دنیا میں اللہ کو سجدہ کر نے کے لئے جو عادت ڈال چکا ہے وہ فوراً سجدہ کرے گا۔ دوسرے لوگ اس کے پاؤں پر گر نہیں سکتے۔یہ نبی کریم ؐ کی تشریح ہے۔ (دیکھئے بخاری: 4919)

کیا اللہ بے شکل ہے؟ کیا اللہ کو آخرت میں دیکھ سکتے ہیں؟ اس کے بارے میں اور زیادہ جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 21، 482، 488 دیکھیں !

248۔ زمین کی کھونٹی ہیں پہاڑیں

ان آیتوں 15:19، 16:15، 21:31، 27:61، 31:10، 41:10، 50:7، 77:27، 78:7، 79:32میں اللہ فرماتا ہے کہ زمین میں قائم کئے گئے پہاڑوں کوہم نے کھونٹی جیسے کھڑا کئے ہیں ۔

ایک چیز دوسری ایک چیز سے جدا نہ ہونے کے لئے لگائے جانے والی چیز ہی کھونٹی ہے۔

یہ زمین مختلف درجوں کا ہے۔ اوپر کا درجہ کم وزن کا ہوگا، اندر کے درجے وزندار ہوں گے۔

زمین جب تیزی سے گھومتی ہے تو اند رکے درجے کی وزندار چیزیں اور اوپر کے درجے کی ہلکی چیزیں ایک ہی رفتار سے گھوم نہیں سکتیں۔

اگر یہ حال پیش آئے تو اوپر میں رہنے والے اٹھا کر پھینک دئے جائیں گے۔ عمارتیں ریزہ ریزہ ہوجا ئیں گے۔

اگر اس کو روکنا ہو تو وزندار درجے اور کم وزن کے درجے جوڑے رکھنے کے لئے کھونٹیاں لگانا ضروری ہے۔یہ آیتیں کہتی ہیں کہ اسی کے لئے پہاڑیں نصب کی گئیں۔

زمین کے اوپر ہم جو پہاڑیں دیکھ رہے ہیں اس کی اونچائی سے زیادہ گہرائی میں زمین کے نیچے بھی پہاڑیں نصب کی گئی ہیں۔

کئی جگہوں پر اتنی گہرائی سے قائم کئے گئے پہاڑوں کی وجہ سے اوپر کے درجے اور نیچے کے درجے ایک سے ایک جدا ہوئے بغیرمل کر گھومنا ہوتا ہے۔

اس عظیم سائنسی حقیقت کو چودہ سو سال پہلے ہی کہا جانااس کے لئے سند ہے کہ قرآن مجید اللہ ہی کا کلام ہے۔

زیادہ معلومات کے لئے حاشیہ نمبر 408دیکھئے!

247۔ شرک کرنے والوں کے لئے کیا مغفرت چاہ سکتے ہیں؟

اس آیت 9:113میں اللہ نے واضح کردی ہے کہ مسلم اور نبی کریم ؐ کس عقیدے کی پیروی کریں؟

بنی کریم ؐ کے والدین ، رشتہ دار، مسلمانوں کے والدین اور ان کے رشتہ دار، اللہ کو شرک کرنے والے ہوں تو ان کے لئے اللہ کے پاس مغفرت نہ چاہیں۔ یہی اس عقیدے کی تفصیل ہے۔

اگر کوئی شرک کرے میں انہیں معاف نہیں کروں گا، اللہ کی اس واضح اعلان کے بعد ان کے لئے مغفرت چاہنا اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کرنا ہے، اس لئے اس کو منع کیا گیا ہے۔

انسان عام طور سے غلطی کر نے والوں کو سزا دینا چاہتا ہے۔ لیکن اپنے خاص آدمیوں کے خاندان والوں کی غلطیوں کو معاف کر نے والا ہے۔

لیکن اللہ کا طریقہ اس کے برخلاف ہے۔ اس کے برابری کسی اور کو سمجھ کر اس کے مقام کواس کو دیا گیا تو اس پر اللہ غضب ہوتا ہے۔ نبی کریم ؐ اور مومن اللہ سے قریب رہنے کے باوجود جب اپنے احترام کا سوال آتا ہے تو ان سب کو وہ دیکھتا نہیں۔ اس کے ساتھ شرک ٹہراکر اس کی عزت سے کھیلنے والے کوئی بھی ہوں انہیں اللہ پروا نہیں کرتا۔ انہیں معاف کرنا الگ بات ہے، اس کے لئے مغفرت چاہنا بھی گناہ میں شامل ہے۔

یہ آیت اس عقیدے کو واضح طور پر کہتی ہے۔

غیر مسلموں کے لئے نیک ہدایت کی دعا کر سکتے ہیں۔ انہیں اس دنیا کی دولت کے لئے دعا کرسکتے ہیں۔ ان کی صحت کے لئے دعا کر سکتے ہیں۔ ان سب کے لئے اجازت دینے والا اللہ اس کو شرک ٹہرانے والوں کے مغفرت کے لئے دعا کرنے کو اجازت نہیں دیتا۔

یہ آیت کہتی ہے کہ نبی کریم ؐ اللہ کے رسول ہیں، انہیں بھی اس میں استثناء نہیں ہے۔

یہ آیت کب نازل ہوئی، اگر اس کو جان لیں تو اس میں اور زیادہ وضاحت پائیں گے۔

ابوطالب کو جب موت کا وقت قریب آگیا تو نبی کریم ؐ ان کے پاس گئے۔ اس وقت ابوجہل ان کے قریب تھا۔ نبی کریم ؐ نے کہا کہ اے میرے بڑے والد! آپ لا الہ الا اللہ کہہ دیجئے یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔اس کے ذریعے میں اللہ سے استغاثہ کروں گا۔ اس وقت ابوجہل اور عبد اللہ بن ابی امیہ دونوں نے کہا : اے ابوطالب! کیا تم عبد المطلب کے دین کو ٹھکرانے جارہے ہو؟وہ دونوں اسی طرح اپنی باتوں کو جاری رکھا۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ عبد المطلب ہی کا دین ہوگا۔ تب نبی کریم ؐ نے کہا کہ مجھے روکے جانے تک میں تمہارے لئے اللہ کے پاس مغفرت چاہتے رہوں گا۔اس کے بعد ہی یہ آیت 9:113نازل ہوئی کہ یہ جاننے کے بعد بھی شرک ٹہرانے والے جہنمی ہیں ، ان کے لئے مغفرت چاہنے کے لئے ، اگر وہ رشتہ دار بھی کیوں نہ ہوں، اللہ کے رسول کو اور مومنوں کو حق نہیں پہنچتا۔ اور یہ آیت 28:56 بھی نازل ہوئی کہ (اے نبی!) تم جسے چاہتے ہو انہیں تم سیدھی راہ پر چلا نہیں سکتے۔

راوی: مسیب بن حسن بن ابی وھبؓ

بخاری: 3884, 4675

نبی کریم ؐ نے کہا تھا کہ اسلام اختیار نہ کر نے کے باوجوداسلام کے وفادار ابو طالب کے لئے میں مغفرت چاہوں گا،اس کے برخلاف یہ آیت اتری ہے۔

یہ واقعہ علانیہ کہتی ہے کہ اللہ کے معاملے میں حد سے تجاوز کر نے والے کوئی بھی ہوں انہیں اللہ کے رسول بھی بچا نہیں سکتے۔

اسی طرح نبی نے اپنی والدہ کے لئے مغفرت چاہنے کے لئے اللہ کے پاس اجازت چاہی۔ ذیل کی حدیث سے ہم معلوم کر سکتے ہیں کہ اس کو بھی اللہ نے اجازت دینے سے انکار کردی۔

نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ میری والدہ کے لئے مغفرت چاہنے کو میں نے اللہ سے اجازت چاہی۔ اس نے انکار کردیا۔

مسلم: 1621,1622

صرف نبی کریم ؐ ہی نہیں بلکہ اللہ نے خود سراہا ہوا اللہ کا خلیل ابراھیم نبی نے بھی اپنے والد کے لئے مغفرت چاہنے کی اجازت مانگی تھی ، اس کو اللہ نے ان آیتوں 14:41، 19:47، 26:86میں ظاہر کی ہے۔

آیت نمبر 9:114 کہتی ہے کہ اس کے لئے اللہ نے ابراھیم نبی کو سرزنش کرنے کے بعد اس سے وہ ہٹ گئے۔

اللہ کا کہنا ہے کہ ہر معاملے میں ابراھیم نبی کے پاس مسلمانوں کے لئے ایک نمونہ ہے، لیکن اپنے والد کے لئے جو انہوں نے مغفرت چاہی اس میں نمونہ نہیں ہے۔ اس کو اس آیت 60:4 میں اللہ فرمایا ہے۔

246، مکہ کی شادابی کے متعلق پیشنگوئی

ابراھیم نبی نے اپنی خاندان کو جس صحرائی فضا میں آباد کئے تھے آج اسی کا نام مکہ ہے۔ اس صحرائی حصہ میں پہلے پہل اللہ کی عبادت کے لئے ایک عبادت گاہ آدم ؑ نے قائم کی۔

یہ آیت 14:37 کہتی ہے کہ اس عبادت گاہ کے قریب اپنی خاندان کوبسا کر ابراھیم نبی نے دعا کی کہ دنیا کے ہر حصہ سے لوگ اس جگہ آکر جمع ہوں اور رزق درآمد ہوں۔ ان کی دعا کی ظاہری شکل ہی آج کے اس مکہ کی شادابی ہے۔

245۔ قبول نہ ہونے والی ابراھیم نبی کی دعا

یہ آیتیں 2:245، 14:35 کہتی ہیں کہ ابراھیم نبی کی چند دعائیں اللہ نے قبول نہیں کی۔

اللہ کے رسولوں میں قرآن نے ابراھیم نبی کو اونچے مقام میں رکھا ہے۔ وہ اللہ کے خلیل ہیں کہہ کر ان کی حیثیت کو قرآن نے بلند کیا ہے۔ ان کی راہ کو پیروی کر نے کے لئے مسلمانوں کوحکم بھی کیا ہے۔

اس انداز سے بلند مقام میں رہنے والے ابراھیم نبی نے بت پرستی سے اپنے جانشینوں کوبچانے کے لئے اللہ سے دعا کی، اس کی تفصیل آیت 14:35 میں ذکر کی گئی ہے۔ بھر بھی ان کے جانشین بت کی عبادت کر نے والے ہی بنے۔

یہ آیت 2:124 کہتی ہے کہ اپنے جانشین نیک بن کر رہنے کے لئے بھی انہوں نے دعا کی۔ لیکن اللہ نے اس دعا کو رد کر کے کہہ دیا کہ ظالموں کے معاملے میں تمہاری دعا قبول نہیں کی جائے گی ۔

کتنے بڑے رسول بھی ہوں ان کی تمام دعا ئیں قبول ہوگی، اس کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔ یہ آیت اس وحدانیت کی اصول کوقطعی طور پر کہتی ہے کہ اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔

اس بھروسے پر کہ ہمارے بزرگ اگر اللہ سے مانگیں تو اللہ ضرور اس کو قبول کر تا ہے، ان قبروں کی عبادت کر نے والوں کے لئے یہ آیت بالکل خلاف ہے۔

ابراھیم نبی اللہ کے خلیل رہنے کے باوجود ان کی دعا بھی اللہ نے قبول نہیں کی ، اس پر انہیں غور کر نا چاہئے۔

درگاہ پرستی کی عبادت کو روا رکھنے والوں کے دیگر دعوے کس طرح غلط ہیں، اس کو جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 17، 41، 49، 79، 83، 100، 104،121، 122، 140، 141، 193،213، 215، 269، 298، 327، 397، 427، 471 وغیرہ دیکھئے!

244۔ قوم کی زبان ہی رسول کی زبان ہے

یہ آیتیں 14:4، 19:97،44:58کہتی ہیں کہ ایک رسول جن آدمیوں کی طرف بھیجے جاتے ہیں وہ ان لوگوں کی زبان جاننے والے ہوں اور وہ ان کی مادری زبان ہونا چاہئے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ رسول انہیں دی گئی کتاب کو ان لوگوں کوتشریح کر نا چاہئے ۔ کتاب پہنچانے تک ان کا کام اگر ختم ہو جائے تو اس رسول کواس کتاب کی زبان معلوم ہونا کوئی ضروری نہیں ہے۔

اللہ کے رسول کی تفصیل کو ہم نہیں مانیں گے، ہم کتاب ہی کو مانیں گے ، اس طرح دعویٰ کر نے والوں کویہ آیت صریح انکار کرتی ہے۔

کتب الٰہی لے آکر لوگوں تک پہنچانا ہی اللہ کے رسولوں کا کام ہے اور اس کی تشریح کرنا ان کاکام نہیں ، اس طرح حجت کر نے والوں کو یہ آیت 14:4 ایک ہتھوڑے کا مار ہے۔ اس آیت میں ایک ایک لفظ بھی اس طرح استعمال کیا گیا ہے کہ ایسے لوگوں کو انکار کرنے ہی کے لئے یہ آیت اتاری گئی ہے۔

اللہ کہتا ہے کہ ایک قوم جو زبان بولتی ہے اسی زبان کے بولنے والے ہی کو رسول بنا کر بھیجا گیا ہے۔اس وقت ہی اپنے پر نازل ہو نے والی کتاب کو وہ رسول لوگوں کو تشریح کر سکتے ہیں۔ یہ وجہ بھی اللہ نے اس آیت میں واضح کیا ہے۔

ہماری مادری زبان اردو میں ہمیں ایک خط آتا ہے۔ اس خط کو ہمارے پاس لا کر دینے والے کو اردو زبان اگر معلوم نہیں تو بھی اس خط کو سمجھنے میں ہمیں کوئی دشواری نہیں ہو گی۔

جس کے لئے وہ خط لکھا گیا ہے،اگر اس کو وہ خود ہی سمجھ لیتا ہواور خط کو لانے والا اگر وہ زبان نہ جانتا ہو تو ہمیں کوئی فکر نہیں ہوسکتی۔

لیکن جو خط میں لکھا ہواہے اس کو واضح کر نے کے لئے ایک شخص کے پاس اس خط کو اگر دے کر بھیجیں تو اس کو لے جانے والے کو بھی اس خط کی زبان معلوم ہو نا ضروری ہے۔

اللہ کہتا ہے کہ اسی طرح قرآن کو نازل کیا گیاہے۔ اگر کوئی بھی قرآن کو میں میری خواہش کے مطابق ہی معلوم کروں گا۔اس کو لانے والے کی وضاحت مجھے نہیں چاہئے، اس طرح کہنے والے قرآن کی اس آیت کاانکار کرتے ہیں۔

اللہ کہتا ہے کہ قوم جو زبان بولتی ہے اس کو رسول بھی جانے توہی وہ لوگوں کو سمجھا سکتے ہیں۔اللہ جو کہتا ہے کہ کتاب کو سمجھنے کے لئے رسول کی وضاحت ضروری ہے، اس کا انکار کرنا قرآن مجید کے خلاف ہے۔

اللہ سے کتاب حاصل کر نے کے بعد اس کو لوگوں تک صرف پہنچانے کا کام ہی نہیں بلکہ لوگوں کو اس میں پیدا ہو نے والے شکوک وغیرہ دور کر نے کی ذمہ داری بھی رسولوں کا ہے۔ ان وضاحت کو قبول کرنا لوگوں کا فرض ہے۔

اللہ کے رسول جو کتاب کی وضاحت کر تے ہیں وہ ان کے زمانے کے لوگوں تک محدود ہوکر ان کے بعد آنے والے لوگوں کو اگر نہ ملا تو وہ ناانصافی ہوگی۔ اللہ نے قرآن میں کئی مقام پر واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ اللہ کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم کر نے والا نہیں۔

نبی کریمؐ کے زمانے میں رہنے والے لوگ اگر کوئی شک پیدا ہو تو فوراً نبی کریم ؐ کے پاس پوچھ کر معلوم کر لیتے تھے۔ ان کی تمام معلومات دنیا رہنے تک آنے والے تمام لوگوں کے لئے بھی ہے۔وہی باتیں حدیث کے نام سے درج کر کے حفاظت سے رکھا ہوا ہے۔

اگر کوئی کہے کہ اللہ کی طرف سے بھیجے گئے رسول کسی قسم کی وضاحت نہیں کی تو وہ اس آیت کو انکار کر نے والے ہوں گے۔

اگر ہم مان لیں کہ اللہ کے رسول اپنے زمانے کے لوگوں کو وضاحت کئے ہوں گے تویہ ثابت ہوجا تا ہے کہ اللہ کے حکم کے مطابق ان کی دی ہوئی وضاحت ہر زمانے کے لئے ضروری ہے۔

اس لحاظ سے قرآن کو نبی کریم ؐ نے جو تشریح کی وہ بالکل ضرور ی ہے، اس کے لئے یہ آیت سند ہے۔

قرآن کے احکام کی پیروی کر نے کے ساتھ نبی کریم ؐ کی رہنمائی کی بھی پیروی کرنا چاہئے ، اس کے بارے میں اور زیادہ جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 18، 36، 50،39، 55، 56، 57، 60، 67، 72، 105، 125، 127، 128،132 ، 154،164،184، 255، 256، 258، 286، 318، 350، 352، 358، 430وغیرہ دیکھئے!

243۔ کناروں سے گھٹتی ہوی زمین

ان آیتوں 13:41 اور 21:44میں کہا گیا ہے کہ زمین کے کنارے گھٹتے ہو ئے آرہے ہیں۔

قریب کے زمانے میں سائنسدانوں نے انکشاف کی ہے کہ زمین کی وسعت سمندر کے ذریعے تھوڑا تھوڑا ساکم ہوتے چلی جارہی ہے۔

زمین کی گرمی دن بدن بڑھتے جانے کی وجہ سے برفیلی چٹان پگھل کر سمندر میں مل جاتی ہے۔ اس سے سمندر کی سطح بلند ہوتے ہوئے زمین کی وسعت کو تھوڑا تھوڑا سا نگلتے جارہی ہے۔

زمین کی وسعت سمندر کے ذریعے سے اس کے کنارے تھوڑا تھوڑا سا کم ہو تے جا نے کو چودہ سو سال کے پہلے کوئی جانتا نہ ہوگا۔

کناروں سے تھوڑا تھوڑا سا زمین کی وسعت گھٹتے آرہی ہے، اس سائنسی انکشاف کو ظاہر کر نے کے ذریعے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قرآن مجید اللہ ہی کا کلام ہے ۔

242۔ سب میں جوڑی ہے

ان آیتوں میں 13:3، 20:53، 36:36، 43:12، 51:49کہا گیا ہے کہ جانداروں اور نباتات میں بھی اللہ نے جوڑی بنائی ہے۔

نباتات میں بھی مرد اور عورت کی جوڑی ہے، اس کو قرآن مجید نازل ہو نے والے زمانے میں کوئی جانتانہیں تھا۔ بعد کے زمانے میں سائنسدانوں ہی نے اس کو انکشاف کیا۔

کئی سو سال پہلے ہی قرآن نے کہہ دیا تھا کہ نباتات میں بھی جوڑی ہیں ۔ یہ اللہ ہی کا کلام ہے ، اس کے لئے یہ بھی ایک سند ہے۔

آیت نمبر 36:36 کہتی ہے کہ یہ لوگ جو جانتے نہیں ہیں ، ان میں بھی اللہ نے جوڑی بنا رکھی ہے۔

اس زمانے کے لوگ جو جانتے نہیں تھے اس میں سے کئی جوڑیوں کو آج کا انسان دریافت کیا ہے۔

برقی قوت میں بھی مثبت اور منفی جوڑی پائے جاتے ہیں۔ اسی طرح ذرہ میں بھی ہر ذرہ میں پروٹان اور ایلکٹران کے جوڑی پائے جاتے ہیں۔اس طرح انسان کے نہ جانے ہوئے کئی چیزوں میں جوڑی پائے جانے کے بارے میں اللہ نے بیان کی ہے۔اس سے ہم اچھی طرح جان سکتے ہیں کہ یہ محمد نبی کی خاص قول نہیں ہے، بلکہ اللہ ہی کا کلام ہے۔

More Articles …