Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

257۔ دودھ کس طرح پیدا ہوتا ہے؟

اس آیت 16:66 میں کہا گیا ہے کہ دودھ کس طرح پیدا ہوتا ہے۔

ابتدائی زمانے میں لوگوں کا عقیدہ تھا کہ جانوروں کا خون ہی دودھ بنتا ہے۔گزشتہ صدی تک بھی یہی لوگوں کا ایمان تھا۔

اس آیت16:66 میں کہا گیا ہے کہ جانوروں کا گوبر اور خون کے درمیانی حالت میں ہی دودھ پیدا ہو تا ہے۔ یعنی وہ کہتا ہے کہ خون دودھ نہیں بنتا۔

دودھ دینے والے جانوروں کو دو تھن ہو تے ہیں۔ غذا جو کھایا جاتا ہے وہ پیسے جاتا ہے، پھر انتڑیوں میں گودا بنایا جا تا ہے، پھر اس میں جو جذب کر نے والی ہیں اس کے ذریعے مختلف قوتوں کو جذب کر کے جسم اس سے فائدہ حاصل کر لیتا ہے۔

ضروری قوتوں کوالگ کرکے جذب کر لینے کے بعد جو فضلہ ہے اس کو بڑی آنتوں کو بھیجا جا تا ہے، اسی میں فضلہ کی آنتیں بھی ہو تی ہیں۔

بڑی آنتوں میں جو فضلہ ہے وہی گوبر کہلاتا ہے۔خون اور گوبر کے درمیانی حالت میں جو ہے وہ چھوٹی آنتوں میں پسے ہوئے حالت میں موجود غذائی گودے کو کہتے ہیں۔

گوبر بننے اور خون بننے کی درمیانی حالت یہی ہے۔ اسی کی طرف یہ آیت اشارہ کر تی ہے۔

خون ہی اگر دودھ بنتا ہے تو خون کی اگلی کیفیت ہی دودھ ہوگا۔ لیکن یہاں قرآن کہتا ہے کہ خون بننے سے پہلی کیفیت ہی دودھ ہے۔

اس کے متعلق جدید سائنسدان کیا کہتے ہیں؟

خون دودھ نہیں ہوتا۔ بلکہ غذا جو کھایا جاتا ہے وہ چھوٹے آنتوں کو جا کر پسایا جا تا ہے اورپھر وہ گودا بنتا ہے ۔ پھر آنتوں میں جو جذب کر نے والی ہیں اس میں سے قوتوں کو جذب کرلیتی ہیں۔

اس طرح جذب ہونے والی چیزوں کو خون کھینچ لے جاتی ہے اوردودھ پیدا ہونے والی کنڈ میں جمع کردیتی ہے۔ وہاں وہ دودھ بن جاتا ہے۔

یعنی گوبر اور خون بننے کی درمیانی کیفیت کی چیزوں ہی سے دودھ پیدا ہوتا ہے۔ اس اکیسویں صدی کے سائنسدانوں کی انکشاف کو قرآن مجید نے پہلے ہی کہہ دیا کہ اس کے پیٹ میں گوبر اور خون کے درمیانی کیفیت میں پاکیزہ دودھ کو تمہیں پلاتا ہے۔یہ ناقابل انکار دلیل ہے کہ یہ انسان کا کلام ہو نہیں سکتااور یہ اللہ ہی کا کلام ہے ۔

256۔ قرآن کو سمجھانا ہی نبی کریم ؐ کا کام ہے

اس آیت 16:64 میں کہا گیا ہے کہ کتاب عطا کر نے کے لئے نبی کریم ؐ کو اللہ نے منتخب اس لئے کیا کہ وہ اس کی وضاحت کردیں۔

اس طرح کہنے کے بجائے کہ تم سمجھانے کے لئے ہی اس کو عطا کیا گیا ، اگراس طرح کہاجائے کہ اس کو سمجھانے کے سوا ہم نے نہیں اتارا تو زور آور ہوگا۔

نبی کریم ؐ کی وضاحت بہت ہی اہم ہے، اس رائے کے مطابق ہی یہ جملہ ترکیب پائی ہے۔

قرآن عطا کر نے کے ساتھ یا پڑھ کر سنانے کے ساتھ اگر لوگوں کو سمجھ میں آجاتی تو اللہ یہ کیوں کہتا کہ تم سمجھانے کے سوا ہم نے اس کو نہیں اتارا۔ سمجھائے بغیر ہی اگر وہ سمجھ میں آجاتا تو اس کو سمجھانے کی ضرورت ہی نہیں۔سارے علم کا جاننے والا اللہ تو ایسی بیخبری کی بات نہیں کرسکتا۔

اس لئے نبی کریم ؐ کی وضاحت کی مدد ہی سے ہم قرآن مجیدکو سمجھنا چاہئے اور سمجھ بھی سکتے ہیں ۔

قرآن کو نبی کریم ؐ کی وضاحت کے ساتھ ہی سمجھنا چاہئے۔ اور زیادہ جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 18، 36، 39،50، 55، 56، 57، 60، 67، 72، 105، 125، 127، 128،132 ،164،244 ،184، 255، 256، 258، 286، 318، 350، 352، 358، 430وغیرہ دیکھئے!

255۔ قرآن مجید کو کیسے سمجھیں؟

اس آیت16:44 میں اللہ فرماتا ہے کہ انسان غور کر نے کے لئے اور نبی کریم ؐ سمجھانے کے لئے قرآن مجید کو نبی کریم ؐ پر نازل کیا گیا۔

یعنی یہ آیت کہتی ہے کہ قرآن مجید سمجھنے کے لئے دو راستے ہیں۔

قرآن مجیدکو ہم غور کر کے سمجھنا ایک راستہ ہے۔

جب ہماری سمجھ میں نہ آئے تو نبی کریم ؐنے جو تشریح کی تھی اس کی مدد سے سمجھنا دوسرا راستہ ہے۔

یہی طریقہ قرآن سمجھنے کے لئے اللہ نے ہمیں سکھلایا ہے، ٹھیک طریقہ ہے۔

قرآن مجید میں دو قسم کی آیتیں موجود ہیں۔ چند آیتیں پڑھنے کے ساتھ سمجھ میں آجائیں گی۔ اگر فوراً سمجھ میں نہ آئے بھی تو تھوڑی دیر غور کر نے سے سمجھ میں آجائے گی۔ یہ ایک قسم ہے۔

اور چند آیتیں ہیں جنہیں پڑھنے کے ساتھ معانی سمجھ میں آجانے کے باوجود اس کا پورا مفہوم سمجھ میں نہیں آتا۔ یعنی وہ فہمی ادراک میں نہیں آئے گا۔ ان جیسی آیتوں کا مطلب نبی کریم ؐ ہی سمجھائیں گے۔ ان کی وضاحت کی مدد سے ان آیتوں کا مطلب سمجھوگے تو ہی اس کو تم پوری طرح سے سمجھ سکتے ہو۔

مثال کے طور پر کہا گیا کہ نماز پڑھو، روزہ رکھو، زکوٰۃ دو، حج کرو تو اس کا مطلب ہر کوئی سمجھ سکتا ہے۔ لیکن اس کو کیسے ، کتنا اورکس وقت پر ادا کرنا ہے ، اس پراگر ہم غور کر یں توہم سمجھ نہیں سکتے۔ وہ ہماری فہمی ادراک میں آنہیں سکتی۔ اس کوہم سمجھنے کے لئے نبی کریم ؐ کی وضاحت کی ضرورت ہے۔

مندرجہ بالا آیت کا معانی یہی ہے: تم سمجھانے کے لئے اور وہ غور کر نے کے لئے اس قرآن کو ہم نے تمہیں نازل کی ہے۔اس کے سوا اس کا دوسرا کوئی معنی نہیں ہے۔

قرآن پڑھنے کے ساتھ یا غور کر نے کے ساتھ پوری طرح سے اگر سمجھ میں آگیا تو صرف اسی کو اللہ یہاں کہا ہوگا۔یہ نہیں کہا ہوگا کہ تمہیں غور کر نے کے لئے۔

قرآن مجید کو دلیل بنا کر مسلمان عمل پیراہونا جتناضروری ہے اسی طرح نبی کریم ؐ کی وضاحت کو بھی دلیل بنا کر عمل پیرا ہونا چاہئے۔اس کے لئے یہ آیت سند ہے۔

قرآن کو نبی کریم ؐ کی وضاحت کے ساتھ ہی سمجھنا چاہئے۔ اور زیادہ جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 18، 36، 39،50، 55، 56، 57، 60، 67، 72، 105، 125، 127، 128،132 ،164،244 ،184، 255، 256، 258، 286، 318، 350، 352، 358، 430وغیرہ دیکھئے!

254۔ کیا دوسروں کا بوجھ اٹھاسکتے ہیں؟

ان آیتوں 16:25، 29:13 میں کہا گیا ہے کہ قیامت کے دن پوری طرح سے اپنا بوجھ اٹھائیں گے اور بیوقوفی سے جن جن کو گمراہ کیاتھا ان لوگوں کا بوجھ بھی اٹھائیں گے۔

لیکن ان آیتوں میں 2:134، 2:141، 2:281، 2:286، 3:25، 3:161، 4:111، 6:31، 6:164، 7:39، 7:96، 9:82، 9:95، 10:8، 10;52، 17:15، 35:18، 39:7، 39:24، 39:48، 39:51، 40:17، 45:22، 52:21، 53:38، 74:38 کہا گیا ہے کہ ایک دوسرے کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا۔

ایک دوسرے کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا ، یہ اسلام کا بنیادی عقیدہ بھی ہے۔

یہ نہ سمجھنا کہ مندرجہ بالا آیت اس بنیادی عقیدے کے خلاف ہے۔

کیونکہ ایک دوسرے کو اگرگمراہ کرے تو گمراہ ہو نے والے کا بوجھ اس کو اٹھانا ہی پڑے گا۔یہ دوسروں کا بوجھ اٹھانا نہیں ہوگا، یہ اسی کا بوجھ ہو گا جو اس نے گمراہ کیا تھا۔ اس لئے جو آیتیں کہتی ہیں کہ ایک کا بوجھ دوسرا نہیں اٹھائے گا ، یہ ان آیتوں کے برخلاف نہیں ہے۔

اس کو حاشیہ نمبر 265میں دیکھئے!

253۔ نئی سواریوں کے بارے میں پیشنگوئی

اس آیت 16:8 میں انسانوں نے اس وقت جو استعمال کیا کر تے تھے گھوڑے، خچر، گدھے وغیرہ سواریوں کے متعلق کہنے کے بعد فرماتا ہے کہ اللہ ایسی چیزوں کو پیدا کر ے گا جو تم نہیں جانتے۔

نبی کریم ؐ کے زمانے کے بعد مختلف قسم کی سواریوں کو تخلیق کر نے کے بارے میں پہلے ہی سے پیشنگوئی کی گئی ہے۔ اس سے بھی ہم جان سکتے ہیں کہ یہ قرآن اللہ ہی کا کلام ہے۔

252۔ بغیر شک کی موت

اس آیت 15:99 میں کہا گیا ہے کہ یقین آنے تک اپنے رب کی عبادت کرو۔

یقین ایک پائیداری چیز کو بھی کہتے ہیں۔

اور دل میں پیداہونے والے اعتقاد کو بھی کہتے ہیں۔

اپنے آپ کو صوفی کہلانے والے مرشد کی بھیس میں موجود بعض افرادکہتے ہیں کہ یقین کے لفظ کو دوسرے معنی ہی میں لینا چاہئے۔

وہ یہ کہہ کر سادہ لوح انسانوں کو دھوکہ دے رہے ہیں کہ ہمیں اعتماد پیدا ہوگیا، اس لئے ہمیں عبادت کر نے کی ضرورت نہیں۔وہ اسلام کی کوئی عبادت نہیں کرتے اور اسلام کی کسی احکام کی پابندی نہیں کرتے۔ اس آیت کو دلیل بناکر اپنے ان کرتوتوں کوروا رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

لیکن اس آیت کا مطلب وہ نہیں ہے جو یہ لوگ کہتے ہیں۔

اپنی اس قوم میں بے حد مستحکم یقین رکھنے والے نبی کریم ؐ نے بھی اپنی آخری دم تک اللہ کی عبادت کیا کر تے تھے۔ اسی طرح بہترین قوم کے اصحاب رسول نے بھی مرنے تک اللہ کی عبادت کیا کرتے تھے۔ان میں سے کسی نے نہیں کہا کہ ہمیں یقین پیدا ہو گیا ، اس لئے ہمیں عبادت کر نے کی ضرورت نہیں۔

اس لئے اس کویہی مطلب لینا چاہئے کہ یقینی واقعہ یعنی کہ موت آنے تک ۔

دنیا میں کوئی بھی انسان جو انکارہی نہیں کر سکتا و ہ یقینی بات صرف موت ہے۔ اس لئے موت کی طرف اشارہ کر نے والی ایک اور لفظ کی طرح ہی یقین کو عرب لوگ استعمال کر تے تھے۔ آج بھی اس کو اسی طرح استعمال کیا جاتا ہے۔

آیت نمبر 74:47 میں کہا گیا ہے کہ برے لوگ کہتے تھے ، یقین کے آنے تک ہم گناہوں میں ڈوبے ہوئے تھے۔ اس آیت میں یقین کو موت کے سوا دوسرا معانی دے ہی نہیں سکتے۔

صحابی رسول عثمان بن مضعون کو جب موت آئی توانہیں موت آگئی کہنے کے بجائے نبی کریم ؐ نے کہا کہ انہیں یقین آگیا۔ (دیکھئے: بخاری:1243)

251۔ ادب سے چلنے کا حکم

ان آیتوں میں 15:88، 17:24، 26:215 انسانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ اپنے بازو جھکائے رکھو۔

یہ عجز کے لئے کہا ہوا لفظ ہے۔

پرندے جب اپنے بازو پھیلا تے ہیں تو اونچائی کی طرف جاتے ہیں۔ اور جب جھکاتے ہیں تو نیچے کی طرف آتے ہیں۔ اس لئے بازو پھیلانا غروری کے لئے اور بازو جھکانا انکساری کے لئے عربی زبان میں استعمال کیا جا تا ہے۔

More Articles …