Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

265۔ ایک کا بوجھ دوسرا نہیں اٹھا سکتا

ان آیتوں میں 2:134، 2:141، 2:281، 2:286، 3:25، 3:161، 4:111، 6:31، 6:164، 7:39، 7:96، 9:82، 9:95، 10:8، 10:52، 17:15، 34:65، 35:18، 39:7، 39:24، 39:48، 39:51، 40:17، 45:22، 52:21، 53:38، 74:38 کہا گیا ہے کہ ایک کا گناہ دوسرا کوئی اٹھا نہیں سکتا۔

یہ اسلام کی بہت بڑی بنیادی عقیدہ ہے۔ اسی بنیاد پر عیسائی مذہب اسلام سے بالکل جدا ہے۔

سب لوگ گناہ گار پیدا ہو کر ان گناہوں کو عیسیٰ نے اٹھالیا، اس عقیدے کو اسلام انکار کر تا ہے۔

اسلام کہتا ہے کہ ’’اگر کوئی گناہ کرے تو وہ گناہ اس کے کرنے والے پر ہی ہوگا۔ اگر آدم ؑ گناہ کریں تو آدم کے اولاد اس کے لئے ذمہ دار نہیں ہوسکتے۔ اس لئے پیدا ہو تے وقت ہی کوئی گناہ گا ر پیدا نہیں ہوتا۔‘‘

اسلام اس کا بھی انکار کر تا ہے جو عیسائی کہتے ہیں کہ سب لوگوں کے گناہوں کا بار اٹھانے کے لئے عیسیٰ کو قربان کیا گیا۔

دوسروں سے عائد کردہ گناہوں کے لئے اس گناہ میں شامل نہ ہونے والے شخص کو قربان کرنا اسلای بنیاد کے خلاف ہے۔

مرے ہوئے رشتہ داروں کے لئے یا دوسروں کے لئے ، سوائے اس کے جو اللہ اور اس کے رسول نے مستثناء کی ہو، ہم نیکیاں کر کے انہیں پہنچا نہیں سکتے۔ اس بات کے لئے بھی یہ آیت سند ہے۔

عیسیٰ نے دوسروں کے گناہ کے لئے قربان نہیں ہوئے،اسے جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 456دیکھیں!

264۔ اسرائیلوں کے بارے میں وعدہ

اسرائیلوں نے گزشتہ زمانے میں دو باربہت بڑی حکمرانی پائی تھی اور پھر دشمنوں کے ذریعے وہ لوگ تتر بتر کردئے گئے تھے۔اس کو یہ آیتیں 17:4-8 کہتی ہیں۔

آج اسرائیل بہت بڑے طاقت کے حامل ہیں، اس کو اس آیت کے خلاف نہ سمجھیں۔پھر انہیں بہت ہی مضبوط طاقت دی گئی ہے، اس کے بارے میں تعجب کرنے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ ان آیتوں کے درمیان وہ پیشنگوئی بھی موجود ہے کہ وہ لوگ اچھی حالت کو پہنچیں گے۔ ’’تمہارا رب تم پر رحم کر ے گا‘‘ اس جملے سے ہم جان سکتے ہیں۔

اس طرح اقتدار عطا کر تے وقت اگر وہ حد سے تجاوز کر جائیں تو ان لوگوں کو بربادی کا سامنا کر نا پڑے گا۔ ان سے زیادہ طاقتوروں کوان کے خلاف وہ ان پر مسلط کر دے گا۔ ’’اگر تم پھر جاؤگے تو ہم بھی پھر جائیں گے‘‘اس جملے کے ذریعے ہم اس کو جان سکتے ہیں۔

ہٹلر کے زمانے میں اور اس سے پہلے رومی شہنشاہیت کے ذریعے اور اس سے پہلے اسلامی حکومت کے ذریعے وہ سزا دئے گئے۔ اس طرح پیشنگوئی کی گئی ہے کہ اب حد سے گزرنے والے اسرائیلوں کے خلاف زورآور لوگ مسلط کئے جائیں گے۔ جب اللہ چاہتا ہے تو وہ ضرور یہ تکمیل کو آکر رہے گی۔

263۔ نبی کریم ؐ کی آسمانی سفر

ایک رات میں مسجد حرام ، مکہ سے یروشیلم کی مسجد اقصیٰ تک نبی کریم ؐ کولے جا یا گیا، اسی واقعہ کو اس آیت 17:1 میں اللہ فرماتا ہے۔

نبی کریم ؐ نے اس کو اور زیادہ تفصیل کے ساتھ فرمایا ہے کہ بیت المقدس سے آسمان کی طرف آپ کولے جایا گیا، ہر آسمان سے گزرتے وقت اللہ کی بے شمار برہان کو دیکھا، اللہ کو آمنے سامنے تو نہیں دیکھا، پر اس سے ہمکلام ہوا، اسی وقت اللہ نے پانچ وقت کی نماز کو فرض کیا۔

اس کے بارے میں پوری طرح سے جاننے کے لئے بخاری کی حدیث 349 اور3887 دیکھئے!

کیا ایک رات میں سات آسمانوں سے گزر کر مختلف دلائل کو دیکھ کر واپس آسکتے ہیں؟

اگر ایسا ہو تو کتنی رفتار سے سفر کرنا چاہئے تھا؟

اتنی رفتار سے سفر کر نے کو کیا انسان کا جسم برداشت کر سکتا ہے؟ ایسے کئی سوالات اس سے پیدا ہو سکتے ہیں۔

یہ سچ ہے کہ اس میں کوئی بات انسان سے ممکن نہیں ۔اور یہ ہرگز ممکن نہیں کہ اس سفر کو نبی کریم ؐ نے خود ہی اختیار کیا ۔

پیدا کر نے والے اللہ کی طرف سے یہ سفر واقع ہوئی ہے۔ جو وہ چاہتا ہے اس کو کر نے والا اللہ ہی ہے۔ یہی ممکن ہے، یہ اتنا ہی ہوسکتا ہے ، یہ ممکن نہیں ہو سکتا ، اس حالت میں رہنے والا اللہ نہیں ہوسکتا۔

آسمانی سفر کے بارے میں کہنے والی اس آیت میں کہا گیا ہے کہ اپنے عبد محمد نبی کو ایک رات میں لے جا نے والا کمزوریوں سے پاک ہے۔

اس جملے سے ہم جان سکتے ہیں کہ اللہ سے سب کچھ ہو سکتا ہے، اس کے بارے میں کہنے کے لئے ہی اللہ نے یہاں فرمایا ہے۔ ’’اس کو کر نے والا اللہ، میں ہی ہوں‘‘ کہہ کر سب شکوک کا منہ بند کردیتا ہے۔

اللہ کی طرف سے جبرئیل نے ایک ہی لمحہ کے اندر اللہ کا حکم لے آتے ہیں، اس کو ہم مانتے ہیں۔ وہاں سے یہاں ایک ہی لمحہ کے اندر فرشتہ آنے کے بجائے یہاں رہنے والے آسمان کولے جائے گئے۔دونوں کی بنیاد ایک ہی ہے۔

وہ فرشتہ ہو نے کی وجہ سے روشنی کی رفتار سے یا روشنی سے بڑھکر بھی تیزی سے جا سکتے ہیں۔ لیکن محمد نبی تو فرشتہ نہیں، وہ توایک انسان ہیں۔کیا انسان کو اتنی طاقت آسکتی ہے ؟ اس شک کا جواب معراج کے حدیث میں موجود ہے۔

نبی کریم ؐ کوفرشتے جب لے جانے کے لئے آئے تو براق نامی ایک سواری بھی ساتھ لائے تھے۔اس کو بخاری کی حدیث3887اور چند حدیثوں میں بھی کہا گیا ہے۔

اس کی جسامت کے بارے میں وہ حدیث کہتی ہے کہ وہ گھوڑے سے تھوڑاچھوٹا اور خچر سے تھوڑا بڑا تھا، اور جہاں تک ہماری نظر جاتی ہے وہاں تک اس کا ایک قدم ہوتا تھا۔

ایک گھوڑے کے جسامت میں رہنے والی ایک سواری زیادہ سے زیادہ ایک میٹر تک ہی قدم اٹھا سکتی ہے۔ نظر جانے کی حد تک وہ قدم اٹھاتی ہے تو وہ قدم نہیں ہوسکتا۔ وہ اڑنے کی طاقت کی طرف اشارہ ہے۔ نظر جہاں تک جاتی ہے وہاں تک قدم اٹھاتی ہے تو اس کا مطلب روشنی کی رفتار ہے۔

برقی طاقت کے ذریعے تیزی سے چلنے والی سواری کو انسان خود بنا سکتا ہے تو اس سے بھی طاقتور بے حد تیزی سے چلنے والی سواری کو پیدا کرنا اللہ کے لئے بالکل آسان ہے۔ اس کے بغیر بھی اللہ آسمان تک لے جاسکتا ہے، اس کے باوجود ہمیں بھروسہ دلانے کے لئے یہ انتظام کیا ہے۔

براق کا معنی ہے بجلی۔ یہ نام خود ثابت کر تی ہے کہ وہ روشنی کی تیزی کی طرح چلنے والی سواری ہے۔

روشنی کی تیزی سے اگر سفر کریں تو ایک رات میں آسمانی دنیا تک جا کر آنا ممکن ہی ہے۔ اس تیزی سے چلنے والی سواری کو انسان دریافت نہ کر نیکی وجہ سے ایسا معلوم ہوتا ہے یہ نا ممکن ہے۔

تیزی سے چلنے والی سواری بھی ہو تو اس تیزی سے انسان اگر سفر کرے تو یہ شک پیدا ہوسکتا ہے کہ اس کا دل پھٹ کر چور چور ہوجا ئے گا۔

یہ سچ ہے کہ آسمانی خلاء میں سفر کر نے والے کا دل سکڑ جائے گا۔ اس کو قرآن نے بھی واضح کی ہے۔

(اس کے بارے میں جاننے کے لئے آیت نمبر 6:125 اور حاشیہ نمبر 72 دیکھیں!)

اگر اللہ چاہے تو دل پھٹ کر چور ہوئے بغیر بھی لے جا سکتا ہے ، اس کے باوجود انسان آسانی سے ماننے کے لئے آسمانی سفر پر لے جانے سے پہلے نبی کریم ؐ کے دل کو فرشتوں کے ذریعے شق کر واکراللہ نے چند تبدیلیاں کیں۔

اس کو بخاری کی حدیث 349 اور 3207وغیرہ میں کہا گیا ہے۔

اس میں یہ بھی شامل ہوسکتا ہے کہ تیزی سے سفر کر تے وقت متاثر ہوئے بنا حفاظت کا انتظام ہو۔

یعنی تیزی سے سفر اختیار کر تے وقت نبی کریم ؐ کواثر انداز ہوئے بغیر ان کے دل میں اللہ نے مناسب انتظامات کردیا، اس لئے ان سے اس رفتار کو برداشت کرنا ممکن ہوگیا۔

اللہ کی قدرت کو جانتے ہوئے اس پر بھروسہ کر نے والے لوگوں کے لئے یہ ایک معمولی چیز ہے۔

گمراہ لوگوں کا ایک گروہ معراج کا انکار کر تے ہیں۔ ان کا انکار کیا صحیح ہے ؟ اس کو بھی ہم جان لینا چاہئے۔

مکہ سے یروشیلم تک لے جانے کی بات ہی قرآن میں کہا گیا ہے۔ وہاں سے انہیں آسمان تک لے جانے کی کوئی بات قرآن میں نہیں ہے۔ اس لئے ان کا کہنا ہے کہ یروشیلم جانے کے حد تک ہی ہمیں ماننا چاہئے۔

آسمانی سفر انہیں سمجھ میں نہیں آئی، اسی لئے اگر وہ انکار کرتے ہیں تو مکہ سے یروشیلم کے سفر کو بھی انہیں انکار کر نا چاہئے۔ انسانی عقل کے لئے وہ بھی ناممکن ہی ہے۔

اگر وہ اس لئے انکار کرتے ہیں کہ قرآن میں جو کہا گیا ہے اسی کو ہم مانیں گے، حدیث میں جو کہا گیا ہے اس کو نہیں مانیں گے تو وہ جان لیں کہ نبی کریم ؐ کی احادیث بھی وحی ہی ہے۔ اس کو جاننے کے لئے ان حاشیوں میں 36،39، 50، 55، 56، 57، 60، 67، 72، 105، 125، 127، 128،132 ، 164، 244، 255، 256، 258، 267، 318، 350, 329، 352، 430درج شدہ باتوں کو پڑھ کر معلوم کر لیجئے۔

مزید یہ کہ آسمانی سفر کے بارے میں قرآن مجید میں بھی کہا گیا ہے۔ اس کو حاشیہ نمبر 267، 315، 362 وغیرہ میں ہم نے تشریح کی ہے۔

262۔ ایک آیت کی تشریح ایک اور آیت

اس آیت 16:118 میں کہا گیا ہے کہ یہودیوں کو کونسی چیز حرام کی گئی تھی اس کو ہم نے پہلی ہی واضح کر دی ہے۔

قرآن مجید کی آیت 6:146 میں جو تفصیل فرمایا گیا تھا اسی کو یہاں اللہ کہتا ہے کہ ہم ’’پہلے ہی بتا چکے ہیں‘‘۔

261۔ مجبوری کی حالت میں زبان سے انکار کرنا

اس آیت 16:106 میں کہا گیا ہے کہ مجبوری کی حالت میں اگر کوئی شخص ایمان کے خلاف الفاظ کہہ دے تو وہ معاف کردیا جائے گا۔

جھک جانے کے لئے یادوہرا بھیس بدلنے کے لئے یاحقیر سی آمدنی کے لئے یا غلط عقیدے کو اختیار کر نے کے لئے اسلام میں کوئی جگہ نہیں۔

لیکن ایک مجبورانسان ایمان کو دل میں گہرے انداز میں جذب کیا ہوا ہے، اگر اس کے خلاف کچھ کہہ کر اپنی جان کو اور مال کو کیا بچا لے سکتے ہیں؟ یہ آیت اسکی دلیل ہے کہ بچا لے سکتے ہیں۔

فسادات کے ماحول میں جان کی حفاظت کے لئے، اور مال کی حفاظت کے لئے دل کے ایمان میں ذرہ بھر ذہنی اضطراب لائے بغیر صرف منہ سے اس ایمان کے خلاف بات کر دینا گناہ نہیں ہو گا۔ یہ آیت اسی تناتنی کے زمانے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

260۔ خلاء میں ٹہرنے والے پرندے

ان آیتوں 16:79، 24:41، 67:19 میں پرندوں کے بارے میں کہتے وقت کہا گیا ہے کہ وہ آسمان میں مسخر کئے ہوئے ہیں اور اس کو اللہ ہی نے مسخر کیا ہوا ہے۔

اس میں بہت بڑا ایک سائنسی حقیقت مضمر ہے۔ اس کو ہم جانتے ہیں کہ زمین اپنے آپ گردش کر رہی ہے،۔ اپنے آپ ہی نہیں بلکہ وہ سورج کو بھی ایک سال میں گردش کر کے ختم کر تی ہے۔ سورج کووہ گھومنے کے لئے اس کی رفتار فی گھنٹہ 1,07,000 کلو میٹر ہے۔

فی گھنٹہ 1,07,000 کلو میٹرکی رفتار سے زمین جب گھومتی ہے تو زمین کے گھومنے کی طرف رہنے والے پرندے زمین سے ٹکرانا چاہئے۔ لیکن وہ ٹکراتے نہیں۔

زمین کی کشش کی طاقت ایک مقررہ فاصلے تک رہنے کی وجہ سے آگے کی طرف رہنے والے پرندوں کو ڈھکیلتے ہوئے اور پیچھے کی طرف رہنے والے پرندوں کو کھینچتے ہوئے زمین سرکتی ہے۔ آگے کی طرف اڑنے والے پرندوں کو ڈھکیلے بغیر اگر یہ زمین تیزی سے چلے تو کوئی بھی پرندہ اڑ نہیں سکتا۔ زمین سے ٹکرا کر مرجائے گا۔

اس حقیقت کو قرآن مجید بہت ہی خوبصورت انداز سے کہتا ہے۔ یہ بھی ایک ناقابل انکار دلیل ہے کہ یہ کلام اللہ ہی ہے۔

259۔ شہد کی مکھیاں اور شہد

ان آیتوں 16:68,69 میں کہا گیا ہے کہ شہد کیسے پیدا ہوتی ہے۔

اس میں چار سائنسی حقائق بتائی گئی ہیں۔

ماہر حیا تیات کہتے ہیں کہ شہد کی مکھیاں شہد کی تلاش میں کتنے بھی فاصلہ پرچلے جائیں کسی بھی پریشانی کے بغیر اپنے چھتے پر واپس آجاتی ہیں۔

اس آیت میں کہا گیا ہے کہ اللہ نے شہد کی مکھیوں کوالہام دلا یا ہے کہ تم آسانی سے جا کر پلٹو۔

قرآن نے اسی زمانے میں کہہ دیا کہ شہد کی مکھیاں کتنے بھی فاصلہ پر چلا جائے وہ آسانی سے واپس آجائے گی اور اس کے مطابق شہد کی مکھیوں کو وجدان دیا گیا ہے۔

(اس کے متعلق حاشیہ نمبر 474 میں واضح کیا گیا ہے)

دوسری بات یہ کہ پہلے زمانے میں مانا جاتا تھا کہ شہد کی مکھیاں پھولوں اور پھلوں میں موجود رس کو چوس کر اس کو لے آکر اپنی چھتوں میں جمع کر لیتی ہیں اور اسی چھت میں شہد تیار کی جاتی ہے۔

آج کے سائنسدانوں کا انکشاف ہے کہ وہ غلط ہے۔ شہد کی مکھیاں اس رس کو غذا کے طور پرہی استعمال کر تے ہیں۔ شہد کی مکھیوں کے پیٹ میں ہی وہ رس شہد بنتا ہے ، اور شہد بننے کے لئے وہاں کوئی کارخانہ نہیں ہے۔

اس حقیقت کو بھی قرآن اس آیت میں کہتا ہے۔

’’پھولوں اور پھلوں سے تم کھاؤ‘‘اس طرح کہنے کے ذریعے اس کو وہ غذا کے طور پر ہی استعمال کر تے تھے، اس حقیقت کو قرآن بالکل واضح طور پر کہتا ہے۔

تیسری بات یہ کہ شہد کی مکھیاں پھولوں سے غذا کے طور پر استعمال کیا ہوا وہ رس شہد کی مکھیوں کے پیٹ میں کیمیائی تبدیلی پاکر شہد بن کر ظاہر ہو تا ہے۔

شہد کی مکھیوں کی فضلات خارج ہو نے کے لئے ایک سوراخ کے سوا شہد نکلنے کے لئے ایک اور سوراخ بھی شہد کی مکھیوں میں بنایا گیا ہے۔ اس سوراخ کے ذریعے نکلنے والاشہد ہی شہد کی مکھیوں کے چھت میں جمع کیا جاتا ہے۔

اس کو آج کے سائنسدانوں نے ثابت کیا ہے۔

لیکن چودہ سو سال کے پہلے ہی نازل ہو نے والے قرآن میں یہ کہنے کے بجائے کہ شہد کی مکھیاں کھانے کے بعد ان کے منہ سے شہد نکلتا ہے ، اس طرح کہتا ہے کہ ان کے پیٹوں سے شہد نکلتا ہے۔

قریبی زمانے میں تفتیش کی ہوئی حقائق کو چودہ سو سال پہلے رہنے والا کوئی بھی انسان کہنا ممکن نہیں۔

چوتھی بات یہ ہے کہ شہد میں موجود طبی صفت کو ہر قسم کا طبی طبقہ قبول کرتا ہے۔ اس کو بھی اس آیت میں کہا گیا ہے۔

قرآن مجید انسان کے الفاظ نہیں ہیں۔ اس کو بالکل واضح طور پر یہ آیت احساس دلاتا ہے۔

258۔ قرآن کے سوا ایک اور وحی

اس آیت 66:3 میں نبی کریم ؐ نے ایک خبر کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اللہ ہی نے مجھے یہ خبر دی۔

(اس سلسلے میں ایک اور خبر حاشیہ نمبر 272 میں دیکھئے!)

نبی کریم ؐ اور ان کی بیوی کے درمیان واقع ہونے والی ایک گفتگو کے بارے میں اللہ نے یہاں بیان کی ہے۔

نبی کریم ؐ نے ایک راز کی بات اپنی بیوی سے کہاتھا۔ ان کی بیوی راز کی حفاظت نہ کر تے ہوئے دوسرے سے کہہ دیتے ہیں۔ کوئی نہ جاننے والی وہ بات نبی کریم ؐ کو معلوم ہوئی تو انہوں نے اپنی بیوی سے دریافت کر تے ہیں۔ ان کی بیوی نے پوچھا: یہ بات آپ سے کس نے کہا؟ نبی کریم ؐ نے جو جواب دی تھی وہی بات اس آیت میں کہا گیا ہے۔

نبی کریم ؐ نے یہی جواب دی تھی کہ ہر چیز کا جاننے والا، بہت ہی خوب جاننے والا اللہ ہی نے مجھے یہ خبر دی تھی۔

یعنی نبی کریمؐ کواللہ نے کہہ دیا کہ تمہاری بیوی تمہارے راز کی حفاظت نہ کرتے ہوئے دوسروں سے کہہ دیا۔اسی بات کو یہ آیت براہ راست کہتی ہے۔

اس میں اسلام کا اہم عقیدہ بھی شامل ہے۔ صرف قرآن ہی اللہ کا پیغام ہے، قرآن کے سوائے دوسرا کچھ بھی اللہ کا پیغام نہیں ہے، اس طرح کہنے والوں کو یہ آیت انکار کرتی ہے۔

اللہ نے جو تعلیم دی وہ صرف قرآن ہی ہے، اس دعوے کے مطابق یہ بات بھی قرآن میں موجود رہنا چاہئے تھا۔قرآن میں یہ بات کہیں پائی نہیں گئی کہ تمہاری بیوی نے اس طرح کہہ دیا ہے۔

یعنی یہ آیت اسی وقت سچ ہو سکتی ہے کہ اس خبر کو قرآن کے سوائے دوسری ایک وحی کے ذریعے اللہ نے انہیںآگاہ کی ہو۔

یہ معانی بالکل غلط ہے کہ قرآن کے سوائے دوسرا کوئی پیغام نہیں، اس کے لئے یہ آیت سند ہے۔

اس میں ایک اور بات بھی قابل غور ہے۔ اس آیت میں دینی احکام کچھ بھی نہیں۔ انسانوں کے قابل کوئی بھی نصیحت نہیں ہے۔ شوہر بیوی کے درمیان ہونے والی یہ ایک گفتگو ہی ہے۔ وہ لوگ جوراز کی بات کئے تھے وہ بھی دین کے تعلق سے نہیں تھا۔ کیونکہ دینی تعلق سے کوئی بات راز میں رکھنے کو اجازت نہیں ہے۔

امت مسلمہ ہو یا غیران کے لئے بے ضرورت کسی چیز کواللہ قرآن میں بیان نہیں کرے گا۔ غیر ضروری باتوں کو اللہ قرآن میں ہرگز نہیں کہے گا۔

خالق کو معلوم ہے کہ قرآن کے سوا دوسرا کوئی وحی نہیں کہنے والا گروہ بعد کے زمانے میں پیدا ہوگا۔ایسا معلوم ہو تا ہے کہ یہ کہنے ہی کے لئے کہ قرآن کے سوا دوسرا وحی بھی ہے،اللہ نے اس آیت کو اتارا ہے۔

قرآن کے احکام کی پیروی کر نے کے ساتھ نبی کریم ؐ کی رہنمائی کی بھی پیروی کرنا چاہئے ، اس کے بارے میں اور زیادہ جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 18، 36، 50،39، 55، 56، 57، 60، 67، 72، 105، 125، 127، 128،132 ، 154،164،184، 244، 255، 256، 286، 318، 350، 352، 358، 430وغیرہ دیکھئے!

More Articles …