Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

‏273۔ معرفت اور جہالت

‏ان آیتوں (18:60-82) میں موسیٰ نبی نے خضر سے تعلیم پانے کا واقعہ کہا گیا ہے۔ 

ان آیتوں میں کہا گیا ہے کہ موسیٰ نبی جو تین باتیں نہیں جانتے تھے ا س کو خضر جانتے تھے۔ اس کو چند افراد اپنی غلط عقیدے کے لئے دلیل بنا لیا ‏ہے۔ 

موسی نبی ایک بڑے رسول رہنے کے باوجود ، بعض معجزے دکھانے کے باوجودانہیں جو معلوم نہیں تھا وہ غیبی علم خضر کو حاصل تھا۔ وہ لوگ کہتے ‏ہیں کہ خضراپنی ریاضت کی قوت کے ذریعے جو علم پایا تھاوہ موسیٰ نبی کی وحی کے ذریعے حاصل کردہ علم سے بڑھ کر ہے۔ 

اور آنکھوں کودکھائی نہ دینے والی تمام باتیں اس معرفت کے ذریعے معلوم ہوجاتی ہیں۔ اللہ کے ذریعے وحی کا انتظارکئے بغیر سب کچھ معلوم کر ‏سکتے ہیں۔اسی کو وہ لوگ معرفت کہہ کر بحث کر رہے ہیں۔ 

ان کا وہ دعویٰ قابل قبول نہیں ہے۔

اس واقعہ کے پس منظر کو نبی کریم ؐ نے واضح کی ہے۔ 

موسیٰ نبی نے اسرائیلوں کے درمیان وعظ کر نے کے لئے اٹھے۔ ان سے پوچھا گیا کہ’’ انسانوں میں بہت زیادہ جاننے والا کون ہے؟ ‘‘انہوں نے ‏یہ کہنے کے بجائے کہ ’’اللہ ہی سب کچھ جاننے والاہے‘‘، انہوں نے کہہ دیا کہ’’ میں ہی زیادہ جاننے والاہوں۔‘‘ اس لئے اللہ ان پر غصہ ہوا۔ اللہ ‏نے ان سے کہا کہ’’ دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ پر میرا ایک بندہ ہے، وہ تم سے زیادہ جاننے والا ہے۔‘‘ موسیٰ نبی نے سوال کیا کہ’’ انہیں میں کیسے ‏پہچانوں؟‘‘ ان سے کہا گیا کہ’’ ایک برتن میں ایک مچھلی ڈال لو۔ اس مچھلی کو تم جہاں کھو دیتے ہو اسی جگہ پر وہ ہوگا۔ ‘‘

موسیٰ نبی اور ان کے ساتھ ایک خدمتگار یوشع بن نون نے برتن میں مچھلی لئے ہوئے روانہ ہوئے۔ ایک چٹان میں سر رکھ کر ایسے ہی سو گئے۔ اس ‏وقت برتن میں موجود مچھلی نے اچھل کر دریا میں چلی گئی۔ 

اسی طرح نبی کریم ؐ نے تشریح کی۔ (دیکھئے بخاری کی احادیث: 122، 3401، 4725، 4726۔)

اس کے متعلق نبی کریم ؐ نے پھر سے کہنے لگے:

اس مخصوص جگہ پر موسیٰ نبی نے خضر کو پالیا۔ ان کو موسیٰ نے سلام کیا۔ خضر نے پوچھا کہ’’ تمہارے علاقے میں سلام کر نے کی دستور کیسی ہے؟ ‏‏‘‘تو موسیٰ نبی نے کہا کہ’’ میں ہی موسیٰ ہوں۔‘‘ خضر نے پوچھا کہ’’ کیا تم ہی وہ موسیٰ ہو جو اسرائیل کی طرف بھیجے گئے؟‘‘ تو موسیٰ نبی نے ہاں ‏کہا۔(دیکھئے بخاری کی احادیث: 122، 3401، 4725، 4727)

خضر نے پوچھا کہ’’ تم یہاں کیوں آئے ہو؟‘‘تو موسیٰ نبی نے جواب دیا کہ’’ میں اس لئے آیا ہوں،جو تمہیں معلوم ہے اس کو مجھے سکھادیں۔‘‘ ‏خضر نے کہا کہ ’’تمہیں تو اللہ کی طرف سے وحی آتی ہے؟ اور تمہاری ہاتھوں میں تو تورات کی کتاب بھی موجود ہے!‘‘(دیکھئے بخاری کی ‏حدیث:4726)

وہ آیتیں کہتی ہیں کہ موسیٰ نبی کو جو معلوم نہیں تھا ان تین باتوں کو خضر جانتے تھے، اس کو دلیل بنا کروہ لوگ کہتے ہیں کہ خضرکومعرفت کا علم تھا اور ‏معرفت کے ذریعے سب کچھ جان سکتے ہیں، اس طرح دعویٰ کر نے والوں کے لئے ان حدیثوں میں انکار موجود ہے۔ 

موسیٰ نبی جب خضر کو سلام کیا تو انہوں نے پوچھا کہ تمہاری بستی میں سلام کر نے کا دستور کیسا ہے؟

یہ بات تصدیق کر تی ہے کہ خضرکویہ بھی معلوم نہیں تھا کہ آنے والے اللہ کے رسول ہیں اوراپنے ہی جیسا وہ بھی ایک مسلمان ہے۔ 

اس کے بعد موسیٰ کہتے ہیں کہ میں موسیٰ ہوں ، اس کو سن کر بھی خضر کو معلوم نہیں ہوسکا کہ وہ اللہ کے رسول ہیں۔ اسی لئے وہ پھر پوچھتے ہیں ، کیا تم ‏اسرائیل کےؑ طرف بھیجے گئے موسیٰ ہو؟ 

خضر پوچھتے ہیں کہ یہاں تم کس لئے آئے ہو؟

اگر ان کے پاس غیبی علم ہو تا تووہ موسیٰ نبی سے پوچھنے سے پہلے ہی کہنا چاہئے تھا کہ میرے پاس چند علم سیکھنے کے لئے ہی تم آئے ہونا؟

مندرجہ بالاتینوں واقعوں میں ایک واقعہ نیچے گرنے والی دیوار کو تھام کر سیدھا کرنا۔ 

موسیٰ نبی اورخضر ایک بستی میں گئے۔ بستی والوں سے کھانے کے لئے کچھ مانگا۔ ان آیتوں میں کہا گیا ہے کہ ان بستی والوں نے کھانا دینے سے انکار ‏کردیا۔وہ لوگ انہیں کھانا نہیں دیں گے، یہ پہلے ہی سے خضر کو معلوم نہیں ہوسکا۔ اگر معلوم ہو تا تو پہلی ہی سے انتظام کر تے ہوئے گئے ہوں ‏گے۔ اور ان بستی والوں سے کھانا نہیں مانگے ہوں گے۔ 

موسیٰ نبی نے کہا کہ میں آئندہ کوئی سوال نہیں کروں گا، پھر بھی انہوں نے تین بار وعدہ خلافی کیا۔اگر خضر کو پہلے ہی سے معلوم ہو تا کہ موسیٰ نبی ‏وعدہ نبھائیں گے نہیں توپہلی ہی بار ان کو واپس بھیج دینا چاہئے تھا۔ اس طرح نہ کیا بلکہ موسیٰ نبی کی بات کو یوں ہی مان کردھوکہ کھاگئے۔ 

اوپر کا جو واقعہ ہے وہ اسی کے لئے دلیل ہے کہ غیبی علم جاننے کی کوئی معرفت ان کے پاس نہیں تھی۔ 

تو وہ تینوں غیبی واقعے صرف خضر کو کیوں معلوم ہوئیں؟ کیوں موسیٰ نبی کومعلوم نہ ہوسکا؟ 

ان آیتوں پر ذرا غور کریں تو ہی اس سوال کا جواب معلوم ہو جائے گا۔ 

قرآن کہتا ہے کہ تینوں واقعے ختم ہو نے کے بعد خضر کہتے ہیں کہ ’’اس کو میں نے خود نہیں کیا۔اللہ جو کہنے کو کہا وہی میں نے کی۔‘‘

موسیٰ نبی نے جو کہا تھا کہ’’ میں ہی بہت جاننے والاہوں‘‘ اسکو سبق سکھانے کے لئے ہی ان تین باتوں کو جو موسیٰ نبی نہیں جانتے تھے ، اللہ نے ‏اسے خضر کو سکھایا ۔ خضر کی اس جواب ہی سے ہم جان سکتے ہیں۔ 

اچھی کشتی کو چھیننے کے لئے بادشاہ کے آدمی آنے والے ہیں، اس کو اللہ نے آگاہ کر نے کی وجہ ہی سے اس کشتی کو نقصان پہنچایا گیا۔ 

نیچے گرنے کی حالت میں رہنے والی دیوار کے نیچے ایک خزانہ تھا۔ وہ دو نوں لڑکوں کا حق تھا، اللہ نے اس کو آگاہ کرنے کی وجہ ہی سے انہوں نے دیوار ‏کو سیدھا کیا۔ 

اس بستی والے کھانا نہیں دیں گے، اس کو اللہ نے آگاہ نہ کرنے کی وجہ ہی سے اس کو وہ لوگ جان نہیں سکے۔

ایک جوان لڑکا خود بھی بگڑ کر اپنے والدین کو بھی بگاڑنے کی کوشش کی، اس لئے اس کو قتل کیا گیا۔ اللہ کے حکم کے مطابق وہ بھی کردیتے ہیں۔ 

چنانچہ موسیٰ نبی کو نہ بتاتے ہوئے صرف خضرکو اللہ نے ان تین باتوں کا علم دے کر یہ بھی آگا ہ کر دیا کہ اس میں کس طرح عمل کر نا چاہئے ، اسی لئے ‏انہوں نے ویسا کر دکھایا۔ 

اس میں معرفت وغیرہ کچھ بھی نہیں ہے۔ 

اوپر جوحدیثیں پیش کی گئیں اس میں موسیٰ نبی نے خضر سے کہا کہ اللہ نے جو مجھے سکھایا اسی کو میں جانتا ہوں، تمہیں اللہ نے جو سکھایااس کو تم جانتے ‏ہو، یہ اور بھی مثبت کرتی ہے۔

نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ موسیٰ نبی اور خضر نے کشتی میں سفر کرتے وقت ایک چڑیا اپنی چونچ کے ذریعے دریا سے پانی کھینچا۔ اسے دیکھ کر خضر نے کہا: ‏اے موسیٰ ! اس دریا سے یہ چڑیا جتنا پانی پیا اس سے بھی بہت کم ہی اللہ کے علم سے ہم دونوں کی عقل ہوگی۔ (دیکھئے بخاری کی احادیث: 122، ‏‏3401، 4725)

اس میں کسی قسم کی کوئی معرفت نہیں ہے۔ اس کو خضر نے کتنی خوبصورتی سے واضح کردی ہے۔ 

اس واقعے کے متعلق مفسروں نے ایک اور غلطی کی ہے، اس کو بھی جانتے چلیں۔ 

چند مفسروں اور مترجموں نے لکھا ہے ،خضر نے جس کو قتل کیا وہ ایک بچہ تھا۔ اس سے کئی شکوک پیدا ہو تے ہیں۔ 

کہا گیا ہے کہ وہ بچہ بڑا ہو کر اپنے والدین کو گمراہ کر دیگا، اس لئے اس کو خضر نے قتل کردیا۔

مستقبل میں ایک انسان بڑا گناہ کریگا، اسلئے وہ اس گناہ کوکر نے سے پہلے اس کو قتل کردینا کیا اللہ کا عدل ہوسکتا ہے؟ ایک معصوم بچے کو قتل کر دینا کیا ‏انصاف ہے؟ایسا سوال اٹھ سکتا ہے ،اس سوال کے مناسبت سے کوئی جواب کوئی مفسرین دے نہیں سکا۔ 

اس لئے بچہ کہہ کر ترجمہ کر نے کے بجائے نوجوان کہہ کر اگر ترجمہ کیا جائے تو یہ سوال اٹھ نہیں سکتا۔اگر کہا جائے کہ وہ نوجوان اپنے والدین کو ہر ‏روز ستایا کر تا تھا اور انہیں کافر بنانے کے لئے ظلم کیا کرتا تھاتواس وقت اس کو سزا دینا اللہ کا عدل ہوگا۔ 

بچہ کہہ کر دوسرے لوگ اور نوجوان کہہ ہم نے جو ترجمہ کیا ہے اس جگہ میں (18:74)غلام کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ اس لفظ کے کئی معنی ہیں۔

غلام، خدمتگار، لڑکا، نوجوان اور ہم عمرجیسے کئی معانی ہیں۔ 

لڑکے کے معنی سے اس کے ناکردہ گناہ پر ایک شخص کو سزا دی گئی کہنے سے، نوجوان کے معنی سے اس کے کئے ہوئے گناہ پر سزا دی گئی کہنا ہی اللہ کے ‏عدل کے مناسب ہے۔ 

اس طرح معنی لینا حدیث سے ثابت ہے۔ 

ابن عمرؓ نے کہا کہ میں ایک غیر شادی شدہ، غلام، نوجوان رہا۔ (دیکھئے بخاری: 3739، 7031)

ابن عمرؓ نے کہا کہ میں ایک نوجوان ، غلام تھا۔ (دیکھئے بخاری کی حدیث: 6122)

ابوبکر کے بیٹے نوجوان اور غلام تھے۔ (بخاری: 5807)

نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ اس غلام کواس عورت سے نکاح کرو۔(بخاری: 3472)

حارثہ جب غلام تھے وہ جنگ میں مارے گئے۔(بخاری: 3982، 6550)

نبی کریم ؐ کے پاس خدمت کر نے والے یہودی غلام نے اسلام قبول کی۔(بخاری: 1356، 5657)

ان جگہوں میں غلام کے لفظ کو لڑکاکہنا بالکل نامناسب ہوگا۔

ان حدیثوں میں غلام کے لفظ کو نوجوان کا معنی دیا گیا ہے اسی طرح اوپر کی آیت میں پائی گئی لفظ کو بھی معنی دینا ہی ٹھیک ہوگا۔ 

بیعت اور معرفت وغیرہ اسلام میں نہیں ہے، اس کے بارے میں اور زیادہ جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 81، 182، 334وغیرہ دیکھئے!

‏272۔ اللہ نے جو اجازت دی اسے روکنا نہیں

‏اس 66:1آیت میں کہا گیا ہے کہ نبی کریم ؐ اپنی بیوی کی خوشنودی کے خاطر ایک چیز کو ترک کرلیا۔ اس کے متعلق کا واقعہ یہی ہے۔ 

عائشہؓ نے فرمایا:

نبی کریمؐ اپنی بیوی زینب بنت جحشؓ کے پاس جاتے وقت وہاں شہد پینے کے بعد ٹہرا کرتے تھے۔ حفصہ اور میں نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ ہم میں کسی کے ‏پاس بھی نبی کریم ؐ آئیں تو ان سے پوچھنا چاہئے کہ کیا آپ نے ببول کا گوند کو کھایاتھا؟ آپ کے پاس سے ہمیں گوند کی بدبو آرہی ہے؟ جیسے ہی آپ ‏نے زینب کے گھر سے شہد پی کر آئے تو ہم نے حسب تدبیر سوال کیا۔ اس پرآپ نے کہا کہ نہیں، میں تو زینب بنت جحش کے گھر سے شہد پی کر آیا ‏تھا۔ لیکن میں قسم کھاتا ہوں اب سے میں شہد نہیں پیوں گا۔ اور یہ بھی کہا کہ اس کے بارے میں کسی سے نہ کہنا۔ اس کے متعلق ہی یہ آیت ‏‏66:1نازل ہوئی ہے۔

بخاری: 4912، 6691

اللہ نے شہد کی اجازت دی ہے۔ اللہ کا حلال کیاہوا شہد اپنی بیویوں کی خوشنودی کے خاطر نبی کریم ؐ نے اپنے حد تک حرام کر لیا۔ اس کو سرزنش کر ‏تے ہوئے ہی یہ آیت اتری ہے۔ 

اگر نبی کریم ؐ نے اس طرح کہا ہوتا کہ کوئی آئندہ شہد نہ کھائیں تو وہ اللہ کا حلال کیا ہواچیز کو حرام ٹہرانا ہوجاتا۔ بلکہ نبی کریمؐ نے اپنے حد تک نہ ‏کھانے کی قسم کھائی تھی۔ یہ شک پیدا ہو سکتا ہے کہ یہ کیسے اللہ کا حلال کیا ہوا چیز کو حرام ٹہرانا ہو گا؟

کوئی شخص اپنی ناپسند چیز کواگر ترک کر دے تووہ دین میں گناہ نہیں ہے۔پھر بھی کوئی کھانے کی چیز پسندیدہ رہنے کے باوجود اس کو کسی وجہ سے ‏اپنے آپ پر حرام کر لیں تو وہ گناہ ہوگا۔ کیونکہ اللہ کا حلال کیا ہوا چیز کو ترک کر نے کی علامت اس میں پائی جاتی ہے۔ 

اس بنیاد پر ہی نبی کریمؐ کو اللہ نے اس آیت کے ذریعے تاکید کر تا ہے۔ 

ایک چیز کو حلال کر نا اور حرام کر نا اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ اللہ نے جس کو حلال کردیا ا س میں سے کسی چیز کو اللہ کا رسول بھی حرام نہیں ‏کرسکتا۔یہ یقینی بات ہے کہ سب کو حرام کئے بغیر اپنے حد تک بھی اللہ کا رسول حرام نہیں کرسکتا تو دوسروں کو یہ اختیار بالکل نہیں ہے۔

مسلمانوں میں موجود کئی دینی علماء نے اللہ جسے حرام نہیں کیا ان میں سے کئی چیزوں کو حرام کر دیتے ہیں۔ لوگ بھی اس کو مان لیتے ہیں۔ 

مثال کے طور پر کیکڑا، شارک مچھلی، وہیل مچھلی، جھینگاوغیرہ سمندری جاندار کوکسی دلیل کے بغیر دینی فیصلہ سنا دیا جا تا ہے کہ یہ تمام حرام ہیں۔اس ‏کو لوگ بھی مان لیتے ہیں۔ ان لوگوں کے لئے یہ آیت تنبیہ کر تی ہے۔ 

اسی طرح آدھے ہاتھ کا قمیص پہننا نہیں، پینٹ پہننا نہیں، کراف رکھنا نہیں، اور انگریزی پڑھنا نہیں، ایسے کئی فیصلے دین کے نام سے کہا جاتا ہے اور لو ‏گ اسے مان بھی لیتے ہیں۔ 

انہیں بھی یہ آیت بہت سخت تاکید کرتی ہے۔ جسے بھی کوئی کہے کہ یہ حرام ہے تو دریافت کرو کہ کیا اس کو اللہ نے فرمایا ہے یا اللہ کے رسول نے؟ ‏اگر ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہو تو اس کو حرام نہ سمجھنا ضروری ہے۔ 

اس کے بارے میں اور زیادہ جانکاری کے لئے حاشیہ نمبر 186 میں دیکھیں!

271۔ موت کے دریا کا دستاویزی لچھا

اس18:9 آیت میں غار میں ٹہرنے والوں کے بارے میں کہتے وقت غار والے کہنے کے بجائے اللہ نے غار اور کتبہ والے کہا ہے۔

اس سے معلوم ہو تا ہے کہ ان کی تاریخ کے ساتھ ایک کتبہ بہت ہی اہم مقام پایا ہے۔

کوئی ایک کتبہ انہوں نے رکھا ہوتا تواس کے لئے ہرگز ایسا کہا نہیں ہوگا۔ خاص کر ’’وہ کتبہ‘‘ کہنے کی وجہ سے وہ ایک اہم کتبہ ہی ہو سکتا ہے۔

وہ کتبہ ایک زمانے میں انکشاف ہو کر لوگوں کو ان میں موجود حقائق معلوم ہو نا چاہئے ، اسی لئے اللہ نے ایسا کہا ہوگا۔ اگر وہ کتبہ کسی کو نہ ملنا ہو تا تو ’’وہ کتبہ‘‘ کہہ کر اللہ اس کو اہمیت نہ دیا ہوتا۔

کئی سالوں سے دنیا کو نہ معلوم ہو سکا کہ وہ کتبہ کیا ہے؟لیکن اس کتبہ میں موجود خبریں اب منظر عام پر آچکی ہیں۔

’’موت کے دریا کا دستاویزی رول‘‘کے عنوان پر 1998واں سال کے ایک مہینے میں کئی بار بی بی سی دوردرشن سے اشاعت کی گئی تھی۔ اس میں جو خبریں سنائی گئی تھیں اس کو سن کر سب لوگ حیرت میں پڑ گئے۔

کہا جاتا ہے کہ اس واقعے کی پہلی اشاعت 1993 سال ہی میں دکھایا گیاتھا۔

اس کی ویڈیوکی مناظر onlinepj.inکے ویب سائٹ میں اشاعت کیا گیا ہے۔ اس کا پتہ ہے:

https://onlinepj.in/index.php/videos/online-videos/kadanthu-vantha-paathai/savukadal-sasanangal

اس کی تفصیل یہ ہے:

1947میں ایک دن ایک عرب چرواہا نے ایک بکری کے بچے کو جو گم ہوگئی تھی تلاش کر تے ہوئے موت کے دریا کنارے جورڈان کے پہاڑی علاقے کی طرف چل نکلا۔ اس حصہ کو کمران پہاڑی علاقہ کہاجاتا ہے۔

بکری کے بچے کو تلاش کر تے ہوئے وہ چرواہا ایک غار کے اندر گیا، وہاں مٹی کے برتنوں میں لپٹ کر رکھے ہوئے کھال میں دستاویز ات کو دیکھا۔ اس میں سے چند لے آکر اس نے اپنے باپ کے پاس جو ایک موچی تھا دکھایا۔دوسرے ہی دن باپ اور بیٹے دونوں مل کر غار میں موجود تمام دستاویزات کو سمیٹ کر گھر لے آگئے۔

اس لڑکے کے باپ نے اس پرانے کھال کو اپنے جوتے کے پیشے کے لئے استعمال کر لینا چاہا۔ ان کھالوں پر ہبر زبان میں کچھ لکھا ہوا تھا۔ ان الفاظ کا معانی نہ سمجھتے ہوئے اس کو اس زمانے میں جورڈان حکومت کے تحت رہنے والے مشرقی یروشیلم کے ایک قدیم کتاب کی دوکان والے کے پاس دکھایا۔

ذراسا ہبر زبان کا علم رکھنے والا وہ دوکاندار سمجھا کہ یہ لچھا کچھ قدیم خبریں رکھا ہوا ہے۔ اس لئے اس نے چند دیناروں کے عوض ان تمام لچھے کو اس موچی سے خرید لی۔

وہ دوکاندار عیسائی تھا، اس لئے اس نے اس لچھے کو اس شہر کے گرجا گھر میں سونپ دیا۔

اس موقع پر لچھے کی انکشاف کی خبر ظاہر ہو گئی۔اس میں موجود خبروں کو جاننے کے لئے یہود اور مسلمان مشتاق تھے۔

اس وقت جورڈان کے حکمراں حسین نے درخواست کی کہ اس دستاویزی لچھے کو مسلم، یہود اور عیسائی تینوں کے ایک گروہ کے پاس سونپ کر تفتیش کیا جائے۔

لیکن عیسائی پادریوں نے دعویٰ کیاکہ وہ ایک ذاتی جائداد ہے، اس لئے اس کو درمیان میں رکھنے کے لئے انہوں نے انکار کردیا۔ عیسائیوں میں بعض علماء کو بھی اس کو پڑھنے کے لئے موقع نہیں دیاگیا۔

درمیانی پانچ سالوں میں یروشیلم میں رہنے والے پادریوں نے چند گروہ بناکرکمران کی پہاڑی علاقے کے ان غاروں میں تلاش کر کے وہاں کے سارے دستاویزی لچھوں کواپنے قبضے میں کر لیا۔

1952 کی ماہ ستمبر میں تمام لچھے عیسائی پادریوں کے پاس پہنچ گئے۔اب اس کا شمار کیا گیا ہے کہ اس قسم کے پندرہ ہرزار دستی مسودہ دستیاب ہوئے ہیں۔

پچھلے پچا س سالوں سے ان دستاویزی لچھوں میں موجود خبریں چند مخصوص پادریوں کا ایک گروہ اس کو چھپاتے آیا۔

بعض عیسائی محقق اس کو پڑھنے کے لئے خواہش ظاہر کی تو انہیں موقع نہیں دیا گیا۔

دستاویزی لچھے پر قبضہ جمائے ہوئے گروہ میں سے کوئی ایک اگر مرگیا تو اس کے عوض اس گروہ کے لوگوں سے دوسرا ایک پادری منتخب کیا جاتا ہے، صرف اسی کو پڑھنے کے لئے اجازت دی جاتی تھی۔

اس طرح اس مدت تک اس دستاویزی لچھے کی خبریں رازداری سے رکھی گئی تھیں۔ اس راز کی حفاظت میں پوپ کی واٹیگن کا گروہ پیش پیش رہا تھا۔

کھال میں درج شدہ اس قدیم زمانے کی دستاویز مٹ جانے کی حالت کو آگئی۔ اس کو جانتے ہوئے رازدارانہ حفاظت کرنے والوں نے ان دستاویزوں کو مائکرو فلم بنالئے۔

اس کی ایک فوٹو کاپی امریکہ کے شہر لاس اینجلس کی ایک لائبرری کو بحفاظت بھیجا گیا۔

1990 میں اس لائبرری کوآئسمین نامی ایک دانشور کو صدر مقرر کیا گیا ۔ وہ پہلے ہی سے اس دستاویز پڑھنے کے خواہشمند تھے اور اس کے لئے ان کو موقع نہیں دیاگیا تھا۔

اب وہ اپنی اختیار میں رہنے والی لائبرری سے دستاویزی لچھے کی مائکرو فوٹوکو بڑی سائز میں بنا کر پڑھنے لگے۔

وہ کہتے ہیں کہ اس کو پڑھتے وقت انہیں بہت حیرت ہوئی۔ اور یہ بھی کہا کہ میں یہ بھی سمجھ گیا کہ اتنے زمانے تک ان دستاویزی لچھوں کو عیسائی گروہ نے دوسروں کو نہ دکھانے کا مقصد کیا تھا۔

مائیکل ویس نامی چکاگو یونیورسٹی کے ہبرو زبان کے پروفیسر کی مدد سے ان دستاویزی لچھوں میں سے جسے اہم سمجھا گیا ان میں سے سو دستاویزوں کو انگریزی میں ترجمہ کر کے چھاپاگیا۔

اس ڈاکومنٹری کے مخبر نے کہا کہ اس کتاب کی اشاعت عیسائی دنیا ہی کوہلا کر رکھدی۔ اور خاص کر عیسائی کلیساؤں کو ایسا جھٹکا لگا کہ ساکت ہوگئے۔

اس مخبر نے یہ بھی کہا کہ وہ اشاعت مغربی لوگوں کی مذہبی عقائد کو مسمارکردینے والی بن گئی۔ اس لئے یہ بھی اندیشہ تھا کہ ان دونوں دانشور وں پر قانونی کارروائی اٹھائی جائے گی۔

اس دوردرشن ڈاکو منٹری یہ بھی آگاہ کیا تھا کہ وہ دونوں دانشوروں نے کہا کہ اگر ویسا ہو گا بھی تو اس کو ہم سامنا کرنے کے لئے تیار ہیں، اوراس سے ڈرکر ہم ایک بہت بڑی حقیقت کو دنیا سے چھپانا نہیں چاہتے۔

دستاویزی لچھے یہی کہتے ہیں کہ عیسائی کلیساؤں میں اب مسیح کے نام سے کئے جانے والے مذہبی رسم و رواج اور عبادات ابتدائی عیسائیوں کے درمیان واقع نہیں ہوا۔

اس رسم و رواج اور عیسیٰ کی تبلیغ و عقیدے کو کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان تمام چیزوں کو ’باؤل‘ نامی ایک شخص کے ذریعے بعد کے زمانے میں وجود میں آئی ہے۔

مختصراً اب جو مسیح کے نام سے کئے جانے والے تمام عیسائی عقیدے جھوٹے ہیں۔اس کو عیسیٰ کے بعد کے نسل میں جینے والے کسی بھی نیک لوگوں کے پاس دکھائی نہیں دی۔

اس طرح جب دانشور آئسمین نے کہا تو ایک یہودی سے اس کے متعلق بحث کیا گیا تو وہ یقینی انداز میں کہتا ہے کہ وہ اسلام کی تائید کرتی ہے۔اس مقام پر وہ بحث روک دیا گیا اور دوسرے مناظر دکھائے گئے۔

اسی طریقے سے مائیکل ویس نامی دانشور نے بھی گفتگو کرتے وقت کہتے ہیں کہ وہ اسلام کی یائید کر تی ہے۔ یہاں بھی مناظر بدل دئے گئے۔

چنانچہ یہ دستاویزی لچھے کس انداز سے قرآن مجید اور اسلام کو سچ ثابت کرتی ہیں ، ان کے کہنے کو عوام معلوم نہ کرسکے۔

ان خبروں سے ہمیں ایک حیرت کن سچائی معلوم ہوتی ہے۔

قرآن کئی جگہوں میں کہتا ہے کہ عیسیٰ ؑ کو اللہ نے انجیل نازل کی ۔لیکن عیسائیوں کے پاس وہ کتاب اب ہرگز موجود نہیں ہے۔

کیونکہ بائبل کی جدید عہدنامہ عیسیٰ کے بعد اللہ نے عطا نہیں کی۔ بلکہ عیسیٰ کے بارے میں دوسرے لوگوں نے جو لکھا تھا وہی جدید عہد نامہ ہے۔

بائبل میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی خوشخبری کو مسیح نے بیان کی۔(دیکھئے: متتے یو4:23، مارکو 1:14 )

اس طرح فیصلہ کرنے کے لئے مناسب وجہ ہے کہ جس کتاب الٰہی کو انہوں نے چھپایا اسی کو عیسیٰ کی راہ پر چلنے والے نیک لوگوں نے اس کو لئے ہوئے غار میں ٹہر گئے۔

ان لچھوں کو پڑھنے والے عیسائی دانشوروں کی رائے ہے کہ وہ قرآن سے مشابہ ہے۔

قرآن کئی جگہوں میں فرماتا ہے کہ انجیل نامی صحیفے کو قرآن مجید ثابت کرتا ہے۔

اس رائے کو ثابت کرتی ہے کہ اس کو پڑھنے والے پادری جان بوجھ کر اس کو چھپا دیا۔

اس رائے کو وہ بات اور بھی مضبوط کر تی ہے کہ انسانوں کے ہاتھوں لکھے گئے کتاب کو اتنی زیادہ اہمیت دے کر اللہ فرمایا نہیں ہوگا۔

270۔ آواز سے اور بغیر آواز کے پڑھ کر نماز ادا کرنا

اس آیت 17:110کا مطلب کیا ہے اور یہ آیت کس بارے میں نازل ہوئی ہے، اس میں دو رائے حدیثوں کی کتابوں میں جگہ پائی ہیں۔

عائشہؓ نے کہا کہ اللہ سے دعا کر نے کے بارے میں یہ آیت نازل کی گئی ہے۔ اس کو بخاری کی حدیث 4723، 6327، 7526وغیرہ میں درج کیا گیا ہے۔

صلوٰۃ کا معنی دعا بھی ہے اور نماز بھی ۔ اس لئے عائشہؓ نے اس کو دعا کے مطلب سے اس کے بارے میں جو کہا ہے اتاری گئی ہے وہی قابل قبول ہے۔

پہلے ہم نے اسی بنیاد پر تشریح کی تھی۔ لیکن عائشہؓ نے دوسری ایک وجہ بتانے سے وہ قابل قبول نہیں ہے۔

اگر یہ آیت دعا کے بارے میں نازل ہوئی ہوتووہ یہی معنی دیتی ہے کہ آواز سے یا بغیر آواز کے دعا نہ کریں ، بلکہ درمیانی دھیمی آواز ہی سے دعا کریں۔

لیکن قرآن کی اس آیت 7:55 میں جو کہا گیا ہے اس دعا کی قاعدے کے خلاف ہی عائشہؓ کی وضاحت قرار پائی ہے۔

آیت نمبر 7:55 کہا گیا ہے کہ اپنے رب سے عاجزی کے ساتھ اور چھپے ہوئے انداز سے دعا کرو۔حد سے گزرنے والوں کو اللہ پسند نہیں کرتا۔

اس آیت میں اللہ سے پوشیدہ طور پر دعا کر نے کے لئے اللہ حکم فرماتا ہے۔ لیکن عائشہؓ کی وضاحت کے مطابق کہا گیا ہے کہ دھیمی آواز ہی سے دعا کرنی چاہئے اور پوشیدہ طور پر دعا نہ کریں۔

اوپر پوشیدہ طور پر دعا کر نے کو زور دینے والی حدیثیں موجود ہیں۔ ان دلیلوں کے خلاف بھی عائشہؓ کی وضاحت قرار پائی ہے۔

پوشیدہ طور پر دعا کرنے کو کہنے والی آیت 7:55 میں دعا کا لفظ جگہ پایا ہے۔ لیکن 17:110کی آیت میں وہ لفظ نہیں ہے۔ اس کے بدلے صلوٰۃ کا لفظ جگہ پایا ہے۔ یہ لفظ نماز کے معنی میں زیادہ اور دعا کے معنی میں کم استعمال کیا جاتا ہے۔

دو معنی دینے والے لفظ کو لے کر قانون کو سمجھنے سے زیادہ دعا کا ایک ہی معنی دینے والے لفظ کی آیت 7:55 کو قانون ماننا ہی مناسب دکھتا ہے۔

یہ آیت کس لئے نازل کی گئی ، اس کو ابن عباسؓ نے فرمایا ہے۔ یہ قول عائشہؓ کے قول سے مطابقت نہیں رکھتا۔

نبی کریم ؐ نے مکہ میں پوشیدہ طور پر تبلیغ کر نے کے زمانہ میں نماز پڑھتے وقت قرآن کو بلند آواز میں پڑھ کر نماز ادا کرتے تھے۔ مکہ میں مقیم مشرکوں نے جب اس کو سنا تو انہوں نے قرآن مجید پر، اس کو نازل کر نے والے اللہ پر، اس کو لے آنے والے نبی پرتنقید کرنے لگے۔ اس وقت ہی یہ آیت نازل ہوئی۔ اس میں کہا گیا کہ مشرکوں کو ناگوار گزرنے کی طرح بلند آواز سے نہ پڑھو، اورتمہارے مقتدیوں کو سنائی نہ دینے کی طرح آہستہ بھی نہ پڑھو۔ دونوں کے درمیان میانہ روی اختیار کرو۔

دیکھئے بخاری : 4722، 7490، 7525۔

ابن عباسؓ نے فرمایا کہ نبی کریم ؐ نے اسلام کو پوشیدہ طور پر تبلیغ کر نے والے ابتدائی زمانے میں یہ حکم نازل کیا گیا۔یہی اس آیت 7:55 کے موافقت میں ہے۔

بعض گمراہوں نے حجت کررہے ہیں کہ آج کے زمانے میں نماز پڑھنے کا طریقہ اس �آیتکےبرخلافہے۔

چندنمازوںمیںبلندآوازسےاورچندنمازوںمیںبغیرآوازکےہمنمازاداکررہےہیں۔پھرسبنمازوںمیںکئیدعاؤںکوبغیرآوازکےپڑھتےآرہےہیں۔نبیکریمؐنےایساکیاہے۔

انکادعویٰہےکہایساپڑھنا اس آیت کے خلاف ہے اور ہر نماز میں آواز کے ساتھ بھی نہیں اور بغیر آواز کے بھی نہیں، بلکہ درمیانی آواز کے ساتھ پڑھنا چاہئے۔

یہ مکہ کی ابتدائی حالات تھی، اس کے لئے تاریخی دلیل رہنے کی وجہ سے اب جو طریق کار ہے اس لحاظ سے نماز پڑھنا اس آیت کے خلاف نہیں ہے۔

269۔ اولیاء اور کرامات

کوئی بھی انسان جو انسان سے ہوسکتا ہے صرف وہی کام کر سکتا ہے۔ وہ کام جوصرف اللہ ہی سے ہوسکتا ہے اس کو کوئی بھی بزرگ نہیں کر سکتا۔یہ اسلام کا ایک اہم بنیادی عقیدہ ہے۔

مردوں کو زندہ کرنا، بے اولادوں کو اولاد دینا، خلا میں سے کوئی چیزبرآمد کرنا ،جادو سے ایک شئے کو ایک اور شئے سے تبدیل کرنا وغیرہ عمل کوئی بھی انسان نہیں کر سکتا۔ یہ بھی اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے کہ اس طرح کر نے کی طاقت انسان کو عطا نہیں کی گئی۔ چالاکی کے ذریعے اس طرح لوگوں کو دھوکہ دے سکتے ہیں۔

پھر بھی جو انسان سے نہیں ہوسکتا ایسے کئی کاموں کو اللہ کے رسولوں نے کیا ہے، اس کو یہ قرآنی آیتیں 2:60، 3:49، 5:110-114، 6:109، 7:73، 7:107، 7:108، 7:115-117 ، 7:133، 7:160، 10:81، 11:64، 13:38، 14:11، 17:59، 17:93، 20:20، 20:22، 20:69، 20:77، 21:69، 21:81، 21:82، 26:32، 26:33، 26:45، 26:63، 26:155، 27:10، 27:12، 27:17 ، 28:31، 28:32، 29:24، 29:50، 34:12، 37:98، 38:36، 38:37، 38:38، 40:78، 54:27، 91:13 کہتی ہیں۔

نبیوں کے معجزات کا انکار کر نے والا قرآن کا انکار کر نے والا ہوگا۔

اس لئے انہیں ایسا نہ سمجھ لینا کہ وہ جو چاہے کر نے کی طاقت رکھتے ہیں۔ آؤ،اس کے متعلق تفصیل دیکھیں!

جواللہ کے رسول بھیجے جاتے ہیں وہ انسانوں ہی میں منتخب کئے جاتے ہیں۔ ہر قسم سے وہ لوگ انسان ہی رہے۔

ہر قسم سے اپنے ہی جیسا ایک انسان اپنے آپ کو اللہ کا رسول جب دعویٰ کر نے لگتا ہے تو لوگ اس کو قبول نہیں کرسکے۔

قرآن مجید بھی کہتا ہے کہ اس وجہ کو دکھا کر لوگوں نے اللہ کے رسولوں کا انکار کیاتھا۔ دیکھئے قرآنی آیت: 17:94، 23:33، 25:7، 36:15، 21:3، 23:47، 26:154، 26:186۔

انسانوں سے مقرر ہو نے والے رسول انسان ہو سکتے ہیں۔ لیکن ہر زمانے میں لوگوں کی رائے یہی تھی کہ اللہ کا مقرر کردہ رسول انسانی حیثیت کے پرے ہی ہو نا چاہئے۔

لوگ اس طرح سوچنے میں بھی ایک بات تھی۔ اگر کوئی شخص کہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں تو اس کو قبول کر نے میں تھوڑا پس و پیش ہو سکتا ہے۔کیونکہ اللہ کا رسول کہہ کر جھوٹا دعویٰ کر نے والوں کو بھی قبول کرنے کی نوبت آسکتی ہے۔

دوسرے انسانوں سے کسی بھی طور سے اللہ کا رسول مختلف ہونا چاہئے، ان لوگوں کی اس خواہش کو ایک حد تک اللہ بھی قبول کرلیتا ہے۔

اپنا رسول کہہ کر جسے بھی بھیجتا ہے وہ اللہ ہی کا رسول ہے ، اس کو ثابت کرانے کے لئے چند معجزات بھی انہیں دے کر بھیجتا ہے۔

ایسے معجزات جودوسرا کوئی انسان نہیں کرسکتا، جب وہ اس کو دیکھتا ہے تو اسے یہ ماننے کے لئے کہ وہ اللہ ہی کا رسول ہے ، نیک لوگوں کو کوئی پس و پیش نہیں ہو سکتی۔

آدمی سیدھی راہ پانے کے لئے بھیجے جانے والے اللہ کے رسولوں کو یہ ماننے کے لئے کہ یہ اللہ کے رسول ہی ہیں ، دلیل کے طور پر اللہ نے معجزات عطا کی ہے۔

اگر اللہ کے رسولوں کو معجزات نہ دئے گئے ہوں تو کوئی بھی شخص اپنے آپ کو اللہ کا رسول کہہ کر دعویٰ کرنے کا موقع مل جائیگا۔

لیکن انبیاء جب بھی معجزہ دکھانا چاہیں یالوگ جب بھی معجزہ دیکھنا چاہیں ، ان تمام موقعوں پر نبی معجزہ دکھا نہیں سکتے۔

اللہ جس وقت اجازت دے گاصرف اسی وقت ہی وہ معجزہ دکھا سکتا ہے۔ معجزہ دکھانے کا اختیار اللہ ہی کے ہاتھوں میں ہے۔

اللہ کی اجازت کے بغیر انبیاء کسی بھی معجزے کو دکھا نہیں سکتے۔ اس کے لئے یہ آیتیں 13:38، 14:11 ، 40:78 گواہ ہیں۔

نبی کریم ؐ کے پاس چند دشمنوں نے یہ گزارش کی کہ چند معجزے کر کے دکھاؤ، اسے دیکھ کر ہم اسلام قبول کرتے ہیں۔ اللہ نے نبی کریم ؐ کو حکم دیا کہ تم ان سے کہہ دو کہ وہ اختیار میرے پاس نہیں ہے۔ اس کو تم ان آیتوں 17:90-93 میں دیکھ سکتے ہو۔

ان معجزوں کو کر دکھانا اللہ کے لئے کوئی دشوار نہیں تھی۔ ان سب کو کر دکھانے کے لئے انہوں نے گزارش نہیں کی، بلکہ ان میں سے کسی ایک کے لئے درخواست کی تھی۔اگر ایسا کر دکھاؤگے تو انہوں نے کہا کہ ہم نبی کریم ؐ پر ایمان لے آئیں گے۔پھر بھی ان کی درخواست کے مطابق معجزات دکھانے کے لئے اللہ نے اجازت نہیں دی۔

معجزات دکھا نے والا اللہ ہی ہے۔جب وہ چاہتا ہے تو انسان کے ذریعے اس کو ظاہرکر تا ہے ۔ اس کو اور بھی وضاحت سے جاننے کے لئے موسیٰ نبی کے ذریعے ظاہر ہو نے والے چند معجزوں کو دیکھتے ہیں۔

اللہ نے موسیٰ نبی سے پوچھا کہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے؟ انہوں نے کہا لاٹھی ہے۔ اللہ نے کہا کہ اس کو نیچے ڈالو۔ وہ فوراًسانپ بن گیا۔اس معجزے کو اللہ ہی نے واقع کر کے دکھایا۔ موسیٰ نبی نہیں جانتے تھے کہ وہ سانپ بن جائے گا۔ اس کو تم ان آیتوں 20:17-20 میں دیکھ سکتے ہو۔

پھر فرعون کے پاس جا کر موسیٰ نبی نے اس کو دعوت دے کر اسی معجزے کو اللہ کی اجازت سے کر دکھایا۔ اسے دیکھ کر فرعون نے کہا کہ یہ تو جادو ہے۔اور للکارنے لگا کہ ہمارے دیش کے جادوگروں کو بلا کر تمہارے ساتھ مقابلہ کر کے تمہیں ناکام کرکے دکھاتا ہوں ۔

جادوگر آئے۔ وہ اپنا جادو کر نے لگے۔ موسیٰ نبی کے پاس لاٹھی رہنے کے باوجود اس کو نیچے ڈال کر دشمنوں کو ناکام نہیں کیا۔ اللہ کے حکم کے لئے منتظر تھے۔ پہلے ہی اس کو سانپ بنا کر اللہ دکھانے کے باوجود پھر سے اللہ کی طرف سے حکم آنے کے بعد ہی موسیٰ نبی نے اس پر عمل کیا۔

اللہ کا حکم آنے کے بعد اس لاٹھی کو ڈالنے ہی سے جادوگروں کے شعبدہ بازی کو وہ نگل گئی۔ اس کو تم ان آیتوں میں 7:115,116,117دیکھ سکتے ہو۔

موسی نبی کے ہاتھ میں لاٹھی رہنے کے باوجود اس کو ڈالنے کا وقت آنے پر بھی انہوں نے لاٹھی کوخود سے نہیں ڈالا۔اللہ کی اجازت آنے پر ہی ڈالا۔

اسی طرح ایک اور واقعہ سنئے!

موسیٰ نبی کو دشمنوں نے جب بھگاتے ہوئے آئے تو وہ اپنی لاٹھی سے مار کر سمندر کو چیرا نہیں۔ اللہ مجھے راستہ دکھائے گا کہہ کر اللہ کی اجازت کے منتظر تھے۔’’ لاٹھی سے سمندر پر مارو‘‘حکم آنے کے بعد ہی وہ اپنی لاٹھی سے سمندر پرمارا۔ اللہ کے حکم کی وجہ ہی سے وہ معجزہ واقع ہوا۔ اس کو ان آیتوں 26:60-63 سے جان سکتے ہیں۔

اسی طرح موسیٰ نبی کی زندگی میں ہو نے والا ایک اور واقعہ سنئے۔

موسیٰ نبی کی قوم کو جب پیاس لگی تو وہ لوگ موسیٰ نبی کے پاس فریاد کر نے لگے۔ ہاتھ میں لاٹھی رہنے کے باوجود ضرورت کے وقت بھی اس کے ذریعے پانی کے چشمہ کو جاری نہیں کیا۔ بلکہ لوگوں کی پیاس کو اللہ سے فریادکر کے پانی مانگنے لگے۔ اللہ کا حکم آنے کے بعد ہی انہوں نے اپنی لاٹھی کواس چٹان پر مارا۔ اس میں سے چشمے ابلنے لگے۔ اس کو اس آیت 2:60 میں دیکھ سکتے ہو۔

عیسیٰ نبی نے مردے کو زندہ کرنے کی طرح کئی معجزوں کو کر دکھایا۔ اس کے بارے میں اللہ کہتا ہے کہ وہ میرے ہی اجازت سے واقع ہوا اور وہ عیسیٰ نبی سے نہیں ہوا۔اس کو ان آیتوں 3:49 اور 5:110 سے جان سکتے ہیں۔

لوگ جب بھی چاہیں نبیوں نے معجزہ نہیں دکھایا اور وہ خود بھی جب چاہیں معجزہ نہیں دکھا سکتے۔

معجزہ کر نے والا صرف اللہ ہی ہے ، اس کو سمجھنے کے لئے دوسرے انداز سے بھی ہمیں سوچنا چاہئے۔

نبی کریم ؐ سے پہلے بے شمار نبیوں کو بھیجا گیا تھا۔ ان میں اکثر نبیوں کو ان کے دشمنوں نے مار ڈالا۔

اس کو ان آیتوں 2:61،2:87، 2:91، 3:21، 3:112، 3:183 میں دیکھ سکتے ہیں۔

جب بھی چاہیں معجزہ دکھانے کی طاقت اگر نبیوں کو دیا گیا ہو تا تو وہ کیوں قتل کئے جاتے؟ اگر کوئی قتل کر نے کے لئے آتا ہو تو ہمارے پاس جو قوت ہے اس کو استعمال کر کے اس سے بچنے کی کوشش کرنا ہم پر فرض ہے۔ ہاتھوں کو باندھے ہوئے سر کو خم کر دینا دین میں اجازت نہیں ہے۔

معجزہ دکھانے کی طاقت نبیوں کے پاس اگر ہو تا تو جب بھی دشمن قتل کر نے کے لئے آتا توان کا فرض ہے کہ اس کو استعمال کر یں۔ اگر معجزے کو استعمال کئے ہو تے تو انہیں کوئی بھی قتل نہیں کیاہوتا۔ پھر بھی وہ قتل کردئے گئے۔ اس لئے اس سے ہمیں معلوم ہو تا ہے کہ معجزہ دکھا نے کا اختیار اللہ کے سوا نبیوں کو یا دوسرے کسی کو بھی نہیں ہے۔

نبیوں نے جتنی تکلیف اٹھائی تھی اس کو قرآن نے کئی جگہوں پر کہا ہے۔

نبیوں کو مفلسی کا سامنا کر نا پڑا۔

سماج سے کنارہ کئے گئے۔

مارے گئے اور ان پر ظلم و ستم ڈھایا گیا۔

ملک سے بھگائے گئے۔

اس کو تم ان آیتوں 2:83-86 ،2:214، 6:17، 6:33، 6:34، 7:188، 12:110، 13:12، 38:41,42 میں دیکھ سکتے ہیں۔

اگر نبیوں کو معجزہ دکھانے کی قدرت ہو تا تو انہیں تکلیف کا سامنا کیوں کر نا پڑا؟ معجزہ دکھانے کی قدرت اگر انہیں دیا گیا ہوتا تواس قدرت کو وہ استعمال کرنا چاہئے تھا۔

اس سے ہم معلوم کر سکتے ہیں کہ معجزہ تمام اللہ کے اختیار میں ہے۔

کئی نبیوں نے مختلف جنگوں میں حصہ لیا تھا۔ ان میں کئی ساتھیوں کو کھونا پڑا۔ معجزہ دکھانے کی قدرت اگر ان کے پاس ہوتا توایسا ہوا نہ ہوگا۔کسی قسم کی نقصان کے بغیر وہ دشمنوں کو ہلاک کردئے ہوں گے۔

ہر انسان کی طرح نبیوں کو بھی کئی خاص حاجتیں اور خواہشیں تھیں۔ ان خواہشوں اور حاجتوں کو بھی ان کی معجزانہ قوت سے وہ پورا نہیں کر سکے۔اس بات کو قرآن مجید نے کئی جگہوں میں واضح کی ہے۔

یوسف نبی کو ان کے بھائیوں نے کنویں میں پھینک دیا اور انہیں غلام بنا کر فروخت کردیا گیا ۔ اس کو یعقوب نبی نے نہ جان سکے اور نہ اس کو روک سکے۔ کئی سالوں تک بیٹے کی فرقت سے غمگین ہی رہے۔ اس کو ان آیتوں 12:84,85 سے معلوم کر سکتے ہیں۔

جو چاہیں اور جب چاہیں کر نے کی اگر یعقوب میں قدرت ہو تی تو کیا ایسا ہوسکتا تھا؟

یوسف نبی کچھ غلطی نہ کر نے کے باوجود قید میں ڈالے گئے۔ کئی سالوں تک قید ہی میں رہے۔ قید کو گئے بغیر یوسف نبی اپنے آپ کو بچانہیں سکے۔اس کو اس آیت 12:35کے ذریعے تم جان سکتے ہو۔

جو چاہیں اور جب چاہیں کر نے کی اگر یوسف میں قدرت ہو تی تو کیا ایسا ہوسکتا تھا؟

ایوب نبی بہت ہی سخت بیماری اور تکلیف میں مبتلا کئے گئے۔ اس تکلیف سے بچنے اور اس کو روکنے ایوب نبی سے نہیں ہوسکا۔اس کو ان آیتوں 21:83,84، 38:41 سے جان سکتے ہیں۔

ابراھیم نبی اللہ کے خلیل رہنے کے باوجود انہیں بڑھاپے تک بھی بچہ نہیں ہوا۔ سب لوگ جس عمر میں بچے کے لئے ترسینگے اس عمر میں اللہ نے ان کو بچہ نہیں دیا۔ جب وہ بڑھاپے کو پہنچے تو اس وقت ہی انہیں اللہ نے بچہ نوازا۔ اس کو ان آیتوں 14:39، 15:53,54 سے جان لے سکتے ہیں۔

جب وہ سمجھنے لگے کہ اب ہمیں بچہ پیدا ہو نہیں سکتا تو اسی بڑھاپے کے عمر میں اللہ نے انہیں بچوں کو نوازا۔ اپنی خواہش کے مطابق بچہ پیدا کر لینے کی اگر ان میں طاقت ہو تی تو جس عمر میں بچہ پانے کی خواہش ہو تی تو اسی جوانی کی عمر میں بچہ حاصل کرلئے ہوتے۔

زکریا نبی نے اپنے لئے ایک وارث کی دعا اللہ سے مانگتے رہنے کے باوجود وہ بڑھاپے کو پہنچنے کے بعد ہی اللہ نے انہیں بچہ عطا کیا۔ اس کو آیت نمبر 3:38، 3:39، 3:40، 19:2-9، 21:89,90 وغیرہ میں معلوم کر سکتے ہیں۔اس سے ہم جان سکتے ہیں کہ نبیوں کو معجزہ عطا کر نے کے باوجود وہ جب چاہیں اپنے لئے ایک بچہ حاصل نہیں کرسکتے۔

نبیوں کو چند معجزہ عطا ہونے کی وجہ سے ایسا نہ سمجھ جانا کہ ان سے کچھ ناممکن نہیں ہو سکتا۔ اگر ایسا ہوتو کئی انبیاء اور انہیں اختیار کر نے والے مفلسی میں تکلیف نہ اٹھائے ہوں گے۔

اللہ کے رسولوں کو چند معجزے عطا ہونیکے باوجود ان سے کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔ اسکو ان آیتوں 3:128، 6:17، 6:50، 6:57، 7:188، 10:49، 10:107، 11:31 کے ذریعے معلوم کر سکتے ہیں۔

جس طرح چندنبیوں کو معجزے عطا کیا جانا حقیقت ہے اسی طرح یہ بھی حقیقت ہے کہ دوسرے معاملوں میں انہیں کوئی معجزانہ قوت نہیں ہے۔

نبیوں نے جو کچھ بھی معجزہ کیاوہ سب ان کا کیا ہوا نہیں ہے۔ معجزے دکھانے کی طاقت انہیں فطری طور پر عطا نہیں کیا گیا۔ لوگوں کے سامنے معجزے دکھانے کو اللہ جب چاہتا ہے نبیوں کے ذریعے کر دکھاتا ہے۔ معجزے کو سمجھنے کے لئے یہی ٹھیک طریقہ ہے

کوئی شخص ایک کام کو خود کر نے میں اور وہ کام ان کے ذریعے ظاہر ہو نے میں جو فرق ہے اس کو ان مثالوں سے سمجھ سکتے ہیں۔

فرض کرو کہ تمام ڈاکٹر یقین کے ساتھ کہہ دیتے ہیں، کوما میں رہنے والا ایک انسان کسی حالت میں نہیں اٹھے گا ۔لیکن اگر وہ اچانک اٹھ کر بیٹھ جائے اور ہم سے خیریت دریافت کر نے لگے تو وہ ایک حیرت کن بات ہی ہوگی۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ وہ بھی نہیں کہے گا کہ وہ اس کا معجزہ ہے اور ہم بھی نہیں کہیں گے۔ اس پر مہربانی فرما نے کے لئے یہ اللہ کا کیا ہوا معجزہ ہی کہیں گے۔

ایک شخص خود سوچ کر خود ہی منصوبہ بندی سے کرے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ اس نے کیا۔

ایک شخص پچاسویں درجہ کے بالا خانہ سے گر کر نہ مرا تو ہم اس کو کیا کہیں گے؟ وہ ایک حیرت کن بات ہونے میں کوئی شک نہیں۔ لیکن کیا وہ اس کا معجزہ ہوگا؟ یا اللہ نے اس کے ذریعے دکھایا ہوا معجزہ ہوگا؟

ہم اسی وقت اس کو معجزہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ جب چاہے پچاسویں درجہ سے نیچے گرے ، اور اس کو کچھ بھی نہ ہو۔ایسا وہ بھی نہ کہہ سکتا ہے اور دوسرا کوئی بھی نہیں کہہ سکتا ۔ہم اس کو ایسے ہی سمجھیں گے کہ اس کو ناگہاں اللہ نے حیرت انگیز طور پر مدد کی ہے۔

یہی حقیقت ہے کہ نبیوں کے ذریعے معجزے ظاہر ہوئے، سوائے اس کے وہ خود منصوبہ کر کے کوئی معجزے نہیں دکھائے۔

صرف نبیوں ہی سے نہیں بلکہ دوسروں سے بھی اور جانداروں سے بھی معجزے واقع ہوئے ہیں۔

ہدہد نامی پرندہ سلیمان نبی سے بات کیا ہے۔ دوسرے ملک میں حکمرانی کر نے والی ایک عورت کے بارے میں جان لیتا ہے۔ ان کی کارروائی کو معلوم کر کے سلیمان نبی سے کہتا ہے۔

دیکھئے آیت نمبر 27:20-28

اس کو ہم ایسا نہ سمجھیں گے کہ ہدہد نامی پرندہ انسانوں کی طرح عقل و تمیز رکھتی ہے۔ اور ایسا بھی نہیں سمجھیں گے کہ وہ ہد ہد پرندہی نے معجزہ دکھائی۔ ہم اس کو ایسا ہی سمجھیں گے کہ اللہ نے جو معجزہ دکھا نا چاہا تھا اس کو اس پرندے کے ذریعے ظاہر کیا۔

سلیمان نبی نے اپنی فوج کے ساتھ جا تے وقت چیونٹیوں کے گھر کی طرف گزرے۔ اس کو ان چیونٹیوں نے سمجھ لیا، اس کے بارے میں قرآن میں کہا گیا ہے۔

دیکھئے قرآنی آیت نمبر 27:18

اس کو ایسا نہ سمجھیں کہ ان چیونٹیوں کو بھی وہ طاقت تھی اورچیونٹیوں کو اس کو سمجھ لینے کی قوت عطا کی گئی تھی۔بلکہ اس موقع پراس کو اس طرح سمجھنا چاہئے کہ اللہ نے اپنی قدرت کو ان چیونٹیوں کے ذریعے ظاہر کی ہے۔

چیونٹی اور ہدہد کے ذریعے اپنے معجزے کو اللہ نے چند موقع پر جس طرح ظاہر کیا تھا اسی طرح نبیوں کے ذریعے بھی چند موقعوں پر معجزے کو ظاہر کیا ہے۔

پرندے اور چیونٹی تو ایک طرف ، اللہ نے دشمنوں کے پاس بھی معجزے ظاہر کیا ہے۔

سامری نامی شخص موسیٰ نبی کے زمانے میں تھا۔ اس نے سونے سے ایک بچھڑا بنا کر اس کوخون اور گوشت کا بچھڑے کی شکل دے کر اس سے آواز بھی نکالنے رکھا۔ دیکھئے آیت نمبر 20:88-90۔

ہم نے حاشیہ نمبر 19 میں تشریح کی ہے کہ سامری کو کوئی قدرت نہیں تھی۔

اتفاقی طور پر بعض لوگوں کی زندگی میں بھی معجزے ظاہر ہوتے ہیں۔ لیکن اس کے وہ حقدار نہیں ہوں گے۔ پھر بھی نبیوں کے ذریعے ظاہر ہو نے والے معجزوں اوردوسروں کے ذریعے ظاہرہو نے والے معجزوں میں ایک لطیف سا فرق ہوتا ہے۔ وہ کیا ہے، آئے دیکھیں۔

معجزے دو قسم کے ہوتے ہیں۔

اللہ کی اجازت کے مطابق ہونے والے معجزے پہلی قسم کے ہیں۔

جس کے ذریعے معجزے واقع ہو تے ہیں ، اسی کے علم کے بغیر ہو نے والے معجزے دوسری قسم کے ہیں۔

اس دوسری قسم کے معجزے انسانوں میں کئی لوگوں کو واقع ہوئے ہیں۔ آج بھی ہو رہے ہیں۔ طبیبوں سے متروک مریض چند موقعوں پر پھر سے اٹھ بیٹھتے ہیں۔ ہوائی جہاز ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہوجا نے پرسب لوگ مرجانے کے بعد بھی کوئی بچہ زندہ جی اٹھتا ہے۔ ٹوٹے ہو ئے گھر کے ملبا میں پھنس کر مرے ہوئے لوگوں کے درمیان دس دن گزرنے کے بعد بھی کوئی آدمی زندہ بچایا جاتاہے۔ اس طرح کے معجزے کئی لوگوں کی زندگی میں واقع ہوا ہے۔

پچاسویں بالا خانہ سے نیچے گر کر بھی کوئی شخص زندہ بچ جاتا ہے،یہ بھی ایک معجزہ ہے۔ لیکن اس کے نیچے گرنے سے پہلے یا نیچے گرتے وقت کوئی اس سے نہیں کہتا کہ تم اب نہیں مروگے۔ وہ نہیں جانتا کہ یہ ختم ہو نے تک وہ نہیں مرے گا۔

ایک شخص کے ذریعے واقع ہو نے والا معجزہ اسی کو خبر نہیں ہوتا۔ نبیوں کا معجزہ ویسا نہیں ہوتا۔

اللہ کی اجازت سے انبیاء معجزہ دکھا نے کی وجہ سے وہ معجزہ واقع ہو نے سے چند لمحے پہلے ہی انہیں اطلاع کی جا تی ہے کہ اب جو ہم لاٹھی نیچے ڈالیں گے تو وہ سانپ بن جائے گا۔ جو واقع ہو نے والا ہے اس کو پہلے ہی سے جانیں ہی تو اس کو دلیل بنا کر اپنی رسالت کو وہ ثابت کر سکتے ہیں۔

ورنہ لوگ اس کو اتفاقاً سمجھ کر جھٹلا دیں گے۔

اس لحاظ سے نبیوں کے معجزے دوسرے معجزوں سے مختلف ہو تے ہیں۔

بعض لوگ سوال کرتے ہیں کہ اللہ کی طرح کوئی کارساز نہیں ہوسکتا توابلیس کیسے ہمارے دلوں کے اندر گھس کر ہمیں گمراہ کرتا ہے؟ یہ بھی اللہ ہی کا عمل دکھتا ہے؟

یہ بھی ان کا سوال ہے کہ حدیثوں میں آتا ہے ، دجال بھی مرے ہوئے ایک آدمی کو زندہ کر ے گااور بھی کئی کام کر ے گا۔ جو انسان سے نہیں ہو سکتا اور اللہ ہی کی طرف سے ہو سکتا ہے، اس کووہ لوگ کیسے انجام دیتے ہیں؟

کیا ابلیس کا کیا ہوا معجزہ اس کی طاقت سے ہوتا ہے؟ یا اللہ کی اجازت سے کیا جاتا ہے؟ اس کو پہلے ہم جان لینا ضروری ہے۔

ابلیس کو جب اللہ نے آسمانی دنیا سے نکال باہر کرتے وقت چند معجزوں سے گمراہ کر نے کی اجازت دے کر اس کو بھیجا تھا۔ اس کو قرآن مجید کی ان آیتوں 7:13-15، 15:34-38، 15:42، 16:98-100، 17:62-65 میں کہا گیا ہے۔

شیطانوں کو دل کے اندر گھس کر گمراہ کر نے کی طاقت بالکل نہیں ہے۔ اس نے اللہ سے گزارش کی کہ میں انسانوں کوگمراہ کرکے دکھاتا ہوں۔ مجھے اجازت اور مہلت دیا جائے۔ اللہ نے بھی اس کومہلت دیدی۔ پھر بھی اللہ نے یہ کہہ کر اس کو اجازت بخشی کہ مظبوط ارادے رکھنے والے لوگوں سے تم ہار جاؤگے۔

اللہ جب فرمایا ہے کہ اللہ نے خود اجازت دی ہے تو اس کو ایسا نہیں کہا جائے گا کہ شیطان اللہ کی طرح کار فرما ہے۔ اس پر بھروسہ کر نا اللہ کے ساتھ شریک کر نا نہیں ہے۔

جس طرح جو کام اللہ ہی کر سکتا ہے اس کونبیوں نے کیا کہنا اللہ کے ساتھ شرک ٹہرانا نہیں ہوسکتا ،اسی طرح یہ بھی نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ نبیوں سے واقع ہو نے والے معجزے اللہ کی اجازت کی بنیاد پر ہی واقع ہوئے ہیں۔ شیطان کے وسوسے بھی اللہ کی اجازت کی بنیاد پر ہی ہوتا ہے۔

نبی کریم ؐ نے فرمایا ہے کہ چند کام جوصرف اللہ ہی کر سکتا ہے، اس کو دجال بھی کرے گا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کاموں کو کر نے کی اجازت اللہ نے انہیں دے رکھی ہے۔

لوگوں کو آزمانے کے لئے اللہ نے ابلیس کوجس طرح چند اختیار دے رکھی ہے اسی طرح دجال کو بھی دیا ہے۔ اس کو ماننا شرک ٹہرانا نہیں ہوگا۔

اگر اس طرح بھروسہ کر نے لگے کہ دجال جب چاہے معجزہ دکھا نے میں ماہر ہے تو وہی شرک ٹہرانا ہے۔

نبیوں نے اللہ کی اجازت کے ساتھ چند معجزے دکھائے ، اس کے لئے دلیل ہے۔ اسی طرح ابلیس اور دجال وغیرہ اللہ کی اجازت سے چند معجزے دکھائیں گے اس کی بھی دلیل ہے۔

اس طرح جن کے پاس اللہ کی اجازت کا دلیل ہے تو ان کے سوا کوئی دوسرا معجزہ دکھانہیں سکتا۔

اصحاب رسول ہو یا کوئی بھی بزرگ ہو اپنے زمانے میں کئے جانے والے معجزے جو درج کئے گئے ہیں وہ تمام جھوٹی کہانیاں ہیں۔

کیونکہ اگر کوئی معجزہ دکھانا چاہیں تو وہ اسی وقت معجزہ دکھا سکتا ہے جبکہ اللہ ان سے براہ راست بات کر کے اجازت دی ہو۔

دیکھئے قرآن کی آیتیں: 13:38، 14:11، 40:78۔

یہ آیتیں کہتی ہیں کہ اللہ کی اجازت کے ساتھ ہی انبیاء معجزہ دکھا سکتے ہیں۔

ہم نے مناسب دلائل کے ساتھ پہلے ہی سمجھا چکے کہ اللہ کی طرف سے حکم آنے کے بعد ہی انبیاء معجزہ دکھا سکتے ہیں، جو معجزے کی اجازت ملی ہے اس کو دوسری مرتبہ اگر کر نا ہو تو اس وقت بھی اللہ کی اجازت ملنا ضروری ہے، اور انہیں جو ملی ہے اس معجزے کے سوا دوسرا کچھ ان سے نہیں ہوسکتا۔

اس سے ہمیں کیامعلوم ہوتا ہے؟ کوئی معجزہ دکھا نا ہو تو وہ اللہ کے وحی کے تعلق میں ہونا چاہئے۔ یا اس کو وحی کے ذریعے اطلاع کیا جانا چاہئے کہ گمراہ کر نے کے لئے فلاں شخص فلاں کام کرے گا ۔

نبی کریم ؐ کے زمانے تک وحی کا سلسلہ ختم ہوچکا۔ ان کے بعد کسی کو وحی نہیں آئے گی۔ کسی سے اللہ بات نہیں کرے گا۔ دوسرے جو غیر نبی ہیں اللہ سے اجازت لینے کا موقع نہیں پائیں گے، اس لئے وہ معجزہ دکھا نہیں سکتے۔ اس سے ہم بخوبی جان سکتے ہیں۔

اگر کوئی دعویٰ کرے کہ کوئی بزرگ معجزہ دکھاتے ہیں تو وہ ہمیں ان سوالوں کا جواب دینا چاہئے کہ کیا وہ بزرگ اللہ سے باتیں کیں؟ کیا اللہ نے انہیں اجازت دی ہے؟ کیا وہ اللہ کے رسول ہیں؟ کیا اس کے بعد بھی نبی آئیں گے؟

اللہ کے رسول اپنے کو اللہ کا رسول ثابت کر نے لئے دلیل کے ساتھ لوگوں سے ملنا چاہئے ، اسی لئے انہیں چند معجزے عطا کیا گیا۔ دوسروں کے لئے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔

انبیاء ہو یا کوئی بھی بزرگ ہو اگردرج کیا گیا ہو کہ انہوں نے معجزہ دکھائی تو اس میں کچھ بھی شک نہیں کہ وہ جھوٹی کہانی ہے۔ وہ کسی بھی کتاب میں درج ہو ، اس میں کوئی شک نہیں کہ ہ جھوٹ ہے۔

مثال کے طور پرایک واقعہ پیش کرتے ہیں۔

عمرؓ نے ساریہ کی صدارت میں ایک فوج جنگ کے لئے بھیجا۔ جب عمرؓ جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے اپنے اس خطبہ کے درمیان کہنے لگے کہ اے ساریہ!اس پہاڑ کے اندر چلو۔ اے ساریہ! اس پہاڑ کے اندر چلو۔ جہاں جنگ چل رہی تھی اس مقام سے عمرؓ کے مقام تک ایک ماہ کی سفر کی دوری تھی۔ عمرؓ نے یہاں سے جو آواز دی اس کو سن کر سپہ سالار ساریہ نے پہاڑکے اندر چلے گئے۔ اس کے بعد ان کو فتح ملی۔ اس طرح وہ واقعہ سناتا ہے۔

یہ ابو نعیم کی دلائل النبوت ، بیہقی کی الاعتقاد اور بھی کئی کتابوں میں درج ہے۔ یہ تمام ضعیف قول ہیں۔

اگر وہ ضعیف بھی نہ ہوں تو اس کے معانی قرآن کے ساتھ ٹکراتا ہے۔

یہ واقعہ کہتا ہے کہ انسانی نظر جہاں تک نہ جانے کے فاصلہ میں واقع ہو نے والی ایک خبر کو عمرؓ نے جان لیا۔چنانچہ یہ واقعہ اس طرح معانی دیتا ہے کہ جوغیبی علم صرف اللہ ہی کو ہے وہ علم عمرؓ کو بھی تھی۔یہ صریح شرک ہے۔

غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں، اس کے سوا اس کو کوئی نہیں جانتا۔ (قرآن مجید: 6:59)

اللہ چند موقعوں پر بعض غیبی باتوں کو اپنے رسولوں کو سکھاتا ہے۔ وہ بھی اس لئے کہ جو اللہ انہیں سکھاتا ہے اس کو لوگوں تک پہنچا دینا ہے۔ اس لئے ان لوگوں کو جو نبی نہیں ہیں، غیبی باتیں اللہ نہیں سکھائے گا۔ (دیکھئے قرآن مجید : 72:26)

عمرؓ اللہ کے رسول تو نہیں۔ اس لئے اللہ نے انہیں اس غیبی بات کو سکھایا نہیں ہوگا۔ راویوں کا سلسلہ ضعیف ہو نے اور وہ قرآن سے ٹکرانے کی وجہ سے یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ وہ جھوٹی کہانیوں میں سے ایک ہے۔

شیعہ لوگ کئی جھوٹی کہانیوں کو مرتب کئے ہو ئے ہیں کہ ان کے امام کئی معجزہ دکھائے ہیں ۔ ان سب کوجھوٹی کہانیاں ثابت کرکے دلیلوں کے ذریعے انہیں باطل قرار دینے کے بجائے اس کے مقابلہ میں ان لوگوں نے بھی کرامت کے نام سے کہنے لگ گئے کہ ہمارے اماموں کو بھی اس طرح پیش آچکا ہے۔

جو نبی نہیں ہیں ان لوگوں کی معجزوں کے بارے میں اگر کہا جائے کہ وہ پہلی قسم کا معجزہ ہے تو اس کے لئے معتبر راوی ہوں تو اس پر بھروسہ کر سکتے ہیں۔

انہیں کے علم کے بغیر چند معجزے واقع ہوں تو اسی کو ہم پہلی قسم کہتے ہیں۔ ان جیسے واقعات معتبر ہوں تو مان سکتے ہیں۔

یہ کسی کو بھی ہو سکتا ہے۔ غیر مسلم اور مسلموں میں برے لوگوں کو بھی ہو سکتا ہے۔ جس طرح دنیا میں عطا کی جانے والی خوش بختی اچھے برے کو نہیں دیکھتی ، اسی طرح اس جیسے معجزے بھی ہیں۔ اگر کسی کو یہ واقع ہوجائے تووہ اس کی دلیل نہیں ہے کہ وہ شخص اچھا آدمی ہے۔

انبیاء جب معجزہ دکھاتے ہیں توجس طرح وہ یہ جان کر کرتے ہیں کہ فلاں کام کررہے ہیں، اس طرح اگر کوئی کہے کہ اس کو ایک غیر نبی نے کیاتووہ جھوٹی کہانی ہی ہوگی۔

اکثر علماء کہتے ہیں کہ جو انہونی بات کسی نبی سے واقع ہوتو اس کو معجزہ کہتے ہیں اور وہی بات بزرگوں سے واقع ہو تواس کو کرامت کہتے ہیں۔ اس طرح تقسیم کر کے ماننا ہی سنت والجماعت کا عقیدہ ہے۔ اس طرح فرق کرنا نہ قرآن میں کوئی دلیل ہے اور ناہی سنت نبوی میں ہے۔

قرآن سے یا سنت نبوی سے ان کے کہنے کے معانی میں کرامت کا لفظ استعمال نہیں ہوا ہے ، اس کے لئے کوئی دلیل سنائے بغیر اپنی دلی خواہش کے مطابق کوئی نام رکھ لینا دینی بات نہیں ہوسکتی۔

کرامت کی جھوٹی کہانی پر بھروسہ کر نے والے کوئی قابل قبول دلیل دکھائے بغیرکہتے ہیں کہ درگاہوں میں کئی لوگوں کو معجزے واقع ہوئے ہیں۔ وہ لوگ اسی باطل فلسفے کو دلیل کہتے ہیں۔

کوئی بھی بزرگ ہو زندہ رہتے وقت بھی کوئی کرامت نہیں کر سکتے، یہ اسلام کا عقیدہ ہے۔وہ مرنے کے بعد معجزہ دکھاتے ہیں کہنا ، کس طرح ممکن ہو سکتا ہے؟

نبی کریم ؐ نے فرمایا ہے کہ انسان جب مر جاتا ہے تو اس کے کئے ہوئے اچھے اعمال صدقہ وخیرات، فائدہ مند تعلیم اور اپنے لئے دعا کر نے والی اچھی اولاد وغیرہ ان تینوں کے سوا اس کے دیگر اعمال ختم ہو جا تے ہیں۔

راوی: ابو ہریرہؓ

مسلم: 3358

قرآن مجیدکہتا ہے کہ انسان مرنے کے بعد اس کے اور اس دنیا کے درمیان ایک رکاوٹ پیدا ہو جا تی ہے۔

آخر میں جب کسی کو موت آتی ہے تووہ کہے گا کہ یا اللہ! جس کو میں چھوڑ آیا ہوں اس میں کچھ نیکی کمانے کے لئے مجھے واپس بھیج دو۔ ہر گز نہیں، یہ صرف منہ کی باتیں ہیں جس کووہ کہتا ہے۔ وہ لوگ پھر سے زندہ کئے جا نے تک ان کے پیچھے ایک پردہ ہے۔

قرآن مجید : 23:99,100

اور بھی بے شمار دلیلیں موجود ہیں کہ مرنے والوں کو اس دنیا کے ساتھ کسی قسم کا تعلق نہیں ہے۔

مرنے کے بعد کسی شخص کو اس دنیا سے کوئی تعلق نہیں، اس کو جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 41, 79, 83, 298 وغیرہ دیکھئے!

مزید یہ کہ درگاہوں میں کرامات واقع ہوتے ہیں کہنے میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اس طرح کرامات واقع ہوتے ہیں جیسے افواہ پھیلانے ہی کی وجہ سے وہ مشہور ہوتا ہے۔

فرض کرو کہ ایک درگاہ میں ایک ہزار آدمی جاکر مزید دولت کے لئے دعا مانگتے ہیں،ان میں سے ایک یا دو آدمی کو دولت حاصل ہو کر مالدار بن جاتے ہیں۔ باقی کے 998آدمی مالدار کیوں نہیں بنے؟ اس پر کوئی غور نہیں کرتا۔

مالدار بنے ہوئے وہ دو افراد ان 998 آدمیوں کابھی ملا کر تبلیغ کرتے ہیں۔ لیکن ناکام ہو نے والے 998 آدمی اگر کہدے کہ یہ کوئی اولی نہیں؟ تو معاملہ بگڑ جائے گا، اس لئے وہ لوگ منہ بند رکھتے ہیں۔

اسی وجہ سے درگاہوں میں یہ یقین پھیلا ہوا ہے کہ کرامات واقع ہو رہے ہیں۔ ہم یہ بھی دیکھتے آرہے ہیں کہ بچہ کے خواہشمند حضرات تمام درگاہوں کی زیارت کرنے کے باوجود آخرزندگی تک اس سعادت سے محروم رہتے ہیں اور بہت سے لوگ بچہ کے بغیر ہی مربھی جاتے ہیں۔

ہزار میں دو کے حساب سے صرف درگاہوں ہی میں نہیں، بلکہ مندروں میں اور گرجاؤں میں بھی کرامت واقع ہو تے رہتے ہیں۔ اور مزید کئی عبادت گاہوں میں بھی چلتے ہیں۔

اس طرح چلنے کی وجہ ہی سے مندروں ، گرجا گھروں میں درگاہوں میں جمع ہو نے والے نذرانوں سے زیادہ جمع ہو تے ہیں۔سب جانتے ہیں کہ اپنی حاجت پوری ہو نے کے بعد ہی نذرانے پیش کئے جاتے ہیں۔

ان کے دعوے کے مطابق ایسا ہو جائے گا کہ مندروں اور گرجا گھروں میں جا کر دعا کرنا غلط نہیں ہے۔ کیونکہ ان کی دلیل یہی ہے کہ درگاہوں میں کرامات واقع ہوا کر تے ہیں۔

ہزاروں میں دو اشخاص کوجو کرامات واقع ہوتے ہیں، وہ کیسے ہوتے ہیں ، اس کو بھی اگر ہم جان لیں تو یقین ہو جائے گا۔

ہر چیز واقع ہو نے کے لئے اللہ ایک وقت مقررکر رکھا ہے۔ جب وہ وقت آجاتا ہے تو وہ چیز خودبخودظہور پذیر ہوجاتی ہے۔

جب وہ وقت آتا ہے اس وقت درگاہ میں رہنے والے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ درگاہ میں مدفون شخص کی کرامت ہے۔

جب وہ وقت آتا ہے اس وقت مندرمیں رہنے والے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ مندرکے اس دیوتاکی کرامت ہے۔

جب وہ وقت آتا ہے اس وقت گرجا گھرمیں رہنے والے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ عیسیٰ یا مریم کی کرامت ہے۔

یہ لوگ درگاہ یا چرچ یا مندر کو نہ بھی جائیں توجب اس کا وقت آجاتا ہے تو ان لوگوں کی حاجت انجام پاجاتی ہے۔ مناسب وقت جب آجاتا ہے تو ایک لمحہ آگے بھی نہیں جا سکتا اور پیچھے بھی ہٹ نہیں سکتا۔ اس کو ان آیتوں میں 7:34، 10:49، 16:61دیکھ سکتے ہو۔

ہر کام واقع ہو نے کے لئے اللہ نے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے، وہ وقت آنے پر وہ خودبخود واقع ہوجاتا ہے۔

درگاہ کی عبادت گناہ ہے، وہ اللہ کے ساتھ شرک ٹہرانا ہے، اس طرح تبلیغ کر نے والوں کی حاجتیں بھی پوری ہوتی ہیں۔

درگاہ کی عبادت کر نے والوں کو بھی بچہ پیدا ہو تا ہے، اس کو مخالف کر نے والوں کو بھی پیدا ہو تا ہے۔ درگاہ کی عبادت کرنے والے بعض لوگ دولتمند ہو تے ہیں، اسی طرح اس کے مخالف اشخاص بھی دولتمند ہو تے ہیں۔ وجہ یہی ہے کہ اس کامناسب وقت آگیاہے۔ درگاہ کی عبادت کر نے والے اس پر غور کرنا چاہئے۔

اس لئے بزرگ لوگ دنیا میں زندہ رہتے وقت بھی کچھ کرامت کرنہیں سکتے، اگر وہ مرگئے تو معمولی سا کام بھی ان سے نہیں ہوسکتا۔ یہی حقیقت ہے۔

بزرگ کرامت دکھانے میں ماہر ہیں اور جو ارادہ کر تے ہیں اس کو کر دکھاتے ہیں ، اس طرح سوچنے والے مندرجہ ذیل حدیث کو دلیل پیش کر تے ہیں۔

نبی کریم ؐ نے فرمایا :

اللہ فرماتا ہے کہ جس نے میرے اولیاء سے دشمنی کی اس سے میں جنگ کا اعلان کر تا ہوں۔ میری پسندیدہ عمل میں جس کو میں نے فرض کیا ، اس کے سوا کسی دوسرے ذریعہ سے میرا بندہ میری قرب کو حاصل نہیں کرتا۔میرا بندہ مزید(نفل) عبادتوں کے ذریعے میری طرف بڑھتا چلا آئے گا۔ میں اس کو چاہوں گا۔ جب میں اس کو چاہنے لگوں تو اس کے سننے والا کان، اس کی دیکھنے والی آنکھ، اس کے پکڑنے والا ہاتھ اور اس کے چلنے والا پاؤں بن جاؤں گا۔ وہ جو مانگے گا میںیقیناًاس کو دوں گا۔ اگر وہ مجھ سے پناہ مانگے گا تو میں اس کی حفاظت کروں گا۔ ایک مومن کے جان کو قبض کر تے وقت جس طرح میں تردد کر تا ہوں اس طرح میں میرے کسی کام میں تردد نہیں کرتا۔ وہ تو موت کو پسند نہیں کرتا، میں بھی (موت کے ذریعے )اس کو تکلیف دینا پسند نہیں کرتا۔

راوی: ابو ہریرہؓ

بخار: 6502

اس حدیث کوغلط انداز سے سمجھنے والے لوگ کہتے ہیں کہ نبیوں کو جو معجزہ نہیں دیا گیا اس کو اللہ نے اولیاؤں کو عطاکیا ہے۔ اولیاء کی آنکھ اللہ کی آنکھ ہے۔ اللہ ایک ہی وقت میں ہرچیز کودیکھتا ہے اسی طرح اولیاء بھی دیکھتے ہیں۔ اولیاؤں کا کان اللہ ہی کا کان ہے۔ اللہ جس طرح ایک ہی وقت میں سب کی بات سنتا ہے اولیاء بھی اسی طرح سنتے ہیں۔

وہ لوگ کہتے ہیں کہ عبد القادر جیلانی، شاہ الحمید وغیرہ اولیاء نے اللہ کی طرح دیکھنے والے ہیں، اللہ کی طرح سننے والے ہیں ۔ اگروہ پکڑیں تو وہ ان کا ہاتھ نہیں ہے، بلکہ وہ اللہ ہی کا ہاتھ ہے۔

ہم نے جو پہلے دلیلیں پیش کی تھیں اس کی طرف دھیان نہیں دیتے۔ اسی ایک حدیث کو تھامے ہوئے حجت کر رہے ہیں۔

قبر پرستوں نے اس کو ایک بہت بڑی دلیل سمجھ کر پیش کر رہے ہیں کہ اللہ نے اولیاء کو اختیار اور کرامات بخشی ہے۔

اس حدیث کو سطحی طور پر دیکھا جائے تو اس طرح دکھائی دیتا ہے۔ لیکن قرآن کاجو وحدانیت کا عقید ہ ہے اسی کی مناسبت سے اس کی تشریح کرنا ضروری ہے۔

کیا اس کو براہ راست معنی دے سکتے ہیں؟ کیا اس کودوسری دلیلوں کے ساتھ بغیر اختلاف کے معنی لینا چاہئے؟اگر ہم براہ راست معنی لیں تو اس سے جو تباہی ہوگی، اس کو ذرا دیکھیں!

اللہ کے کئی اولیاء مارے گئے۔ اپاہج کر دئے گئے اور قتل بھی کردئے گئے۔ اولیاء ہی اللہ ہوں تو کیا اللہ مارا گیا؟ کیااللہ ہی اپاہج کر دیا گیا؟ کیا اللہ کی موت ہوئی؟ اگر اس پر وہ سوچنے لگیں تو انہیں سمجھ میں آجائے گی۔

ایک شخص پر بہت زیادہ محبت ہو تو اس جیسے لفظوں کو عام طور سے استعمال کیا جانا معمول ہے۔اگر کہا جائے کہ ’’یہ میرا دایاں ہاتھ ہے‘‘ تو اس کو ہم براہ راست معنی میں لے نہیں سکتے۔ اگر کہا جائے کہ ’’ہم ایک جاں دوجسم ہیں‘‘تو ہم اس کو بھی براہ راست معنی نہیں دیتے۔

ان کی لاعلمی کو سمجھانے کے لئے ایک اور حدیث کو پیش کر نا یہاں مناسب ہوگا۔

آخرت میں اللہ پوچھے گا: ’’جب میں بھوکا تھا تو تم نے کیوں مجھے کھانا نہیں کھلایا؟ جب میں پیاسا تھا تو تم نے کیوں مجھے پانی نہیں پلایا؟ جب میں بے لباس تھا تو تم نے کیوں مجھے لباس نہیں دلایا؟ ‘‘ اس پر بندہ کہے گا کہ ’’تم تو رب ہو۔ تمہیں بھوک اور پیاس کیسی؟ ‘‘ اس پر اللہ کہے گا کہ ’’ایک غریب جب بھوک سے مانگا تو اس وقت اگر تم اس کو کھانا کھلائے ہوتے تو تم وہاں مجھے پائے ہوتے۔‘‘

دیکھئے: مسلم: 5021

تو کیا بھکاری تمام اللہ ہیں؟ کیاان کے پاس وہ دعا کریں گے؟ کیا بھکاریوں کو درگاہ باندھوگے؟

کیا ہمارا ہاتھ اللہ کا ہاتھ بن جائے گا؟ کیا ہمارا کان اللہ کا کان بن جائے گا؟ کیاہماری آنکھ اللہ کی آنکھ بن جائے گی؟ اگر ایسا ہوتا توکیا اولیاؤں کو موت آئی ہوتی؟ اگر ایسا ہوتا تو وہ مر نے کے بعد جسے دفن کیا گیا وہ اللہ ہے؟

یہ لوگ جنہیں اولیاء کہتے ہیں ان سب کو اللہ کا دوست اور اللہ کی صفت والے کہتے ہیں ۔ اگر ایسا ہے تو انہیں موت کیوں آئی؟ اب بھی وہ لوگ زمین میں چلنا پھرنا چاہئے تھا۔ کیوں اتنے سارے اولیاء معمولی انسان کو مر نے کے بعد دفن کئے جانے کی طرح قبروں کے اندر مدفون کئے گئے ہیں؟

وہ انسان ہی کی کوئی بات ہو یا اللہ ہی کی بات ہوادبی انداز میں اور تشبیہ سے بولی گئی بات بھی ہوتی ہیں۔ اور براہ راست سمجھنے کی بھی بات ہوتی ہیں۔

جو براہ راست کہا گیا ہو اس کو براہ راست ہی سمجھنا چاہئے۔ جس کو تمثیل سے کہی گئی ہو تواس کو تمثیل ہی سمجھنا چاہئے۔

انسانی طریقے میں کسی کو اگر کہا جائے کہ یہ شیر ہے تو کیا ہم اس کو براہ راست شیر سمجھ جا ئیں گے؟ نہیں۔ بلکہ ہم یہی سمجھیں گے کہ وہ شیر کی طرح طاقت اور ہمت رکھنے والا ہے۔اس کو براہ راست معانی میں لینا نہیں چاہئے۔ تمثیل ہی سمجھنا چاہئے۔

اسی طرح ہم اپنی بیوی کو میری جان کہہ کر پیار سے مخاطب کر تے ہیں۔ تو کیا وہ ہماری جان بن جائے گی۔

اس کو ہم کس طرح سمجھیں گے؟ یہی سمجھیں گے کہ مجھے میری جان کتنی اہم ہے اسی طرح تم بھی مجھے اہم ہو۔

اسی طرح کے الفاظ اللہ استعمال کر تا ہے۔ اسی طرح ہم اس حدیث کو بھی سمجھنا چاہئے۔

مندرجہ بالا حدیث کی آخری حصہ ہی اس معانی کو واضح کردیتا ہے۔

اس کا آخری جملہ یہ ہے کہ وہ جومجھ سے مانگے گا میں ضرور دوں گا۔ اگر وہ مجھ سے پناہ مانگے گا تو میں اس کی حفاظت کروں گا۔

اس کا مطلب یہی ہے کہ وہ جو چاہتے ہیں کچھ بھی نہیں چلے گا۔ ان کے پاس کرامات کچھ بھی واقع نہیں ہوگا۔ اگر وہ مجھ سے دعا کریں تو میں قبول کروں گا۔

ان سب سے بڑھ کراس کا براہ راست معنی اس آیت کے خلاف ہے کہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی کرامت کر نہیں سکتا ۔

درگاہ پرستی کی عبادت کو روا رکھنے والوں کے دیگر دعوے کس طرح غلط ہیں، اس کو جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 17، 41، 49، 79، 83، 100، 104،121، 122، 140، 141، 193،213، 215، 245، 298، 327، 397، 427، 471 وغیرہ دیکھئے!

268۔ دشمنوں کی بربادی کے بارے میں پیشنگوئی

اس آیت 17:76 میں اللہ فرماتا ہے کہ نبی کریم ؐ کو بستی سے نکالنے کے بعد مکہ کے ممتاز شخصیت اس بستی میں بہت قلیل عرصہ ہی رہیں گے۔

نبی کریم ؐ کو بستی سے نکالنے کے باعث بننے والے ابوجہل، عتبہ اور شیبہ جیسے سردارتمام پہلے ہی جنگ میں مارے گئے۔

نبی کریم ؐ کو نکالنے کے بعد وہ لوگ اس بستی میں زیادہ عرصے تک نہیں رہ سکتے ، اسی پیشنگوئی کے بارے میں یہ آیت کہتی ہے۔

267۔ نبی کریم ؐ کو کیامنظر دکھایا گیا؟

یہ آیتیں 17:60، 53:13-18، 32:23 نبی کریم ؐ کو معراج کے لئے لے جانے کے بارے میں براہ راست یا پوشیدہ طور پرکہتی ہیں۔

آیت نمبر 17:60 میں اللہ فرماتا ہے کہ نبی کریم ؐ کو ایک منظر دکھا کر اس کو لوگوں کے لئے آزمائش بنایا ہے۔

اس میں رویا کا لفظ استعمال کیاگیا ہے۔ بعض لوگ اس کو ایسی تشریح دے رہے ہیں کہ رویا کا مطلب ہے خواب ، اور اس خواب میں نبی کریم ؐکو جو منظر دکھایا گیا تھا اسی کے بارے میں اللہ فرمایا ہے۔

یہ سچ ہے کہ رویاکا مطلب خواب ہے، اس کے باوجود اس کو دیکھنا کا معنی بھی ہے۔

بخاری کی حدیث 3888 میں ابن عباسؓ نے کہا ہے کہ نبی کریم ؐ نے اپنی آنکھوں سے جو معراج میں دیکھا اسی کو یہ آیت کہتی ہے۔

یہ ابن عباس کی خاص وضاحت ہے، نبی کا فرمان نہیں۔ لیکن عربی زبان میں رویا کا مطلب براہ راست دیکھنے کو بھی کہا جاتا ہے، اس کی سند کے لئے اس کو ہم نے درج کیا ہے۔ زبان کے معنی کے لئے زبان کے ماہروں کے قول ہی کو سند لینا چاہئے۔

رویا کا معنی خواب میں دیکھنا اور براہ راست دیکھنا دونوں کو کہا جاتا ہے ، اس کے باوجود اس آیت کو خواب میں دیکھنا کا مطلب نہیں لے سکتے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ اس منظر کو لوگوں کے لئے آزمائش بنایا گیاہے ۔

اگر نبی کریم ؐ خواب میں کچھ بھی دیکھ کر کہیں تووہ لوگوں کو آزمائش نہیں ہو سکتی۔اگر کوئی کہے کہ خواب میں ایک ہی رات میں اتنی ساری عجائبات دیکھی تو لوگ یہ کہہ کر مان لیں گے کہ خواب میں تو کچھ بھی دیکھ سکتے ہیں۔

اگر کہا جائے کہ ایک ہی رات میں اتنے سارے مناظر براہ راست دیکھا تو وہی لوگوں کو آزمائش ہو سکتی ہے۔

اس منظر کو ہم لوگوں کے لئے آزمائش بنایا ہے ، اس جملے ہی سے ہم جان سکتے ہیں کہ یہ خواب کے منظر کی بات نہیں ہے۔

نبی کریم ؐ نے آسمانی سفر کے لئے لے جائے گئے اور وہاں پر کئی مناظر دیکھے۔ان مناظر کو جب انہوں نے لوگوں سے کہنے لگے تو ان میں سے بعض لوگ ماننے سے انکار کر دیا۔

نبی کریم ؐ کو مانے ہوئے بعض لوگ نبی کریم ؐ نے اس واقعہ کو اعلان کر نے کے بعد مذہب بدل گئے۔ اسی کواللہ نے اس آیت میں فرماتا ہے کہ لوگوں کو آزمانے کے لئے ہی اس منظر کو ہم نے تمہیں دکھایا۔

اللہ فرماتا ہے کہ اس منظر کو نبی کریم ؐ کو دکھا کر اس کو وہ لوگوں سے کہیں تو کیا وہ لوگ اس کو مانتے ہیں یا نہیں، اس کو آزما کر انہیں نشاندہی کرنا چاہتا ہے کہ مضبوط ایمان والا کون ہے اور کمزور ایمان والا کون ہے؟

معراج کی آسمانی سفر کے بارے میں بے شمار حدیثیں گواہی دیتی ہیں۔

اس بارے میں اور زیادہ معلومات کے لئے حاشیہ نمبر 263، 315، 362 وغیرہ دیکھیں!

266۔ زمین کی نہیں سکتے گہرائی کو جا

آدمی آسمانی سفر کر سکتا ہے اور آسمانی سفر میں جاتے وقت اس کا دل سکڑ جاتا ہے، یہ کہنے والا قرآن اس آیت17:37 کے ذریعے کہتا ہے کہ زمین کے نیچے پہاڑکی لمبائی تک جا نہیں سکتے۔

یہ آیت ایک بہت بڑی سائنسی پیشنگوئی بنی ہوئی ہے۔

اردو زبان کے مترجموں نے اس آیت کو غلط معنی دے کر اس آیت کو بے معنی بنا دیا ہے۔

’’تم زمین میں غروری سے مت چلو۔ کیونکہ تم زمین کو نہ پھاڈ سکتے ہو اورنہ پہاڑ کی اونچائی تک پہنچے سکتے ہو‘‘ اسی طرح اکثر مترجموں نے ترجمہ کیا ہے۔

ابتدائی زمانے سے لوگ سرنگ بنانے، کنویں کھودنے، بند اور تالاب وغیرہ قائم کر نے کی مختلف کاموں کے لئے زمین کو چیرتے ہی آرہے ہیں۔ قرآن نازل ہو نے کے زمانے میں بھی یہ کام چلتا ہی رہا۔ تم کیسے کہہ سکتے ہو کہ تم نے زمین کو پھاڈنہیں سکتے، اس پر انہوں نے غور نہیں کیا۔

مزید یہ کہ زمین کو چیرنے میں اور پہاڑ کی چوٹی پر پہنچنے میں غروری نہ کریں، اس سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔

اس آیت کا صحیح معنیٰ یہ ہے کہ ’’تم زمین کو چیر کر پہاڑ کی اونچائی کے مقدارتک نہیں پہنچے‘‘۔ اس کے بارے میں تفصیل سے دیکھیں!

انسان آسمان میں بہت اونچائی تک جاتا ہے۔ انسان کو وہ آسان ہے، اس کے باوجود زمین کے نیچے اس طرح جا نانہیں ہوا۔ایک بڑے پہاڑ کی بلندی کی طرح انسان زمین کی گہرائی کو چیرتے ہوئے نہیں جا سکتا۔ اسی کو یہ آیت کہتی ہے۔

اس ناممکن نادر کام کواگر تم کر سکو تو تمہارے اترانے میں کوئی معنی ہوسکتاہے، اس طرح اللہ تمہیں طنز کر تا ہے۔

اس میں جو سائنسی حقیقت مضمر ہے ، اس کو ہم دیکھیں!

آدمی زمین کے اوپر 3,56,399 کلو میٹر کے فاصلہ پر موجود چاندتک آدمی بھیج کر اس کی اونچائی کو پہنچ گیا۔ مزید یہ کہ زمین کے اوپر آٹھ کروڑ کلو میٹر کے دوری پر موجود ستارۂ مریخ کو برقی مشین بھیج کر اس کی اونچائی بھی انسان نے حاصل کر لی۔

زمین کا قطر 12.756 کلو میٹر ہے۔ یعنی زمین کے ایک کنارے سے لے کر اس کے دوسرے کنارے تک کا فاصلہ قطر 12.756 کلو میٹر ہے۔

اس میں انسان جہاں تک گیا ہے وہ صرف 3.3 کلو میٹر ہی ہے۔ جنوبی افریقہ میں موجود دنیا کی بہت گہری سرنگ ٹرانسوال پاکسبرگ کے مقام میں موجود اس سرنگ کی گہرائی بھی وہی ہے۔

حقیقت میں اس کو بھی نہیں کہہ سکتے کہ یہ صحیح ہے۔ کیونکہ یہ حصہ سمندر کی سطح سے 1600 کلو میٹر اونچائی میں ہے۔ سطح سمندر سے اگر ماپا جائے تو اس سرنگ کی گہرائی صرف 1700 کلو میٹر ہے۔ یعنی دو کلو میٹر بھی آدمی زمین کی گہرائی میں نہیں گیا۔

دنیا کی سب سے بلند ترین ہمالیہ پہاڑ کی اونچائی نو کلو میٹر ہے۔ نو کلو میٹر گہرائی کو یعنی پہاڑ کی اونچائی کے انداز تک زمین میں انسان جا نہیں سکتا ۔ اس بات کو سائنسدان نے قبول کرتے ہیں۔

زمین کی سطح میں لگ بھگ چالیس ڈگری سینٹی گریڈ گرمی ہی کوآدمی سنبھال نہیں سکتا۔ سطح سمندر سے 1700 کلو میٹر گہرائی کی اس سرنگ میں 57ڈگری سینٹی گریڈ گرمی ہو تی ہے۔ اس گرمی کو مزدور سنبھال نہیں سکتے، اسی لئے اس کے قریبی حصے ٹھنڈا کئے جاتے ہیں۔

سائنسدانوں نے تفتیش کی ہے کہ زمین کے نیچے 700کلو میٹر گزر گئے تو ہوا چہرے کو جھلس دیگی۔ اس لئے پہاڑ کی بلندی نو کلو میٹر کے حد تک زمین کے اندر جانا ممکن ہی نہیں ہے۔

مزید یہ کہ زمین کے اندر جاتے جاتے زمین کی کشش کی طاقت اور زیادہ بڑھتی ہے۔ اس سے آدمی کا وزن بھی بڑھتا ہے۔ یہ حالت پیدا ہوجائے گا کہ آدمی اپنا وزن سنبھال نہ سکے گا۔ اس وجہ سے بھی آدمی زمین کی گہرائی میں نہیں جاسکتا۔

اس حقائق کو چودہ سو سال پہلے ہی قرآن نے اعلان کر دیا تھا۔ اس سے ثابت ہو تا ہے کہ قرآن اللہ ہی کلام ہے۔

More Articles …