Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

‏281۔ محمد نبی سارے عالم کے پیغمبر ہیں

‏نبی کریم ؐ کو پیغمبر مقرر کرنے کے متعلق قرآن مجید آپ کی تبلیغی حد کے بارے میں اور انہیں جن پر پیغمبر بنا کربھیجا گیااس کے بارے میں کئی طرح ‏سے کہا ہے۔ 

اس کو ایسا نہ سمجھنا چاہئے کہ وہ ایک سے ایک مختلف ہے۔ تبلیغی کام کی حدود رفتہ رفتہ پھیلتے جانے کی وجہ سے اس طرح کہاگیا ہے۔ 

پہلے پہل ان پر جو آیت نازل کی گئی(96:1) اس میں کہا گیا ہے کہ پڑھو۔ اس سے انہیں پڑھنے کو کہتا ہے، سمجھنے کو کہتا ہے۔

پہلے پہل جب وحی اتری تو انہیں صرف اتنا ہی حکم دیا گیا کہ تم پڑھواور سمجھو۔ اس وقت انہیں تبلیغ کر نے کے لئے حکم نہیں دیا گیا ۔ 

اس کے بعد26:214 آیت میں ’’قریبی رشتہ داروں کو تنبیہ کرو‘‘ کہہ کر رشتہ داروں کے حد تک ان کی رسالت کے کام کو اللہ نے اور بھی ‏پھیلا دیا۔ 

اس کے بعد 6:92 اور 42:7 وغیرہ آیتوں میں ام القرا یعنی شہروں کی ماں کہلانے والے مکہ والوں کو اور اس کے اطراف رہنے والوں کو تنبیہ کرنا ‏چاہئے کہہ کر ان کی رسالت کے کام کو اللہ نے اور بھی پھیلادیا۔ 

اس وقت ان پر جو ذمہ داری سونپا گیا تھا وہ مکہ کے لوگوں اور مکہ کے اطراف میں بسنے والوں کو تنبیہ کرنا ہی تھا۔ 

اس کے بعد ان آیتوں (7:158، 21:107، 34:28 ) میں کہا گیا کہ اس زمانے میں رہنے والے دنیا بھر کے لوگوں کو انہیں رسول بنا کر ‏تبلیغی حدود کو اللہ نے اور بھی زیادہ پھیلا دیا۔ 

آخر میں 62:2,3آیتوں میں کہا گیا ہے کہ ان کے زمانے میں بسنے والے ہی نہیں بلکہ اس کے بعد آنے والے لوگوں کے لئے بھی ان کی رسالت ‏کے کام کو اللہ نے اور بھی بڑھا دیا۔

یہ آیتیں کہتی ہیں کہ آپ کی تبلیغی کام کی حدود کو تھوڑا تھوڑا سا پھیلا یا گیا۔اس لئے ان آیتوں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔  

‏280۔ جہنم سے گزرکر ہی جنت جا سکتے ہیں

‏اس آیت 19:71میں کہا گیا ہے کہ ہر ایک کوجہنم آنا ہی پڑے گا۔ اب یہ شک پیدا ہو سکتا ہے کہ کیا نیک لوگ بھی جہنم کو جائیں گے؟ 

یہ شک نبی کریم ؐ کے زمانے میں اصحاب رسول کو بھی پیدا ہوئی تھی اور انہوں نے بھی رسول کریم سے سوال کیا تھا۔ 

نبی کریم ؐ نے وضاحت کی تھی کہ دوزخ کے اوپر ایک پل بنایا گیا ہے۔ جنت کو جانے والے اس پل سے گزر کر ہی جنت جاسکتے ہیں۔ اس طرح گزر ‏کر جانے ہی کو یہ آیت کہتی ہے۔ (دیکھئے مسلم: 4909)  

‏279۔ جبرئیل کی قول کیا قرآن میں جگہ پائے گی؟

‏اس آیت(19:64) کا معنی ایسا لگتا ہے کہ قرآن مجید فرشتوں کا قول ہے۔

قرآن مجید اللہ کا کلام ہونے کی وجہ سے اس میں صرف اللہ ہی کا قول جگہ پانا چاہئے۔ اگردوسروں کی بات اس میں جگہ پانا ہو تو اللہ اس کو صاف سے ‏سمجھانے کی طرح جگہ پانا چاہئے۔ 

لیکن اس آیت میں فرشتوں کا کہناکہ ’’اللہ کی اجازت کے بغیر ہم نہیں اترتے‘‘ قرآن مجید میں جگہ پائی ہے۔یہاں یہ شک پیدا ہو سکتا ہے کہ ‏فرشتوں کا یہ ذاتی قول کس طرح قرآن مجید میں جگہ پا سکتا ہے؟اس طرح کی لفظی ترکیب قرآن مجید میں کئی جگہوں میں جگہ پائی ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن تحریری انداز میں کتابی شکل میں نہیں اترا۔ تقریری انداز ہی میں اترا۔ بات چیت کے انداز میں بعض لفظوں کو ہم نہ ‏کہیں بھی تو ماحول کے لحاظ سے ہم اس کو سمجھ لیتے ہیں۔ 

فرض کرو کہ ایک مجلس میں ابراھیم اور اسماعیل کے درمیانی معاملے کو مجلس کے صدر دریافت کر تے ہیں۔اور فرض کرو کہ کوئی شخص اس کوویسے ‏ہی لکھتا ہے۔

صدر نے پوچھا کہ کیا تم نے ایسا کیا؟ 

اسماعیل کہتا ہے کہ میں نے نہیں کیا۔

فوراً ابراھیم سے صدرپوچھتا ہے کہ یہ تو کہتا ہے ، اس نے نہیں کیا۔ تم کوئی سند کے بنا کیوں الزام لگاتے ہو؟ 

ابراھیم کہتا ہے کی میرے پاس ثبوت ہے۔

اس واقع کو کوئی اس طرح لکھتا ہے تو وہ اس بنا پر لکھتا ہے کہ وہ اس کو سمجھ چکا۔اس کے بجائے اگر کوئی صرف وہاں کی گفتگو ہی لکھ دے تو کیسا رہے ‏گا؟ 

کیا تم نے کیا؟ میں نے نہیں کیا۔ یہ کہتا ہے کہ اس نے نہیں کیا؟ کچھ سند کے بغیر کیوں الزام لگا رہے ہو؟ میرے پاس ثبوت موجود ہے۔ 

اس مجلس میں صرف اتنی ہی گفتگو ہوئی تھی۔ اب دونوں عبارت کو موازنہ کر کے دیکھو۔ 

گفتگو کے وقت کتنے الفاظ چھوٹ گئے ہیں۔ ایسا کہا، ویسا پوچھا، اس طرح کے لفظوں کو ہم ہی شامل کر لینا چاہئے۔ ایسے ہی چند گفتگو ترکیب پائی ‏ہیں۔ 

قرآن مجید لوح محفوظ میں بحفاظت رکھا گیا ہے۔ اللہ کی اجازت کے ساتھ جبرئیل وقت ضرورت لے آکر سناتے ہیں۔

لوح محفوظ میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ چند دن وحی بھیجا بھی نہیں جائے گا۔ اوریہ بھی لکھا گیا ہے کہ اس وقت نبی کریم ؐ فکر مند ہوں گے۔ اس میںیہ ‏بھی لکھا گیا ہے کہ اللہ کی اجازت کے بغیر ہم نہیں اتریں گے، اس آیت کو بھی لوح محفوظ سے جبرئیل لے جائیں گے ۔ 

اس کے بارے میں اور زیادہ جانکاری کے لئے حاشیہ نمبر 492دیکھئے!

اس بنا پراگر جبرئیل نے کہا ہو کہ ہم نہیں اتریں گے تو ہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ اللہ نے ایسا کہنے کے لئے کہا ہو گا کہ ہم نہیں اتریں گے۔ انہوں نے جو ‏بھی کہا اللہ نے کہنے کو کہا تھا۔ 

اسی طرح آیت نمبر 37:164 میں کہا گیا ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی ہو انہیں ایک مخصوص جگہ متعین ہے۔ ہم صف بستہ کھڑے ہو نے والے ‏ہیں۔ اور ہم تسبیح کر نے والے ہیں۔ 

ہم کا لفظ فرشتوں کی طرف اشارہ ہے۔ایسا نہ سمجھنا کہ فرشتے خود براہ راست کہی ہوئی بات قرآن میں جگہ پائی ہے۔بلکہ اس کو ایسا سمجھنا چاہئے کہ ‏اس طرح کہنے کو اللہ نے کہا ہے۔ 

قرآن مجید تقریری انداز سے نازل ہو نے کی وجہ سے وہ اس ماحول کے لحاظ سے سمجھ جائیں گے، اسی لئے قرآن مجید بھی عام طور سے بولی جا نے والی ‏طریق کار کو اپنایا ہے۔   

‏278۔ زندہ رہنے والے عیسیٰ نبی کس کو زکوٰۃ دیں گے؟ 

‏ان آیتوں کو (19:30-32) کئی علماء غلط معنی لکھا ہے۔

غلط ترجمہ کی وجہ سے ایک گروہ عیسیٰ نبی کی انتقال کے لئے اس کو دلیل بتاتے ہیں۔ ٹھیک ترجمہ کے مطابق عیسیٰ نبی کی موت کے بارے میں یہ ‏آیتیں ظاہری یا پوشیدہ طور پر کوئی رائے نہیں دی۔

اس لئے کونسا ترجمہ ٹھیک ہے ، اس کو مناسب وجوہات سے ہم جان سکتے ہیں۔ 

‏(۱) میں اللہ کا بندہ ہوں۔ مجھے اللہ نے کتاب عطا کی ہے۔ اور مجھے نبی بھی بنایا۔ (19:30)

‏(2) میں جہاں کہیں بھی ہوں اس نے مجھے سعادت دی ہے۔اور حکم فرمایا ہے کہ میں زندہ رہنے کے زمانے تک نماز پڑھوں اور زکوٰۃ دیتیارہوں۔ ‏‏(19-31)

‏(3) اور مجھے میری ماں کو خدمت کر نے والا بنایا۔ مجھے بد قسمت اور جبر کر نے والا نہیں بنایا۔ (19:32) 

اسی طرح ان آیتوں کو اکثر علماء نے ترجمہ کیا ہے۔ 

غلط عقیدہ رکھنے والے اس ترجمے کی بنیا د پرچند سوال اٹھاتے ہیں۔ 

‏19-31 کی آیت میں کہا گیا ہے کہ عیسیٰ نبی نے کہا: میں زندہ رہتے وقت نماز پڑھوں اور زکوٰۃ دوں۔ 

عیسیٰ نبی جب زندہ ہی آسمان پر اٹھا لئے گئے تو وہ کیسے زکوٰۃ دے سکتے ہیں؟ اگر وہ زکوٰۃ نہیں دے سکے تو اس کا مطلب ہوگا کہ وہ وفات پاگئے۔ کیونکہ ‏عیسیٰ نبی نے فرمایا ہے کہ جب تک میں زندہ رہوں ، مجھ پر زکوٰۃ ادا کرنا فرض ہے۔ یہی ان لوگوں کی پیش کردہ دلیل ہے۔ 

اوپر کئے گئے ترجمہ کے تحت وہ دعویٰ ٹھیک بھی ہو تو ترجمہ 

غلط رہنے کی وجہ سے ان کا وہ دعویٰ معطل ہوجاتا ہے۔ وہ کیسے، آئیے معلوم کریں۔ 

ان تینوں آیتوں میں پہلی دو آیتوں کے ترجمے سے ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ تیسری آیت 19:32کو ہر مترجم نے غلط ترجمہ ہی کیا ہے۔

اس لئے اس19:32 آیت کاٹھیک معنی کیا ہے، دیکھیں۔

اس آیت میں وَبَرَّا بِوَالِدَتِیْ کاجملہ جگہ پایا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ میری ماں کی خدمت کر نے والا۔

اور کر نے والا میں جواور ہے ،اس معنی کو کس کے ساتھ جوڑنا ہے ، اسی میں انہوں نے غور نہیں فرمایا۔ 

اور کے معنی کے حد تک عربی زبان میں ایک اور طریقے سے استعمال کیا جاتا ہے، اس کو پہلے ہم سمجھ لینا چاہئے۔ 

ابراھیم کو میں اچھا اور طاقتورسمجھتا ہوں ، اس جملے میں اچھا، طاقتورکے درمیان اور کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ عربی زبان میں کہنا ہو تو وہ جملہ اس ‏طرح ترکیب پائے گا کہ میں سمجھتا ہوں ابراھیم کو اچھا اور طاقتور۔ یعنی عربی زبان میں اور کا لفظ آخر میں آئے گا۔ 

اس کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس آیت 19:32 کو دیکھیں۔

‏’’میری ماں کو خدمت کر نے والا‘‘اس جملے کو کہاں جوڑنا ہے ، اگر غور کریں تو دو جگہوں میں جوڑ سکتے ہیں۔ 

یہ آیت 19:30 کہتی ہے کہ مجھے نبی بھی بنایا۔ اگر اس کے ساتھ اس جملے کو جوڑیں تو یہ مطلب نکلے گا کہ مجھے نبی اور میری ماں کو خدمت کر نے ‏والا بنایا۔ 

اسی طرح اکثر علماء سلسلہ جوڑتے ہیں۔ 

اس کو 19:31 آیت کے آخرمیں بھی جوڑ سکتے ہیں۔ 

اس سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ میں زندہ رہکرجب تک ماں کی خدمت کرتا رہوں اس وقت تک نماز پڑھنے اور زکوٰۃ دینے کے لئے اللہ نے مجھے حکم ‏دیاہے۔ اس طرح جوڑنا ہی ٹھیک ہوگا۔ 

عربی قواعد کے مطابق اور کے معنی جگہ پانے والے الفاظ کو اس کے قریب رہنے والے جگہ ہی میں جوڑنا چاہئے۔ اگر قریب کے جگہ میں جوڑنا ‏نہیں ہوسکا تو اسی وقت دور کے جملوں سے جوڑا جا سکتا ہے۔ 

‏’’میری ماں کی خدمت کر نے والا‘‘ یہ 19:32کی آیت ہے۔

اس سے پہلے کی آیت کے ساتھ جب جوڑا جا سکتا ہے تو اس کو مستردکر کے اس سے پہلے کی آیت 19:30 کے ساتھ جوڑنا نامناسب ہوگا۔

‏’’میں زندہ اور میری ماں کو خدمت کر نے والا رہنے کے زمانے تک زکوٰۃ دینے کے لئے حکم دیا گیا ہوں‘‘، کہنا ہی ٹھیک معنی ہوگا۔

اس لئے عیسیٰ نبی صرف زندہ ہی نہیں بلکہ ماں کی خدمت کرتے رہنے پر ہی ان پر زکوٰۃ فرض ہوگا۔ جب وہ اوپر اٹھا لئے گئے تو اس وقت ان سے اپنے ‏ماں کی خدمت نہیں ہوسکتی۔ 

ایک اور طریقے سے کہنا ہو تو عیسیٰ نبی کو زکوٰۃ ادا کر نے کے فرض کے لئے اللہ نے دو شرط رکھی ہیں:

‏(1) عیسیٰ نبی زندہ رہنا چاہئے۔ 

‏(2) وہ اپنی ماں کو خدمت کر نے والے ہو نا چاہئے۔

یہ دونوں شرط ایک ساتھ ہو تو ہی ان پر زکوٰۃ فرض ہوگا۔

عیسیٰ نبی اوپر کو اٹھا لئے جا نے سے پہلے تک ہی یہ مناسب تھا۔اسی وقت وہ زندہ بھی رہے اور اپنی ماں کو خدمت کر نے والے بھی تھے۔ 

جب وہ اپنی ماں سے چھوٹ کر اوپر کی طرف اٹھالئے گئے اس وقت ایک ہی شرط موجود تھی کہ وہ زندہ تھے ۔ ماں کی خدمت کر نے والے کا شرط ‏جب موجود نہیں تھا۔ 

آج بھی عیسیٰ نبی زندہ ہی ہیں۔پھر بھی وہ اپنی ماں کو خدمت کر نے کی حالت میں نہیں ہیں۔ 

عیسیٰ نبی زندہ ہی ہیں، اس رائے کو اور مضبوط کر نے کے لئے یہ ایک دلیل ثابت ہوجا تی ہے۔ 

‏* آیت نمبر 43:61 کہتی ہے کہ عیسیٰ نبی قیامت کے دن کی نشانی ہیں۔

‏* آیت نمبر 4:159 کہتی ہے کہ وہ وفات پانے سے پہلے کتاب والے کوئی بھی انہیں مانے بغیر نہیں رہیں گے۔ 

‏* آیت نمبر5:75 کہتی ہے کہ ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگ مرگئے۔ 

اسی طرح عیسیٰ نبی مرے نہیں کہنے والی یہ آیت بھی عیسیٰ نبی زندہ ہی اوپر اٹھا لئے گئے کے لئے دلیل ہے۔ 

اس جگہ پر ایک اور سوال اٹھایا جاتا ہے۔

آخری زمانے میں آنے والے عیسیٰ نبی کیا زکوٰۃ ادا کریں گے یا نہیں ؟کیانماز پڑھیں گے یا نہیں؟ اگر وہ زکوٰۃ دیں گے توماں کو خدمت کر نیکی حالت ‏میں تو وہ نہیں ہیں؟ یہی ان کا سوال ہے۔

عیسیٰ نبی اس زمین کو اترتے وقت نبی جیسا نہیں اتریں گے۔ محمد نبی کے امتی بن کر ہی اتریں گے۔ اس سے پہلے انہیں کوئی بھی قانون دئے گئے ہوں ‏، ان میں سے کسی قانون پروہ عمل پیرا نہیں ہوں گے۔ نبی کریم ؐ ہی کے قانون کے مطابق وہ فیصلہ کریں گے۔ 

اس لئے انہیں جو نماز پہلے فرض کیا گیا تھا اس نماز کو وہ نہیں پڑھیں گے۔ وہ زکوٰۃ بھی نہیں دیں گے۔ 

نماز پڑھنے اور زکوٰۃ دینے اللہ نے جوحکم دیا تھا اس وقت ایک دوسری ہی نماز اور زکوٰۃ تھی۔ جب وہ زمین پر اتر آئیں گے تو وہ نماز نہیں پڑھیں گے، ‏وہ زکوٰۃ بھی نہیں دیں گے۔ 

اس امتوں پر فرض کیا ہوا نماز اور زکوٰۃ ہی وہ ادا کریں گے، اس لئے اس میں وہ اپنی قول سے تجاؤز نہیں کریں گے۔ 

کیا عیسیٰ نبی وفات پا گئے یا انہیں اوپر کی طرف اٹھالیا گیا؟ کیا وہ آخری زمانے میں اتر آکر وفات پائیں گے؟ اس کے بارے میں اور بھی جاننے کے لئے ‏حاشیہ نمبر 93، 101، 133، 134، 151، 342، 456وغیرہ دیکھئے!  

‏277۔خاموشی کا روزہ

‏اس زمانے کے لوگوں میں خاموشی کا روزہ اختیار کرنا ایک قسم کا روزہ مانا جاتا تھا۔یہ آیت 19:26کہتی ہے کہ اسی کو مریم ؑ نے اختیار کر رکھا تھا۔

اس کو بنیاد بنا کر یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ خاموشی کاروزہ اسلام میں جائز ہے۔ بنیادی اصول کے لحاظ سے ابتداء ہی سے نبی کریم ؐ کے زمانے تک ایک ہی ‏اصول رہا ہے۔ لیکن غیر بنیادی اصول کے قاعدہ قانون کے لحاظ سے ایک ہی قانون کو ہر سما ج کے لئے عطا کیا گیا ہے۔ 

پچھلے سماج کو ایک قانون دینے کے بعد اس کو بدل کرایک دوسرا قانون اگر قرآن مجید میں یا سنت رسول میں دکھائی دے تو ہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ ‏پچھلے قوموں کو دئے گئے وہ قانون اسی قوم کے مناسب تھا۔ 

نبی کریم ؐ کو عطا کئے ہوئے قانون میں خاموشی اختیار کرنا ایک عبادت نہیں ہے، یہ دلیل رہنے کی وجہ سے اس قوم میں خاموشی کا روزہ نہیں ہے۔ 

ایک صحابئی رسول نے منت مانگ لی تھی کہ میں کسی سے بات نہیں کروں گا، اس کو جان کر نبی کریم ؐ نے انہیں ڈانٹا اور کہا کہ ایسا نہیں کر نا چاہئے۔ ‏اس لئے کسی سے بات نہیں کر نے کامنت مانگنا اسلام میں ممنوع ہے۔ (دیکھئے بخاری: 6704 )

اس کے بارے میں اور زیاد ہ معلومات کے لئے حاشیہ نمبر 326دیکھئے!  

‏276۔ نبی ہونے کے لئے عمر کی کوئی پابندی نہیں ہے

‏ان دونوں آیتوں میں (19:2، 19:30) کہا گیا ہے کہ چھوٹی عمر ہی میں دواشخاص نبی بنادئے گئے تھے۔ 

بعض مسلم علماؤں کا کہنا ہے کہ کتاب عطا کرنااور کسی شخص کونبی بنانا ہو توچالیس سال کی عمر ہی میں بنایا جاتا ہے۔ اس طرح کہہ کر چالیس کو انہوں ‏نے بہت اہمیت دے رکھی ہے۔ یہ آیت اس کے خلاف موجود ہے۔ 

نبی بنائے جانے کو اور عمر کو کوئی تعلق نہیں ہے، اس کے لئے یہ آیتیں دلیل ہیں۔   

‎275‎۔ محمد نبی پر بھی ایمان لاناچاہئے

اس آیت (63:1) میں منافقوں نے نبی کریم ؐ کو اللہ کا رسول کہنے اور ان کے جھوٹ کہنے کے بارے میں اللہ فرماتا ہے ۔

نبی کریم ؐ کے زمانے میں اسلام قبول کر نے والے نبی کریم ؐ کے پاس آکر کہتے تھے کہ ہم نے یقیناًمانا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔اسی بنیاد پر منافقوں ‏نے بھی دوسروں کی طرح کہا کر تے تھے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ 

اس طرح کہنا ان کے دلوں سے نہ آنے کی وجہ سے اللہ نے انہیں جھوٹا کہا ہے۔ 

بعض جاہل لوگ اس کو نا سمجھتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ اسلام قبول کرتے وقت صرف لا الہ الا اللہ ہی کہنا ہے، اس کے ساتھ محمد الرسول اللہ کہنا ‏منافقوں کی صفت ہے۔ 

یہ بالکل غلط ہے۔ 

کیونکہ منافقوں نے نبی کریم ؐ کو اللہ کا رسول جو کہا تھا اللہ نے اس کو غلط نہیں کہا۔ بلکہ منافقوں کے دل میں جو بات نہیں تھی،اس کوانہوں نے ‏صرف منہ سے کہنے کی وجہ ہی سے اللہ نے انہیں سرزنش کی تھی۔

منافقوں نے صرف زبان سے کہا تھا کہ ہم نے اللہ کو مانا۔ لیکن انہوں نے اللہ کو نہیں مانا۔ اسی طرح نبی کریم ؐ کے معاملے میں بھی وہ لوگ جھوٹ ‏کہہ رہے ہیں، اسی لئے اللہ نے اس آیت میں انہیں تاکید کر تا ہے۔ 

یہ آیت بالکل واضح طور پر کہتی ہے کہ نبی کریم ؐ کواللہ کا رسول کہہ کر وعدہ کر نا آپ کے دور میں دستور تھا۔ اور اللہ نے اس دستور کو قبول کرچکا تھا ، ‏لیکن وہ وعدہ دل سے ہونا چاہئے تھا۔   

‏274۔ زمین کی گولائی ثابت کر نے والا سفر

‏ذوالقرنین نامی بادشاہ کی لمبی سفر کے بارے میں یہ آیت 18:90 کہتی ہے۔ 

ذوالقرنین اپنے سفر کو مشرق کی جانب آغاز کر تے ہیں۔ اس آیت میں کہا گیا ہے کہ مشرق کی جانب جانے والے اچانک مغرب کی جانب چلے ‏گئے۔ 

دنیا اگر گول ہے تو ہی وہ ممکن ہے۔ اس وقت ہی وہ مشرق کی طرف جانے والے مغرب کی طرف پہنچ سکتے ہیں۔ 

مثال کے طور پر ایک گول چیز کو ایک چوکھٹے میں کھڑا کردو۔ اس کے اوپر تمہاری انگلی رکھ کر ہٹاتے چلو تو وہ جہاں سے نکلی اسی ابتدائی مقام پر آپہنچے ‏گی۔ 

مشرق سے مغرب کی طرف ہٹنے والی تمہاری انگلی اس گولائی کے درمیان آنے کے بعد وہ مغرب کی جانب ہٹتے ہوئے پھر ابتدائی مقام پر آ ٹہرے ‏گی۔ 

چینئی میں رہنے والا ایک شخص مشرق کی طرف سیدھے سفر کرتا ہے ۔ وہ سفر ہی میں رہتا ہے۔ تم بھی اس کے منتظر رہتے ہو۔ 180 ڈگری یعنی ‏کہ چینئی کے سیدھے نیچے کی طرف رہنے والے حصہ تک مشرق کی جانب جانے والا وہ شخص 180 ڈگری کو پہنچتے ہی مغرب کی جانب پلٹ جائے ‏گا۔ مغرب کی طرف سے ہی وہ تم تک پہنچے گا۔ 

فرض کرو کہ ایک گھنٹہ میں دنیا گھومنے کی رفتار میں چلنے والی ایک گاڑی ہے۔چینئی میں تمہارے ساتھ رہنے والا ایک شخص مشرق کی جانب ‏سیدھے سفر کر تا ہے۔ ایک گھنٹہ میں وہ جہاں سے نکلا تھا وہیں آکر پہنچ جائے گا۔ وہ جس سمت سے نکلا تھا اسی سمت سے وہ تم تک نہیں پہنچے گا۔بلکہ اس ‏کے مخالف سمت سے ہی پہنچے گا۔ 

زمین گول رہنے کی وجہ سے وہ نصف تک پہنچتے ہی اس کا رخ بدل جائے گا۔ 

عام طور سے کسی بھی گول چیز کو دیکھو تو نصف حصہ ایک سمت کو دیکھتا ہے تو دوسرا نصف حصہ مخالف سمت ہی دیکھے گا۔ اگر ایسا نہ ہوا تو وہ چیز گول ‏نہیں ہو سکتی۔ 

ایک تاریخی واقعے کو کہتے وقت بھی بالکل غور طلب عقلی حقیقت سے کہنے کی وجہ سے یہ بھی ایک دلیل ہے کہ قرآن اللہ ہی کا کلام ہے۔ 

More Articles …