Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

‏289۔ کیا تقدیر پر بھروسہ کرنا باطل عقیدہ ہے؟

‏اس آیت 57:23 میں کہا گیا ہے کہ تقدیر کو کیوں ماناجائے اور اس سے ہمیں کیا فائدہ ہے۔

تقدیر پر بھروسہ کر نا اسلام کے اہم عقیدوں میں سے ایک ہے۔ دین اسلام میں ہر عقیدے کو عقلی طور پر واضح کر سکتے ہیں، اس کے باوجود صرف ‏تقدیر کے بارے میں بحث نہیں کر نی چاہئے۔ اس کو نبی کریم ؐ نے فرمادیا۔ 

کیونکہ ایک نظرئے سے دیکھا گیا تو ایسا معلوم ہو تا ہے کہ تقدیر ہے۔ دوسرے نظریے سے دیکھا گیا تو معلوم ہو گا کہ تقدیر تمام کچھ بھی نہیں ہے۔ 

اگر تقدیر نامی کچھ ہوگا تو ایسے سوالات اٹھ سکتے ہیں کہ اچھے یا برے راستے میں چلنے کیلئے میں کیسے ذمہ دار ہوسکتا ہوں؟ میرے برے عمل کے لئے ‏میں کیوں دوزخ میں ڈالا جاؤں؟ 

اگر سمجھو کہ تقدیر نہیں ہے تو ہم جو کام بھی کرتے ہیں اس کو ہم ہی فیصلہ کر تے ہیں۔ ہمارا فیصلہ تمام ہمارے ہی ہاتھ میں ہے تو ایسا ہوجا ئیگا کہ ہم جو ‏کر نے والے ہیں اس کو اللہ نہیں جانتا۔ 

ایسا ہوجائے گا کہ ہر معاملہ ہمارے کئے جانے کے بعد ہی اللہ کو معلوم ہوتا ہے۔یہاں یہ سوال اٹھ سکتا ہے کہ میں جو کام کل کرنے والا ہوں اس کو ‏نہ جاننے والا کیسے رب ہو سکتا ہے؟ 

جو کام ہم کر نے والے ہیں اس کو اللہ پہلے ہی سے جانتا ہے تو جو اللہ جان رکھا ہے وہ ہو کر ہی رہے گا۔ یہی بات سب کچھ تقدیر کے مطابق ہی چلے گا ‏میں موجود ہے۔

یعنی کہ اللہ کو سب کچھ معلوم ہے تو اس کے اندر تقدیر کا عقیدہ بھی شامل ہے۔ کوئی کام ختم ہو نے کے بعد ہی اللہ کو معلوم ہے تو یہاں اللہ کی حیثیت ‏کم ہوجا تی ہے۔ 

اگر تقدیر نا کہو بھی تو آفت!

اگر تقدیر ہے کہو بھی تو آفت!

اسی لئے اسلام کہتا ہے کہ تقدیر پر بھروسہ بھی کرو، اور اسی وقت تقدیر پر الزام تھوپے بنا اپنے اعمال کی اصلاح بھی کرلو۔اور یہ شکست بھی مان لو کہ ‏اس کو سمجھنے کی صلاحیت اللہ نے ہم کو نہیں دی۔ 

عقلی طور پر ہزاروں عقیدوں کے اصولوں کو دینے والے اللہ نے ہمیں آزمانے کے لئے بھی اس حال کو پیدا کیا ہوگا۔ 

اسی وقت تقدیر کے بارے میں جو دوسرے مذاہب میں عقیدہ پایا جا تا ہے اس طرح اسلام میں پایا ہوا نہیں ہے۔ 

چند مذاہب میں کہا جاتا ہے کہ ہر معاملہ تقدیر ہی کے مطابق چلتا ہے۔ اس لئے محنت نہ کرو! بیمار ہو گئے تو علاج مت کرو!اس طرح اسلام نہیں ‏کہتا۔ 

بلکہ اسلام راستہ دکھاتا ہے کہ جو ہوگیا صرف اسی معاملے پر تقدیرپر بار ڈالو۔

اسلام راہ دکھاتا ہے کہ جو بات نہیں ہوئی ان معاملوں میں اگر تقدیرکچھ ناہو تو جس طرح چلوگے اسی طرح چلو۔یعنی محنت کرنے کو کہتا ہے۔ ‏مشقت اٹھانے کو کہتا ہے۔ 

چنانچہ اسلام کہنے کے مطابق اگر تقدیر پر بھروسہ کریں تو وہ انسان کی ترقی میں کوئی رکاوٹ پیدانہیں ہوسکتی۔ 

اسی وقت تقدیر پر بھروسہ کر نے سے نوع انسانی کو حاصل ہو نے والے مفاد کو اگر سوچ کر دیکھیں توکم از کم اس کے لئے تو تقدیر پر بھروسہ کر نااچھا ‏ہو گا۔

ایک انسان اپنی پوری طاقت کو استعمال کر کے ایک کام میں مشغول ہو تا ہے۔ فرض کرو کہ وہ کام ناکام ہوگیا۔ 

تقدیر پر بھروسہ کر نے والااس طرح سوچ کر کہ ہم کتنا بھی کوشش کریں ، اس میں اللہ کی بھی رضامندی ہونی چاہئے تھا، وہ جلد ہی اپنی فطری ‏حالت پر آجا ئے گا۔ 

تقدیر کو نہ ماننے والا اس کو کیسے سمجھے گا؟ 

اتنی محنت کر نے کے باوجودبھی کامیابی حاصل ہوئی نہیں ، اس طرح رو رو کر ہی وہ بیمار ہوجا ئے گا۔ اس حد تک نہ بھی گیا تو کم از کم وہ اپنی فطری ‏حالت پر آنے کے لئے بہت دیر لگے گا۔ 

کیرلامیں خودکشی کر نے والوں کے بارے میں تحقیق کی گئی۔ اس میں مرد و عورت کی بنیاد پر، مذاہب کی بنیاد پر، ذات پات کی بنیاد پر، علم والے اور ‏لاعلم کی بنیاد پرخود کشی کر نے والوں کا ایک فہرست تیار کیا گیا۔ اس فہرست میں صرف مسلمان ہی بہت کم نظر آئے۔ 

اس کی وجہ کو انہوں نے جب تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ کوئی بھی تکلیف پہنچے تو مسلمانوں نے یہ اللہ کی مرضی کہہ کر نظر انداز کر دیا کرتے تھے، اسلئے ‏وہ خودکشی کی طرف اکسائے نہیں جاتے تھے۔ 

اس آیت 57:23 میں اللہ کہتا ہے کہ تقدیر کو ماننے سے دو فائدے ہو تے ہیں۔ 

جب ہمیں دولت، سہولت اور مواقع اللہ کی طرف سے بکثرت عطا کی جاتی ہے تو ہم میں غروری اور تکبر بس جاتی ہے۔ 

تقدیر کو ماننے کے ذریعے اس دلی مرض سے بچ سکتے ہیں۔

یہ دولت ہمیں تقدیر سے اللہ ہی کی طرف سے ملی ہوئی ہے، سوائے اس کے ہماری طرف سے نہیں، اس طرح سوچنے سے غروری فوراً غائب ہو ‏جاتی ہے۔ 

اسی طرح ہمیں جب زبردست تکلیف پہنچتی ہے تو ہم نڈھال ہوکر گر پڑتے ہیں۔ کئی دن اور کئی مہینے تک کسی میں دلچسپی لئے بغیر بے زارگی کے ‏عالم میں پڑے رہتے ہیں۔ 

تقدیر پر بھروسہ اس دلی مرض کو بھی دور کر دیتی ہے۔ 

ہم سے کیا ہوسکتا ہے؟ اللہ کی مرضی وہی ہے، اس طرح سوچنے سے بہت جلد ہی فطری حالت کو پہنچ سکتے ہیں۔ 

اس آیت میں اللہ کہتا ہے کہ تقدیر پر بھروسہ رکھنے سے یہ دو فائدے حاصل ہو تے ہیں۔ 

جو معاملہ ختم ہوگیا اسی میں ہمیں تقدیر یاد آنا چاہئے۔ نہ ہونے والے معاملے میں تقدیر کیا ہے ، ہمیں معلوم نہ ہونے کی وجہ سے ہم اس طرح ‏کارروائی کر نا چاہئے کہ تقدیر کچھ نہیں ہے۔ اس کو اس آیت سے ہم جان سکتے ہیں۔ 

آج کی نئی انکشافات بھی تقدیر کے بارے میں اختلافی کیفیت ہی کو پیش کر تی ہیں۔

انسان کے اکثر اعمال کواس کے پاس جو خلیے اور جین ہیں وہی وجہ ہیں، اس کو اب انکشاف کیا گیا ہے۔ اس خلیہ کی وجہ ہی سے انسانوں کا چال و چلن اور ‏اچھی صفات ناموافقت نظر آتے ہیں۔ 

یعنی کہا جا تا ہے کہ کسی کے پاس چوری کی عادت ہو تو اسی کے لائق اس کے خلیہ بھی پائے جائیں گے۔ 

اس کے برے اعمال کو اس کے خلیہ ہی وجہ ہو توکہنا چاہئے تھا کہ اس کے گناہوں کے لئے اس کو سزا دیناکیسا انصاف ہے؟ 

لیکن اس طرح کہنے کے بجائے چور کو سزا دینے کو انصاف گردانا جاتا ہے۔ 

یعنی تقدیر کے معاملے میںیہ لوگ اب تک جو سوال کر تے آرہے تھے ، اسی میں وہ پھنس گئے۔ اس سے ہمیں یہ ثابت ہو جا تا ہے کہ تقدیر کو انسانی ‏عقل کے ذریعے معلوم نہیں کر سکتے اور تقدیرنامی ایک چیز ضرور ہے۔   

‏288۔ آسمان ایک محفوظ چھت ہے

‏یہ آیتیں 2:22، 21:32، 40:64، 52:5کہتی ہیں کہ آسمان محفوظ چھت ہے۔ 

اگرچھت یا سائبان کہنا ہو تو اوپر سے جو آفتیں آتی ہیں اور سخت دھوپ یا بارش یاشبنم برستی ہیں ان کو روک رکھنا ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ ہمارے اوپرکچھ بھی نہیں ہے۔کوئی سوچ سکتا ہے ایسا آسمان کیسے چھت ہو سکتاہے؟

جدید تحقیقات کی بنیاد پر اگر رکھ کر دیکھیں تو قرآن مجید کے کہنے کے مطابق اس حیرت انگیز بات کو ہم جان لے سکتے ہیں کہ وہ آسمان زمین کو چھت ‏بنا ہوا ہے۔ 

‏( قرآن مجید میں آسمان دو معنوں سے استعمال کیا گیا ہے۔ اس کے متعلق حاشیہ نمبر 507میں دیکھئے!)

چاند میں دن کے وقت کی گرمی 127 ڈگری سینٹی گریٹ ہے۔ چاند کے قریب کی زمین میں بھی تقریباً اسی انداز کی گرمی ہونی چاہئے تھی۔ لیکن ‏اوسط درجے میں 40ڈگری انداز سے ہی زمین کی گرمی ہو تی ہے۔ اس کی وجہ ہمارے اوپر رہنے والی ہوائی چھت ہی ہے۔ 

زمین سے 16 کلو میٹر اونچائی تک ہی ہوا کا پہلا درجہ ہے۔ یہ سورج سے آنے والی گرمی سے تین میں دو حصہ کم کرکے سورج کی گرمی پوری طرح ‏سے زمین کی طرف آنے سے روکتی ہے۔ 

‏اس درجہ میں نائٹروجن، آکسیجن اورکاربن ڈئی آکسیڈ زیادہ رہنے کی وجہ سے یہ چھت کی طرح کام کرتی ہے۔

زمین سے 16کلو میٹر سے 50 کلو میٹر تک کثافت کم والے جہاز اڑنے کے لئے مناسب ہوا موجود ہے۔ 

دوسرے درجے میں زمین سے 20 سے 35 کلو میٹر تک اوسون کی کثافت ہے۔ سورج سے سات رنگوں میں شعائیں نکلتی ہیں۔ اس میں سطحی ‏نیلی شعائیں بہت ہی زبردست جان لیوا ہوتی ہیں۔ جانداروں میں موجود ذروں کو یہ شعائیں فنا کر دیتی ہیں۔

پانی میں موجود کیڑوں کو مٹانے کے لئے اس سطحی نیلی شعاؤں کو استعمال کر نے کی باریکی فن کو آجکل استعمال کیا جا تا ہے۔ وہ شعائیں پانی میں موجود ‏تمام کیڑوں کو پوری طرح سے مٹانے کی طاقت رکھتی ہے۔ 

اتنی طاقتور سطحی نیلی شعائیں جانداروں کو چھوکر جاندار مٹ نہ جائیں، اس کو اس قسم کے اوسون کثافت سے روکا جاتا ہے۔ 

اس لحاظ سے آسمان چھت بنا ہوا ہے۔ 

زمین سے 50 کلو میٹر سے60کلو میٹر تک درمیانی درجہ ہے۔ وقفہ وقفہ سے آسمانی پتھریں اور دمدار ستارے فی گھنٹہ 43000 سے 57000 ‏کلو میٹررفتار سے زمین کی طرف آتے ہیں۔ 

اس میں چند پتھریں 96000سینٹی میٹررقبہ کے بھی ہیں۔اتنا بڑاآسمانی پتھر لگ بھگ 50000کلو میٹر رفتار سے زمین پر حملہ کرے توکتنا بڑا ‏نقصان ہو گا کہ ہم قیاس بھی نہیں کرسکتے۔لیکن اس نوبت تک پہنچنے سے پہلے تیزی سے آنے والے ان پتھروں کو یہ درمیانی درجہ جلا کرخاک ‏کردیتا ہے۔

بھول چوک کر بکھرکر گرنے والے آسمانی پتھروں کی رفتاردھیما کیا جاتا ہے۔ 

اس لحاظ سے بھی آسمان چھت کا کام دیتا ہے۔ 

زمین سے 80 کلو میٹر سے 1600کلو میٹر تک گرمی کے درجے ہیں۔ ہیلیم اور ہائیڈروجن جیسے ہوا یہاں زیادہ رہنے کی وجہ سے اس درجہ کو ‏حرارت پہنچائی جاتے رہتی ہے۔ زمین سے پہنچائی جانے والی آواز اور روشنی کی لہریں یہاں روکاجاتا ہے اور واپس کردیا جاتا ہے۔ 

اس لحاظ سے آواز اور روشنی کی لہر کوزمین سے باہر کئے بغیر روکنے والی چھت کی طرح یہ موجود ہے۔ 

آسمان میں ہر ایک حصہ میں ہر قسم کی روک تھام کر نے کے بعد ہی اللہ آسمان کو چھت کہا ہے۔ 

قرآن اللہ ہی کا کلام ہے ، اس کے لئے یہ آیتیں دلیل ہیں۔  

‏287۔ قرآن کا کہا ہوا عظیم دھماکے کا عقیدہ

‏اس 21:30 آیت میں کہا گیا ہے کہ آسمان و زمین اور اس کے درمیانی چیزیں تمام ایک ہی چیز تھیں۔ اس کو ہم ہی نے چیر دیا۔

آیت نمبر 41:11 میں کہا گیا ہے کہ اس کے بعددھواں پیدا ہوا ، او ر اس کے ساتھ آسمان اور سیارے پیدا کئے گئے۔

پچھلی تمام کتابیں اس دنیا کی تخلیق کے بارے میں مختلف قسم کی جھوٹی کہانیاں ہی کہتے آرہی ہیں۔ 

آج کے سائنسدان جو اب کہتے ہیں اسی کو قرآن مجید نے چودہ سو سال پہلے ہی کہہ دیا تھا۔ 

یہ ساری کائنات ایک چھوٹی سی چیز کے اندر ہی سمائی ہوئی تھی۔ اچانک وہ پھٹ کر منتشر ہو نے کی وجہ سے اس کے ٹکڑے دھواں بن کر کل کائنات ‏پر پھیل گیا۔ پھر وہ ٹکڑے جابجا ایک ساتھ جمع ہوکر سورج اور سیارے اور کئی معاون سیارے اور کروڑوں کے ستارے بن گئے۔ 

اسی کو آج کی سائنسی دنیا بھی کہتی ہے۔ یہ حقیقت چودہ سو کے پیشتر رہنے والے ایک انسان کو کیسے پتہ چلا؟ یہ خالق کائنات کا کلام رہنے کی وجہ ہی ‏سے اس بات کو وہ کہہ سکتا ہے۔ 

اس لئے یہ بھی ایک سند ہے کہ یہ اللہ ہی کلام ہے۔

اس کے متعلق حاشیہ نمبر 353 دیکھئے!  

‏286۔ راز کی بات کہنے سے روکنے والی آیت کہاں ہے؟

‏ان 58:8,9آیتوں میں اللہ کہتا ہے کہ راز کی بات کہنے سے روکے جانے والوں کو کیا تم نے جانا نہیں؟

ان دونوں آیتوں میں جو کہا گیا ہے اس پر غور کر نا چاہئے۔ 

‏* راز سے بات کرناپہلے ہی منع کیا گیا تھا۔

‏* اس ممانعت کو تجاؤز کر نے کے ساتھ ساتھ گناہ کے کام کو رازداری سے بات کرنے لگے۔ 

‏* راز کی بات بالکل نہیں کرنا چاہئے ، اس ممانعت کوموقوف کر کے یہ احکام وارد ہوا کہ بری باتوں کو رازداری سے نہیں کرنی چاہئے اور اچھی ‏باتوں کو رازداری سے کر سکتے ہیں۔ 

ان تینوں باتوں کو تم ان آیتوں سے جان سکتے ہیں۔ 

قرآن سوال کر تا ہے کہ راز کی بات کہنے سے روکے جانے والوں کو کیا تم نہیں جانتے؟اس سے ہم جان سکتے ہیں کہ رازداری سے بات کر نے کو پہلے ‏ہی سے منع کیاگیا تھا۔ اس ممانعت کو موقوف کر نے کی دو آیتیں قرآن میں موجود ہیں۔ منع کی ہوئی آیت قرآن میں موجود نہیں۔

اس میں کوئی پیچیدگی نہیں ہے۔ اللہ نے صرف قرآن مجید ہی کے ذریعے ہر ممانعت کو فرض نہیں کیا۔ بلکہ قرآن کے سوا ایک اور ذریعے سے بھی ‏نبی کریم ؐ کے دل میں اس بات کو اجاگر کر کے بھی ممانعت کی ہے۔ 

اس سے ہم جان سکتے ہیں کہ یہ رسول نے جو منع کیا تھا اسی بات کو یہ آیت کہتی ہے۔

قرآن کے احکام کی پیروی کر نے کے ساتھ نبی کریم ؐ کی رہنمائی کی بھی پیروی کرنا چاہئے ، اس کے بارے میں اور زیادہ جاننے کے لئے حاشیہ نمبر ‏‏18، 36، 50،39، 55، 56، 57، 60، 67، 72، 105، 125، 127، 128،132 ، 154،164،184، 244، 255، ‏‏256، 258، 318، 350، 352، 358، 430وغیرہ دیکھئے!   

‏285۔جادو ایک سازش ہے

‏جادو، جادو کر نے والے، جادو کیا ہوا انسان اس طرح کے الفاظ ان آیتوں میں استعمال کیا گیا ہے: 5:110، 7:109، 7:116، 7:118، ‏‏7:119، 7:120، 10:2، 10:76,77، 11:7، 20:57، 20:63، 20:66، 20:69، 20:71، 21:3، 26:35، ‏‏26:153، 26:185، 27:13، 28:36، 28:48، 34:43، 37:15، 38:4، 40:24، 43:30، 46:7، 51:39، ‏‏51:52، 52:15، 54:2، 61:6، 74:25۔

چند جگہوں میں جادو کے ذریعے اثر ہوگا، اس معانی میں یہ الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔ دوسری جگہوں میں یہ الفاظ ان معنوں میں استعمال کیا گیاہے ‏کہ جادو سے کوئی اثر نہیں کر سکتااور وہ سازشی طور پر فریب دینے والی بات ہے۔ 

جادو سے اثر کیا جا سکتا ہے، اس رائے میں رہنے والے اپنے رائے کو ثابت کر نے کے لئے اس کے مناسب آیتوں کو پیش کر کے دعویٰ کر تے ہیں کہ ‏جادو سے اثر پیدا کر سکتے ہیں۔

مختلف انداز سے اللہ بات نہیں کرے گا، اس پر غور سے جب تفتیش کریں توہم جان سکتے ہیں کہ جادو سے اثر پیدا کر سکتے ہیں کی رائے رکھنے والے ‏قرآن مجید کو غلطی سے سمجھ کر دعویٰ کررہے ہیں۔ 

اس کے بارے میں ذرا تفصیل سے دیکھیں۔

نبیوں کی تعلیم پر ایمان نہ رکھنے والے کہنے لگے کہ نبیوں پر جادو کر دیا گیا ہے اس لئے وہ پاگل بن کر بکواس کررہے ہیں۔ 

اس بات کو قرآن مجید کئی جگہوں میں کہا ہے۔ 

مثال کے طور پر صالح نبی کو دیکھ کر ان کی قوم نے کہا کہ ان پر جادو کیا گیا ہے۔ اس کو یہ آیت 26:143کہتی ہے۔ شعیب نبی پران کی قوم نے کہا ‏کہ ان پر جادو کیا گیا ہے، اس بات کو یہ آیت 26:185 کہتی ہے۔ 

اگر کہنا ہو کہ دل کی بیماری سے اثرپائے ہوئے انبیاء بیکار باتیں کر تے ہیں تو اس کو اس زمانے کے لوگ کہا کر تے تھے کہ ان پر جادو کیا گیا ہے۔ سحر ‏کے لفظ کو دل کی بیماری سمجھنے کی وجہ ہی سے وہ لوگ اس طرح کہے تھے؟ اس لئے وہ لوگ ان آیتوں کو دلیل بنا کر پیش کر تے ہیں کہ جادو سے اثر ‏پیدا کر سکتے ہیں۔ 

لیکن یہ دعویٰ کسی عقلمند کا دعویٰ نہیں ہوسکتا۔ 

جادو کو اس معنی سے اللہ نے نہیں کہا۔ نہ جاننے والے لوگ ہی جادو کو اس طرح معنی دے رکھے تھے، یہی اس کو دلیل کے سوائے اللہ کے پاس یہی ‏جادو کا معنی ہے کے لئے کوئی دلیل نہیں۔ 

اللہ کا انکار کر نے والوں کا ماننا تھا کہ جادوکو طاقت ہے۔ ان کے خیالات کے مطابق ہی وہ بات کرتے تھے ۔اس لئے اس طرح کے تمام آیتوں کو اسی ‏طرح سمجھنا چاہئے۔ 

اسلام کے نہ ماننے والے اپنے اعتقاد کے مطابق جو بات کرتے تھے اس کو اگر اللہ نے پیش کیا تو سمجھ لینا چاہئے کہ یہ اسلام کو نہ قبول کر نے والوں کا ‏اعتقاد ہے۔ 

جادو کے ذریعے کسی کو دل کا مریض بنا سکتے ہیں، اس طرح وہ لوگ ماننے کی وجہ سے کہتے تھے کہ نبیوں پرجادوکرکے دل کے مریض بن گئے، اسی ‏قیاس پر ان لوگوں نے باتیں کی تھیں۔ 

جب نبیوں کی تعلیم کو سنا توکہنے لگے کہ ان پرجادوکیا گیا ہے۔ اسی طرح بعض لوگ نبیوں کو ہی جادوگرکہنے لگے ۔اورنبیوں نے جو لے کر آئے تھے ‏اس کو بھی جادو کہنے لگے۔ 

شعبدہ بازی نہ کہا جانے کی حد تک معجزے دکھائے جانے کے باوجود اس کو انکار کر نے کے لئے انہوں نے اس کو جادو کہہ دیا۔ 

ان آیتوں میں 5:110، 10:2، 10:77، 20:57، 20:71،21:3، 21:52، 26:35، 27:13، 28:36، 28:48، ‏‏61:6 اللہ نے فرمایا ہے کہ نبیوں کو ان کے دشمنوں نے جادو گر کہا ہے۔ 

انبیاؤں کے معجزات دیکھ کر ان کے دشمنوں نے کہا کہ وہ جادو ہے توایسا معلوم ہوتا ہے کہ جو نبیوں سے سرزد ہو نے والے معاملوں کو جادو سے بھی ‏کر سکتے ہیں۔ اس لئے ان کا دعویٰ ہے کہ یہ آیتیں دلیل ہیں کہ جادو سے دوسروں کو اثر انداز کر سکتے ہیں۔ 

یہ بھی پہلے ہی کا سا دعویٰ ہے۔اس رائے میں رہنے والے کہ جادو سے معجزہ دکھا سکتے ہیں، اپنے عقیدے کے مطابق بات کرنا دین کے لئے دلیل ‏نہیں ہوسکتا۔ 

اللہ کی نظر میں جادو کیا ہے؟ آئیے دیکھیں!

قرآن کی یہ آیتیں 7:108-120 اور 20:65-70 تشریح کر تی ہیں کہ اللہ کی نظر میں جادو کیا ہے۔ 

اس 7:116آیت میں اللہ کہتا ہے کہ جادوگر وں نے بہت بڑا جادو کیا۔ 

موسیٰ نبی کے خلاف میدان میں اترنے والے جادوگر معمولی شعبدہ باز نہیں تھے۔بہت ہی زبردست جادوگر تھے۔ وہ جو کر دکھائے وہ کوئی ‏چھوٹاموٹا جادو نہیں تھا۔ یہ آیت کہتی ہے کہ انہوں نے بہت بڑا جادو کیا۔ اس بڑے جادو سے انہوں نے کیا دکھایا؟ 

اللہ اس آیت 20:66 میں کہتا ہے کہ ان کے جادو سے رسیاں یا لاٹھیاں سانپ نہیں بنے۔ بلکہ سانپ کی طرح باطل شکل میںآئے۔

بڑا جادو رہنے کے باوجود اس کے ذریعے صرف باطل شکل ہی بنا سکے۔حقیقی تبدیلی کچھ نہ کر سکے۔اگر بڑے جادو ہی کی یہ طاقت ہو تو بالکل معمولی ‏سا جادو کی حالت کیا ہوسکتی ہے۔ 

‏اس آیت 20:69میں اللہ کہتا ہے کہ جادوگروں نے سازش کی تھی۔ 

وہ اچھے ماہر جادوگروں کو ایک ایک کرکے تمہارے پاس لے آئیں گے۔ 

وہ لوگ (اپنے شعبدوں کو) جب ڈالنے لگے تو لوگوں کی آنکھوں کو اپنی طرف کھینچ لیا۔ 

لوگوں کو دہشت بھی پیدا کر دیا۔ بڑے جادو کو انہوں نے لے آئے۔ 

تو انہوں نے شکست کھاگئے، اور رسوا ہوگئے۔ 

ان کی رسیاں اور لاٹھیاں ان کے جادو سے انہیں پھنکارتے نظر آئے۔ 

وہ جو کئے تھے وہ جادو کا فریب ہے۔ 

جادوگر کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔ 

حق قائم ہوا، ان کا کرنا تمام بیکار ہوگیا۔ 

ان آیتوں میں مندرجہ بالا جملوں کو جو استعمال کیا گیا ہے، اس کا مطلب کیا ہے؟ 

یہ آیتیں بالکل صریح انداز سے وضاحت کرتی ہیں کہ جادو ایک خیالی چیز ہے، باطل دکھاوا ہے، شعبدہ بازی ہے اور حقیقت میں کچھ بھی نہیں ہے۔ 

ان آیتوں میں 52:13,14,15کہا گیا ہے کہ اللہ کے پاس جادو کامطلب کیا ہے۔

یہ آیت کہتی ہے کہ حشر میں تحقیقات ختم ہو نے کے بعدجنتی جنت کو اور جہنمی جہنم کو جانے کے ساتھ اللہ جہنمی سے مخاطب ہو کر کہے گا کہ یہی وہ ‏جہنم ہے جس کوتم نے جھٹلایا تھا۔کہو کیا یہ جادو ہے؟ 

جب برے لوگ جہنم میں ڈھکیلے جائیں گے تو اللہ ان سے یہ پوچھنے کے بجائے کہ کیا یہ جھوٹ ہے ، پوچھتا ہے کہ کیا یہ جادو ہے؟ 

اللہ ہمیں سکھاتا ہے کہ جادو کا مطلب جھوٹ ہے۔

جو ہے اس کو نہیں بنانا، جو نہیں ہے اس کو تشکیل کرنا،اور ایک چیز کو کوئی اور چیز میں تبدیل کرنا، اس کے لئے کوئی شعبدہ نہیں ہے۔ اس سے یہ ‏معلوم کر سکتے ہیں کہ سازش کر کے ایسی ایک منظر کو پیدا کر سکتے ہیں۔ 

جادو کے بارے میں اور زیادہ جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 28، 285، 357، 468، 495، 499وغیرہ دیکھئے!  

‏284۔ زمین کی کشش ثقل کے بارے میں پیشنگوئی 

‏ان آیتوں میں20:53، 43:10،78:6 کہا گیا ہے کہ اللہ نے زمین کو گہوارہ بنایا۔

زمین سورج کی کشش سے سورج سے ہٹے بغیر جھولے کی طرح چکر اتے ہوئے سورج کی چکر لگاتی ہے۔ سورج کے ساتھ ایک رسی سے باندھ کر ‏کھینچنے کی طرح یہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔ 

ایک گھنٹہ میں 1,07,000کلو میٹر رفتار سے سورج کو ایک جھولے کی مشین کی طرح زمین گھومتے رہنے کے باوجود اس کو ہم محسوس نہیں ‏کرسکتے۔ اس کا گھومنا ہمیں معلوم بھی نہیں ہوتا۔ 

بچوں کوجھولے میں ڈال کر جب جھلاتے ہیں تواس کا گھومنا بچوں کو معلوم نہیں ہوتا۔ انہیں وہ سکون اور نیند دلاتی ہے۔ 

زمین تیزی سے گھومنے کے باوجود اس کا وہ چکر انا ہمیں معلوم نہیں ہوتا۔ کسی طرح کا اثر ہمیں نہیں ہوتا۔ گہوارہ کے لفظ کے ذریعے اللہ ہمیں یہی ‏سناتا ہے۔ 

بہت بڑے ایک سائنسی حقیقت کو اپنے اندر سمائے ہوئے اس آیت سے ہمیں دلیل ملتا ہے کہ یہ اللہ ہی کا کلام ہے۔   

‎283‎َ۔ اسلاف کو دکھا کر اشاعت کو روکنا

‏کچھ اندرونی مقصد سے فرعون نے موسیٰ نبی سے جوسوال کیا اس کو بہت ہی برمحل اور حقیقت سے پرے نہ ہوتے ہوئے موسیٰ نے جواب دی، اس ‏کو ان (20:51,52)آیتوں میں کہا گیا ہے۔

فرعون نے پوچھا کہ تم کہتے ہو کہ ہم غلط عقیدے پر ہیں، اگر ایسا ہو توہمارے اگلوں کا کیا حال ہے جو اسی عقیدے پر تھے؟

یہ سوال ایک اندرونی مقصد سے پوچھا گیا تھا۔ تمہارے آباؤ اجداد بھی اسی عقیدے پر رہنے کی وجہ سے وہ بھی جہنمی ہی ہیں، اس جواب کو موسیٰ نبی ‏کے منہ سے اگلوانے کے لئے ہی فرعون نے وہ سوال کیا۔ 

اس جواب سے ساری قوم کو حقیقت کے خلاف پھیردینا ہی اس سوال کے اندر موجود سازش تھی۔ 

شجرۂ نسب کی شان میں ڈوبے ہوئے لوگ اپنے آباؤ اجداد کو برے لوگ کہلانا پسند نہیں کریں گے۔یہ کہہ کر کہ شجرۂ نسب کو یہ بگاڑتے ہیں، ‏لوگوں کو اکساکر اور جوش دلا کر حقیقت کو موقوف کرنے ہی کے لئے اس جیسے سوال اٹھائے گئے تھے۔ 

لیکن موسیٰ نبی نے فرعون کی سازش میں پھنسے بغیر اور حقیقت کو چھپائے بغیر بر محل یہ کہہ کراس کا منہ بند کردیا کہ اس کا علم میرے رب کے پاس ‏ہے۔

جب حقیقت ظاہر کیا جاتا ہے تو حق کے دشمن ہر زمانے میں یہ سوال اٹھاتے رہیں گے کہ حق کو نہ ماننے والے ہمارے آباؤ اجدا دکیا دوزخی ہیں؟ 

اس طرح کے سوالات کا سامنا ہو تو ہم کس طرح اس سے نپٹنا ہے ، اس کے لئے یہ آیت ہمیں راہنما ہے۔   

‏282۔ نبی کریم ؐ کے متعلق پیشنگوئی

‏اس آیت 61:6میں کہا گیا ہے کہ عیسیٰ نبی نے اپنے پیچھے آنے والے ایک رسول کے بارے میں پیشنگوئی کی تھی اور یہ بھی کہا تھا کہ ان کا نام ‏‏’’احمد‘‘ ہوگا۔ 

عام طور سے سب جانتے ہیں کہ نبی کریم ؐ کا نام محمدہے، اس کے باوجود احمد بھی ان کا ایک دوسرا نام ہے۔ 

نبی کریم ؐ نے خود کہا ہے کہ میرا نام احمد ہے۔ 

‏(بخاری :3532، 4896)

بائبل میں بھی یہ پیشنگوئی موجود ہے، اس کے بارے میں دلیل کے ساتھ ہم نے حاشیہ نمبر 457 میں سمجھایا ہے۔   

More Articles …