Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

‏297۔زمین کے نیچے کا پانی کہا ں سے آتا ہے؟ 

‏یہ آیت 23:18زمین کے نیچے کے پانی کے متعلق کہتی ہے۔

زمین کے سطح پر جس طرح پانی ہے اسی طر ح زیرزمین بھی بڑی بڑی ندیاں اور بہت سارا پانی موجود ہے۔ 

لوگوں کا عقیدہ تھا کہ دریا کا پانی ریت کے ذریعے نیچے کی طرف اتر کر وہی زیر زمین کا پانی بن کر جمع ہو تا ہے۔ لیکن اب انکشاف کیا گیا ہے کہ وہ سچ ‏نہیں ہے۔ 

دریا کا پانی اگر زیر زمین جمع کیاجاتا توزیر زمین کا پانی کبھی کم نہ ہو نا چاہئے۔ جس طرح دریا کا پانی ہمیشہ رہتا ہے اسی طرح زیر زمین کا پانی بھی کم ہوئے ‏بغیر رہنا چاہئے۔ اس لئے اب انکشاف کیا گیا ہے کہ دریا کے پانی اور زیر زمین کے پانی میں کوئی تعلق نہیں ہے۔ 

آسمان سے گرنے والی باش جابجا زمین میں جذب ہو کر زمین کے نیچے زیر زمین کاپانی بن کر جمع کیا جاتا ہے، اس کو 1580 ؁ء میں انکشاف کیا گیا۔ اسی ‏لئے سمندر کے کنارے رہنے والے زیر زمین پانی کھارا نہیں ہوتا۔ 

کئی سالوں کے پہلے ہی اس حقیقت کو قرآن مجید نے واضح کردیا کہ آسمان سے ہم نے ایک اندازے سے پانی اتارا۔اور اس کو زمین میں جمع کر رکھا۔ 

اس آیت میں ایک پوشیدہ رہنمائی بھی موجود ہے کہ برسنے والے بارش کے پانی کو جذب کر نے کے لائق بستی اور شہروں کو بھی قائم کر لینا ‏چاہئے۔ 

انسان اس کے انکشاف کے ہزار سال پہلے ہی قرآن نے اس کوواضح کر دیا۔یہ آیت بھی اس کے لئے ایک سند ہے کہ قرآن مجید اللہ ہی کا کلام ہے ۔   

‏296۔ بڑھتے ہوئے حمل کی مختلف حالات

‏اس آیت 23:14میں بڑھتے ہوئے حمل کی مختلف حالات کہا گیا ہے۔ اسی میں کہا گیا ہے کہ ’’پھر اس کو دوسری شکل دیدی۔‘‘

یہ ایک گہری سائنسی حقیقت کو ظاہر کر نے والی آیت ہے۔ کیونکہ حمل میں نشونما پانے والی جان کم از کم تین مہینے تک اس کی اپنی شکل کو پاتی نہیں۔ ‏صرف ایک لوتھڑے کی طرح ہی بڑھتی ہے۔ آدمی ہی کی طرح دوسرے جانداروں کی حمل بھی اس دوران میں ایک ہی جیسے ہوتے ہیں۔ 

تین مہینے گزرنے کے بعد ہر ایک عضو جہاں جہاں چسپاں ہونا ہے ان جگہوں میں ان کے خلیے ہٹ کر اس کے لائق شکل اختیار کر لیتی ہے۔ 

اسی کو قرآن فرماتا ہے کہ پھر دوسری شکل میں بدل دیا جاتا ہے۔

بہت ہی زمانے کے بعد انکشاف ہونے والی اس حقیقت کو چودہ سو سال پہلے ہی قرآن نے فرمادیا،یہ بھی ایک سند ہے کہ قرآن اللہ ہی کاکلام ہے۔

اور زیادہ معلومات کے لئے حاشیہ نمبر 314، 486، 487 وغیرہ میں دیکھئے!  

‏295۔ پہلا دین اسلام ہے

‏نبی کریم ؐ کے زمانے کے پہلے بسنے والے نیک لوگوں کو بھی یہ آیتیں2:132، 3:52، 3:64، 3:67، 3;80، 3:102، 5:111، ‏‏6:163، 7:126، 10:72، 10:84، 10:90، 12:101، 22:78، 27:42، 43:69، 46:15، 51:36 مسلمان کہتی ‏ہیں۔ 

اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ نبی کریمؐ ہی اسلام کو تخلیق کیا۔لیکن اسلام تو پہلے انسان کے زمانے ہی سے چلے آنے والا عقیدہ ہے۔

‏’’سارے کائنات کا ایک ہی اللہ ہے، آخرت کی زندگی بھی ہے‘‘ اس جیسے بنیادی عقیدے پہلے انسان کے زمانے سے نبی کریم ؐ کے زمانے تک سب ‏کے لئے یکساں عطا کیا گیا۔ چند اندرونی معاملے ہی میں چند لوگوں کوتھوڑا مختلف احکام دیا گیا۔

اس لئے نبی کریم ؐ کے پہلے دنیا میں بھیجے گئے رسول جس دین کی تعلیم دی وہ دین بھی اسلام ہی ہے۔ 

قرآن کی یہ آیت 22:78اس رائے کو واضح دلیل ہے۔  

‏294۔’ شیطان کا ڈالا ہوا فتنہ‘کیا ہے؟

‏اس آیت 22:52میں کہا گیا ہے کہ اللہ کے رسول جو پڑھکر سناتے ہیں اس میں شیطان الجھن پیدا کر دے گا۔

‏’پڑھ کر سنانے میں‘ جو ہم نے ترجمہ کیا ہے، اس جگہ میں عربی متن اُمْنِیَّتِہِ استعمال کیا گیا ہے۔ 

اس لفظ کا معنی دل بھی ہے اور پڑھ کر سنانے کی خبر بھی ہے۔

بعض مترجموں نے اس کو دل کہہ کر ترجمہ کیا ۔ ان کے ترجموں کے مطابق اللہ کے رسولوں کے دلوں میں شیطان نے اپنی بری رائے کو پیوست کر ‏دے گاکا مطلب نکلے گا۔ 

اس طرح ترجمہ کر نے کی بنیاد پر ہی سلمان رشدی ’’شیطان کی آیتیں‘‘ نامی کتاب لکھا۔اس کا دعویٰ تھا کہ یہ آیت یہی کہتی ہے کہ نبی کریم ؐ کے ‏دل میں شیطان اپنی رائے کو ڈال سکتا ہے۔

اس طرح وہ دعویٰ کر نے کے لئے اس آیت کو غلط اندازسے ترجمہ کئے ہوئے علماء ہی ذمہ دار ہیں۔ 

جب اللہ نے اپنے پیغام کوحفاظت کر نے کے لئے کہا ہے تو اللہ کے رسول کے دل میں کیاشیطان اپنی رائے کو ڈال سکتاہے؟ اس طرح اگر سوچا ہوتا ‏تواس کو وہ معنی نہیں دئے ہوں گے۔ 

اس کو اگر’’پڑھ کر سنائی گئی خبر‘‘ کے معنی سے لیا گیا تو اس طرح کی الجھن پیدا نہیں ہوسکتی تھی۔ 

اللہ کے رسولوں کو جوپیغام دی جاتی تھی اس کو وہ لوگوں تک پہنچانے کے بعد اس کے متعلق مختلف قسم کے شکوک اور اعتراضات کوشیطان لوگوں ‏میں پیدا کر دے گا، یہی اس آیت کا مطلب ہے۔

پھر ان الجھنوں کو نہ بڑھا تے ہوئے فوراًاللہ اس کو بدل دے گا۔ اپنی آیتوں کو ثابت کر دے گا بھی اس آیت میں کہا گیا ہے۔   

‏293۔ اسلام کا جانبدارانہ عقیدہ

‏اس آیت 70:4 میں کہا گیا ہے کہ ایک دن جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔ 

ایک دن کی مقدار پچاس ہزار سال یعنی 1,82,50,000دن کے برابر ہے، اس حقیقت کو گذشتہ صدی کے پہلے گزرے ہوئے لوگ سمجھ ‏نہیں سکتے تھے۔ 

دن جو ہے وہ ایک شخص کی سفرکی ر فتار کے لحاظ سے تبدیل ہوتی ہے۔ اس کو آئنسٹین انکشاف کر نے سے پہلے لوگوں کا عقیدہ تھا کہ دن جو ہے وہ ‏تبدیل نہیں ہوگی۔ 

مثال کے طور پر 25 سال کا ایک شخص روشنی کی رفتارسے اوپر کی طرف سفر کر تے جا رہا ہے۔ (روشنی کی رفتار سکنڈ کو تین لاکھ کلو میٹر ہے۔) ‏زمین میں پچاس سال گزارنے کے بعد وہ واپس آکر دیکھے تو اس کی عمر والے اکثر مر گئے ہوں گے اور باقی رہنے والے 75سال کے ہوگئے ہوں ‏گے۔ 

لیکن روشنی کی رفتار سے سفر کرتا ہی رہنے والا25عمر کا نوجوان ہی واپس آئے گا۔ آج کے جدید دنیا میں بسنے والے عالم خود بھی اس کوسمجھنا مشکل ‏رہنے کے باوجود یہی حقیقت ہے۔ 

جانبدارانہ عقیدے کو آئنسٹین نے 1905 میں انکشاف کیا۔ پڑھنا لکھنا نہ جا ننے والے محمد نبی نے چودہ سو سال پہلے ہی اس کوکہہ دیاہے تو اس ‏زمانے کے علم کے ذریعے اس کو کہہ نہیں سکتے تھے۔

اس حقیقت کواس زمانے کا کوئی شخص جان نہیں سکتا تھا۔ اس کو صرف اللہ ہی جانتا تھا۔ چنانچہ اس سے ثابت ہو تاہے کہ اللہ کی طرف ہی سے محمد نبی ‏نے اس خبر کو حاصل کیا ہے۔ 

ان آیتوں 22:47 اور 32:5 میں کہا گیا ہے کہ اللہ کا ایک دن تمہارے دنوں میں ہزارسالوں کے مقدا ر کا ہے۔ لیکن اس آیت 70:4 میں کہا ‏گیا ہے کہ پچاس ہزار سال کے برابر ہے۔ایسا کیوں؟ بعض لوگوں کو شک ہو سکتا ہے کہ اس میں اختلاف کیوں؟ 

اس میں شک نہیں کہ ایک ہزار اور پچاس ہزارایک سے ایک مختلف ہے۔ لیکن دونوں الگ الگ خبروں کی آیتیں ہیں۔اسکو اگر سمجھ گئے تو معلوم ‏ہوجائے گاکہ ان میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ 

ان دونوں آیتوں میں استعمال ہو نے والے لفظوں کو اگر غور کریں تو کوئی بھی سمجھ جائے گا کہ دونوں چیزیں الگ الگ ہیں۔

زمین پر آنے والے فرشتے آسمانی دنیا کی طرف جانے کی رفتار کے بارے میں یہ آیت 70:4کہتی ہے۔ نور سے پید ا کئے جانے والے فرشتے زمین ‏سے اللہ کی طرف اوپر جا نے کی رفتار پچاس ہزار سالوں کے برابر ایک دن کی رفتار کہا جا تا ہے۔ 

یعنی ایک دن میں جو وہ پہنچتے ہیں اس دوری کو اگر ہم پہنچنا ہو تو پچاس ہزار سال درکارہوں گے۔(یعنی 1,82,50,000دن)

ایک لمحے میں وہ پہنچنے کی دوری ہم پہنچنا ہو تو211دن لگے گی۔ ان کی رفتار اتنی تیزہوگی۔

فرشتوں کے سفر کی رفتار کو یہ آیت 70:4 کہتی ہے۔ 

اللہ کے احکام کو زمین تک پہنچا کر پھر واپس جانے کی رفتار کویہ آیت 32:5 کہتی ہے۔اللہ ہر لمحہ کروڑوں احکام بھیجتا رہتا ہے۔ 

دنیا میں جو بھی کام چلتاہے اس کے احکام کے مطابق ہی چلتا ہے۔ 

اس طرح نافذ کئے گئے احکام زمین تک پہنچ کر پھر اللہ کی طرف واپس پہنچنے کی رفتار کے بارے میں ہی یہ آیت کہتی ہے۔ 

آیت نمبر 22:47 بھی احکام کی رفتار ہی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ نبیوں کے دشمنوں نے کہا کہ اگر اللہ ہے تو اس کو نہ ماننے والے ہم لوگوں پر ‏عذاب اتارنے دو۔ اگر اس کا حکم میں بھیج دیا تو وہ ہزار سال کے برابرکے ایک دن کی رفتار سے پہنچ جائے گا۔اسی بات کو یہ آیت 22:47 کہتی ‏ہے۔ 

اللہ کا ایک حکم ایک دن میں پہنچنے کی دوری کو آدمی پہنچنے کے لئے ایک ہزار دن (یعنی 3,65,000 دن ) لگیں گے۔ 

اللہ کا حکم ایک لمحے میں پہنچنے کی دوری کو اگر ہم پہنچنا ہو تو چار دن سے زیادہ ہوگا۔ 

روشنی کی رفتار ہی انسان کے انکشاف کی رفتار میں بہت زیادہ تیزی کا ہے۔ اسی لئے نور سے پیدا کئے گئے فرشتوں کی رفتار احکام کی تیزی سے پچاس ‏گنا زیادہ ہے۔ 

ایک ہزار سال اور پچاس ہزار سال دونوں الگ الگ معاملوں کا حساب ہے، اس کو اگر سمجھ گئے تو کوئی الجھن پیدا نہیں ہوگی۔  

‏292۔ اللہ کے لئے جو قربانی دیتے ہیں وہ غریبوں کے لئے ہے

‏اسلامی عقیدے کے مطابق اللہ بے نیاز ہے، اس کے لئے ہم کسی چیز کو نذر کرنے کی ضرورت نہیں۔ اگر ایسا ہے تو اللہ کے لئے ہم کیوں قربانی ‏دیں؟ اس سوال کو یہ آیت 22:37جواب دیتی ہے۔ 

قربانی دینے سے اس کا خون یاگوشت اللہ کو نہیں پہنچتا۔وہ اللہ کو ضرورت بھی نہیں۔ اس بات کو واضح انداز سے یہ آیت کہتی ہے۔ 

عام طورسے معاشی سلسلے کی عبادتوں میں اس کے تمام فائدے غریبوں کو پہنچنا چاہئے۔ یہی اسلام کی کیفیت ہے۔ 

اللہ کے لئے جانوروں کو قربانی کر کے اس کا گوشت غریبوں کو ملنا چاہئے اور اگر اللہ حکم دے تو سب کچھ کرنے کے لئے تیار ہونا چاہئے ، اس جذبہ کو ‏انسان پانے کے سوا قربانی کو اللہ کے لئے نذ کرنا نہیں ہے۔  

‏291۔ بغیر پاکیزگی کے کیا قرآن چھو سکتے ہیں؟ 

‏اس آیت 56:79 میں کہا گیا ہے کہ پاکیزہ لوگوں کے سوا اس کو کو ئی نہیں چھوئیں گے ۔ 

اس آیت کو سند بنا کر بعض لوگ دعویٰ کر تے ہیں کہ ناپاک لوگ کوئی بھی قرآن کو چھونا نہیں۔ 

اس آیت کو بنیاد بنا کر وہ لوگ کہتے ہیں کہ وضو سے پاکیزگی اختیار نہ کر نے والے ، غسل کے فرض سے رہنے والے ، حیض میں رہنے والی عورتیں، اور ‏منکر اسلام اس قرآن کو چھونا نہیں۔ 

انہیں جیسے اگر قرآن بھی کہتا تو وہ اسلام کا قانون کہلائے گا،اس میں کوئی اختلاف کی گنجائش نہیں۔ لیکن یہی حقیقت ہے کہ وہ لوگ اس آیت میں جو ‏بولا نہیں گیا ہے اس کو گھما پھرا کر اس آیت کے اندر گھسانے کی حجت کررہے ہیں۔ 

ان کا جو دعویٰ ہے کس طرح غلط ہے ، یہ دیکھنے کے بعد اس کا ٹھیک مطلب کیا ہے ، دیکھیں!

نبی کریم ؐکو قرآن مجید تحریری انداز میں نازل نہیں کیا گیا۔ اس کو ہم نے حاشیہ نمبر 152 اور312 میں واضح کی ہے۔ 

جب قرآن مجید تحریری انداز میں نہیں اتاراگیا تو جو تحریری انداز میں نہیں اترا اس کو نہ چھو سکتے کہنے سے وہاں چھوئے جانے کی بات ہی نہیں ہے۔ 

چھونے کی طرح اگر قرآن مجید اترا ہوتا تو اسی وقت اس قرآن کو چھونا نہیں کہہ سکتے تھے۔ 

قرآن مجید نبی کریم ؐ کو پڑھ کر سنایا گیا، اس کے سوائے تحریری انداز میں نازل نہیں کیا گیا۔ 

اللہ کی طرف سے نبی کریم ؐ جب بھی پیغام حاصل کر تے کاتبوں کے پاس دے کر فوراً لکھ لیا کرتے تھے، اسی سے یہ تحریری انداز اختیار کی۔ 

قرآن اگر کتابی شکل میں نازل ہوا ہوتا تو اس کتاب کو دکھا کر کہہ سکتے تھے کہ اس کو چھوئیں گے نہیں۔ 

صوتی شکل میں ایک چیز کو کہنے کے بعد کوئی نہیں کہے گا کہ اس کو چھونا نہیں۔ کیونکہ آواز کو کیسے چھو سکتے ہیں؟ 

اگر ایسا ہو تو چھوئیں گے نہیں ، کس کی طرف اشارہ ہے۔ 

اسلام کے عقیدے کے مطابق اللہ کے پاس ایک دفتر ہے۔ جو کچھ ہوا تھا اور جوکچھ بھی ہونے والا ہے تمام باتیں اس دفتر میں درج کیا گیا ہے۔ اس ‏دفتر میں قرآن مجید بھی درج کیا ہوا ہے۔ اس دفتر کو فرشتے جو پاکیزہ ہیں، ان کے سوا کوئی شیطان اس کو چھو نہیں سکتا۔ 

‏(اس محفوظ دفتر کے بارے میں جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 157، 492دیکھیں!)

اس محفوظ دفتر ہی سے اس قرآن کو لایا گیا۔

اس کو چھو ئیں گے نہیں، اسی محفوظ دفتر ہی کی طرف اشارہ ہے۔ 

اس کوہم ہماری قیاس کے ذریعے نہیں کہہ رہے ہیں۔ قرآن مجید بھی ایسا ہی کہتا ہے۔ اس کو نہیں چھوئیں گے، صرف اس جملے کو دیکھنے کے بجائے ‏اس سے پہلے جو دو آیتیں ہیں اس سے ملاکر دیکھیں تو سمجھ میں آ سکتا ہے۔ 

اس آیت سے پہلے جو آیتیں ہیں وہاں سے دیکھئے۔

‏77، 78۔ یہ عظیم الشان قرآن ایک محفوظ دفتر میں ہے۔

‏79۔ پاکیزہ لو گ کے سوا کوئی نہیں چھوئیں گے۔

‏80۔ پروردگار عالم کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔

کہا گیا ہے کہ وہ اس کو نہیں چھوئیں گے ۔ اس کو جوکہا گیا ہے کہ وہ کس کی طرف اشارہ ہے؟ یہی مسئلہ کو اب سلجھانا ہے۔ 

‏’اس کو‘جب ہم کہتے ہیں تو اس کے بارے میں پہلے ہی ہم بات کئے ہوں گے یا لکھے ہوں گے۔لوگ اچھی طرح سمجھ جائیں گے کہ ہم کس کے ‏بارے میں پہلے بات کئے ہیں۔ 

یہ آیت کہتی ہے کہ ’اس کو وہ نہیں چھوئیں گے‘ تواس سے پہلے کی آیت میں اس کے بارے میں اشارہ ہوا ہوگا۔ اس طرح اگر ہم تفتیش کر یں تو ہم ‏جان سکتے ہیں کہ وہ کس طرف اشارہ ہے۔ 

ان آیتوں 56:77,78 میں کہا گیا ہے کہ’’یہ محفوظ دفتر میں موجود عظیم الشان قرآن ہے‘‘۔

دوسری آیت میں کہا گیا ہے کہ اس کو نہیں چھوئیں گے۔ چنانچہ محفوظ دفتر میں موجود قرآن جہاں سے نبی کریم ؐ پرنازل کیا گیا وہاں موجود اصل کاپی ‏ہی کو ’’اس کو‘‘ کہا گیا ہے۔ 

اس لئے ’’ اس کو نہیں چھوئیں گے‘‘جو کہا گیا ہے کہ وہ تقریری شکل کا قرآن کی طرف اشارہ نہیں، بلکہ وہ جہاں سے نازل ہوا اسی اصل دفتر کی ‏طرف اشارہ ہے۔ 

اس لئے اس آیت کو دلیل بنا کر اس طرح دعویٰ کر نا کہ پاکیزگی کے بغیر قرآن مجید کو چھونا نہیں، غلط ہے۔ 

قرآن مجید سب لوگوں کو راہ دکھانے کے لئے نازل ہوا ہے۔ ہر حالت میں اور ہر آدمی پڑھنے کے لئے یہ نازل ہوا ہے۔ 

غیر مسلم اس قرآن کو پڑھیں گے ہی تو وہ لوگ سیدھے راستے پر آسکتے ہیں۔ اگر ان سے کہیں کہ تم پاک نہیں ہو، اس لئے تم قرآن کو چھونا نہیں تو ‏قرآن جس مقصد سے اللہ نے اتارااس مقصد کو بگاڑنا ہوجا ئے گا۔ 

نبی کریم ؐ نے کئی ممالک کے حکمرانوں کو قرآنی آیتیں لکھ بھیج کر اسلام کی طرف دعوت دی تھی۔ 

‏(دیکھئے بخاری: 7، 2941،4553) 

نبی کریم ؐکو معلوم تھا کہ وہ بادشاہ اپنے ہاتھوں سے چھو کرہی اس قرآنی آیتوں کو پڑھیں گے، ایسے میں اس طرح کہنا کہ قرآن مجید کو پاکیزگی کے ساتھ ‏ہی چھونا ہے ، غلط ہے۔ اس طرح کہنا قرآن سے لوگوں کو اجنبیت پیدا کر دے گی۔ 

یہ آیت کسی حالت سے قرآن کو پاکیزہ لوگ ہی چھو ناکہنے کے لئے دلیل نہیں ہے۔ 

ہر حالت میں، ہر انسان قرآن مجید کو چھو سکتے ہیں، پڑھ سکتے ہیں، یہی بات ہمیں قرآن کریم سے حاصل ہو تی ہے اور نبی کریم ؐ کے طور طریق سے ‏معلوم ہوتی ہے۔

بغیر وضو کے قرآن مجید کوچھونا نہیں، اس مطلب سے چند حدیثیں موجود ہیں۔ وہ تمام ضعیف حدیثیں ہیں۔ 

اس کے متعلق تفصیل سے جانیں۔ 

‏1۔ حکیم بن حسامؓ فرماتے ہیں:

اللہ کے رسول ؐ نے مجھے ملک یمن کو بھیجا تو کہا تم سوائے پاکیزہ رہنے کے قرآن کو چھونا نہیں۔ (حاکم)

اس حدیث کو سوید بن ابی حاتم نے کہا ہے۔ انہیں نسائی اور ابوصرعہ وغیرہ کمزور کہا ہے۔ابن حجر نے کہا ہے کہ وہ بہت ہی ناقص یاد داشت والے ‏تھے۔ ان سے کئی غلطیاں سرزد ہوئی ہیں۔ نووی نے اپنی الخلاصہ نامی کتاب میں لکھا ہے کہ یہ ضعیف حدیث ہے۔ فن حدیث کے عالموں نے کہا ‏ہے کہ اس کو معتمد حدیث کہنے والے حاکم خود معتمد لوگوں کو منتخب کر نے میں بے پرواہی برتنے والے ہیں۔

عبد اللہ بن عمرؓ نے کہا: 

اللہ کے رسول ؐ نے فرمایا کہ پاکیزہ لوگوں کے سوا قرآن کو چھونا نہیں۔ (طبرانی)

اس پیغام میں سعید بن محمد حصہ پائے ہیں۔ کوئی بھی علماء ان کے بارے میں معتمد نہیں کہا۔ 

مزید یہ کہ اس روایت میں ابن زریج نامی شخص بھی جگہ پایا ہے۔ وہ معتمد رہنے کے باوجود تدلیس میں چھپانے کا کام کردئے۔ ان جیسے اشخاص براہ ‏راست سن کراگر کہتے کہ میں نے سنا، انہوں نے فرمایا تو اس کو اختیار کرسکتے ہیں۔ 

مندرجہ بالا روایت میں سلیمان بن موسیٰ سے وہ براہ راست سننے کا کوئی جملہ پایا نہیں گیا ہے۔ اس وجہ سے بھی یہ کمزور خبر ہے۔ 

‏2۔ عثمان بن ابی العاصؓ نے فرمایا ہے :

نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ تم پاکی کی حالت میں رہنے کے سوائے قرآن کو مت چھونا۔

اس روایت میں اسماعیل بن رافع جگہ پائے ہیں۔ 

ابن حجر، یحیےٰ بن معین، نسائی،ذہفی، احمد بن حنبل، یعقوب بن سفیان، ابن عدی، دارخطنی، ابن قراش، ابو حاتم اور محمد بن سعد وغیرہ نے کہا ہے ‏کہ یہ خبر ضعیف ہے۔ صرف بخاری ہی ان کو معتمد کہا ہے۔ بخاری کے سوا دوسرے تمام علماء ایک ساتھ مل کر انہیں کمزور کہنے کی وجہ سے اور ‏انہیں حفظ کے بارے میں بھی ٹھیک نہیں سمجھنے کی وجہ سے وہ کمزور راوی کہلاتے ہیں۔

ان کے پاس جو کمزوریاں تھیں اس کو بخاری نہ جاننے کی وجہ سے غلطی سے انہیں معتمد کہہ دیا۔ اس لئے یہ روایت بھی غلط ہے۔

‏3۔ عبد اللہ بن ابی بکر بن محمد بن امر بن حزم نے کہا: 

نبی کریم ؐ نے امر بن حزم کو جو خط لکھا تھا اس میں کہا گیا تھا: پاکیزہ لوگوں کے سوا قرآن مجید کو کوئی نہ چھوئے۔ 

مراسیل ابی داؤد۔(90)

یہ خبر پورے راویوں کے سلسلے کے بغیرہے۔

اس خبر کے بارے میں دارخطنی کہتے ہیں کہ یہ بغیر سلسلہ کے قسم کا خبر ہے۔ اس میں پائے گئے راوی معتمد لوگ ہیں۔ 

راوی معتمد ہو نے کے باوجود درمیان میں راوی چھوٹ جانے کی وجہ سے وہ حدیث ضعیف کہلاتی ہے۔ 

اس خبر کو عبد اللہ بن ابی بکر فرمایا ہے۔ یہ صحابی نہیں۔ نبی کے زمانے میں رہنے والے بھی نہیں تھے۔دارخطنی نے واضح کی ہے کہ ایسے آدمی نبی ‏کے ساتھ تعلق رکھنے والی خبروں کو اگر روایت کرتا ہے تو وہ مرسل یعنی بغیر سلسلہ کا خبر ہوگا۔ ابو داؤد بھی اس خبر کو مرسل خبر کہا ہے۔ 

درمیان میں راویوں کا سلسلہ جو چھوٹا نہیں ان راویوں میں سلیمان بن ارقم بھی ایک ہیں۔ لیکن اکثر علماء ان کے بارے میں کہا ہے کہ وہ پوری ‏طرح سے کمزور ہیں۔

اس لئے پاکی کے بغیر قرآن کو چھونا نہیں ، اس کی سند میں کوئی بھی خبر نہیں ہے۔ غیر مسلم، حیض والی عورتیں، غسل کی فرض والے اور بغیر وضو ‏والے کوئی بھی ہو قرآن کو چھو سکتے ہیں اورپڑھ سکتے ہیں۔یہی رائے ٹھیک ہے۔   

‏290۔ سب کے لئے حق ہے کعبہ

‏عام طور سے عبادت گاہوں میں ایک خاص حصہ والوں کو، ذات والوں کواور نسل والوں کو بہت زیادہ ترجیح دی جاتی ہے۔

لیکن مسلمانوں کی پہلی عبادت گاہ کعبہ میں اس کے قریب بسنے والے ، دورمیں بسنے والے دنیا بھر کے لوگوں کو برابر کا حق ہے۔کسی کو وہاں ترجیح ‏نہیں دی جاتی۔ 

یہ آیت 22:25اعلان کر تی ہے کہ جو ایک ہندوستانی کو ہے وہی حق کعبہ میں بسنے والے کی بھی ہے۔ 

عبادت گاہیں بھی اونچ نیچ کی مرکز بنی ہوئی اس ماحول میں صرف اسلام ہی مساوات کا منبع بنا ہوا ہے۔

پیدائشی طور پر سب برابر ہیں۔ چال چلن ہی سے ایک سے ایک بلند ہو سکتا ہے۔ اسلام کی اس مساوات اور بھائی بندی کو جاننے کے لئے حاشیہ نمبر ‏‏11، 32 ، 49، 59، 141، 168، 182، 227، 368، 508 وغیرہ میں دیکھئے!  

More Articles …