Sidebar

24
Wed, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

‏337۔ داؤد نبی کی غلطی

‏ان آیتوں 38:21-25کو قرآن کی تفسیر کے نام سے عالموں نے بہت سی جھوٹی کہانیاں لکھ چھوڑا ہے۔ ان میں سے کوئی بھی بات قابل قبول ‏نہیں ہے۔ 

ایسا جھوٹ باندھا گیا ہے کہ داؤد نبی کو ننانوے بیویاں تھیں۔پھر دوسرے کی بیوی اپنانے کے لئے اس کے شوہر کو سازش کر کے داؤد نبی نے قتل کر ‏دیا۔ اس کے لئے قابل قبول دلیل کچھ بھی نہیں۔اس کے لئے یہودو نصاراکی کتابوں میں درج کی ہوئی کہانیاں ہی دلیل ہیں۔ 

انہیں اتنا بھی عقل نہیں رہا کہ اللہ کے رسول اس طرح کی ذیل حرکت نہیں کرتے۔

داؤد نبی کے ایک غلطی کی طرف اللہ نے اشارہ کیا تو انہوں نے اصلاح کر لی،صرف اسی بات کو اللہ نے یہاں بیان کی ہے۔عبرت حاصل کر نے کے ‏لئے صرف یہی بات کافی ہے۔ 

داؤد نبی نے کیا غلطی کی تھی ، اس کے بارے میں نہ قرآن نے کہا نہ ہی حدیثوں نے کہا۔ پھر بھی وہ کس طرح کی غلطی کی تھی، اسی کو یہ آیتیں ‏احساس دلاتی ہیں۔ 

دو شخص ایک مقدمہ لے کر آتے ہیں۔ ان میں سے ایک داؤد نبی سے کہتا ہے کہ ’’اس کے پاس ننانوے بکریاں ہیں ۔ میرے پاس ایک ہی بکری ‏ہے۔ اس کو بھی یہ چھین لینا چاہتا ہے۔ ‘‘

داؤد نبی نے اس کا فیصلہ کر نے کے بعد انہیں سمجھ میں آگیا کہ ’’وہ دونوں میری غلطی کی طرف اشارہ کر کے احساس دلانے کے لئے ہی اللہ کی طرف ‏سے بھیجے گئے فرشتے ہیں۔‘‘فوراً اللہ سے معافی مانگنے لگے۔ 

اس مقدمے کے اندازسے داؤد نبی خود سمجھ گئے کہ وہ انہیں کی طرف اشارہ کر تا ہے، اس لئے ان کی غلطی اس مقدمے کی غلطی جیسا ہی ہوگا۔ 

زیادہ رکھا ہوا ایک شخص کم رکھنے والے کی حقیر چیز کو بھی اپنانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی اس مقدمے کا انداز ہے۔ 

داؤد نبی اپنے پاس کوئی چیز زیادہ رہنے کے باوجود اسی چیز کو بہت ہی کم رکھے ہوئے شخص سے اگرقبضہ نہ کئے ہوتے تو اس مقدمے سے اپنی غلطی کو ‏وہ سمجھے نہ ہوتے۔ 

عام طور سے بادشاہ کے لحاظ سے کئے جانے والے چند معاملے ان جیسے حالات کو پیدا کر دیتے ہیں۔ 

داؤد نبی بادشاہ رہنے کی وجہ سے حکومت کی کاموں کے لئے عام آدمیوں کی زمین کو قاعدے سے قبضہ کر لینا، یا اپنی فوج میں زیادہ جنگی گھوڑے ‏رہنے کے باوجود ایک شہری کی ایک ہی گھوڑے کو فوج کے لئے قاعدے سے اٹھالینا، یا بہت بڑے زمین کے حکمراں رہنے کے باوجود ایک چھوٹی ‏سی زمین کے بادشاہ کے ملک کو ہڑپ لینا، ان جیساہی کوئی معاملہ ہو گا ، اس کے سوائے دوسرے کی بیوی کو اپنا لینے کی ذلیل حرکت، وہ غلطی نہیں ‏ہوسکتا۔ 

‏336۔ برائی میں حصہ نہ لینے کے لئے جھوٹ بولنا

‏اس آیت 37:89 میں کہا گیا ہے کہ ابراھیم نبی نے کہا : میں بیمار ہوں!

نبی کریم ؐ نے وضاحت فرمائی ہے کہ یہ اللہ کے لئے ابراھیم نبی کا کہا ہوا جھوٹ ہے! (دیکھئے۔ مسلم:4726)

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ابراھیم نبی بیمار نہ ہو تے ہوئے بھی اللہ کے لئے اپنے کو مریض بتلایا ہے۔ 

ایک برائی میں حصہ لئے بغیر رہنے کے لئے اس جیسے کچھ جھوٹ بولنا غلط نہیں۔ 

برائی سے نفرت کرنے والے نیک لوگ بعض وقت اس کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ 

مثال کے طور پر ایک عورت پکے عقیدے والی ہے۔ اس کا شوہر تو بالکل بد عقیدہ والا ہے۔ جہیز لے کر واقع ہونے والی ایک شادی میں شامل ہو نے ‏کے لئے وہ اس کو زبردستی کر تا ہے۔ اس میں شامل ہونا غلط ہے، کہنے کے باوجود وہ مانتا نہیں۔ اس واقعہ میں شامل نہ ہوں توجو انجام ہو گا اس کو وہ ‏برداشت کر نہیں سکتی۔ اس موقع پراس برائی سے بچنے کے لئے اگر وہ جھوٹ بولے کہ مجھے طبیعت ٹھیک نہیں ہے تووہ گناہ نہیں ہوگا۔وہ ابراھیم ؑ ‏کی پیروی ہوگی۔ 

ایک نوجوان اپنی تمام ضرورتوں کو اپنے والد پر ہی دارومدار ہے۔ گھر میں واقع ہو نے والی خلاف شرع پروگرام میں حصہ نہ لیں تو وہ گھر سے باہر ‏کردیا جائے گا۔ فرض کرو کہ اگر اس کو گھر سے بھگا دیا جائے تو اس کے لئے کوئی مقام نہیں۔اس واہیات میں شامل ہو نے سے بچنے کے لئے ایسا ‏جھوٹ بولتا ہے جو اس کا والد مان جائے تو وہ ابراھیم نبی کاراستہ ہوگا ، گناہ نہ ہوگا۔ 

پوجا کئے ہوئے چیزکو اگر کوئی ہمیں دیں توممکن ہوتویہ کہہ کرانکار کر سکتے ہیں کہ ہم اس کوکھاتے نہیں ۔ اس طرح اگر انکار نہیں کر سکتے ، یعنی اگر ‏انکار کردیں تو مذہبی فسادکھڑا کردیں گے تو اس وقت کچھ نہ کچھ جھوٹ بول کر اسے نظر انداز کر سکتے ہیں۔ یا دلی نفرت کے ساتھ لے کر اس کو ‏کھائے بغیر رکھ دیں۔ 

دین کی طرف سے منع کی ہوئی معاملوں میں جھوٹ بول کر ہی بچ سکتے ہیں تو ابراھیم نبی کی طرح جھوٹ بول کر اس سے ہٹ سکتے ہیں۔ 

اور زیادہ معلومات کے لئے حاشیہ نمبر 162، 236 وغیرہ دیکھیں!

‏335۔ زمین گول ہے

‏ان آیتوں 37:5، 70:40 میں کہا گیا ہے کہ نمودار ہو نے والے ہر سمت کا رب۔

آیت نمبر 55:17 میں کہا گیا ہے کہ دونوں مشرقوں اور دونوں مغربوں کا رب ہے۔ 

اس دنیا میں بسنے والے ہم ہر روزسورج کو طلوع ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ وہ ہر روز ایک ہی سمت سے طلوع ہو تی ہے۔ بدل بدل کر طلوع ہوتی ‏نہیں۔ ایسے میںیہ کیوں کہا گیا ہے کہ طلوع ہو نے کی سمت کئی ہیں؟اس آیت55:17 میں ایسا کیوں کہا گیا ہے کہ طلوع ہو نے کی سمت دو اور ‏غروب ہو نے کی سمت دو ہیں؟

زمین چپٹی ہے کے عقیدے پر رہنے والوں کے اس زمانے میں ایسا کہنا ہی ناممکن ہے کہ کئی مشرقیں ہیں اور کئی مغربیں ہیں!

لیکن آج کے زمانے میں اچھی طرح جان سکتے ہیں کہ زمین گول رہنے کی وجہ سے طلوع ہو نے والی کئی سمتیں ہیں اور غروب ہو نے والی کئی سمتیں ‏ہیں۔ وہ کیسے، آئیے دیکھیں!

سورج کا طلوع ہو نا اور غروب ہونا ایک لمحے میں ختم ہو نے والا نہیں۔ ہر لمحہ ہر حصہ میں طلوع ہوتے رہتا ہے، ہر لمحہ غروب ہو تے رہتا ہے۔ اس ‏لئے بہت سی طلوع ہو نے والی سمتیں اور بہت سی غروب ہو نے والی سمتیں پیدا ہوتی ہیں۔ 

اگر زمین چپٹا ہو تاتو سورج ایک سمت طلوع ہو کر دوسری سمت غروب ہو جا ئے گا۔ اگر زمین گول ہو تا تو زمین کے ہر نقطہ میں طلوع ہو نے کی سمت ‏پیدا ہوتی ہے اور غروب ہونے کی سمتیں بھی اسی طرح ہیں۔ 

بہت سی طلوع ہو نے والی سمتیں اور بہت سی غروب ہو نے والی سمتیں ہیں ، اس طرح کہنے کے ذریعے اس سائنسی حقیقت کو کہ زمین گول ہے، ‏اپنے میں سمائے ہوئے قرآن مجید ایک سائنسدان کی طرح بات کر تا ہے۔ یہ بھی اللہ کے کلام کے لئے ایک سند ہے۔ 

دو مشرقین اور دو مغربین کیوں کہا گیا ہے؟ زمین اگر گول ہو تو دو مشرقین اور مغربین ضرور ہوگا۔ 

چینئی میں رہنے والے ہم سورج کو مشرق کی طرف سے طلوع ہو تے ہوئے دیکھتے ہیں۔ زمین کی دوسری طرف چینئی کی سیدھ میں نیچے رہنے ‏والے اس سورج کو غروب ہوتے ہوئے دیکھینگے۔ یعنی ہم جسے مشرق کہتے ہیں اسی کو وہ مغرب کہیں گے۔ 

طلوع ہو نے والی ہر نقطہ میں جینے والے لوگوں کی نگاہوں کو دیکھ کرکہا جاتا ہے کہ طلوع ہو نے کی سمتیں بہت ہیں۔ 

ایک نقطہ میں جینے والے ایک شخص کی نگاہ کو دیکھ کر کہا جاتا ہے کہ دو سمتیں ہیں۔

بہت سی طلوع ہو نے والی سمتیں اور بہت سی غروب ہو نے والی سمتیں ہیں ، اس طرح کہنے کے ذریعے اورطلوع ہو نے کی دو سمتیں کہنے کے ذریعے ‏اس سائنسی حقیقت کو کہ زمین گول ہے، اپنے میں سمائے ہوئے قرآن مجید ایک سائنسدان کی طرح بات کر تا ہے۔ یہ بھی اللہ کے کلام کے لئے ایک ‏سند ہے۔ 

اس کے بارے میں اور زیادہ معلوم کر نے کے لئے حاشیہ نمبر 274دیکھیں۔

 ‏334۔ بیعت کا مطلب کیا ہے؟

‏نبی کریم ؐکے پاس اصحاب رسول نے جو بیعت نامی معاہدہ کئے تھے اس کو ان آیتوں میں 48:10، 48:12، 48:18 کہا گیا ہے۔ 

ہجری چھٹویں سال میں نبی کریم ؐ عمرہ کے لئے مکہ کی جانب ہزاروں صحابیوں کے ساتھ روانہ ہوئے۔ 

مکہ والوں کو یہ خبر دینے کے لئے عثمان ؐ کو بھیجاکہ ہم جنگ کر نے کے لئے نہیں آئے، عمرہ اداکر نے کے لئے ہی آئے ہیں۔

عثمانؓ نے مکہ کے سرداروں سے اس کے متعلق بات کی۔

عثمانؓ واپس آنے میں دیر ہوئی تو یہ جھوٹی خبر پھیل گئی کہ انہیں قتل کر دیا گیا۔اس کو سن کر نبی کریم ؐ غضبناک ہوگئے۔ سب لوگوں کا مانا ہوا قانون ‏ہے کہ پیامبروں کو قتل نہیں کر نا چاہئے ، اس لئے اس کے خلاف جانے والوں سے جنگ کر نے کا فیصلہ کر لیا۔ 

اپنے صحابیوں سے عہد لیا کہ میدان جنگ سے ہر گز پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ہر صحابی اپنا ہاتھ نبی کے ہاتھ پر یہ عہد کیا تھا۔اسی معاہدے کو اس آیت ‏میں کہا گیا ہے۔ 

تھوڑی ہی دیر میں عثمانؓ واپس آگئے اور مکہ والوں کے ساتھ حدیبیہ کے مقام پر صلح کا معاہدہ ہوا۔ اس وجہ سے جنگ کی ضرورت پیش نہیں آئی۔

ان حدیثوں کے ذریعے 1694، 2698، 2700، 2731، 2958، 3182، 4163، 4164، 4170، 4178، 4180، ‏‏4844 (بخاری) اس کی تفصیل جان سکتے ہیں۔ 

مسلمانوں میں موجود جھوٹے صوفیاں اور دھوکہ باز لوگ اپنے مریدوں کو محکوم بنائے رکھنے کے لئے اور کوئی سوال اٹھائے بغیر آنکھیں بند کر کے ‏انہیں پیروی کر نے کے لئے اس آیت کو غلطی سے استعمال کر رہے ہیں۔ 

وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ؐ سے صحابئی رسول نے بیعت کی تھی اس لئے تم بھی ہمارے پاس بیعت کرو۔ اس طرح بیعت لینے کے بعد جس کے پاس ‏انہوں نے بیعت کی تھی انہیں آنکھ بند کر کے پیروی کر نا چاہئے، اس طرح وہ دماغ کوماؤف کر دیتے ہیں۔

اس طرح وہ مذہبی پیشواکے پاس جب بیعت کر لیتے ہیں تو وہ پیشوا جو بھی کہیں ، وہ اسلام کے خلاف ہی کیوں نہ ہو، اس کے پابند رہنا چاہئے۔اس کے ‏خلاف سوال نہیں اٹھانا چاہئے۔اس طرح وہ لوگوں کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو کند کر دیتے ہیں۔ 

بے سمجھ لوگوں کو اپنی پابندی میں غلاموں کی طرح رکھ کر انہیں لوٹتے آرہے ہیں۔ 

اس طرح بعض تحریک چلانے والے بھی اپنے سرداروں کے پاس بیعت کے نام سے عہد کر تے ہیں۔ 

مرشد جب بھی بلائیں ، کس لئے بھی بلائیں، فوراًبھاگنا چاہئے۔ قتل بھی کرنے کو کہیں یا کسی پر حملہ کرنے کا بھی حکم دیں تو اسے انجام دینا چاہئے۔ ‏ورنہ بیعت کے توڑنے کا عظیم جرم عائد ہو جائے گا، اس طرح وہ دماغ کو بے سدھ کر دیتے ہیں۔ 

لیکن اس آیت میں واضح کیاگیا ہے کہ یہ صرف نبی کریم ؐ کی خصوصی قابلیت ہے۔اللہ فرماتا ہے کہ تم سے جو معاہدہ کر تے ہیں وہ اللہ ہی کے پاس ‏معاہدہ کر تے ہیں۔ 

نبی کریم ؐاللہ سے معین کئے ہوئے رسول ہیں۔اس لئے ان کو اللہ کی طرف سے معاہدہ لینے کے لئے اختیار دیا گیا ہے۔

اللہ کہتا ہے کہ نبی کریم ؐ کے پاس جو معاہدہ کیا جا تا ہے وہ اللہ کے پاس کئے جانے والا معا ہدہ ہی ہے۔ اس سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ یہ صرف نبی کریم ؐ کی ‏خصوصی قابلیت ہے۔ رسول کے پاس کئے جانے والا معاہدہ عام طور سے اس رسول کو بھیجنے والے کے پاس کئے جانے والا معاہدہ ہی ہے۔ 

تم جو بھی کہو میں سنتا ہوں، اس طرح اللہ ہی کے پاس عہد کر ناچاہئے۔ کیونکہ اللہ ہی سب کا مالک ہے۔ 

تم جو بھی کہو میں سنتا ہوں ، اس طرح اگر اللہ کے سوا کسی دوسرے کے پاس عہد کیا گیا تواس کا مطلب ہو گا کہ وہ اس کے مقام پر اس کے بندوں ‏میں سے کسی ایک کوچن لیا۔ یہ سراسر شرک ہوگا۔ 

ایسا کوئی معاہدہ نبی کریم ؐ کی وفات کے بعد مشہورو معروف صحابیوں میں بھی کسی کے پاس نہیں لیا گیا۔ 

ابوبکرؓ،عمرؓ ، عثمانؓ ، اور علیؓ کے پاس بھی کوئی صحابی یہ بیعت نہیں لیا کہ تم جو بھی کہوگے میں سنتا ہوں۔ 

بیعت کے بارے میں قرآن مجید کی آیتیں اور نبی کریم ؐ کی حدیثیں نہ جانتے ہوئے بھی اگر بیعت کے مطلب کوکوئی جان لے تو ہی بس اس بیعت کی ‏بھیڑ سے بچ سکتے ہیں۔ 

بیعت کا مطلب ہے معاہدہ کرنا۔ جس معاملے کے واسطے معاہدہ کیا جاتا ہے اس معاملے میں جس کا تعلق ہے اسی کے پاس معاہدہ کر نا چاہئے۔ اسی ‏وقت وہ معاہدہ کہلایا جا سکتا ہے۔ 

فاطمہ سے بیاہنے کے لئے خدیجہ سے معاہدہ کر نہیں سکتے۔

دوسروں کی دوکان میں موجود چیزوں کو ایک شخص کہتا ہے کہ اس کو میں تمہیں بیچنے کا عہد کر تا ہوں تو ہم پوچھیں گے کیا تم اس دوکان کے مالک ‏ہو؟ 

ایک کالج میں داخلہ کے لئے دوسرے ایک کالج میں ہم درخواست نہیں کر سکتے۔ جو جس چیز کے لئے ذمہ دار ہو اور منتظم ہو انہیں کے پاس عہد ‏لے سکتے ہیں۔ 

اسی طرح مالک کے ذریعے اختیارات حاصل کئے ہوئے منتظم کے پاس ہی عہد کر یں۔ میری جائدا کو بیچنے کے لئے جس کسی کو میں اختیار دوں تو وہ ‏اس کو بیچ سکتاہے۔ خریدنے والا اس سے عہد لے سکتا ہے۔ 

دنیوی معاملے میں ہم اس کو اچھی طرح سمجھ رکھے ہیں۔ اس کے خلاف چلنے والے کو ہم دل کا مریض یا بد دماغ کہتے ہیں۔ یہ فیصلہ بھی سنا دیتے ہیں ‏کہ بے تعلق شخص سے کیا جا نے والا معاہدہ باطل ہے۔ 

لیکن دینی معاملے میں اس آگاہی سے ہم بے خبر ہیں۔ 

اللہ ہی آقا ہے۔ ہم تمام اس کے غلام ہیں،یہی اسلام کی بنیادی عقیدہ ہے۔ یہ عقیدہ لا الہ الا اللہ میں مضمر ہے۔ 

اللہ آقا ہے ، ہم اس کے غلام ہیں۔ اس لحاظ سے ہم اللہ سے عہد کر سکتے ہیں کہ یا اللہ! تم جو بھی کہو ہم سنتے ہیں ۔یا اللہ جسے مقرر کیا ہے اس رسول ‏کے پاس معاہدہ کر سکتے ہیں کہ اللہ جو بھی کہے گا ہم سنیں گے۔ دوسرے کسی سے نہیں۔

تم جو بھی کہو ہم سنتے ہیں ، اس طرح کی سپردگی اللہ کے سوا کسی کو نہیں دے سکتے۔ انسان صرف اللہ ہی کا غلام ہے ۔ تم جو بھی کہو میں سنتا ہوں ، اس ‏دعوے کو اللہ ہی سزاوار ہے۔ اللہ کے سوا اس عہد کو کسی سے کرے یا کوئی بھی کرے وہ اللہ کے ساتھ شرک کے مرتکب اور گنہ گار ہوں گے۔ 

طریقہ کے نام سے یا شیخ کے نام سے جو کوئی بیعت کرتے ہیں وہ لوگ اپنے شیخ کے بتائے ہوئے خلافِ شریعت کے کاموں میں مبتلا ہو کر اپنی سوچنے ‏سمجھنے کی صلاحیت بھی کھو کر بکریوں کی بھیڑ کی طرح بدل جانے کو ہم دیکھ رہے ہیں۔ 

اس سے ثابت ہو تا ہے کہ یہ لوگ اللہ کے ساتھ شرک ٹہرانے کی گناہ میں مبتلا ہیں۔ 

مذہبی پیشوا سے تم جو بھی کہو میں سنتا ہوں کہہ کر عہد کرنا اور تحریکی سرداروں کے پاس جا کر عہد کرناکہ تم جو بھی کہو ہم اتباع کرتے ہیں ، اسلام ‏میں بہت بڑا گناہ ہے۔ 

اللہ اور اس کے رسول کے سوا دوسرے کسی کی اتباع کے لئے عہد کریں تو وہ اللہ اوراس کے رسول کے مقام کو انہیں سونپ دینے والا ہوگا اور وہ اللہ ‏کے ساتھ شرک ٹہرانے والا ہو گا۔ 

نبی کریم ؐ سے جو بیعت کیا گیا اس کو پورا کر نا ہی دینی فرض ہے۔ اس کے باوجود نبی کریم ؐ نے ممکن حد تک اس کو پورا کر نے کے لئے ہی بیعت لیا ‏ہے۔ 

میں نے نبی کریم ؐ سے عہد کیا تھا کہ تم جو کہو گے میں اتباع کروں گا۔ تو نبی کریم ؐ نے تصحیح کی کہ ’’مجھ سے ہو سکے تک‘‘ بھی شامل کرلو۔ 

راوی: جریربن عبداللہؓ 

بخاری: 7204

نبی کریمؐ نے خودکہہ دیا کہ آپ کے پاس جو عہد کیا گیا تھا اس کو بھی پوری طرح سے انجام دینا ضروری نہیں ہے بلکہ ہم سے ہوسکے تک ہی بجا آوری ‏کر نا چاہئے۔ لیکن یہ جھوٹے صوفیاں اور جعلی سرداراپنے کو نبی کریم ؐ سے بڑھ کر مقام میں ثابت کر نے کے لئے کوشش کر رہے ہیں۔ اس کے ‏ذریعے وہ مسلمانوں کو اسلام سے پرے ہٹانا چاہتے ہیں۔

اس طرح اگر کوئی کسی سے بھی معاہدہ کیاہو اس کو فوراًتوڑدینا دینی فریضہ ہے۔ اللہ پر قسم کھا نے کے بعداس سے بہتر اگر دیکھیں تو اس قسم کو توڑ ‏دینے کیلئے نبی کریم ؐ نے راہ دکھائی ہے۔ 

نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ میں اللہ پر قسم کھانے کے بعد اس سے بہتراگر دیکھوں تواس قسم کو توڑ کر اس بہتر کو اپنالوں گا۔

دیکھئے بخاری: 3133، 4385، 5518، 6649، 6721، 7555

اللہ کے مقام پر اور اللہ کے رسول کے مقام پران جھوٹوں کو رکھتے ہوئے بیعت کرنے والے اس کو انجام نہ دیں۔ فوراً اس سے نکل جانا دینی فریضہ ‏ہے۔

ایک شخص جب حکومت کا صدر بن جاتا ہے تو اس کو حکومت کا صدرمان کر عہد لے سکتے ہیں۔ کیونکہ یہ ان کا معاملہ ہے۔

اس طرح کا عہد نبی کریم ؐ کی وفات کے بعد لوگوں نے ابوبکرؓ کے پاس کیا تھا۔ ان کی وفات کے بعد عمرؓ کے پاس کیا تھا۔ 

اس دنیا میں لین دین کے معاملے میں اس کے تعلق رکھنے والوں کے پاس بیعت کر سکتے ہیں۔ کیونکہ یہ ان کا معاملہ ہے۔ 

میرے خاص اس مکان کو میں تمہیں فروخت کر تا ہوں ، اس طرح بیچنے والے اور لینے والے ایک سے ایک معاہدہ یعنی بیعت کر سکتے ہیں۔ اپنے ‏خاص ایک جائداد کے معاملے میں عہد لینے کو انہیں حق ہے۔ 

ایک ادارے میں داخلہ ہو تے وقت اس سلسلے میں اس کے مالک کے پاس یا اس کے منتظم کے پاس عہد لے سکتے ہیں۔ کیونکہ یہ ان کا معاملہ ہے۔ 

اس کو جانے بغیر بیعت کی بھیڑ میں پھنسے ہوئے لوگ اللہ کی ذاتی معاملے کو انسان کو سونپ دیا ہے اور اللہ کے رسول کی قابلیت کو ایک معمولی سا ‏انسان کو سونپ دیا ہے،اس گناہ کی وجہ سے وہ لوگ اللہ سے توبہ کر لینا ضروری ہے۔ 

اس آیت میں کہا گیا ہے کہ اللہ کے رسول کے پاس معاہدہ کر نے والے اللہ ہی کے پاس معاہدہ کر تے ہیں۔اس اصطلاح پر خاص کرغور کرنا چاہئے۔

بیعت اور معرفت وغیرہ اسلام میں نہیں۔ اس کو اور زیادہ جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 81، 182، 273وغیرہ دیکھیں!

‏333۔ انسان کا بڑھنا اور گھٹنا

‏اس آیت 36:68میں کہا گیا ہے کہ انسان جب زیادہ دن جیتا ہے تو وہ تنزل کی طرف سفر کر تا ہے۔

اس کے بارے میں اللہ نے ا ن آیتوں16:70اور 22:5 میں بھی کہا ہے۔

انسان پیدا ہو نے کے بعد تھوڑا تھوڑا بڑھتا جاتا ہے۔ ایک مخصوص عمر کے بعد پھر سے تنزل کر تے ہوئے دانتیں کھودیتا ہے، اور چلنے پھرنے سے ‏معذور ہو کر بستر پر پڑجاتا ہے۔ چلنے سے معذور اور بات کر نے سے مجبور ہو کر بچہ جیسا ہو جا تا ہے۔ 

اس کو یہ آیت تنزل کہا ہے۔   

‏332۔ کیا قبر کا عذاب ہے؟

‏بعض لوگ حجت کر رہے ہیں کہ قبرکی زندگی نہیں ہے۔ اس طرح دعویٰ کر نے والے ان آیتوں کو 36:51,52 پیش کر تے ہیں۔

ان آیتوں میں کہا گیا ہے ’’برے لوگ یہ کہتے ہوئے اٹھیں گے کہ ہمیں ہماری نیند سے کون جگایا؟ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس طرح جگائے جانے کے ‏بارے میں وہ افسوس کریں گے۔ 

اگر وہ قبر میں عذاب دئے جاتے تو وہ کیسے کہتے کہ ہمیں ہمارے نیند سے جگانے والا کون ہے؟ کسی قسم کا عذاب نہ ہو تا تو ہی وہ اس طرح سوال کر ‏سکتے تھے۔ 

جگائے جا نے کے بارے میں وہ افسوس اور فکر مند ہو ئے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ ذرہ بھر بھی عذاب نہیں کئے گئے۔ ایسی رائے رکھنے والے دعویٰ ‏کر تے ہیں کہ قبر کی عذاب کے بارے میں حدیثیں رہنے کے باوجود ان آیتوں سے وہ براہ راست ٹکرانے کی وجہ سے اس پر ہم بھروسہ کر نے کی ‏ضرورت نہیں۔

اپنے دعوے کو زور دینے کے لئے وہ ایک اور دعویٰ پیش کر رہے ہیں۔ 

اللہ کسی کو کسی طرح کا عذاب نہیں دیتا۔ ان لوگوں کا دعویٰ ہے کہ قبر کی عذاب پر بھروسہ کر نا وہ اس رائے کو اپنے اندر چھپایا ہوا ہے کہ اللہ ظلم کرتا ‏ہے ۔ 

فرض کرو کہ آدم ؑ کے بیٹوں میں سے ایک اس کی غلطی کی وجہ سے قبر میں عذاب دیا جاتا ہے۔یہ بھی فرض کرو کہ دنیا فنا ہو نے کے دس دن پہلے ‏مرجانے والے پربھی اسی غلطی کی وجہ سے عذاب دیا جا تا ہے۔

دوسرا جو شخص ہے صرف دس دن ہی قبر کا عذاب چکھتا ہے۔ لیکن آدم ؑ کا بیٹا تو لاکھوں سالوں قبر کی عذاب میں مبتلا ہے۔ 

وہ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ ایک ہی جرم میں مبتلا دواشخاص میں ایک کو دس دن کی سزا اور دوسرے ایک شخص کو کئی سالوں کی سزا ، یہ کیسے انصاف ‏ہوگا؟ اس طرح کی بے انصافی اللہ نہیں کر سکتا۔ 

وہ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ قبر میں عذاب کا ماننا قرآن کا انکار ہوگا اور اللہ کے عدل پر شک جیسے ہوگا۔

آؤ دیکھیں ان کے دعوے میں کتنی سچائی ہے؟

انسانوں کی اس سوال سے کہ ہماری نیند سے ہمیں کس نے جگایا؟ تواس کو اس طرح سمجھ لیناکہ قبر کی زندگی نہیں ہے، بالکل غلط ہے۔ قرآن مجید کو ‏پوری طرح سے تحقیق کئے بغیر صرف ان دونوں آیتوں کو اپنی دلی خواہش کے مطابق سمجھ لینا ہی اس دعوے کی وجہ ہے۔ 

ایک دنیا سے دوسری ایک دنیا میں پہنچنے والے پچھلی دنیا میں جو ہوا تھا اس کو بھول جا ئیں گے۔وہ بالکل بھول جائیں گے کہ ایسا ایک واقعہ ظہور ہوا ‏تھا۔اسی لئے قبر کی عذاب سے دوچار ہو نے والے پھرسے جگاکر دوسری ایک دنیا کو لے جائے جانے کے بعد قبر میں جو ہوا تھا اس کو بالکل بھول ‏جائیں گے۔ 

ایک دنیامیں جو ہوا تھاجب وہ دوسری دنیا کو بدلتے ہیں تو انسان بھول جائیں گے، اس کے لئے قرآن میں سندیں ہیں۔ 

پہلا انسان آدم ؑ کو پیدا کر نے کے بعد ان کے ذریعے سے پیدا ہو نے والے نسلوں کو ظاہر کر کے اللہ نے پوچھا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب ‏نے کہا کہ ہاں۔ اس کو اللہ نے اس آیت 7:172 میں فرمایاہے۔ 

اس طرح اللہ پوچھنے کے ساتھ ہم نے جوکہا ہاں، وہ ہمیں یاد نہیں۔ اللہ نے قرآن کے ذریعے ہمیں اشارہ کرنے کے بعد بھی ہمیں دھیان نہیں آرہا ‏ہے۔ اللہ کہنے کی وجہ سے ہم مانتے ہیں،اس کے سوائے ہمیں خود یا د آکر اس کو ہم نے نہیں مانا۔ 

اس آیت سے ہم معلوم کر سکتے ہیں کہ ایک دنیا سے جب دوسری دنیا کو جاتا ہے تو پچھلی دنیا میں جو ہوا تھا ان تمام کو انسان سراسربھول جاتا ہے ۔

قبرکی زندگی الگ ہے۔ پھر سے جگائے جانے کے بعد اللہ کے سامنے جو کھڑا کیا جاتا ہے، وہ دنیا الگ ہے۔اس لئے اس دنیا سے جب دوسری ایک دنیا ‏کو جاتے ہیں توصرف انسان کے اس سوال کو کہ ہماری نیند سے ہمیں کس نے جگایا ، دلیل بنا کر قبر میں عذاب نہیں کہہ کر انکار کرنا جاہلیت ہے۔ 

عام طور سے انسان کوجب سخت جھٹکا لگتا ہے تو وہ پچھلی حالات کو بھول جاتا ہے۔ وہ پھر سے زندہ کئے جانے کے بعد انسان جو دیکھتا ہے وہ بھیانک ‏واقعے اس سے پہلے جو اس نے جھیلا تھا ان تمام عذابوں کو بالکل بھلا دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان یہ سوال اٹھاتا ہے کہ ہماری نیند سے ہمیں جگانے ‏والا کون؟ 

اس کوان آیتوں 22:1,2میں وضاحت سے بتا یاگیا ہے۔

یہ آیت بھیانک حالات کا سامنا کر نے والے کی فرمودات جیسی ہے۔ اللہ کہتا ہے کہ خوفناک حالات سے دوچار ہونے والااسی طرح آہ و زاری کر ‏ے گا۔ 

مزید یہ کہ آخرت میں اللہ کا انکار کرنے والے حقیقت کے خلاف اور بھی کئی ارشادات کہیں گے۔ ان کی فرمودات کو اللہ دکھانے سے اسی کوحقیقی ‏حال مان نہیں سکتے۔ 

آخرت میں جگائے جانے والے منکر صرف نیند سے جگنے کے بارے میں ہی نہیں کہیں گے۔ بلکہ وہ کہیں گے کہ دنیا میں یا قبر میں ایک گھنٹہ بھی ‏ٹہرے نہیں رہے۔ (30:55) یہ آیت کہتی ہے کہ اللہ پر قسم کھا کر کہیں گے۔ 

اس کو دلیل بنا کرکیا وہ کہیں گے کہ آدمی مرجا نے کے ایک گھنٹہ میں قیامت آجا ئے گی؟ یا صدمہ کی آہ و زاری کہیں گے؟ 

قرآن میں یہ نہیں کہا گیا ہے کہ آخرت میں دئے جانے والے سزا کے علاوہ دوسری سزائیں بھی ہیں، ان لوگوں کا یہ دعویٰ بھی جاہلیت کی اظہار ہی ‏ہے۔ 

‏’’قبر کی عذاب ‘‘کا یہ لفظ قرآن میں کہا نہیں گیا۔ اس طرح کے عذاب کے بارے میں دوسری لفظوں میں کہا گیا ہے۔ اس کو نہ جاننے کی وجہ ہی ‏سے اس طرح حجت کر رہے ہیں۔ 

یہ آیتیں 40:45,46 کہتی ہیں کہ قیامت کا دن آنے سے پہلے فرعون کی جماعت دوزخ کی آگ کے سامنے صبح اور شام یعنی ہر روز دکھائے جائیں ‏گے۔ اور قیامت کے دن تو اس سے زیادہ عذاب ہوگا۔ 

یہ آیتیں واضح انداز سے کہہ رہی ہیں کہ قیامت کے دن سخت عذاب میں مبتلا کر نے سے پہلے صبح اور شام وہ لوگ ہر روز عذاب میں مبتلا کئے جاتے ‏ہیں۔

اسی کی تشریح میں نبی کریم ؐ نے قبر کی عذاب کے بارے میں فرمایاتھا۔ وہ حدیثیں تمام ان آیتوں کی تفصیل ہیں، اختلاف نہیں۔ 

یہ صرف فرعون کی جماعت کی حالت ہی نہیں بلکہ تمام انسانوں کا حالت ہوگا۔

یہ آیتیں 8:50-52 کہتی ہیں کہ ظالموں کی جانوں کو جب فرشتے قبض کر تے ہیں تو انہیں وہ ماریں گے۔ اور کہیں گے کہ جھلسا دینے والا عذاب ‏چکھو۔اس طرح کہنے کے بعد اللہ فرمائے گا کہ فرعون کی جماعت کو جیسے کیا جاتا ہے ایسے ہی انہیں بھی کیا جائے گا۔اس سے ہم جان سکتے ہیں کہ ‏صرف فرعون کی جماعت ہی کو نہیں بلکہ سب لوگوں کو قبر کا عذاب ہے۔ 

یہ سوال کہ بعض لوگوں کو زیادہ دن اور بعض لوگوں کو کم عذاب دیا جانا کیا انصاف ہے، غلط ہے۔یہ جاننے کے بعد کہ اللہ کا انتظام یہی ہے، اس ‏طرح کا سوال نہیں اٹھنا چاہئے۔ 

اگر ایسا سوال اٹھاؤگے تو اس کے لئے بھی قرآن مجید میں ٹھیک جواب موجود ہے۔ فرض کرو کہ سو سال پہلے ایک شخص کوئی گناہ کر تا ہے ، اسی طرح ‏آج بھی کوئی گناہ کر تا ہے۔

گناہ کے لحاظ سے دونوں ایک ہی جیسے رہنے کے باوجوداس گناہ میں دونوں کے درمیان فرق موجود ہے۔ 

سو سال پہلے گناہ کر نے والا اس کے بعد آنے والے کو اسی طرح گناہ کر نے کی ہمت دلا کر جاتا ہے۔ دوسرا جو ہے اس گناہ کوکرنے میں ایک نمونہ بن ‏جاتا ہے۔ 

سو سال کے بعد جو گناہ کر تا ہے اس کے لئے یہ راہنما بن جاتاہے۔ 

اسی لئے وہ جو گناہ کر تا ہے اس کے لئے بھی سزا بھگتنا ہے اور جو اتنے لوگوں کو گمراہ کیا اس کے لئے بھی اس کو سزا بھگتنا ہے، اس کو قبر کی عذاب ہی ‏سے انصاف دلا سکتے ہیں۔

آدم کا بیٹا جو قتل کیا تھا وہی دنیا کے سارے قتل کو پیش رو تھا۔قاتلوں کا راہنما وہی ہے۔ اس لئے دوسروں سے زیادہ عذاب کا مستحق وہی ہے، یہی ‏ٹھیک انصاف ہوگا۔ 

اگر یہ سوچیں کہ کتنے آدمیوں کو گمراہ کیا تھا تو ایک شخص زیادہ دن اور دوسرا شخص کم دن قبرمیں عذاب ڈھونے کوکوئی عقلمند نہیں کہہ سکتا کہ یہ ‏ناانصاف ہے۔ 

اس کے بارے میں اور زیادہ جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 166، 349وغیرہ دیکھیں!  

‏331۔ لوگوں کی وجہ سے گھٹنے والی زمین

‏ان آیتوں 50:4 اور 71:17 میں کہا گیا ہے کہ دنیامیں بسنے والے لوگوں کی وجہ سے زمین گھٹ رہی ہے۔ اس میں ایک بڑی سائنسی حقیقت ‏مضمر ہے۔ 

زمین میں کتنے ہی جاندار پیدا ہوں ان کے لائق کا وزن باہر سے نہیں ملتا۔ زمین کا وزن گھٹنے ہی سے وہ انسان، جاندار اور نباتات پیدا ہوتے ہیں۔ 

اسی طرح ایجادہونے والی ہر چیز اپنے وزن کوزمین ہی سے حاصل کر تی ہیں۔ 

کتنے ہی کروڑ لوگ بڑھتے جائیں اس سے زمین کا وزن بڑھے گا نہیں۔ ان لوگوں کے ساتھ ملا کر اگر زمین کو تولا جائے تو ابتدا میں جو وزن رہا اسی ‏وزن کا وہ رہے گا۔ 

آدمی زمین ہی سے اپنا وز ن حاصل کر کے بڑھتا ہے۔ اس سائنسی حقیقت کو چودہ سو سال کے پہلے ہی کہہ دیا گیا ہے، اس لحاظ سے اس میں کوئی شک ‏نہیں کہ یہ کلام اللہ ہی ہے۔ 

اور زیادہ تفصیلات کے حاشیہ نمبر 167دیکھئے!  

‏330۔ شہیدوں کو فوراًجنت

‏اس 36:26آیت میں کہا گیا ہے کہ ایک نیک انسان اللہ کے رسولوں کے لئے سفارش کرنے کے بارے میں کہتے ہوئے اللہ نے اچانک کہا کہ ‏جنت میں جاؤ۔ 

اس کے اندر وہ خبر موجود ہے کہ اس قوم کے لوگوں نے اس آدمی کو مار ڈالا۔ یہ آیت کہتی ہے کہ وہ مرنے کے ساتھ جنت میں چلا گیا۔

ہمیں اعتبار ہے کہ قبر نامی ایک زندگی ہے اور وہاں تحقیقات کی جائے گی۔

نبی کریم ؐ نے فرمایا :اس میں ان جیسے شہید مستثنیٰ ہیں۔وہ لوگ براہ راست ہی جنت چلے جائیں گے۔ لیکن سبز رنگ کے پرندوں کی شکل میں جنت ‏میں وہ اڑتے پھریں گے۔

‏(دیکھئے، مسلم: 3834)

س کے متعلق اور زیادہ تفصیل جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 41، 332، 349 وغیرہ دیکھئے!  

More Articles …