Sidebar

15
Sat, Aug

500۔ منہ کا چھپاناصرف نبی کی بیویوں کے لئے ہے

بہت سے مسلمان غلطی سے سمجھنے والی آیتوں میں 33:53 کی آیت بھی ایک ہے۔ اس آیت کو سند بنا کر چند لوگ دعویٰ کر تے ہیں کہ عورتیں منہ کو چھپانا ضروری ہے۔

اس کے بارے میں تفصیل سے جاننا ضروری ہے۔

ہم نے حاشیہ نمبر 472میں تشریح کی ہے کہ عورتیں منہ کو چھپانا نہیں ہے۔ اس کے لئے دلائل بھی پیش کیا گیا تھا۔

نبی کریم ؐ کے زمانے میں عورتیں منہ کو چھپائے نہیں تھے، اس کے لئے ہم کئی دلائل پیش کر نے کے باوجود اس کے خلاف رائے رکھنے والوں کا ایک ہی جواب یہ تھا:

ان لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ حجاب کے متعلق کہنے والی آیت میں کہا گیا تھا کہ عورتیں پوری طرح غیر مردوں سے اپنے کو چھپالینا چاہئے، اس طرح کہنے کی وجہ سے عورتیں منہ کو چھپائے بغیر تھے۔ یہ واقعہ تمام اس آیت کے نازل ہو نے سے پہلے پیش آیاتھا، اس طرح اس کو سمجھیں!

حجاب کی آیت کہلائے جانے والی اس 33:53آیت میں کیا کہا گیاہے؟

اے ایمان والو! نبی کی گھروں میں اجازت کے بغیر کھانے کے لئے داخل نہ ہو۔ ان کے برتن کو دیکھتے نہ رہو۔بلکہ تمہیں بلا یا جائے تو جاؤ۔ کھانا کھا چکو تو نکل جاؤ۔ باتوں میں مشغول نہ ہوجاؤ۔ وہ نبی کے لئے تکلیف دہ ہوگی۔تم سے (کہنے کے لئے) وہ شرمندہ ہوں گے۔ سچ بات کہنے کے معاملے میں اللہ شرماتا نہیں۔ان (نبی کی بیویوں) سے کوئی چیز مانگنی ہوتو پردے کے پیچھے ہی سے مانگو۔ یہی تمہارے لئے اور ا ن کے لئے پاکیزہ ہے۔ اللہ کے رسول کو تم تکلیف نہ دینی چاہئے۔ ان کے بعد تم ہر گز ا ن کی بیویوں سے نکاح نہیں کر نا چاہئے۔یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑی بات ہے322۔

قرآن مجید: 33:53

یہ آیت کہتی ہے کہ پردے کے آڈ ہی سے مانگو ، اس لئے یہ لوگ دعویٰ کر تے ہیں کہ عورتیں منہ چھپا نا ضروری ہے۔

یہ آیت عام طور سے تمام مسلم عورتوں کے لئے ذاتی قانون نہیں ہے۔ صرف نبی کریم ؐ کی بیویوں کے لئے مخصوص قانون ہے، اس بات کو یہ آیت ہی واضح کر تی ہے۔

اس آیت میں استعمال شدہ

نبی کے گھروں میں کا جملہ ،

اور ان(ازواج رسول) کے پاس کچھ مانگنا ہو تو پردے کے اوٹ ہی سے مانگو کا جملہ،

اللہ کے رسول کو تم تکلیف نہ پہنچاؤ کا جملہ،

ان کے بعد کبھی بھی ان کی بیویوں سے کوئی نکاح نہ کرے کا جملہ،

واضح طور سے کہتی ہے کہ یہ ازواج رسول کے لئے مزید پابندی ہے۔

اس آیت میں کہا گیا ہے کہ نبی کی وفات کے بعد ان کی بیویوں سے کوئی بھی نکاح نہ کرے۔ وہ مزید پابندی صرف نبی کی بیویوں کے لئے خاص ہے، اس کو ٹھیک سے سمجھ جاتے ہیں۔ لیکن اسی آیت میں ایک اور پابندی جو کہا گیا ہے وہ سب کے لئے ہے کہہ کر اس آیت کے مطلب کو پھیر دیتے ہیں۔

اخلاق اور پابندی کے معاملے میں ازواج رسول کو مزید پابندی ہے، اس کو اسی سورت کی 30 سے 33 آیتوں کے ذریعے معلوم کر سکتے ہیں۔

30۔ اے نبی کی بیویو! تم میں سے کوئی کھلی بے حیائی کا کام کروگی تو ان کو دوہرا عذاب دے جائے گا۔ وہ اللہ کے آسان ہی ہے۔

31۔ (اے ازواج رسول!) تم میں سے جو اللہ اور اس کے رسول کی تابع ہو کر نیک عمل کر نے والوں کو اس کادوہرااجردیں گے۔ اور اس کو باعزت روزی بھی تیا کر رکھی ہے۔

32۔اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو۔ اگر تم اللہ سے ڈرتے ہو تو ملائم انداز سے بات مت کرو۔ جس کے دل میں بیماری ہو تو وہ لالچ میں پڑجائے گا۔اچھی باتیں ہی کرو۔

33۔ تم اپنے ہی گھر میں ٹہرے رہو۔ سابقہ جاہلیت کے زمانے میں ظاہرکر تے پھر نے کی طرح نہ پھرو۔ نماز قائم کرواور زکوٰۃ ادا کرو۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ اللہ چاہتا ہے کہ تم اہل بیت کو آلودگی سے دور کردے اور تمہیں پوری طرح سے پاک و صاف کر دے۔

یہ آیتیں تمام اس بات کو واضح طور پر کہتی ہیں کہ نبی کے بیویوں کو مزید پابندی ہیں۔

تیسویں آیت میں اللہ کہتا ہے کہ اے نبی کی بیویو! تم میں سے کوئی کھلی بے حیائی کا کام کروگی تواس کو دوہرا عذاب دیا جائے گا۔اس سے معلوم ہو تا ہے کہ عام عورتوں سے زیادہ نبی کی بیویاں جو اخلاقی جرم کر تے ہیں، اس کے لئے دوہرا عذاب دیا جائے گا۔

اکتیسویں آیت میں کہا گیا ہے کہ ازواج رسول کو دوہرا انعام دیا جائے گا۔

بتیسویں آیت میں کہا گیا ہے کہ تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو۔ اگر تم اللہ سے ڈرتے ہو تو ملائم انداز سے بات مت کرو۔ جس کے دل میں بیماری ہو تو وہ لالچ میں پڑجائے گا۔اچھی باتیں ہی کرو۔

اس آیت میں اللہ نے واضح طور پر کہتا ہے کہ اخلاق و آداب کے بارے میں ازواج رسول عام عورتوں کی طرح نہیں ہیں۔

تیتیسویں آیت میں اللہ فرماتا ہے کہ تمہارے گھروں ہی میں ٹہرے رہو۔سابقہ جہالت کے زمانے میں زینت کو ظاہر کر تے ہوئے پھر نے کی طرح نہ پھرو۔

اللہ فرماتا ہے کہ دوسری عورتیں اپنی ضروریات کے لئے باہر جا سکتی ہیں۔ لیکن ازواج رسول گھر سے باہر نہ جائیں۔

ان آیتوں کو غور کر نے سے اچھی طرح واضح ہو تا ہے کہ منہ کو چھپانا صرف ازواج رسول ہی کے لئے مخصوص قانون ہے۔

اور حدیثوں میں بھی کہا گیا ہے کہ یہ قانون ازواج رسول ہی کے لئے مخصوص ہے۔

عمرؓ فرماتے ہیں:

میں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! آپ کے پاس اچھے لوگ بھی آتے ہیں اور برے لوگ بھی آتے ہیں۔ اس لئے مومنوں کی ماؤں کو حجاب (پردے ) میں رہنے کے لئے حکم دیں تو اچھا ہوگا۔جب ہی اللہ نے حجاب کے متعلق آیت اتاری۔

بخاری: 4790، 4483

عمرؓ یہ نہیں کہا کہ تمام عورتیں اپنے آپ کو چھپا لینے کے لئے حکم دیں۔بلکہ یہی کہا کہ مومنوں کی ماؤں کو یعنی ازواج رسول کو ایسی پابندی لگائیں۔ اسی کے لئے یہ آیت نازل ہوئی۔

یہ آیت نبی کے گھرانے کے سلسلے ہی میں نازل ہوئی ہے، اس کے لئے مندرجہ ذیل حدیث دلیل ہے:

نبی کریم ؐ کی شادی جب زینبؓ کے ساتھ ہوئی تو نکاح کی دعوت رکھی گئی۔ سب لوگ دعوت سے فارغ ہو کر جانے کے بعد بھی ایک گروہ نبی کے گھر ہی میں بیٹھ کر گفتگو کر نے میں مشغول تھی۔ وہ بات نبی کریم ؐ کو بہت گراں گزرا۔

(سب لوگ جانے کے بعد بھی)ان میں سے صرف ایک گروہ(باہر جا نے کے بجائے) اللہ کے رسول کے گھر میں بیٹھے ہوئے بات کر رہے تھے۔ اللہ کے رسول بھی وہیں موجود تھے۔ اس وقت اللہ کے رسول کی بیوی (زینبؓ ) اپنے چہرے کو دیوار کی طرف کئے ہوئے بیٹھے تھے۔ وہاں اٹھ کر جانے کے بجائے جو بیٹھے ہوئے تھے، اللہ کے رسول ؐ کو بہت گراں گزررہا تھا۔

اس لئے اللہ کے رسول ؐنے باہر نکل کر اپنی دوسری بیویوں کے پاس گئے،سلام کیا اور خیریت دریافت کر کے واپس آئے۔ نبی جب واپس آئے تو انہیں دیکھ کر وہاں بیٹھے ہوئے لوگ سوچنے لگے کہ کہیں ہم رسول اللہ ؐ کے لئے بوجھ تو نہیں نبے۔ اس لئے وہ فوراً گھر سے باہر نکل گئے۔

اللہ کے رسول ؐ نے پردے لٹکا ئے اور گھر کے اندر چلے گئے۔ میں اس کمرے میں بیٹھی تھی۔ تھوڑی ہی دیر انہوں نے وہاں رہے۔ اس کے بعدباہر نکل کر وہ میر ے پاس آپہنچے۔ اس وقت ان پر یہ آیت (33:53) اتری۔ اللہ کے رسول ؐ نے لوگوں کو ان آیتوں کو پڑھ کر سنایا: اے ایمان والو! نبی کے گھر وں میں داخل نہ ہوں۔ دعوت کے لئے تمہیں بلایا بھی گیا ہو تو اس وقت بھی کھانا تیار ہونے کو دیکھتے مت رہ جاؤ۔ جب تم کو بلایا جائے تو داخل ہوجاؤ۔ کھانا ختم ہونے کے ساتھ باہر نکل جاؤ۔ گفتگو میں مائل مت ہو جاؤ۔ بے شک تمہارا یہ عمل نبی کو ناگوار گزرتا ہے۔ یہی وہ آیت ہے۔

انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ یہ آیت اترنے کے ماحول کے بارے میں اور نبی کریم ؐ کی بیوی حجاب ڈال کر چھپائے جانے کے بارے میں لوگوں میں میں ہی اچھی طرح جاننے والا ہوں۔

مسلم: 2803

یہی واقعہ دوسرے الفاظوں میں بخاری کی 5466 حدیث میں کہا گیا ہے۔

یہ آیت نازل ہونے کا موقع اور اس آیت میں استعمال ہو نے والا جملہ واضح طور پر کہتا ہے کہ منہ کو چھپانے کا قانون صرف ازواج رسول ہی کو لاحق ہے۔

دیگر عورتوں کا قانون حاشیہ نمبر 472 میں وضاحت کیا گیا ہے۔

499۔ کیا یہ 113، 114سورتیں جادو کے متعلق اتری ہیں؟

بعض لوگ دعویٰ کر تے ہیں کہ قرآن مجید میں 113 اور114سورتیں نبی کریمؐ کو جادو کرتے وقت اتری ہیں۔ ہر ایک آیت پڑھنے کے ساتھ ایک گرہ کھل کر نبی کریم ؐ نے شفا پاتے گئے ۔ اس طرح کہہ کر انہوں نے یہ بات ثابت کر نے کی کوشش کی کہ جادو سے نبی کریم ؐ کو ضرر پہنچانے کی خبر بالکل صحیح ہے۔

نبی کریم ؐ پر جادو کیا جانا اور اس کے ذریعے انہیں متاثر کرنا سب جھوٹی کہانی ہے۔ اس کو ہم نے حاشیہ نمبر 357 میں تفصیل سے کہا ہے۔

نبی کریم ؐ پر جادوکئے جانے کی خبر ہی جب باطل ہو تو اسی کے لئے یہ دونوں سورتیں اتری ہیں کی خبر بھی جھوٹی کہانی ثابت ہوجاتی ہے۔

راوی معتمد رہنے کے باوجود نبی کریم ؐ پر جادو کئے جانے کی خبر اسلام کی بنیاد ہی کومسمار کر دینے والی ہے، اس لئے ہم کہتے ہیں کہ وہ جھوٹی کہانی ہے۔

اس بات کے لئے کوئی مناسب دلیل نہیں ہے کہ113 اور 114کی سورتیں نبی کریم ؐ پر کئے جانے والے جادو کو مٹانے کے لئے اتاری گئی ہے۔ قابل قبول راوی کی تسلسل بھی نہیں ہے۔

اس کے بارے میں ابن کثیر کی تبصرے کو ذرا دیکھئے!

قرآن کے مسفر ثعلبی اپنی تفسیر میں کہتے ہیں کہ نبی کریم ؐ پر جادو کر نے کے بعد نبی کریم ؐ نے علی، زبیر، عمار بن یاسر وغیرہ کو اس کنویں کے پاس بھیجا۔ وہ لوگ کنویں سے پانی کو سینچا۔ وہ پانی مہندی کی رس کی طرح تھا۔ پھر اس سے چٹان کو ہٹایا گیا۔ اس کے نیچے کھجور کے شاخ کے غلاف کو باہر نکالا گیا۔ اس میں نبی کے سر کے بال اور ان کے کنگھی کی دانتیں تھیں۔ سوئی میں پروئے ہوے تاگے میں بارہ گانٹھ ڈالا ہوا تھا۔ اسی وقت113اور 114دو سورتوں کو اتارا گیا۔ایک ایک آیت پڑھتے گئے تو ایک ایک گرہ کھلتا گیا۔ اس طرح ثعلبی کا کہنا ہے۔ اس میں صرف اتنا ہی ہے کہ عائشہؓ اور ابن عباس نے کہا۔ ان دونوں نے کس سے کہااور ان راوی تک پہنچنے والا تسلسل کچھ بھی نہیں ہے۔ اس میں چند باتیں مستحکم خبر کے ساتھ اختلاف رکھتی ہیں۔ابن کثیر کہتے ہیں کہ ایسا بھی ہے جو کسی نے نہیں کہا۔

راویوں کے تسلسل کے بغیر کہی جانے والی کوئی بھی حدیث جھوٹی کہانی کے مترادف ہے، اس لئے اس کو دلیل نہیں بنا سکتے۔

اسی طرح ابن حجر بھی اس کا تبصرہ کیا ہے۔

بیہقی نے کمزور راوی کی تسلسل سے اپنی کتاب دلائل النبوت میں کہتے ہیں کہ جادو کر نے کے لئے گیارہ گانٹھ ڈالے گئے، اسی کے بارے میں فلق اور ناس وغیرہ سورے نازل کئے گئے، ہر سورہ اترتے وقت ایک ایک گانٹھ کھلتے گئی۔ اسی طرح ابن سعد نے ابن عباس کے ذریعے راویوں کی تسلسل کے بغیرخبروں کو روایت کی ہے۔ اس طرح ابن حجر نے تبصرہ کیا ہے۔

نبی کریم ؐ پر جب جادو کیا گیا تو اس وقت ہی یہ دو سورتیں نازل کی گئیں ، اس کے لئے کوئی معتمد روایت نہیں ہے۔ جادو سے متاثر کر سکتے ہیں، اس اعتماد والے بھی مانتے ہیں کہ یہ کمزور ہے۔ اس لئے یہ ایک ایسی جھوٹی کہانی ہے کہ جسے دلیل نہیں بنا سکتے۔

ان دو سورتوں کو غلط تشریح دے کربعض لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ جادو ہی کی بات کرتی ہے۔

خاص کر فلق کی سورت میں کہا گیا ہے کہ گرہ میں پھونک مارنے والوں کے شر سے پناہ مانگتا ہوں ۔ وہ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ گرہوں میں پھونک مار کر جادو کر نے والی عورتوں ہی کے بارے میںیہ کہتا ہے، اس لئے اس سے معلوم ہو تا ہے کہ جادو کا اثر ہے۔

یہ ان لوگوں کا قیاس ہی ہے کہ گرہوں میں پھونک مارنے کی شر سے، یہ بات جادوگرنی کے متعلق ہے ۔ اس کے سوا اللہ نے یا رسول اللہ نے اس کی کوئی تشریح نہیں کی۔اس کے لئے کوئی دلیل بھی موجود نہیں ہے کہ گرہوں میں پھونک مارنے والی عورت تو جادوگرنیوں ہی کو کہا جاتا ہے۔اس کے لئے جب دلیل مانگا گیا تو وہ لوگ جواب نہیں دے سکے۔

ان کا کہنا غلط ہے، اس کو معمولی انسان بھی کہہ سکتا ہے۔

جادو سے متاثر کر سکتے ہیں کے عقیدے والوں کا بھروسہ یہی ہے کہ صرف عورتیں ہی نہیں، بلکہ مردیں بھی جادو کر سکتے ہیں۔ ان لوگوں کا بھروسہ ہے کہ نبی کریم ؐ کو لبید نامی یہودی مرد نے ہی جادو کیا تھا۔ ایسی صورت میں جادو کر نے والی عورتوں سے پناہ مانگنے کے لئے کہنا کیسے مناسب ہوگا؟

اس سورت میں گرہوں میں پھونکنے والی عورتوں کے شر سے پناہ مانگا گیا ہے۔ جادو کر نے والے مردوں سے حفاظت نہیں ہوگا؟

متاثر کر نے کی طاقت اگر جادو کو ہے تو اس سے پناہ مانگنے کے لئے ہی ان سورتوں کے ذریعے اللہ راستہ دکھاتا ہے توصرف گرہوں میں پھونکنے والی عورتوں کی شر سے پناہ مانگنے کو کہہ کر جادو کرنے والے مردوں سے حفاظت نہ کر نے کی حالت کو کیا اللہ پیدا کر سکتا ہے؟

اس طرح اگر سوچا جائے توایسا معلوم ہو تا ہے کہ ان کی دی ہوئی وضاحت بیکار اور اللہ کا قول بے معنی ہو جا ئے گا۔

جادو سے متاثر کر سکتے ہیں، اس طرح بھروسہ کرنے والوں کا یہ عقیدہ نہیں ہے کہ گرہوں میں پھونکنے کا ایک ہی راستے کے سوا کوئی جادونہیں ہے ۔

ہزاروں طریقوں سے جادو کر سکتے ہیں، یہی ان کا عقیدہ ہے۔ یہ سورت اگر جادو سے ہمیں حفاظت پانے کے لئے نازل کیاگیا ہو تو اس میں گرہوں میں پھونکنے کی ایک ہی قسم کا جادو موجود ہے۔ اس کے سوا اگر کوئی جادو کیا تو اس سے کسی قسم کی حفاظت نہیں ہوگی۔

اس سے کیا حقیقت ظاہر ہو تا ہے؟ یہ جادو گروں سے پناہ مانگنے کے لئے نازل نہیں کیا گیا ۔اس سے معلوم ہو تا ہے کہ اللہ اس طرح نامکمل طریقے سے نہیں سکھائے گا ۔

دنیا میں اکثر مرد ہی جادو کیاکرتے ہیں۔ جادوگرنیاں شاذو نادر ہی ہیں۔ مزاحیہ کہانیوں اور ڈراؤنی کہانیوں ہی میں جادوگرنی ایک بوڑھی کو دکھایا جاتا ہے۔ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہے۔ مرد ہی زیادہ تر جادو گر رہنے کی وجہ سے جادو کر نے والی عورتوں سے پناہ مانگو کہنا نامناسب دکھائی دیتا ہے۔

گرہوں میں پھونکنے کی شر کا مطلب کیا ہے؟ گرہ کوبراہ راست معنی بھی گرہ ہی ہے، اس کے باوجود یہاں وہ معنی درست نہیں ہے۔ اگر سوچے کہ گرہ ڈالنے سے ہمیں کیا ضرر پہنچ سکتا ہے تو گرہ کا براہ راست معنی یہاں ہم لے نہیں سکتے۔

گرہ کو اس کے براہ راست معنی سے ہٹ کر دوسرے معنی میں بھی استعمال کیا گیا ہے۔

مثال کے طور پر موسیٰ نبی کو ہکلاپن تھا۔ اس کے متعلق وہ اللہ کے پاس عرض کر تے ہوئے(20:27) کہا کہ یا اللہ! میرے سینے کو کشادہ کر دے۔ میرے کام کو آسان کردے۔ میری زبان کی گرہ کھول دے!

اس آیت سے ہم یہ نہیں سمجھیں گے کہ زبان میں گرہ ڈالاگیا ہے۔ موسیٰ نبی کوہکلاپن تھا۔ہم یہی سمجھیں گے کہ اسی کو انہوں نے گرہ کہا ہے۔ کوئی بھی اس کو گرہ نہیں سمجھے گا۔

اسی طرح شادی کے متعلق اللہ کہتا ہے کہ شادی کر نے کے بعد دونو ں اگر ملے بغیر جدا ہو گئے تو آدھا مہرادا کر دینا چاہئے۔ سوائے اس کے کہ نکاح کا گرہ جس کے ہاتھ میں ہے وہ معاف کردے۔(2:237)

مرد اور عورت نکاح کے ذریعے ملنے کو اللہ نے یہاں گرہ کہا ہے۔

اس لئے ہمیں ڈھونڈ کر دیکھنا چاہئے کہ اس سورۃ میں جو گرہ کہا گیا ہے اسکے موافقت میں کیا کوئی حدیث میں کہا گیا ہے؟

اس طرح تلاش کیا گیاتومعلوم ہوا کہ نبی کریم ؐ نے جو ایک خبر دی تھی وہ اس کی مناسبت میں موجود ہے۔

نبی کریمؐ نے فرمایا:

شیطان آدمی کے سراہنے بیٹھ کر اس کے سوتے وقت اس پرتین گرہیں ڈالتا ہے۔ جگنے کا وقت آتے ہی وہ کہے گا کہ اور بھی بہت وقت ہے، سو جاؤ۔ اگر وہ جگ گیا تو ایک گرہ کھل جاتا ہے۔ پھر جب وہ وضو کر تا ہے تو دوسراگرہ بھی کھل جاتاہے۔ نماز کے لئے تکبیر باندھنے کے بعد تیسرا گرہ بھی کھل جا تا ہے۔ اس کے بعد وہ اچھی صبح کو پاتا ہے۔ اگر نہیں تو سستی میں رہے گا۔

بخاری: 1142، 3269

اس سے معلوم ہو تا ہے کہ شیطان کا ڈالا ہوا گرہ کا مطلب ہے اچھے اعمال کر نے سے روکنااور برے اعمال کا ترغیب دینا۔

اس طرح شیطان گرہ ڈال کر ہمیں گمراہ نہ کرنے کے لئے پناہ مانگنا ہی گرہوں میں پھونکنا ہے۔

بغیر کسی دلیل کے قیاس کے طور پر نامناسب تشریح کر نے سے بہتر حدیث کی مدد سے گرہ کا معنی سمجھ لینا ہی ٹھیک ہے۔

114 کی سورت میں کہا گیا ہے کہ دلوں میں وسوسہ ڈالنے والیکی شر سے پناہ مانگتے ہیں ۔ یہ بھی 113 کی سورت جیسی ہی ہے۔

جادو کے متعلق اور زیادہ معلومات کے لئے حاشیہ نمبر 28، 285، 357، 468، 495وغیرہ دیکھیں!

498۔ پہلے کا نیک عمل نیکیاں بن جائیں گی

اللہ اور آخرت کا دن اورایمان رکھنے والی تمام چیزوں کو طریقے کے ساتھ بھروسہ کروگے ہی توآخرت میں انہیں جنت عطا کی جائے گی، یہی اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے۔

اسلام کو قبول نہ کیا ہوا شخص صدقہ اور خیرات کرے ، دیگر کئی نیک عمل کرے، اس کے لئے تعریف وتوصیف وہ اسی دنیا میں حاصل کر لے گا۔ وہ اس نیک عمل کو اللہ کے لئے نہیں کیا، اللہ پر ان کو بھروسہ بھی نہیں ہے، اس لئے اللہ اس کو آخرت میں کوئی اجرت نہیں دے گا۔ اور وہ بھی اللہ کے پاس اس کے لئے جزا نہیں مانگ سکتا۔

اسی طرح مسلم خاندان میں پیدا ہو کراللہ کے ساتھ شرک ٹہراتے ہوئے اگر کوئی شخص زندگی بسر کر تا ہے تو اس کی نمازیں، اس کے روزے اور کوئی بھی نیک عمل کے لئے اللہ کے پاس اجرت نہیں ملے گی، سب کچھ برباد ہوجا ئے گا۔ اس کو ان آیتوں6:88، 29:65کے ذریعے جان سکتے ہیں۔

اسلام کو قبول کیا ہوا ایک شخص اس سے پہلے اگر نیک عمل کیا ہو تووہ اسلام کو قبول کر لینے کی وجہ سے وہ جو نیک کام کئے تھے، اس کواسلام لانے کے بعد کیا ہوا عمل ہی سمجھا جائے گا۔

اسی طرح مسلمان پیدا ہو کر اسلام کو جانے بغیر کوئی اللہ کے ساتھ شریک ٹہرانے کے بعد توحیدکے عقیدے کو قبول کر لیا اور اسلام کی تعلیم کے مطابق نماز اور روزہ وغیرہ عبادتوں کواسلام کے طریقے کے مطابق نہ کرتے ہوئے ، بری طریقے سے کرنے کے بعد نیک راستے پر واپس آگیا تو اس کے نیک عمل اکارت نہیں جائے گی۔ اس کی غلطی سے کی ہوئی عبادت کوٹھیک طریقے سے کی ہوئی عبادت سا اللہ قبول فرما لے گا۔اس کو ان آیتوں 29:7، 2:143، 25:70سے جان سکتے ہیں۔

497۔ کیا غیر مسلموں کے لئے دعا کر سکتے ہیں؟

غیر مسلموں کی بھلائی کے لئے کیا دعا کرسکتے ہیں؟ اس اہم سوال کے لئے یہ آیتیں2:124، 2:126 جواب دیتی ہیں۔

آیت نمبر 2:124کہتی ہے کہ ابراھیم نبی کو بنی نوع کے لئے اللہ نے راہ نما بنایا، اور ابراھیم نبی نے عرض کیا کہ صرف مجھے ہی نہیں بلکہ میری جانشینوں میں سے بھی اس طرح بنادے۔ اور اللہ نے کہا کہ تیرے جانشینوں میں سے جو نیک ہوگا اسی کے معاملے میں تمہاری درخواست کو قبول کروں گا۔

ابراھیم نبی کی جانشینوں میں نیک لوگ بھی رہیں گے اوربرے لوگ بھی رہیں گے۔اللہ نے اس آیت میں اشارہ کر تا ہے کہ ابراھیم نبی کی دعا میں برے لوگ بھی شامل تھے، اس لئے وہ غلط ہے۔

ایسا معلوم ہو تا ہے، یہ آیت کہتی ہے کہ مسلمانوں ہی کے لئے اللہ سے دعا کر نی چاہئے۔یہ آیت 2:126سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ ابراھیم نبی نے بھی اس کو ویسا ہی سمجھا۔

اس آیت2:126 میں ابراھیم نبی نے جب دعا کی کہ اپنی جانشین مکے والوں کے لئے پھلوں کی روزی عطا فرما، تواس وقت انہوں نے یہی دعا کی تھی کہ میری جانشینوں میں سے نیک مسلمانوں کو یہ تمام عطا فرما ۔ ایسا نہیں کہا کہ میری جانشینوں کو عطا فرما۔

یعنی اس آیت میں اللہ نے عام طور سے کہا کہ تمام کے لئے دعا نہ کرو،اس کو سمجھتے ہوئے دوسری ہی دعا میں انہوں نے کہا کہ صرف نیک لوگوں کے لئے۔

اس دوسری دعا کو ابراھیم نبی صرف نیک لوگوں کے لئے کی تھی تو اللہ کہتا ہے کہ میں صرف نیک لوگوں کو ہی نہیں بلکہ برے لوگوں کے لئے بھی دولت بخشوں گا۔ یہاں اللہ کا اشارہ ہے کہ صرف نیک لوگوں کے لئے دعاکرنا غلط ہے۔

ایسا نہ سمجھنا کہ یہ دونوں آیتیں ایک سے ایک ٹکراتی ہیں۔ دونوں دعائیں دو مختلف قسم کے ہیں۔

ابراھیم نبی نے جو پہلی دعا کی تھی وہ آخرت میں انسان کو خوشحالی پیدا کر نے والی بنی نوع کو راہنمائی کے بارے میں تھی۔ اس کو ایک انسان کی جانشین کی وجہ سے اللہ عطا نہیں کرے گا۔ جس نے اللہ پر بھروسہ کر تے ہوئے نیک عمل کی ۔ انہیں کو وہ عطا کر ے گا۔ اس لئے ابراھیم نبی نے سب کے لئے عام طور سے جو دعا کی تھی اسی کو اللہ نے غلط کہا تھا۔

ابراھیم نبی کی دوسری دعا اس دنیاکی روزی کو عطا کرنے کے بارے میں تھی۔اس دنیا میں اللہ جو خوشحالی عطا کر تا ہے وہ اچھے برے کے بنیاد پر عطا نہیں کیاجاتا۔ مسلمانوں کو بھی اللہ روزی عطا کر تا ہے، اللہ کا انکار کرنے والے غیر مسلموں کو بھی اللہ ہی روزی عطا کر تا ہے۔ابراھیم ؑ نے جو سمجھا تھا کہ اس طرح کی دعاؤں کو مسلمانوں ہی کے لئے کرنا ہے،وہ غلط ہے۔ اس کو احساس دلاتے ہوئے اللہ کہتا ہے کہ میں سب کے لئے عطا کرتا ہوں۔

جب کوئی غیر مسلم ہمارا دوست ہو یا رشتہ دار ہو تو ان کی غریبی دور ہو نے کے لئے اور بیماری سے نجات پانے کے لئے دعا کر سکتے ہیں۔ جب وہ دنیا میں ہوں تو ان کے سیدھے راستے کے لئے بھی دعا کر سکتے ہیں۔

لیکن ان کی آخرت کی زندگی میں انہیں جنت ملنے کے لئے دعا نہ کریں۔اللہ نے کہہ دیا کہ جس نے اسلام قبول نہیں کیا، اس کے لئے جنت نہیں ہے۔ اسی بات کو ان دو آیتیں کہتی ہیں۔

496۔ غار والوں کی گنتی بعض لوگ جانتے ہیں کا مطلب کیا ہے؟

اس آیت 18:22میں اللہ فرماتا ہے کہ غار والے کتنے تھے کے بارے میں اس زمانے کے لوگوں کے درمیان چند رائے پائی جاتی تھی۔

وہ لوگ اپنے ساتھ لے جا نیوالے کتے کو ملا کر چار کہتے تھے، کتے کے ساتھ ملاکر چھ کہتے تھے، کتے کے ساتھ ملا کرآٹھ کہتے تھے، اسطرح تین قسم کی رائے پائی جاتی تھی۔ ان کے تعداد کو اللہ ہی جانتا ہے کہہ کر اللہ واضح طور پر کہتا ہے کہ ان تینوں کی گنتی غلط ہے۔

ٹھیک گنتی صرف اللہ ہی جانتا ہے، اتنا کہہ کر اللہ نے رکا نہیں، اس کے ساتھ ہی اللہ کہتا ہے کہ ان کی گنتی کو بعض لوگوں کے سوادوسرا کوئی نہیں جانتا۔

ایسا کیوں کہا گیا ہے کہ آدمیوں میں چند لوگ جانتے ہیں ؟ اللہ نے کہہ دیا کہ آدمیوں نے جو جان رکھا تھا وہ تینوں گنتی غلط ہیں ۔ اس لئے ایسا ہی تو کہنا تھا کہ آدمیوں میں کوئی نہیں جانتا؟

اس طرح بھی شک پیدا ہو سکتا ہے۔

نبی کریم ؐ کے زمانے میں اور ان کے بعد بھی لوگوں کو ٹھیک گنتی معلوم نہیں، اس کے باوجودجو غار والے غار میں مرے پڑے تھے اس کو سامنے دیکھ کر ان پر ایک عبادت گاہ بنانے والوں کو تو ٹھیک گنتی معلوم ہوئی ہوگی۔

اگر کہا جا تا کہ صرف اللہ ہی کو معلوم ہے توکوئی بھی پوچھ سکتا ہے کہ وہ مرنے کے بعد لاشوں کو دیکھنے والوں کو تو ٹھیک گنتی معلوم ہوگا؟ اس کو رفع کر نے کے لئے ہی اللہ نے اس طرح کہا ہوگا۔

عام طور سے بعض لوگوں کو ٹھیک گنتی معلوم ہو گیا تو وہ گنتی ان بعض لوگوں کے ذریعے سے تمام لوگوں کو معلوم ہوجا تی ہے۔ یہ ایسے ہی جاری نہیں رہے گا کہ صرف کم لوگوں کومعلوم ہے۔

اس زمانے میں زندگی بسر کر کے جو انتقال کر گئے وہ جانتے تھے، اسی کو اللہ نے فرمایا ہے۔مرے ہوئے لو گ جو جانتے تھے اس ٹھیک گنتی کو دوسرا کوئی نہیں جان سکتا۔ اس لئے اس گنتی کو جاننے والے بہت کم ہی پائے جائیں گے۔ اس طرح مناسب لفظوں کو استعمال کر نابھی ایک دلیل ہے کہ یہ حکمت والے پروردگار ہی کا کلام ہے۔

495۔ جادو سے متاثر نہیں کر سکتے

جادو کے ذریعے بعض کاموں کو کر سکتے ہیں، ایسی رائے رکھنے والے اس آیت 2:102کو دکھا کر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ آیت کہتی ہے کہ جادو سے متاثر کر سکتے ہیں۔

اس آیت کی پوری تفصیل حاشیہ نمبر 28 میں تشریح کی گئی ہے۔ اسے پڑھ کر ذہن میں لیتے ہوئے اسے اگر پڑھیں تو اور بھی زیادہ وضاحت ملے گی۔

کیا یہ آیت کہتی ہے کہ جادو کے ذریعے شوہر اور بیوی کے درمیان جدائی پیدا کر سکتے ہیں ؟ کیا یہی تشریح کی گئی ہے؟

یہ آیت کیا کہتی ہے؟ اس کو کیسے سمجھا جائے؟ کیا یہ آیت کہتی ہے کہ جادو کو طاقت ہے؟ یا نہیں ہے؟ ان تمام چیزوں کو ہم جان لینا چاہئے۔

اس کا صحیح معنی سمجھنے سے پہلے اس آیت کو مختلف علماوؤں کاترجموں کو دیکھ لیں۔

پہلا ترجمہ کیا کہتا ہے دیکھیں:

اور (وہ یہود)سلیمان کی حکومت کے بارے میں (انہیں) شیطان نے پڑھ کر سکھائے ہوے(جادو منتر )وغیرہ کی پیروی کر نے لگے۔ لیکن سلیمان تو انکار کر نے والے نہیں تھے۔ وہ شیاطین ہی سچ میں انکار کر نے والے تھے۔ کیونکہ وہ لوگ انسانوں کو جادو اور بابلون (کے شہر میں) ہاروت ماروت نامی دو فرشتوں پر نازل ہو نے والی چیزوں کو بھی سکھاتے آرہے تھے۔ وہ دونوں فرشتوں نے (انکے پاس جادو سیکھنے جانے والے لوگوں سے مخاظب ہو کر )کہنے لگے کہ ہم تو آزمائش ہیں۔ (اگر تم سیکھوگے تو انکار کر نے والے ہوجاؤگے، اس لئے اس کو سیکھ کر)تم منکر نہ بن جاؤ۔ اس طرح کہنے سے پہلے وہ اسے کسی کو نہیں سکھاتے تھے۔ (اس طرح کہنے کے باوجود اس کو سیکھنے کے خواہشمند) شوہر اور بیوی کے درمیان جدائی پیدا کر نے کے طریقے کو ان سے سیکھ لیا۔ اللہ کے حکم کے بغیر اس کے ذریعے وہ لوگ کسی کو ضرر پہنچا نہیں سکتے۔ اس کے سوا انہیں کسی بھی فائدے کے بغیر جوضررپہنچانے والی تھی اسی کو انہوں نے سیکھ لیا۔ سوائے (اللہ پر ایمان کے بجائے) اس (جادو) کو جس نے خرید لی اس کو آخرت میں کوئی خوشحالی نہیں، اس کو انہوں نے بغیر کسی شک کے واضح طور پر جان رکھا تھا۔ اپنے آپ کو بیچ کر انہوں نے جو خرید لیا وہ (بہت ہی) برا ہے۔ (اس کو) وہ سمجھ لینا چاہئے۔

دوسرے قسم کے ترجمے کو دیکھیں:

اور لگے ان چیزوں کی پیروی کرنے ، جو شیاطین سلیمان کی سلطنت کا نام لیکر پیش کیا کرتے تھے، حالانکہ سلیمان نے کبھی کفر نہیں کیا، کفر کے مرتکب تو وہ شیاطین تھے جو لوگوں کو جادو گری کی تعلیم دیتے تھے وہ پیچھے پڑے اس چیز کے جو بابل میں دو فرشروں ، ہاروت و ماروت پر نازل کی گیٰ تھی، حالانکہ وہ(فرشتے) جب بھی کسی کو اس کی تعلیم دیتے تھے ، توپہلے صاف طور پر متنبہ کر دیا کرتے تھے کہ دیکھ ہم محض ایک آزمائش ہیں، تو کفر میں مبتلا نہ ہو، پھر بھی یہ لوگ ان سے وہ چیز سیکھتے تھے، جس سے شوہر اور بیوی میں جدائی ڈالدیں، ظاہر تھا کہ اذن الٰہی کے بغیر وہ اس ذریعے سے کسی کو بھی ضرر نہ پہنچا سکتے تھے جو خود ان کے لئے نفح بخش نہیں، بلکہ نقصان دہ تھی اور خوب انہیں معلوم تھا کہ جو اس چیز کا خریدار بنا، اسکے لئے آخردت میں کوئی حصہ نہیں کتنی بری متاع تھی جس کے بدلے انہیوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا، کاش انہیں معلوم ہوتا۔

ان دونوں ترجموں میں کیا کہا جاتا ہے؟

دونوں فرشتے لوگوں کو جادو سکھلانے کیلئے آئے تھے۔

اس طرح سکھلاتے وقت یہ کہے بغیر کہ جادو نہ سیکھو، اگر سیکھوگے تو کافر ہوجاؤ گے، وہ کسی کو جادو نہیں سکھلاتے تھے۔

اس طرح وہ آگاہ کر نے کے باوجود جادو سیکھنے کے خواہشمند شوہر اور بیوی کے درمیان جدائی پیدا کر نے کے طریقے کو سیکھ لیا۔

ان دونوں ترجمے میں یہی مطلب ظاہر ہوتا ہے کہ جادو سیکھنے کے خواہشمند جادو کا ایک طریقہ یعنی شوہر اور بیوی کے درمیان جدائی پیدا کر نے کو سیکھ لیا۔

وہ کہتے ہیں کہ جادو کے ذریعے شوہر اور بیوی کے درمیان جدائی پیدا کر سکتے ہیں، اس کے لئے یہ دلیل ہے۔

اور ان کا دعویٰ یہ بھی ہے کہ قرآن مجید ہی کہہ دیا کہ جادو کو طاقت ہے، اس پر ہمیں بھروسہ ہے۔

ان دونوں ادارے کے ترجمے قواعد کے مطابق ٹھیک رہنے کے باوجود وہ اسلام کی بنیاد ہی کو مسمار کر نے کی طرح ہے۔

ان ترجموں سے ہمیں یہ رائے ملتی ہے کہ جادو کے ذریعے شوہر اور بیوی کے درمیان جدائی پیدا کر سکتے ہیں۔

غیبت یا جھوٹ کے ذریعے شوہر اور بیوی کے درمیان جدائی پیدا کر سکتے ہیں۔ یہ کام گناہ رہنے کے باوجود ایسا کرناممکن ہے۔ لیکن اگر کوئی یہ بھروسہ کر ے کہ جادو کے ذریعے شوہر اور بیوی کے درمیان جدائی پیدا کرسکتے ہیں تو وہ ناممکن ہے۔ اوراس کو ایسا سمجھاجائے گا کہ جادوگر بھی اللہ کی طرح عمل کر نے میں طاقتورہے۔

اس طرح بھروسہ کر نا کہ شوہر اور بیوی کے درمیان جادوئی طاقت کے ذریعے جدائی پیدا کر سکتے ہیں تو وہ شرک میں شامل ہو جائے گا۔ اس وجہ سے یہ ترجمے غلط ثابت ہو تے ہیں۔

(جادو سے کچھ نہیں کر سکتے، وہ ایک دھوکہ بازی ہے۔ اس کو حاشیہ نمبر 357میں وضاحت کی گئی ہے۔ )

آیت نمبر 10:77میں کہا گیا ہے کہ جادو گرکبھی فلاح نہیں پائیں گے۔ جادو سے شوہر اور بیوی کے درمیان جدائی پیدا کر سکتے ہیں کہنا جادوگروں کی کامیابی کی طرف اشارہ کر تا ہے۔

آیت نمبر 7:116میں کہا گیا ہے کہ جادو ایک شعبدہ بازی ہے، حقیقت نہیں ہے۔ایسا کہنا کہ جادو کے ذریعے شوہر اور بیوی کے درمیان جدائی پیدا کر سکتے ہیں ، اس آیت کے خلاف ہے۔

آیت نمبر 7:118 سے7:120کی آیتوں میں کہا گیا ہے کہ جادو بھی ہارا اور جادوگر بھی ہار گئے۔جا دو سے شوہر اور بیوی کے درمیان جدائی پیدا کر سکتے ہیں کہنا ان آیتوں کے خلاف ہے۔

آیت نمبر 20:66میں کہا گیا ہے کہ بہت بڑے جادوگروں نے اپنی بہت بڑی جادوگری سے رسیوں کو صرف سانپ کی طرح بناسکے، لیکن اس کو سانپ بنانہیں سکے۔ ان کا ترجمہ اس کے بھی خلاف ہے۔

آیت نمبر 20:69میں کہا گیا ہے کہ جادو ایک سازش اور مکاری ہے،وہ حقیقت نہیں۔ جا دو کے ذریعے شوہر اور بیوی کے درمیان جدائی پیدا کر سکتے ہیں کہنا اس کے خلاف ہے۔

آیت نمبر 52:13,14,15آیتوں میں سچ کے مخالفت میں اللہ نے جادو کے لفظ کو استعمال کیا ہے۔ اللہ ہی نے کہہ دیا کہ جادو ایک جھوٹ ہے۔ اس لحاظ سے شوہر اور بیوی کے درمیان جدائی پیدا کرسکتے ہیں کہنا اس کے خلاف ہے۔

جادو کے ذریعے شوہر اور بیوی کے درمیان جدائی پیدا کر سکتے ہیں، اس انداز سے ترکیب پائی ہوئی دونوں ترجمے غلط ہیں، اس کے سوا عقلی انداز کے وجوہات بھی ہیں۔

جادو کو اگر تم سیکھ گئے تو کافر ہو جاؤ گے، اس طرح دونوں آگاہ کر نے کے باوجودانہوں نے کہا کہ ہم کافر بھی ہوجائیں، اس سے ہمیں کوئی پروا نہیں، ہمیں جادو سکھلادو۔یہ ترجمے کہتے ہیں کہ اس طرح انہوں نے شوہر اور بیوی کے درمیان جدائی پیدا کر نے والی جادو کو سیکھ لیا۔

جادو کو سیکھو گے توکافر ہوجاؤ گے، یہ تنبیہ بھی انہیں اثر نہیں کر سکی تو وہ لوگ شوہر اور بیوی کے درمیان جدائی پیدا کر نے والا ایک چھوٹا سا جادو کو کیوں سیکھا؟

جب چھوٹا سا جادوبھی سیکھیں تو کافر ہوجائیں گے یا بڑا سا جادو بھی سیکھیں تو کافر ہوجائیں گے تو انہوں نے چھوٹا سا جادو کیوں سیکھا؟

جادو گروں کے اعتقاد کے مطابق جادو ایک ایسا فن ہے کہ اس کے ذریعے بہت سی شعبدے دکھا سکتے ہیں۔ کافر ہو نے سے بھی بے پروائی برت کر ہمت جتانے والے تمام جادو ہی کو تو سیکھنا چاہئے تھا؟

صرف ایک جادو کو ، وہ بھی ایک چھوٹا سا جادو کو انہوں نے کیوں منتخب کیا؟ ایک جادو بھی سیکھوکافر ہو نا یقینی ہے یا ہزار جادو بھی سیکھو کافر ہونا یقینی ہے۔ اس حالت میں وہ لوگ کیوں تمام جادو کو یا کم سے کم بڑے بڑے جادؤں کو نہیں سیکھا؟

مال کمانے کے لئے اور فائدے حاصل کر نے کے لئے ہی وہ لوگ جادو سیکھنے کے لئے تیار ہوئے ہوں گے۔ایک ہی جادو سیکھنے سے انہیں فائدہ کچھ زیادہ نہیں ملے گا۔ اگر زیادہ جادوسیکھو گے تو زیادہ دولت کما سکتے ہیں۔

دنیوی فائدے کے لئے کافر ہو نے سے بھی فکر نہ کر نے والے ہر قسم کے جادو ہی کوتو سیکھے ہوں گے؟ اس طرح سوچنے سے واضح ہو تا ہے کہ اس ترجمے میں کچھ غلط معنی موجود ہے۔

اس لئے قرآن کے دیگر آیتوں کے خلاف نہ ہوتے ہوئے اور اسلام کے بنیادی عقیدے سے ٹکرائے بغیر اس آیت کو معنی دینا ہی ٹھیک ہوگا۔

اسی لئے ہم نے اس آیت کو اس طرح ترجمہ کیا ہے:

سلیمان کی حکومت میں شیاطین نے جو کہا اس کو انہوں نے پیروی کر نے لگے۔ سلیمان نے (اللہ کا) انکار نہیں کیا۔ وہ دونوں(جبرئیل، میکائیل)فرشتوں پر بھی (جادو) اتارا نہیں گیا۔ بابل نامی شہر میں لوگوں کوجادو سکھلانے والے ہاروت، ماروت نامی شیاطین ہی انکار کئے تھے۔ ہم آزمائش ہیں، اس لئے (اس کو سیکھ کراللہ کا) انکار مت کرو۔اس طرح کہے بغیر وہ دونوں کسی کو سکھلاتے نہیں تھے۔ اس لئے جس کے ذریعے شوہر اور بیوی کے درمیان جدائی پیدا کرتے تھے، اسی کو ان دونوں سے وہ لوگ سیکھ لئے۔ اللہ کی چاہت کے بغیر اس کے ذریعے کسی قسم کا ضررکسی کو پہنچا نہیں سکتے۔ اور انہوں نے خود کوضرر پہنچانے اور فائدہ نہ پہنچانے کے جادو کو سیکھا۔ ان لوگوں نے یقینی طور پر جان رکھا تھا کہ اس کے خریدنے والوں کوآخرت میں کسی قسم کی سرخروئی نہیں ہوگی۔ خود کو جس کے لئے فروخت کیا تھاوہ بہت برا ہے۔انہیں جاننا چاہئے تھا!

اس لئے جس کے ذریعے شوہر اور بیوی کے درمیان جدائی پیدا کر تے تھے اس کو ان دونوں سے ان لوگوں نے سیکھ لیا۔ یہ جملہ کیا کہتا ہے؟

جس جگہ پر ہم نے ’’اس لئے‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے اسے ذرا غور سے دیکھیں۔’’ اس لئے ‘‘کے لفظ کے لئے یہاں ’’ف‘‘ کا لفظاستعمال کیا گیا ہے۔ اس کو کب استعمال کیا جاتا ہے؟

یہ آدمی دھوکہ با زہے، اس لئے میں اس کوقرض نہیں دوں گا۔اس جملے میں اس لئے کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ یہاں ’’اس لئے‘‘ کا لفظ استعمال ہو نے کی وجہ سے ہمیں یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اس کو قرض نہ دینے کی وجہ وہ دھوکہ باز ہے۔

اسی طرح ہی یہاں بھی وہ لفظ جگہ پایا ہے۔

شوہر اور بیوی کے درمیان جدائی پیدا کر نے کو انہوں نے سیکھ لی، یہ بھی اس سے ہم سمجھ سکتے ہیں۔ اور یہ بھی سمجھ میں آتا ہے کہ جادو کو اگر سیکھو تو کافر ہوجاؤ گے، یہی تنبیہ اس کے لئے وجہ ہے۔

یہ تنبیہ کی گئی تھی کہ جادو کوسیکھنے سے کافر ہوجاؤ گے،اس لئے خود کو کافر بنانے والے جادو سیکھنے کے بجائے اس کے سوائے دوسری ایک چیز کو انہوں نے سیکھ لی۔یہ بات ’’اس کے لئے ‘‘ کے لفظ سے معلوم ہو تا ہے۔

کراٹے سیکھ لوگے تو معلم کی پرستش کر نی پڑے گی، اس طرح آگا ہ کر نے کے بعد ہی کراٹے سکھایا جا تا ہے۔ اس لئے فرض کرو کہ لوگوں نے کشتی سیکھ لیا۔ کراٹے کے ذریعے ہونے والے نقصان کو دکھا کرتنبیہ کر نے کی وجہ سے وہ لوگ کراٹے چھوڑ کر کشتی سیکھ لیا۔

اسی طرح مندرجہ بالا جملہ بھی ترکیب پایا ہے۔

کراٹے کی خرابیاں کہی گئی، اس لئے کراٹے سیکھ لئے، ایسا کہنا نامناسب نہیں ہے۔ تنبیہ کر نے کے بعد اس کے بجائے دوسری ایک چیز کو سیکھنے ہی میں ’’اس لئے‘‘ کا لفظ استعمال کیا جا سکتا ہے۔

باپ تاکید کرتا ہے کہ تمباکو نوشی نہ کرو۔اس لئے بیٹے نے اس عادت کو چھوڑ دیا۔ ایساکہنا مناسب ہے۔

باپ نے تاکید کی کہ تمباکو نوشی نہ کرو۔ اس لئے بیٹے نے بہت اچھی طرح تمباکو نوشی کی۔ کیاایسا کہنا مناسب ہے؟

اس وضاحت کوذہن میں لیتے ہوئے مندرجہ بالا جملے پر ذرا غور کرو۔

دونوں نے آگا ہ کی کہ جادوسے خرابی پیدا ہو گی۔اس لئے شوہر بیوی کے درمیان جدائی پیدا کر نے والافن کو لوگوں نے سیکھ لی، اس لفظ سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ شوہر بیوی کے درمیان جدائی پیدا کرنے والا فن جادو نہیں ہے۔ وہ جادو کے علاوہ جادو سے کم نقصان پہنچانے والی ایک اور چیز ہے۔

’’ف‘‘ کے لفظ کو ہم ’’اس لئے‘‘ کا معنی دئے ہیں۔ اس طرح اشارہ کر نے والی بعض آیتوں کو ہم نے اور زیادہ پیام کے لئے یہاں پیش کر تے ہیں۔

2:144 کی آیت میں اللہ فرماتا ہے کہ تمہارا منہ بار بار آسمان کی طرف اٹھتے ہوئے ہم دیکھ رہے ہیں۔ اس لئے تمہیں تسلی دینے والے قبلہ کی طرف تمہارے منہ کو پھیر دیتے ہیں۔ یہاں ’’اس لئے‘‘کے معنی والے’’ف‘‘ کا لفظ جگہ پایا ہے۔ قبلہ کو بدلنے کے لئے وجہ اس سے پہلے کہا ہوا معاملہ ہی ہے۔ یعنی آسمان کی طرف نبی کریم ؐ کا بار بار منہ پھیرنا ہی وجہ ہے۔ اس کو ’’اس لئے‘‘ کے لفظ سے معلوم کر سکتے ہیں۔

ان آیتوں36:49,50 میں بھی ’ف‘ کا لفظ جگہ پایا ہے۔ان آیتوں میں اللہ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جب مباحثہ میں مبتلا تھے تو اچانک ایک بہت بڑی آواز پیدا ہوئی اور وہ لوگ مٹ گئے۔ اس لئے وہ لوگ اپنی ملکیت کے بارے میں وصیت نامہ نہیں لکھ سکے۔ وہ لوگ وصیت نامہ نہ لکھنے کی وجہ وہی ہے جو اس سے پہلے کہہ چکے ہیں۔ یعنی اچانک قیامت کا دن آجانے کی وجہ سے وصیت نامہ لکھ نہیں سکتے، وہی بات یہاں کہی گئی ہے۔

اس آیت 17:48میں وہ لوگ تمہیں کس طرح مثال دیتے ہیں ، اس پر غور کرو۔ اللہ کہتا ہے کہ اس لئے وہ لوگ راہ بھٹک گئے۔ وہ لوگ گمراہ ہو نے کی وجہ وہی ہے جو اس سے پہلے کہہ چکے ہیں۔ یعنی نبی کو نامناسب مثالیں استعمال کر نے ہی سے وہ گمراہ ہوئے۔

اس آیت 18:105 میں اللہ فرماتا ہے کہ ان کے اعمال برباد ہو گئے۔ اس لئے ہم انہیں وزن نہ قائم کر یں گے۔ ان کے اعمال برباد ہو گئے، یہی وجہ ہے ان کے لئے وزن نہ قائم کر نے کا۔اس کو اس لئے کے لفظ کے ذریعے احساس دلایا جاتا ہے۔

اسی طرح شیطانوں نے تاکید کی کہ کافر ہوجاؤ گے، اسی وجہ سے وہ لوگ جادو سیکھنے کے بجائے شوہر بیوی کے درمیان جدائی پیدا کر نے والی کوئی اور چیز کو سیکھ لیا۔

اس طرح معنی دینے والے’ف‘ کا لفظ سببیہ کہلاتا ہے۔ اپنے آپ کو عربی زبان کے ماہر سمجھنے والے بعض لوگ دعویٰ کر تے ہوئے کہ یہ سببیہ کا ’ف‘ نہیں ہے، چند دلیل پیش کرتے ہیں۔

سببیہ قسم کا ’ف‘ کا لفظ استعمال کیا گیا ہو تا توےَتَعَلَّمُوْنَ کا لفظ ےَتَعَلَّمُوْا جیسے سمٹ گیا ہوتا۔ اس میں سے نون کا حرف نکل گیا ہوتا۔ یہاں نون رہنے کی وجہ سے اس کو سببیہ کہہ نہیں سکتے۔ یہ ان کا دعویٰ ہے۔

سببیہ کا ’ف‘ دو قسم کے ہیں۔ آیت نمبر 2:102میں اور ہم نے جن آیتوں میں استعمال کیا ہے ان سببیہ قسم کے’ف‘ میں ، ان لوگوں کے سببیہ قسم کے ’ف‘ میں کوئی تعلق نہیں ہے۔اس سے اچھی طرح معلوم ہو تا ہے کہ ان لوگوں کو عربی قواعد کے بارے میں ٹھیک علم نہیں ہے۔

ہم نے جن آیتوں میں ’ف‘ کو اشارہ کیا ہے ، اس کو کئی تفسیروں میں سببیہ کہا گیا ہے، اس پر نظر کریں! وہ جو سببیہ کہتے ہیں وہ الگ ہے، اور یہاں جو استعمال کیا گیا ہے یہ سببیہ الگ ہے۔اس کو جان کر وہ اپنی جہالت سے باز آجائیں۔

اللہ کی چاہت کے بغیر اس کے ذریعہ کسی کو کسی قسم کی ضرر پہنچا نہیں سکتے۔ وہ لوگ اس جملے کو بھی اپنی غلط رائے کے لئے پیش کرتے ہیں۔

اللہ کی مرضی کے بغیر اس کے ذریعے کوئی ضرر پہنچا نہیں سکتے، اس طرح کہا جانے کی وجہ سے ان لوگوں کا کہنا ہے کہ جادو کے ذریعے نقصان پہنچا سکتے ، اس کے لئے یہ چیز زوردار دلیل ہے۔

یہ سچ ہے کہ اگر اللہ چاہے تو اس کے ذریعے ضرر پہنچ سکتی ہے۔ لیکن ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ ’’اس کے ذریعے‘‘ جو کہا گیا ہے وہ جادو نہیں ہے۔

اگر’’ اس کے ذریعے‘‘ کہا جائے تو جو اس سے پہلے کہا گیا تھا اسی چیز کو لینا چاہئے۔ اس سے پہلے کیا کہاگیا تھا؟ اس ڈر سے کہ کہیں جادو سے کافرنہ ہوجائیں، اسے چھوڑ کر شوہر بیوی کے درمیان جدائی پیدا کرنے والے فن کو انہوں نے سیکھا۔’’ اس کے ذریعے‘‘ جو کہا گیا، وہ اسی فن کی طرف اشارہ ہے، جادو کی طرف نہیں۔

یہ اصطلاح یہی کہتی کہ شوہر اور بیوی کے درمیان جدائی پیدا کر نے والے فن کے ذریعے اگر اللہ چاہے تو ضرر پہنچا سکتا ہے، یہ نہیں کہتی کہ جادو سے ضررپہنچ سکتی ہے۔

خود کو ضرر پہنچانے والی اورکچھ فائدہ نہ دینے والی کو انہوں نے سیکھ لی۔ اور وہ یہ اچھی طرح جانتے تھے کہ اس کے خریدنے والوں کوآخرت میں کوئی خوشحالی ملنے والی نہیں ہے۔ کیا انہیں سمجھنا نہیں چاہئے تھا کہ جو انہوں نے اپنے آپ کوفروخت کیا تھاوہ بہت ہی خراب تھا؟اس کا مطلب کیا ہے؟

شوہر اور بیوی کے درمیان جدائی پیدا کر نے والے فن سے اگر اللہ چاہے تو دوسروں کو ضرر پہنچا سکتا ہے، اس کے باوجود اس کے کرنے والوں کو اس کے ذریعے آخرت میں برائی ہی ملے گی۔ اس سے ان کو کوئی فائدہ حاصل نہ ہو سکے گا۔ اس طرح یہ جملہ انہیں آگاہ کرتا ہے۔

اس آیت کو غور سے دیکھنے کے بعد معلوم ہو تا ہے کہ بغیرکسی جادو کے شوہر بیوی کے درمیان جدائی پیدا کر نے والے فن ہی کو لوگوں نے سیکھا تھا۔ یہ بھی معلوم ہو تا ہے کہ اس کے ذریعے چند نقصان بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔

اس میں کہا نہیں گیا ہے کہ جادو سے متاثر کر سکتے ہیں۔

شوہر اور بیوی کے درمیان جدائی پیدا کر نا جادو کی ایک قسم کیوں نہیں ہو سکتا؟ اس طرح اگر کوئی سمجھیں تو اس کے لئے دو وجہ ہیں۔

جادو کے متعلق وہ دونوں سختی سے تنبیہ کرنے کے بعد جادو کی ایک اور قسم کو اگر سیکھ گئے ہو تے، اس طرح کہے نہیں ہوں گے۔

اور پھر اس آیت میں تین بار کہا گیا ہے کہ جادو کا سیکھناکافر بنا دے گا۔شوہر بیوی کے درمیان جدائی پیدا کرنا گناہ ہو نے کے باوجود وہ کافر بنادینے کی حد تک جرم نہیں۔ ہم بھی ایسا نہیں کہا ہے۔ جادو پر بھروسہ کر نے والے بھی ایسا نہیں کہتے۔ ان لوگوں نے سیکھے ہوئے اس فن سے کسی کو کافر بنا نہیں سکتے تو یقیناوہ جادو کا کوئی حصہ ہو نہیں سکتا۔

یعنی وہ لوگ جادو نہیں سیکھا۔بلکہ بغیر جادو کے شوہراور بیوی میں جدائی کیسے کر سکتے ہیں، اسی کو انہوں نے سیکھا۔ وہ بھی سو فیصد کامیابی نہیں دے سکتی۔ کیونکہ یہ آیت کہتی ہے کہ اللہ کی مرضی کے بغیر شوہر اور بیوی کو جدا نہیں کر سکتے۔

اس طرح ترجمہ کر تے وقت اللہ کے ساتھ شریک ٹہرانے کا گناہ سرزد نہیں ہوتا۔ جادو ایک سازش ہے، شعبدہ بازی ہے، وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ قرآن کی ان آیتوں کو ہمارا یہ ترجمہ اختلاف نہیں ہوسکتا۔

اور یہ بھی کہ ا س میں اللہ نے جس طرح سے جملوں کا استعمال کیا ہے اس کو بھی ذہن میں رکھنا چاہئے۔

یہ نہیں کہا گیا ہے کہ شوہر بیوی کے درمیان جدا کر نے کے جادو کو انہوں نے سیکھ لیا۔جس کے ذریعے جدا کر سکتے اس طریقے کو کہا گیا ہے۔ یہ انداز بغیر جادو کے کوئی اور طریقے کی طرف ہی اشارہ کر تا ہے۔

اس آیت کو دوسروں کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیے:

سلیمان کی حکومت میں شیاطین جو پڑھایاتھا اسی کو انہوں نے پیروی کی۔ سلیمان نے انکار نہیں کیا۔ بلکہ شیاطین ہی انکار کئے۔انہوں نے لوگوں کو جادو اور بابلون میں رہنے والے ہاروت ماروت نامی دو فرشتوں پر (جو انہوں نے خود کہا تھا)نازل ہو نے والے جادو کو سکھایا۔ لیکن ان دونوں نے ہم (اللہ کی طرف سے آئے ہوئے)آزمائش ہیں، اس لئے (اللہ کا) انکار مت کرو، اس طرح کہنے سے پہلے وہ کسی کو سکھاتے نہیں تھے۔ شوہر اور بیوی کے درمیان جدائی پیدا کرنے کے لئے ان دونوں کے ذریعے انہوں نے سیکھ لیا۔ اس کے ذریعے اللہ کی اجازت کے بغیر وہ کسی کو ضرر پہنچا نہیں سکتے۔ وہ لوگ خود کو ضرر پہنچانے والی اور کچھ بھی فائدہ نہ دینے والی چیز ہی کو سیکھا۔وہ لوگ یقیناجانتے تھے کہ اس کے خریدنے والے کو آخرت میں کوئی خوشحالی نہیں ملے گی۔جس کے بدلے میں وہ اپنے آپ کو بیچ ڈالا وہ بہت ہی خراب ہے۔ کاش، وہ اس کو سمجھتے!

غور کرو تویہ ترجمہ پہلے جو ترجمے ہم نے پیش کیا تھااس سے تھوڑا مختلف ہے۔

پہلے جوترجمے ہم نے پیش کیا تھااس طرح اگر ترجمہ کریں تو وہ شریک ٹہرانے میں شامل کر دے گا، اس ڈر سے انہوں نے ایسا ترجمہ کیا ہے کہ جس سے وہ اللہ کا قول دکھائی نہ دے۔

(یہ بھی کہتے آئے کہ )شوہر اور بیوی کے درمیان جدائی پیدا کر نے والی چیز کوانہوں نے ان دونوں کے ذریعے سیکھ لئے۔

یہ لفظ بھی کہ شوہر اور بیوی کے درمیان جدائی پیدا کر نے کو انہوں نے سیکھ لیا ، اللہ کا قول نہیں ہے۔ بلکہ یہود نے اس طرح کہا کرتے تھے، اس معنی کو دینے کے لئے (یہ بھی کہتے تھے) کو خطوط وحدانی کے اندر پیش کیا ہے۔اللہ پیش کر تا ہے کہ یہود نے اس طرح کہا کرتے تھے، اس مطلب کو ظاہر کر نے کی طرح ترجمہ کیا ہے۔

یہودیوں نے کہا کہ جادو سے شوہر بیوی کو جدا کر سکتے ہیں ، اگر اس طرح معنی دیں تو یہ جادوگروں کے فرقہ کو دلیل نہیں ہو سکتا۔ اس میں یہی اطلاع ملے گا کہ یہودیوں کے اعتقاد کے مطابق انہوں نے ایسا کہا، اس کے سوا دوسرا معنی اس میں نہیں ہے۔

اللہ کیسے کہے گا کہ جادو کے ذریعے نقصان پیدا ہو تا ہے اور اگر ویسا کہا گیا تو وہ بہت سی آیتوں کے خلاف ہو جا ئے گا، اس ڈر سے مندرہ بالا الفاظ یہودیوں کی رائے ہے کہہ دیا گیا ہے۔ ا س طرح چند علماء نے ترجمہ کیا ہے۔

اللہ کے ساتھ شریک ٹہرانے کا مطلب نہ آنے پائے، اور دیگر آیتوں کے خلاف بھی نہ ہو نے پائے ، اس طرح ترجمہ اگر کریں تو ہمیں بھی کوئی اعتراض نہیں ہے۔

جادو کے متعلق اور زیادہ جانکاری کے لئے حاشیہ نمبر 28، 285، 357، 468، 499وغیرہ دیکھیں!

494۔ حیض والی عورتیں کیا مسجد کو آسکتی ہیں؟

مسجدیں بہت ہی مقدس جگہ ہیں۔ مسجدوں میں کس انداز کی شائستگی کو اختیار کر نا ہے ، اس کو قرآن مجید اور نبی کریم ؐ کی تعلیم ہمیں کھلی انداز سے راہنمائی فرمائی ہے۔ جہاں مسجد نہیں ہے وہاں جس طرح سلوک کر تے ہیں اسی طرح مسجدوں کے اندربھی نہیں کر ناچاہئے۔

جس پر غسل واجب ہو ، مرد ہو یا عورت، یا حیض والی عورت ہو ، وہ لوگ غسل کر کے پاک و صاف ہو نے تک مسجدوں کے اندر داخل ہو نا نہیں ، یہ بھی ان اخلاق میں سے ایک ہے۔

قرآن اور مستند حدیثوں والی سندیں موجود ہیں کہ حیض والی عورتیں مسجدوں کے اندر داخل نہ ہوں ۔ بعض دینی علماء اس سندوں کے سلسلے میں مخالف رائے پیش کرتے ہوئے سمجھتے ہیں کہ حیض والی عورتیں مسجد میں آسکتی ہیں۔

لیکن حیض والی عورتیں مسجد میں آسکتی ہیں کے اس کیفیت کی حمایت میں وہ جو سند پیش کر تے ہیں وہ ان کی اس کیفیت کو مستحکم کرنے والی نہیں ہیں۔ بلکہ بالکل کمزوردعوے ہیں۔ اس کے متعلق تھوڑا تفصیل ملا حظہ کریں۔

حیض والی عورتیں مسجد کو آنا نہیں، ایسی رائے رکھنے والے اس آیت 4:43کو دلیل پیش کرتے ہیں۔

اے ایمان والو!جب تم نشہ میں ہوتونماز کے قریب مت جاؤ یہاں تک کہ جو تم کہتے ہو وہ تمہیں خود سمجھ میں نہ آجائے۔غسل واجب ہو نے کی صورت میں غسل کر نے تک (نماز کے لئے مسجدکو مت جاؤ۔مسجد کی طرف سے) سوائے راستہ گزرتے ہوئے۔اگر تم مریض ہو یا مسافر ہو یا تم میں سے کوئی بیت الخلاء سے آئے ہو، یا عورتوں کو (صحبت کے ذریعے سے)چھوئے ہو ، پھر اگر پانی نہ ملے تو پاکیزہ مٹی کو چھو کر تمہارے چہروں اور ہاتھوں پر پھیر لیا کرو۔ اللہ خطاؤں کو معاف کر نے والا ، بخشنے والا ہے۔

قرآن مجید 4:43

اس آیت میں مسجد کا لفظ کہا نہیں گیا ہے۔ اس کو سمجھنے کے لئے خطوط وحدانی کے اندر (نماز کے لئے مسجدوں کو مت جاؤ! مسجدوں کے راستے سے) ہم نے شامل کیا ہے۔ اس خطوط وحدانی کو الگ کر کے دیکھوتو وہ اس طرح آئے گا:

اے ایمان والو! نشہ کی حالت میں، تم جو کہتے ہو اس کو تم خود سمجھنے تک ، غسل اگر واجب ہو تو غسل سے فارغ ہو نے تک ،اس راستے سے گزرنے کے سوائے نماز کے لئے مت جاؤ۔ یہی اس کا اصل ترجمہ ہے۔

یہ آیت کہتی ہے کہ راستے سے گزرنے والوں کے سوا نماز کے قریب نہ جاؤ۔

ایسا نہیں کہا گیا ہے کہ نماز نہ پڑھو۔ بلکہ کہا گیا ہے کہ نماز کے قریب نہ جاؤ۔

نماز کے قریب نہ جاؤ کے ساتھ راستے سے گزرنا بھی کہاجانے کی وجہ سے مسجد کے اندر غسل واجب ہو نے والے جانا نہیں ، بعض علماء کہتے ہیں کہ یہی اس آیت کا مطلب ہے۔ ہم بھی اس رائے سے متفق ہیں۔

لیکن بعض لوگ حجت کرتے ہیں کہ اس آیت کا مطلب یہ نہیں ہے، اس کا مطلب دوسرا ہی ہے۔ہماراترجمہ یاان کا ترجمہ ان دونوں میں کوئی ایک ہی ٹھیک ہو سکتا ہے۔ اس لئے حیض والی عورتیں مسجد کو آسکتے ہیں، اس رائے سے متفق رہنے والے اس آیت کو کس طرح معنی لیتے ہیں، آئیے دیکھیں!

اے ایمان والو! نشہ میں رہتے وقت تم جو کہتے ہو وہ تمہاری ہی سمجھ میں آنے تک نماز کے قریب نہ جاؤ۔ جب غسل واجب ہو تو راہ گیروں کے سوا (دوسرے) غسل کر نے تک نماز کے قریب نہ جاؤ۔

ہم نے ترجمہ کیا تھا کہ راستے سے گزر کر جانے والے کے سوا،اس جگہ پرانہوں نے راہگیروں کے سوا کا معنی لئے ہیں۔

راستے سے گزرنے والے کو راہ گیرکا معنی بھی لغت میں موجود ہے۔ لغت میں وہ معنی رہنے کے باوجود اگر وہ مناسبت نہ رکھتا ہو تو اس کے مطابقت سے دوسرا معنی ہی دیناچاہئے۔

ان لوگوں کا معنی کیا درست ہے؟ اس کو جاننے سے پہلے اگر ایسا معنی کیا جا ئے تو اس سے ملنے والے احکام کیا ہیں، اس کو جان لینا چاہئے۔

جب غسل واجب ہو تو راہ گیروں کے سوا (دوسرے) غسل کر نے تک نماز کے قریب نہ جاؤ، ان کے اس ترجمہ کے مطابق ایسا معلوم ہو تا ہے کہ راہ گیروں کو ایک قانون ، اور غیر راہ گیر کو ایک قانون ہے۔

ر۱ گیر جو ہیں یعنی سفر میں رہنے والوں کو اگر پانی نہ ملے تو غسل کئے بغیر تیمم کر کے نماز پڑھ سکتے ہیں۔ اگر وہ مسافر نہ ہوں تو وہ غسل کر نے کے بعد ہی نماز پڑھنا چاہئے۔ تیمم کر کے بھی وہ نماز نہیں پڑھ سکتے۔ یہی ان لوگوں کے معنی کے مطابق قانون ہے۔

دوسرے لفظوں میں اگر کہا جائے تو مسافروں کے سوا دوسرے لوگوں پر اگر غسل واجب ہواور انہیں پانی بھی نہ ملا تو، وہ غسل کر نا ہی چاہئے۔ مسافرہونے پر اگر انہیں پانی نہ ملا تو وہ لوگ غسل کرنے کے بجائے تیمم کر سکتے ہیں، ان کے اس ترجمہ سے ہمیں یہی مطلب حاصل ہو تا ہے۔

اس کا یہ مطلب ہو تا ہے کہ تیمم والا قانون صرف مسافروں کے لئے ہے،دوسروں کے لئے نہیں۔

اس طرح دعویٰ کر نے والے اپنے اس معنی کے مطابق حکم نافذ کر نا چاہئے تھا؟ لیکن اگران کے پاس سوال کر ے کہ مسافر ہوں یامسافر نا ہو ں اگر پانی نہ ملا تو کیا تیمم کر سکتے ہیں؟ تو وہ کہتے ہیں کہ دونوں ہی تیمم کر سکتے ہیں۔

وہ لوگ یہ قانون بتا رہے ہیں کہ پانی اگر نہ ملے تو مسافر بھی تیمم کر سکتے ہیں اور غیر مسافر بھی تیمم کر سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوتو اللہ نے جو کہا ہے کہ’ مسافروں کے سوا‘ ، اس کو یہ لوگ بے معنی بنا رہے ہیں۔

’مسافروں کے سوا‘ کا معنی لینے والے اپنے اس معنی کے مطابق جو مطلب نکلتا ہے اس سے انکار کر تے ہیں۔’ مسافروں کے سوا‘ کے اصطلاح کوبے معنی بنا دیتے ہیں۔

’مسافروں کے سوا‘کا معنی نامناسب رہنے کی وجہ سے ہم جو ترجمہ کئے تھے اسی کو لینا پڑے گا۔ ہم جو معنی کئے تھے اسی کویہاں لینا ہو تو یہ آیت مسجد سے گزرکر جا نے والے ہی کی بات کر تی ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔

غسل واجب ہو نے والے مسجد سے گزر کر جا سکتے ہیں، اس کے سوا مسجد میں ٹہر نہیں سکتے، اس کو یہ آیت بالکل صریح طور کہتی ہے۔ یعنی غسل واجب ہو نے والے نماز بھی نہ پڑھیں اور نماز کی جگہ پر ٹہرنا بھی نہیں ہے۔ لیکن نماز پڑھنے کے مقام کے راستے سے جانے کی ضرورت پڑی تو وہ لوگ نماز پڑھنے کی جگہ کے اندر گھس کر گزر جانے میں کوئی حرج نہیں، یہی اس آیت کا معنی ہے۔

غسل واجب ہو نے والے شہری ہوں یا مسافر ہوں ، اگر پانی نہ ملے تو تیمم کر سکتے ہیں۔ پانی ملنے کے ساتھ شہری بھی ہوں یا مسافر بھی ہوں پانی ہی سے غسل کے واجب کو پورا کرنا چاہئے۔یہی دین کی کیفیت ہے۔

ایسے میں پانی نہ ملا تو تیمم کر نے کا قانون صرف مسافروں کے لئے ہے ، اس انداز سے معنی کرنا غلط ہے۔ اس لئے اوپر کی اس آیت میں عابری سبیل کے لفظ کو راہ گیر یا مسافر کا معنی دینا بالکل غلط ہے، اس کے بجائے عابری سبیل کے لفظ کوہم نے جو ترجمہ کیا ہے کہ (مسجد کے) راستے سے گزر کر جانے والے ، یہی صحیح ہے۔

یہاں ایک اور شک پیدا ہو سکتا ہے۔وہ شک یہ ہے کہ اس آیت میں یہی کہا گیا ہے کہ غسل واجب ہو نے والے۔ حیض والی عورتیں نہیں کہا گیا ہے ۔جہاں ہم نے معنی کیا ہے کہ غسل واجب ہو نے والے ، اس جگہ پر جنوب کالفظ استعمال کیا گیا ہے۔ اسی میں حیض والی عورتیں بھی جمع ہیں۔

جنابت، جنوب کے معنی ہیں کہ دور ہونا۔ اس کو منی اور ناپاکی کے معنی میں بھی بولا جاتا ہے۔ ہمبستری کرنا، جنسی خواہش سے منی کو خارج کر نا ، حیض کا پیدا ہو نا، زچکی کی گندگی وغیرہ سے پیدا ہو نے والی غلاظت کے لئے اس لفظ کو استعمال کیا جا تا ہے۔

کتاب: معجم لغتمیں فقاہائی

ایسا کہنے والے کہ حیض والی عورتیں مسجدوں کو جا سکتی ہیں، عائشہؓ کے سلسلہ کی اس حدیث کو سند ثابت کر تے ہیں:

عائشہؓ نے کہا : نبی کریم ؐ نے مجھ سے فرمایا کہ مسجد میں جو مصلیٰ ہے اس کو لے آؤ۔ میں نے کہا کہ مجھے ماہواری ہے۔اس کو نبی نے کہا کہ حیض تیرے ہاتھ میں نہیں ہے۔

مسلم: 502، 503

ابو ہریرہؓ نے فرمایا ہے کہ۔

اللہ کے رسول ؐ جب مسجد میں تھے تو انہوں نے عائشہؓ سے کہا کہ اے عائشہ! اس کپڑے کو اٹھا کر مجھے دو!تو عائشہؓ نے جواب دیا کہ میں حیض کی حالت میں ہوں۔ اللہ کے رسول ؐ نے فرمایاکہ حیض تمہارے ہاتھ میں نہیں ۔ اس کے بعد عائشہؓ نے اس کپڑے کو اٹھا کر دے دیا۔

مسلم: 504

حیض والی عورتیں مسجد کے اندر جا سکتی ہیں، اس رائے میں رہنے والے دلیل کے طور پر اوپر کی دو حدیثوں کو پیش کرتے ہیں۔

پہلی حدیث میں کہا گیا ہے کہ مسجد کی اس مصلے کو لا کر دینے کے لئے نبی کریمؐ نے پوچھا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مصلٰی مسجد کے اندر ہی ہے۔ مسجد میں موجود مصلے کو لا کر دینے کے لئے نبی کریم ؐ نے پوچھنے سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ نبی کریم ؐ نے گھر پر ہی تھے۔

مسجد میں رہتے ہوئے مسجد کے اندر موجود مصلے کو لا کر دینے کے لئے کوئی نہیں کہے گا۔ مسجد کے اندر مصلیٰ موجود تھا۔ نبی کریم ؐ گھر پر تھے، اس لئے عائشہؓ بھی گھر میں ہی تھے۔گھر میں رہنے والے نبی کریمؐ نے مسجد میں موجود مصلے کو لانے کے لئے عائشہؓ سے کہا۔ عائشہؓ نے مسجد کے اندر جا کر اس مصلے کو لاکر دئے ہوں گے۔ یا مسجد کے اندر ہاتھ چھوڑ کر اٹھائے ہوں گے۔کیونکہ مسجداور گھر بازو بازو ہی تھے۔

عائشہؓ نے فرمایا :

نبی کریم ؐ مسجد میں اعتکاف رہتے وقت میرے پاس آیا کرتے تھے۔ اس انداز سے کہ میرے کمرے کے دروازے پر جھک جایا کرتے تھے۔ میں میرے کمرے ہی میں رہتے ہوئے ان کے سر کو دھودیا کرتی تھی۔ نبی کا بقیہ جسم مسجد ہی میں رہتاتھا۔

احمد: 24608

یہ واضح طور پر ظاہرکرتا ہے کہ مسجد اور عائشہؓ کا گھر ایک ساتھ رہتا تھا۔

سمجھو کہ عائشہؓ مسجد کے اندر جا کر مصلیٰ لے کرآئے، وہ ہماری کیفیت کے خلاف نہیں ہوسکتا۔ ہماری کیفیت کے مطابق ہی ہوگا۔ مسجد میں حیض والی عورتیں اور غسل واجب والے ٹہرنانہیں چاہئے۔ لیکن اس سے گزرنے کے لئے مسجد میں جا سکتے ہیں، یہی ہماری کیفیت ہے۔ قرآن کی آیت بھی یہی کہتی ہے۔

دوسری حدیث میں کہا گیا ہے کہ نبی کریم ؐ نے مسجد میں رہتے ہوئے مصلے کو لے آنے کے لئے کہا۔اگر اس کو ایسا سمجھیں کہ گھر کے مصلے کوعائشہؓ نے لے آکر مسجد میں رہنے والے نبی کے پاس دئے تو یہ بھی ہماری کیفیت کے مطابق ہی ہے۔مسجد میں موجود ایک چیز کو حیض والی ایک عورت لے آسکتی ہے، یہ مطلب اوپر کی اس آیت میں ظاہر ہونے کی وجہ سے یہ عمل اس کے لئے تفصیل کا موجب پایا ہے۔

حیض والی عورتیں مسجد میں ٹہرنے کے لئے یہ دلیل نہیں ہو سکتا۔گزر کر جا نے کے لئے ہی دلیل ہے۔ ہماری بھی کیفیت یہی ہے کہ گزر کر جا سکتے ہیں۔

ہم اس پر بھی غور کرنا چاہئے کہ نبی کریم ؐ نے کہا حیض تو تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے!اس سے معلوم کر سکتے ہیں کہ مسجد کے اندر گھسے بغیر صرف ہاتھ کو مسجد کے اندر ڈال کر مصلے کو اٹھا کر دئے ہوں گے۔نبی کریم ؐ نے پوچھا کہ تمہارے ہاتھ میں تو حیض نہیں ہے، اس سے ہم جان سکتے ہیں۔ اس طرح اگر سمجھیں تو مسجد کے اندر صرف ہاتھ ہی لمبا کئے تھے، اس کو یہ دلیل ثابت ہوتی ہے۔

حیض والی عورتیں نماز نہیں پڑھنا ہے،اس لئے مصلے کو بھی چھونا نہیں چاہئے۔اس لحاظ سے عائشہؓ پس و پیش کئے ہوں گے۔ اس پس و پیش کو دور کر نے کے لئے ہی نبی کریم ؐ فرمائے ہوں گے کہ تمہارے ہاتھ میں تو حیض نہیں ہے!

چند روایات میں کہا گیا ہے کہ جب نبی کریم ؐ نے مصلیٰ پوچھا تو عائشہؓ نے کہا میں تو نماز پڑھنے کے قابل نہیں ہوں۔عائشہؓ سمجھے ہوں گے کہ حیض والی عورتیں مصلے کو چھونا بھی غلط ہے۔یہ مطلب بھی اس میں موجود ہے۔

یہ رائے رکھنے والے کہ حیض کی حالت میں رہنے والی عورتیں مسجد کے اندر جاسکتی ہیں، مندرجہ ذیل حدیث کو دلیل پیش کرتے ہیں۔

عائشہؓ فرماتے ہے:

ایک کالے رنگ کی کنیز نے عرب کے ایک خاندان والوں کی رشتہ دار تھی۔ (ایک لمبا واقعہ ہے) عائشہؓ نے فرمایاکہ (مسجد نبوی کے) مسجد میں اس عورت کا ایک اون والا خیمہ یا چھوٹا سا جھونپڑا تھا۔

بخارا: 429

مندرجہ خبر میں کہا گیا ہے کہ نبی کریمؐ نے ایک کالے رنگ کی عورت کے لئے مسجد میں ایک خیمہ بنا کر دیا ۔ عورتوں کو حیض پیدا ہو گا، وہ معلوم ہو نے کے باوجود نبی کریم ؐ نے اس عورت کو مسجد میں خیمہ بنا کر دی۔ حیض ہو نے والی عورتیں اگر مسجد کے اندر داخل ہو نا نہیں ہو تا تو کیا نبی کریم ؐ ایسا کئے ہوتے؟اس لئے ان لوگوں کا دعویٰ ہے کہ حیض والی عورتیں مسجد کے اندر داخل ہو سکتے ہیں۔

لیکن مندرجہ خبر میں حیض والی عورتیں مسجد میں آنے کے لئے کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔اس حدیث کو وہ لوگ سمجھنے میں غلطی کی ہے۔ حدیثوں میں مسجد کا لفظ نماز ہونے کی جگہ کو بھی کہا جا تا ہے اور مسجد کے ذاتی جگہ میں جہاں نماز نہ ہو تا ہو اس جگہ کو بھی کہا جا تا ہے۔ اس تفریق کو پہچانے بغیر وہ لوگ اس کو دلیل پیش کر تے ہیں۔

اس کی مثال کے لئے چند حدیثوں کو دیکھئے!

ہم جب نبی کے ساتھ تھے توایک آدمی اونٹ پرسوارہو کر آئے اور اونٹ کو مسجد میں بٹھا کر اس کو باندھ دیا۔

بخاری: 63

ہم یہ نہیں سمجھیں گے کہ اونٹ کو مسجد کے ا ندرنماز ہو نے کی جگہ پر لے آ کر باندھ دیا۔ بلکہ ہم یہی سمجھیں گے کہ مسجد کے احاطے میں مسجد کی خاص جگہ پر اونٹ کو باندھ دیا۔

اس حدیث کو دلیل بنا کرکوئی یہ نہیں کہے گا کہ مسجد کے اندر اونٹ کو باندھ کر رکھ سکتے ہیں۔

عائشہؓ نے کہا کہ ابی سینا والے مسجد میں تیرآزمائی کا کھیل کھیل رہے تھے۔ نبی کریم ؐ نے مجھے اس انداز سے چھپا لیا کہ اسے میں دیکھ سکوں ۔

دیکھئے: بخاری، 455، 988

اس کو ہم ایسا نہیں سمجھیں گے کہ ابی سینا والے مسجد کے اندر تیر اندازی کا کھیل کھیل رہے تھے۔ بلکہ ہم یہی سمجھیں گے کہ مسجد کے خاص جگہ کی میدان میں وہ کھیل رہے تھے۔

زنا کاری کرنے والے یہودی مرد اور یہودی عورت مسجد میں جنازہ رکھنے کی جگہ میں سنگ سار کردئے گئے۔

دیکھئے: بخاری، 1329، 3332، 4556

ہم سمجھ جائیں گے کہ مسجد کے قریب جنازہ نماز کے لئے ایک کھلا میدان تھا، اسی جگہ پر سنسگسار کردئے گئے ۔اس طرح نہیں سمجھیں گے کہ مسجد کے اندر سنگسار کی سزا کو تعمیل کر سکتے ہیں۔

جنگ خندق میں جب سعدؓ زخمی ہو گئے توان سے قریب رہ کر نبی کریمؐ دریافت کر نے کے لئے مسجد میں ایک خیمہ نسب کیا گیا۔ ان کے زخم سے خون بہہ رہا تھا۔

دیکھئے: بخاری، 463، 4122

مسجد کی خاص جگہ پر زخمی ہو نے والوں کے لئے جب ایک خیمہ نسب کیا گیا توسمجھئے کہ اس وقت وہ مسجد کی حیثیت کھودیتی ہے۔

نبی کریمؐ نے مسجد میں چٹائی سے ایک خیمہ بنا کر نماز پڑھی۔لوگ بھی ان کی پیروی کر تے ہوئے نماز پڑھنے لگے۔ اس کے بعد نبی کریمؐ کی آواز سنائی نہ دینے کی وجہ سے نبی کریمؐ باہر آنے کے لئے لوگوں نے کھنکھارکر دیکھا۔ نبی کریمؐ نے باہر آکر کہا کہ تم اپنے گھروں میں نماز پڑھ لیا کرو۔ فرض نماز کے سوا دیگر نمازیں تم اپنے گھروں میں پڑھنا ہی بہتر ہے۔

دیکھئے بخاری: 731، 7290

نبی کریم ؐ نے نصیحت کی کہ دیگر نمازیں مسجدمیں پڑھنا بہتر نہیں ہے۔ جو نصیحت انہوں نے کی اس پر عمل پیرا پہلے انہیں کو کرنا ہے۔ مسجد میں خیمہ نسب کر نے کے بعد اس کوانہوں نے مسجد نہیں سمجھا۔ اس سے ہم جان سکتے ہیں کہ اس کو وہ اپنا گھر سمجھ کر دیگر نمازوں کو پڑھ رہے تھے۔

اس سے کیا معلوم ہو تا ہے؟ یہی کہ مسجد سب کے لئے عام ہے، اس حال کوبدل کر مخصوص ایک آدمی کے لئے یامخصوص ایک عمل کے لئے الگ کیا ہوا ایک مقام ہی مسجد ہے، اس طرح کہاجانے کے باوجود مسجد کا قانون اس کے لئے نہیں ہے۔

ایک عورت کے لئے خیمہ نسب کیاگیا تووہ اس عورت کا حق ہوجائے گا۔ اس کے اندر کوئی بھی کسی بھی وقت داخل ہو نہیں سکتا۔ مسجد میں تو کسی بھی وقت کوئی بھی داخل ہو نے کا حقدار ہے۔ اس لئے اس حدیث کو حیض والی عورتیں مسجد میں ٹہر سکتی ہیں کے لئے دلیل ثابت کرناقابل قبول نہیں ہو سکتا۔

اگر کوئی کہے کہ مسجد میں جا کر میں پیشاب کر کے آیا تو اسے ہم کیسے سمجھیں گے؟مسجد کے احاطے میں جو پیشاب خانہ بنایاگیا ہے اس میں جا کر میں فارغ ہو کر آیا ہی سمجھیں گے۔ اس کو نماز پڑھنے کی جگہ نہیں سمجھیں گے۔

وہ لوگ اس کو دلیل ثابت کرتے ہیں کہ اصحاب صفہ غسل واجب کے ساتھ ہی مسجد میں ٹہرے ہوئے تھے۔یہ بات بھی اوپر دی ہوئی خبر جیسی ہی ہے۔ انہیں اصحاب صفہ کہا گیا ہے ، اس سے معلوم ہو تا ہے کہ مسجد کے احاطے میں مسجد کے علاوہ بھی ایک مقام رہا ہے۔

اس مقام میں اصحاب رسول کو اپنے گھر کی طرح استعمال کر نے کے لئے اجازت دی گئی تھی۔ مسجدکی ملکیت میں لیکن مسجد نہ ہونے کی صورت میں ایک مقام میں ٹہرتے وقت اگراحتلام ہوجائے تو وہ مسجد میں ہونے والی غلاظت نہیں ہوسکتی۔

ابوہریرہؓ نے فرمایا:

اللہ کے رسول ؐ نے نجد کی طرف گھوڑوں کی فوج کو روانہ کیا تھا۔ وہ لوگ بنو حنیفہ کی قوم والے (یمامہ کے لوگوں کاصدر)ثمامہ بن اثال نامی ایک شخص کو پکڑ لائے تھے۔ (مسجد نبوی کے)ایک ستون میں اس کو باندھ کر رکھا۔

بخاری: 469

یہ بھی مندرجہ بالا خبر جیسی ہی ہے۔ اس کو ایسا نہ سمجھ لینا کہ جو جگہ نماز پڑھنے کے لئے مقرر کیا گیا تھا اس جگہ میں باندھاگیا۔ مسجد کے احاطہ میں مختلف کام کے لئے جس طرح جگہ مقرر کیا گیا تھا اسی طرح قیدیوں کو باندھنے کے لئے بھی ستون تھے۔ اسی میں وہ باندھے گئے۔ اس کا مطلب یہی ہو گا۔

بخاری کی حدیث 462، 2422، 4372وغیرہ میں کہا گیا ہے کہ وہ مسجد کی ستون میں باندھے گئے اور نبی کریمؐ نے اس کے سامنے سے باہر نکلے۔ اس سے معلوم ہو تا ہے کہ مسجد کے باہر کی ستون ہی میں وہ باندھا گیا تھا، مسجد کے اندر نہیں۔

مندرجہ ذیل کی حدیث کو بھی وہ دلیل پیش کرتے ہے۔

عائشہؓ نے فرمایا:

ہم لوگ حج کر نے کی نیت سے نبی کریم ؐ کے ساتھ (مدینے سے )نکل پڑے۔ (مکہ کے قریب موجود) سرف کے مقام پر جب ہم آئے تومجھے حیض پیدا ہو گیا۔ اس حالت پر میں رو رہی تھی۔ نبی کریمؐ نے مجھ سے پوچھا کہ کیوں رورہی ہو؟ میں نے کہا کہ اس سال اللہ کی قسم میں حج نہیں کر سکتی۔ نبی نے پوچھا کہ کیا تمہیں حیض ہو گیا ہے؟ میں نے کہا کہ ہاں۔ نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ یہ آدم کی اولاد پر اللہ کا مسلط کردہ ایک قانون ہے۔ اس لئے حج کر نے والے جو جو عمل کر تے ہیں اس کو تم بھی ادا کردو۔ تاہم پاکیزہ ہو نے تک کعبۃاللہ کی طواف نہ کرو۔

بخاری: 305

اس حدیث میں نبی کریمؐ نے حیض میں مبتلا عائشہؓ کو اجازت فرما چکے کہ وہ طواف کے سوا باقی تمام عمل کر سکتے ہیں۔ اس لئے ایک فرقے والے دعویٰ کرتے ہیں کہ حیض والی عورتیں مسجد میں جا کر ٹہرنا گناہ نہیں ہے۔ ان کا یہ دعویٰ بھی غلط ہے۔

حیض میں مبتلا عائشہؓ کوطواف کے سوا دیگر تمام عمل کرنے کے لئے نبی کریم ؐ نے اجازت دیدی۔ باقی تمام عمل کر سکتے ہیں تو حیض والی عورتیں کیا کعبہ میں نماز پڑھ سکتی ہیں؟ کیا روزہ رکھ سکتی ہیں؟ ایسا سوال نہیں کر سکتے۔

حیض والی عورتیں نماز نہیں پڑھ سکتیں، روزہ نہیں رکھ سکتیں۔ اس کے لئے دیگر دلائل موجود رہنے کی وجہ سے طواف کے سوا سب کچھ کر سکتی ہیں میں نماز اور روزہ وغیرہ شامل نہیں ہیں۔اس کو ہم سمجھ سکتے ہیں۔

یہ آیت کہتی ہے کہ اسی طرح غسل واجب رہنے والے مسجد کے اندر داخل نہ ہوں،اس وجہ سے طواف کے سوا سب کچھ کر سکتی ہیں کے حکم میں مسجد کے اندر داخل ہونا شامل نہیں ہے۔ نبی کریم ؐ طواف کے سوا حج کر نے والے جو جو کرتے ہیں ان سب کو کرو کہنا صرف حج کے متعلق کا معاملہ ہے۔ اس میںیہ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ حج کے متعلق جو نہیں ہے ان تمام عمل اس میں شامل ہیں ۔

بغیرحج کے معاملے میں حیض والی عورتیں جو جو کر نے کی عام اجازت ہے انہیں حج کے موقع پر کر نے کے لئے اگر منع نہیں تو وہ کر سکتے ہیں۔ یہ عام اجازت کی بنیادپر ہے۔

حیض والی عورت کو اس کا شوہر اس سے صحبت کئے بغیر اپنی آغوش میں لینا، اس کی گود میں سر رکھ کر سونا وغیرہ شریعت میں اجازت ہے۔ لیکن حج میں رہنے والے اس طرح نہ کریں۔ کیونکہ حج کے موقع پر اس کو منع کیا گیا ہے۔ اس لئے نبی کریم ؐ نے عائشہؓ کوجوبات کہی تھی وہ حج کے متعلق کے معاملے میں طواف کے سوا سب کچھ کر لینا ہی ہے۔ بغیر حج کے معاملوں کو انہوں نے اجازت دی تھی سمجھنا بہت بڑی غلطی ہے۔

اس لئے حیض والی عورتیں مسجد میں ٹہرے نہ رہیں، اس بات کے لئے کئی دلیل موجود رہنے کی وجہ سے وہ لوگ کعبہ کے اندر بھی ٹہرے رہنا نہیں چاہئے۔

مندرجہ ذیل کی حدیث کو بھی دوسری رائے رکھنے والے دلیل ثابت کر تے ہیں۔

ابو ہریرہؓ نے فرمایا ہے:

غسل واجب کی حالت میں میں نے مدینے کی ایک گلی میں کھڑا تھا۔ تب نبی کریمؐ نے مجھ سے ملاقات کی۔ میں نے فوراًان سے ہٹ کر چھپ گیا۔ اس کے بعد میں گھر جا کر فوراً غسل کر کے آیا۔ نبی کریم ؐ نے پوچھا کہ اے ابو ہریرہ! اتنی دیر تم کہا ں تھے؟ میں نے کہا کہ میں غسل واجب کی حالت میں تھا۔ گندگی کی حالت میں میں آپ سے مل بیٹھنا پسند نہیں کیا۔ تو نبی کریم ؐ نے کہا کہ سبحان اللہ! ایک مسلمان (چھوت کی وجہ سے) گندہ نہیں ہو جاتا۔

بخاری:283

وہ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ حدیث کہتی ہے کہ چھوت کی وجہ سے کوئی گندہ نہیں ہو جاتا، اس وجہ سے غسل واجب رہنے والے اور حیض میں مبتلا رہنے والے مسجد میں آنا غلط نہیں ہے۔

قرآن مجید (5:6)حکم دیتاہے کہ جنابت والے پاکیزہ ہوجائیں ۔ اس لئے ایک مومن گندہ نہیں ہو سکتا کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جنابت والے غسل کئے بغیر نماز پڑھ سکتے ہیں۔

نماز پڑھنا، مسجد کے اندر آنا اور طواف کر نا وغیرہ کاموں کو جنابت کی حالت میں کر نا نہیں، اس کو شریعت منع کیا ہے۔ مسلمان گندہ ہو نہیں سکتا ، اس کو دلیل بنا کرکوئی یہ دعویٰ نہیں کر سکتا اور کرنا بھی نہیں کہ ایسے کاموں کو کر سکتے ہیں ۔

حیض والی عورتیں مسجد میں داخل ہو سکتی ہیں، اس کے لئے کوئی براہ راست سند نہیں ہے۔ اس لئے یہی صحیح ہے کہ حیض والی عورتیں مسجد میں نہ آئیں۔ کسی ضرورت کے خاطر مسجد سے گزرنا پڑا تو وہ تیزی سے اندر داخل ہو کر فوراًباہر آجانے میں کوئی غلطی نہیں۔

‏493۔ غلطی کر نے والے محمداورغلطی نہ کر نے والے عیسیٰ

‏یہ آیتیں4:106، 9:43، 23:118، 48:3، 110:3 کہتی ہیں کہ محمد نبی نے غلطی کی تھی۔ اور یہ آیت 34:36کہتی ہے کہ عیسیٰ ‏کوشیطان نے چھوا نہیں۔ 

ان آیتوں کو دکھا کر بعض عیسائیوں نے مسلمانوں کے درمیان الجھن پیدا کر رہے ہیں کہ محمد نبی سے عیسیٰ نبی ہی بہتر ہیں۔

قرآن مجید خو دعیسیٰ کو فضیلت دی ہے ، اس طرح دعویٰ کرنے والے عیسائی قرآن پر ایمان لا کر یہ سوال نہیں کر تے، بلکہ صرف بیکار حجت کے لئے ‏سوال کر رہے ہیں۔ 

قرآن کو دلیل بناتے ہوئے اگر وہ حجت کر تے توقرآن میں جو کچھ ہے ان سب پر انہیں ایمان لانا ہو گا۔ قرآن جو کہتا ہے کہ عیسیٰ اللہ کے بندے ہیں، ‏اللہ کا بیٹا نہیں ہیں، عیسیٰ مارے بھی نہیں گئے اور زندہ بھی نہیں ہوئے، ایک دوسرے کی گناہوں کا بوجھ کوئی دوسرا نہیں اٹھاسکتا، اس پر وہ لوگ ‏ایمان نہیں لاتے۔ 

قرآن کے بارے میں ان لوگوں کا یقین ہی ان کے اس دعوے کے لئے جواب ہے۔ان لوگوں کا بھروسہ ہے کہ قرآن مجید محمد نبی کی قیاس ہے۔ ‏اگر وہ نبی کا قیاس ہو تا تو وہ اپنے بارے میں پاکباز اور معصوم ظاہر کر نے کے لئے کتنا وقت لگتا؟ اس طرح بھی لکھ دینا انہیں بہت آسان تھا کہ عیسیٰ ‏ایک گنہ گار تھے ۔ 

لیکن قرآن مجید کہتا ہے کہ محمدنبی نے غلطی کی تھی۔ اس لئے اس سے ثابت ہو تا ہے کہ یہ محمد نبی کا قول نہیں ہے۔ قرآن مجید کلام اللہ ہے ، اس کے ‏لئے یہ آیتیں عظیم دلیل ہیں۔اس پروہ لوگ غور کرنا چاہئے۔ 

محمد نبی نے غلطی کی تھی، جس حد تک یہ سچ ہے اسی حد تک یہ بھی سچ ہے کہ عیسیٰ نبی نے بھی غلطی کی۔ یہی بے میل حقیقت ہے۔ 

غلطی کرنے کو وہ لوگ اس طرح سمجھ کر سوال کر رہے ہیں کہ قتل و غارت، زنا کاری اور چوری وغیرہ ہی غلطی ہے۔ ایسی کوئی گناہ نہ محمد نبی نے کی ‏اور نہ ہی عیسیٰ نے۔

گناہ کا مطلب بہت وسیع ہے۔ اللہ کا ناپسندیدہ عمل اور باتیں تمام گناہ ہی ہے۔ 

مسلمانوں کا بھروسہ ہے کہ پہلے انسان آدم نے گناہ کیااور عیسائی بھی اس کو مانتے ہیں۔ مگر عیسائی اس کو سخت گناہ سمجھتے ہیں کہ وہ گناہ نسل در نسل ‏متواتر چلتی آرہی ہے۔

آدم نے قتل یا لوٹ یا بدکاری نہیں کی۔بلکہ ان کی خطا یہ تھی کہ منع کئے ہوئے درخت کو چکھ لیا۔ایسی خطائیں ہی انبیاء بھی کردیتے ہیں۔ 

بائبل کی لحاظ سے بھی دیکھا گیا تومعلوم ہو تا ہے کہ عیسیٰ نے خطا کی تھی۔ 

بائبل کی حزقی ایل 18:20میں کہا گیا ہے کہ گناہ کر نے والی روح ہی مرتی ہے۔

گناہ کر نے والا کوئی بھی ہووہ مرے گا ہی ، بائبل کے اس عقیدے کے مطابق عیسیٰ مر جا نے کی وجہ سے یہ ثابت ہو تا ہے کہ عیسیٰ نے گناہ کی۔ ‏اسلامی عقیدہ بھی کہتا ہے کہ اس کے بعد عیسیٰ مرنے والے ہیں، اس لئے وہ بھی مرنے والے ہیں۔ 

بدروح کہنے والے عیسائی اورشیطان کہنے والے مسلمان جس بری قوت کومانتے ہیں اسی کی غلبہ سے انسان خطا کر تا ہے۔ 

بائبل (متی 4:1-10) کہتی ہے کہ عیسیٰ بھی شیطان سے آزمائے گئے۔ 

شیطان سے عیسیٰ آزمائے گئے،اس سے ثابت ہو تا ہے کہ وہ بھی خطا کئے تھے۔ 

گناہ ہی نہ کر نے والے کے معنی سے جب ایک شخص عیسیٰ کی تعریف کی تو عیسیٰ نے اس کا انکار کیا تھا۔ 

عیسیٰ نے کہا کہ تم کیوں مجھے نیک کہتے ہو؟ اللہ کے سوا کوئی بھی نیک نہیں ہے۔ (مرقس، 10:18)

عیسیٰ نبی نے کہا کہ کوئی بھی انسان سو فیصد نیک نہیں ہو سکتا،میں بھی ان جیسے ہی ہوں۔ کیا اس سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ بھی خطا کار ہیں۔ 

بائبل (یوحنا ، 9:31)کی تعلیم یہ ہے کہ نیکوکار جب اللہ سے دعا کرتے ہیں تو کوئی دعارد نہیں ہوتی۔ گناہ گاروں کی درخواست پراللہ کبھی کان نہیں ‏دھرتا۔ 

لیکن عیسیٰ نے جب صلیب پر لٹکا ئے گئے تو اپنے کو بچانے کے لئے انہوں نے منت سماجت کی۔(متی، 26:38-45، مرقس، 14:36، لوقا، ‏‏22:44)لیکن ان کی گزارش کو اللہ نے قبول نہیں کیا۔

اگرعیسیٰ خطا نہ کئے ہو تے تو ان کی گزارش کو اللہ نے قبول کیا ہوگا۔ 

بائبل (امثال 23:29-35)کہتی ہے کہ شراب نوشی گناہ ہے۔ لیکن اسی بائبل (متی، 11:19)میں کہا گیا ہے کہ عیسیٰ شراب کے دل دادہ ‏تھے۔

جب ایک عورت بدکاری کر نے لگی تو عوام پکار اٹھے کہ قانون کے مطابق اس کو سنگ سار کریں۔تب عیسیٰ نے کہا کہ جو اب تک بدکاری نہیں کی وہ ‏اس پر پتھر پھینکے۔ (یوحنا، 8:3-11)

اگر عیسیٰ خطاکار نہیں ہو تے تو وہ خود بھی اس کو سزا دینا چاہئے تھا؟ 

امثا ل کے حد کو پار کرنا بھی گناہ ہے۔ امثال کا فیصلہ یہ ہے کہ زناکاری کر نے والے کو سنگ سارکی سزا دینی چاہئے۔ لیکن اس پر عمل پیرا ہو نے کے ‏بجائے اس کو عدل قرار دینا بھی ایک اور گناہ ہے۔ 

بائبل کا اصول ہے (متی، 3:6)کہ گناہ کر نے والے اصطباغ حاصل کر نا چاہئے۔ 

متی 3:13 کہتی ہے کہ جس طرح تمام اصطباغ حاصل کئے تھے اسی طرح عیسیٰ بھی اصطباغ کئے۔ 

دوسروں کو گالی دینا اور حقارت سے بات کر نا بھی گناہ ہے۔ لیکن جنہوں نے معجزہ دکھانے کے لئے کہا تھا ان لوگوں کوعیسیٰ نے گالی دی تھی کہ وہ ‏بڑے ہی بدکاری کے نسل ہیں۔ 

معجزہ دکھانے کو اگر پوچھا جائے تو کہنا چاہئے تھا کہ کرتا ہوں یا نہیں۔ پوچھنے والوں کو ہی نہیں بلکہ ان کی ماؤں کو بھی ملاکر بدکار کہنا(متی،12:39، ‏مرقس، 16:4) ، کیا کوئی عیسائی کہہ سکتا ہے کہ وہ گناہ نہیں؟ 

ایک غیر ذات کی عورت نے عیسیٰ سے پوچھا کہ مجھے بھی تعلیم دیجئے۔ عیسیٰ نے اس مطلب سے کہ صرف اسرائیل ہی انسان ہیں اور دوسرے سب ‏کتے ہیں ، کہا کہ بچوں کی روٹی کتوں کو کھلانا ٹھیک نہیں ہے۔ (متی، 15:26، مرقس، 7:27) کیا یہ گناہ نہیں ہے؟

انجیر کے درخت میں پھل نہیں تھا، اس لئے اس پر لعنت بھیجنا کیا گناہ نہیں تھا؟ (دیکھئے: متی، 21:19)

اس طرح بائبل کو پڑھ کر دیکھو توہمیں دکھائی دے گا کہ عیسیٰ نے اکثرغلطیاں کی ہیں۔ اگر تم بائبل کو مانتے ہو تویہ بھی ماننا پڑے گا کہ عیسیٰ نبی نے ‏بہت سی غلطیاں کی تھیں۔ 

اسلام کہتا ہے کہ عیسیٰ کو شیطان نے چھوا نہیں ، اگر اس کو دلیل دکھایا گیا تو اس کے معنی کو اسلام ہی سے معلوم کر سکتے ہیں۔ شیطان نے چھوا نہیں، ‏اس کا معنی کیا ہے، اس کو بھی نبی کریم ؐ نے تشریح فرمادی ہے۔ 

نبی کریمؐ نے فرمایا کہ پیدا ہو نے والا بچہ کچھ بھی ہو وہ پیدا ہو تے وقت اس کو شیطان چھو لیتا ہے۔ شیطان چھونے کی وجہ سے وہ بچہ فوراً چیخنے لگتا ہے۔ ‏لیکن مریم اور اس کے بیٹے کے سوا۔

بخاری: 4548

بچہ پیدا ہو تے وقت شیطان کے ذریعے چھوئے جانے کی وجہ سے بچہ رونے لگتا ہے۔اسلام کہتا ہے کہ اس سے عیسیٰ نبی بچائے گئے۔ لیکن اسلام یہ ‏نہیں کہا کہ اس کے بعد وہ خطا نہیں کریں گے۔ ہر انسان خطا کر نے والا ہی ہے، اس بنیادی صریح عقیدے کواسلام اپنایا ہوا ہے۔ 

اور زیادہ تفصیل کے لئے حاشیہ نمبر 459 کو دیکھیں!

More Articles …