Sidebar

28
Sun, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

قرآن نازل ہو نے کے واقعات

قرآن مجید نبی کریم ؐ نے خود ہی نہیں بنایا۔ اگر اس کو رب ہی نے اتارا ہے تو وہ کس طرح اتارا؟ ان سوالات کے جواب سے بھی واقف ہو نا ضروری ہے۔ 

نبی کریمؐ سے پہلے بہت سے پیغمبربھیجے گئے تھے۔ 

سب سے پہلے آدمی آدم سے لے کر نبی کریمؐ تک کتنے پیغمبر گزرے ہیں، یہ تو قرآن نے نہیں کہا، لیکن یہ کہتا ہے کہ بہت سے پیغمبر بھیجے گئے۔

 نبی کریم ؐ سے پہلے جو بھی رسول بھیجے گئے وہ سب ایک خاص زبان والوں کے لئے، خاص نسل کے لئے یا کوئی خاص قوم کے لئے بھیجے گئے۔ ان ان کے زبان میں لوگوں کو نیک راہ میں لانے کے لئے رب نے جو پیغام بھیجا وہی کلام الہٰی ہے۔

نبی کریم ؐ کے زمانے سے پہلے جتنی بھی زبانیں تھیں،قرآن کی آیت 14:4 کہتی ہے کہ ہر زبان کے لئے رسول بھیجے گئے ۔

اس طرح بھیجے گئے رسولوں میں نبی کریم ؐ ہی آخری رسول ہیں۔ ان کے بعد دنیا فنا ہو نے تک کوئی بھی رسول بھیجا نہیں جائیگا۔

نبی کریم ؐ ہی آخری رسول ہیں، اس کی سند کے لئے دیکھئے آیت نمبر 4:79، 4:170، 7:158، 9:33، 10:57، 10:108، 14:52، 21:107، 22:49، 25:1، 33:40، 34:28، 62:3۔ اور حاشیہ نمبر 187بھی ملاحظہ کیجئے۔ 

دوسرے پیغمبروں کو ایک مخصوص قوم کے لئے یا ایک مخصوص زبان کے لئے بھیجا گیا تھا۔ لیکن نبی کریم ؐ کو سارے عالم کے لئے پیغمبر بنا کر بھیجا گیا ہے۔ 

انہیں جو کلام الہٰی، قرآن نازل کیا گیا تھا اس کے بعد دنیا میں کوئی کلام الہٰی نازل نہیں کیا جائے گا، اس لئے یہ قرآن حکیم آخری کتاب کہلاتا ہے۔ 

عربی زبان میں کیوں اتارا گیا؟

بعض لوگ خیال کر سکتے ہیں کہ سارے عالم کے لئے رہنمائی کر نے والی یہ کتاب عربی زبان میں کیوں اتارا گیا؟

اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ عربی زبان ہی آسمانی زبان ہے اور وہی دنیا کی بہترین زبان ہے ۔ بلکہ اسلام کہتا ہے کہ ہر زبان مساوی ہے۔ اسلام کا عقیدہ یہ ہے کہ زبان کی بنیاد پر کوئی اونچ نیچ کی تعلیم نہ دے۔ 

اگر ایسا ہو تو عربی زبان میں کیوں اس کتاب کو اتارا گیا؟ 

اسلام صرف عربوں ہی کے لئے نہیں، بلکہ دنیا کی ہر زبان والوں کے لئے نازل شدہ زندگی کا اصول ہے۔ 

مختلف زبان بات کر نے والوں کے لئے ایک زندگی کا اصول دے کراگر ایک رہنما بھیجا جائے تو کسی ایک زبان ہی میں بھیج سکتے ہیں۔

وہ زندگی کا اصول کسی بھی زبان میں ہو تو دوسری زبان بات کر نے والے ایسے سوالات اٹھائے بغیر نہیں رہ سکتے۔

 ایسا کوئی انتظام نہیں ہو سکتا کہ کوئی بھی ،کسی قسم کے سوالات نہ اٹھا سکے۔ عربی زبان کے بدلے اگرتامل زبان میں نبی کریم ؐ کو بھیجا گیا ہو تا تو یہی سوال دوسری زبان والے پوچھے بغیر نہیں رہ سکتے۔

اس لئے عالمی یکجہتی کو خیال میں رکھتے ہوئے کر نے والے کاموں میں زبان کے احساس کو اہمیت دیتے ہوئے علمی یکجہتی کو پامال نہ کرے۔

 ہمارے اس ہندوستان میں مختلف زبان بولنے والے لوگ آباد ہیں۔ لیکن ہمارے اس دیش کے لئے قومی ترانہ بنگالی زبان میں ہے، اس کو ہر زبان والے اختیار کئے ہو ئے ہیں۔ اس طرح اختیار کر لینے سے کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ہندوستان میں سب سے مقدم زبان بنگالی ہے اور باقی تمام زبانیں مہمل ہیں۔ 

ملک کی یکجہتی کے لئے زبانی احساسات کو ہٹا کر اجنبی زبانوں کو اختیار کئے ہوئے ہیں۔ 

اسی طرح عالمی یکجہتی کے لئے اور سارے عالم کے لوگ ایک ہی راستے کی طرف مائل ہو نے کے لئے بعض معاملوں میں زبانی احساسات کو ہٹاکر رکھنے سے انسانی نسل کو کوئی خرابی نہیں ہو سکتی۔ بلکہ عالمی اتفاق کی بڑی بھلائی ہاتھ آسکتی ہے۔

کسی ایک زبان ہی میں ایک عالمی پیامبر کو بھیجا جا سکتا ہے۔ اس بنا پر کہ نبی کریم ؐ کی مادری زبان عربی ہے، قرآن مجیدعربی میں اتارا گیا۔ قرآن مجید کو عربی زبان میں اس لئے نہیں اتارا گیا کہ دنیا میں یہی زبان بہترین زبان ہے۔ 

(صرف عربی زبان ہی آسمانی زبان نہیں، یہ جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 227 دیکھئے۔ )

قرآن کس طرح نازل ہوا؟

یہ جان لینا ہمارے لئے بہت مفید ہے کہ نبی کریم ؐ کب اور کس طرح رسول بنائے گئے اور قرآن مجید کس طرح نازل ہوا ۔ 

نبی کریم ؐ کا ذاتی نام محمد ہے۔ آج کے سعودی عربیہ کے شہر مکہ میں 570 ؁ء میں پیدا ہوئے۔ 

ماں کے پیٹ میں رہتے وقت ہی وہ اپنے والد سے محروم ہو گئے اور بچپن ہی میں اپنی ماں سے بھی محروم ہوگئے۔ والدین سے محروم ہو نے کے بعد ان کے دادا عبدالمطلب انہیں اپنے ذمہ داری میں لے کر پرورش کر نے لگے۔

ان کی موت کے بعد نبی کریم ؐ نے اپنے چچا ابوطالب کی ذمہ د اری میں پل کر جوانی کو پہنچے۔ 

وہ اپنی بچپن میں بکرے چرایا کر تے تھے۔ کچھ بلوغت حاصل کرنے کے بعد اپنے چچا کے ساتھ مل کر بیوپار بھی کئے تھے۔

بیوپاری سلسلے میں نبی کریم ؐ نے کئی غیر ملکوں کا سفر بھی کیا ہے۔ 

پچیسویں عمر میں اپنے سے بڑی عمر والے خدیجہ سے نکاح کیا جو بیوہ تھیں۔ 

اس زمانے میں ان کی قوم میں وہ بہت ہی حیثیت مند رہنے کی وجہ سے نبی کریمؐ بھی اپنی پچیسویں عمر میں بہت بڑے مالدار بن گئے تھے۔ 

قرآن نازل ہو نے کا زمانہ

نبی کریم ؐ کے زمانے میں جولوگ تھے وہ کئی معبودوں کو ماننے والے تھے۔

بے حد باطل عقیدے میں مبتلا تھے۔

* معبودوں کو ننگے ہو کر عبادت کر تے تھے۔

* لڑکیوں کی پیدائش کو انہوں نے تحقیر سمجھا کر تے تھے اور ان کی عادت بن گئی تھی کہ جب لڑکی پیدا ہو تو اس کو زندہ گاڑدیتے تھے۔

* بے حد شراب پیا کر تے تھے۔

* شہوانی خواہشات میں ڈوبے ہو ئے تھے۔

* عورتوں کو انہوں نے بیل بکریوں جیسا سمجھتے تھے۔

* اگر باپ مر جائے تو اس کی بیوی کو استعمال کر نا ان کا معمول بن گیا تھا۔

* ذات پات کا جھگڑا ہر جگہ پھیلاہوا تھا۔

 * یہ قانون بنا دیا گیا تھا کہ نبی کریم ؐ جس خاندان میں پیدا ہوئے وہ قریشی خاندان ہی بہت اعلیٰ خاندان اور باقی کے تمام حقیر ہیں۔

* ان کے درمیان زبان کی دیوانگی اتنی شدت سے تھی کہ صرف عربی بولنے والے ہی انسان ہیں اور دوسری زبان بولنے والے عجمی (یعنی چوپائے)ہیں۔

* کسی کو جان سے ماردینا بہت ہی چھوٹا گناہ ہے ، یہاں تک بھی وہ ماننے کے لئے تیا ر نہیں تھے۔صرف ادنیٰ سا ایک جھگڑے کے لئے بھی وہ قتل کر دیا کرتے تھے۔

* اپنی خاندان میں سے کوئی قتل کیا گیا توقاتل سے انتقام لئے بغیر وہ چھوڑتے نہیں تھے۔ اگر ان سے نہیں ہو سکا تو اپنی اولاد سے کہہ کر جاتے تھے۔ دس نسلوں کے بعد بھی قاتل کے خاندان سے کسی کو قتل کر کے حساب برابر کر دیا کرتے تھے۔

ایسے حالات کو دیکھ کر نبی کریم ؐ نے بیزار ہو کرباقاعدگی سے انہیں احساس ہو نے لگا کہ اپنی اس قوم کی کاروائی ٹھیک نہیں ہے۔

اس لئے اپنی چالیسویں عمر میں مکہ کے باہر حرا نامی ایک غار میں جا کر تنہائی میں غورو فکر کر نے کی عادت ڈال لی۔

کئی دنوں کے لئے ضروری غذا لے کر غار ہی میں ٹہر جاتے تھے۔ کھانے پینے کی چیزیں ختم ہو تے ہی پھر گھر واپس آکر غذا تیا ر کر کے پھر اسی غار میں واپس چلا جایاکر تے تھے۔

اس طرح غار میں جب وہ رہے تو ایک دن آسمان اور زمین کو چھونے کی انداز سے ایک عظیم شکل میں ایک شخص کواپنے سامنے کھڑے ہوئے پایا۔ وہی جبرئیل نامی فرشتے ہیں۔

انہوں نے نبی کریم ؐ کوبھینچ کر سینے لگایا اور کہا کہ پڑھو۔ نبی کریم ؐ نے کہا کہ مجھے پڑھنا نہیں آتا۔

انہوں نے پھر کہا کہ پڑھوتو پھر نبی نے کہا مجھے پڑھنا نہیں آتا۔ پھر سے انہوں نے نبی کریم ؐ کو سینے سے لگا کرچند جملے کہے کہ تمہیں پیدا کر نے والے رب کے نام سے پڑھو ۔

(یہ چھیانوے سورت کی پہلی پانچ آیتیں ہیں۔)

اسی طرح نبی کریم کو ؐ اللہ کا رسول بنا کر پہلا پیغام بھی نازل ہوا۔ تاہم نبی کریم ؐ گھبرا کر خوفزدہ ہوگئے۔اس بات کو وہ اپنی بیوی سے آکر کہا۔

ان کی بیوی خدیجہ نے انہیں دلاسہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تمہیں ہاتھ نہیں چھوڑے گا۔ دوسروں کی تم مدد کر تے ہو۔ غریبوں پر تم فیاض ہو۔رشتہ داروں سے اچھا سلوک کرتے ہو۔ اس لئے اللہ تمہیں ہاتھ نہیں چھوڑے گا۔

 پھر بھی ان کی تسلی خاطر خواہ اثر نہ دکھانے کی وجہ سے خدیجہ نے نبی کریمؐ کو اپنے ایک رشتہ دار ورقہ کے پاس لے گئیں۔اس نے گزری ہوئی کتابوں مطالعہ کر رکھا تھا اور عیسائی مذہب اختیار کیا ہو ا تھا۔

اس نے یہ کہہ کر امید دلائی کہ تم اللہ کے رسول مقرر کئے گئے ہو۔تم اس حال سے بھی دوچار ہو گے کہ تمہاری قوم تمہیں شہر سے نکال دے گی۔ کیونکہ اللہ کے پیغمبر جب تبلیغ کر تے ہیں تو ایسا ہی ہو تا آرہا ہے۔ (بخاری: 2)

اس طرح آغاز ہو نے والے وحی کی آمد تھوڑا تھوڑا سا ، موقع کے لحاظ سے 23 سال تک سلسلہ وار آتا رہا۔

23 سال کے عرصہ میں رفتہ رفتہ نازل ہو نے والے وحی کا مجموعہ ہی قرآن کریم ہے۔

قرآن مجید نبی کریم ؐ پر کس طرح نازل ہوا، اس کو تفصیل سے جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 492کا مطالعہ کیجئے۔

قرآن ترتیب دینے کے واقعات

نبی کریم ؐ کے دل میں

نبی کریم ؐ کو جب جب قرآن نازل ہو تا تھا اس کو وہ اپنے دل میں درج کر تے جاتے تھے۔

اس طرح دل میں درج کر نے کے لئے ابتدا میں انہیں بہت تکلیف ہو تی تھی۔ قرآن ہی کے ذریعے انہیں اطلاع کی گئی کہ اس کی ضرورت نہیں ہے۔ 

قرآن کریم نے کہہ دیا کہ بار بار پڑھ کر حفظ کر نے کے لئے تم کوشش مت کرو۔ اس کو تمہارے دل میں جمع کر دینا ہمارا ذمہ ہے ۔ دیکھئے آیت نمبر: 75:16-19، 20:114۔

پھر ایک جگہ میں (آیت نمبر :87:6)اللہ یقین دلاتا ہے کہ ہم تمہیں پڑھ کر سنائیں گے، تم نہیں بھول پاؤگے۔ 

اس لئے جبرئیل نامی فرشتے مزید آیتیں بھی سنادیں تو ٹیپ رکارڈر کی طرح وہ نبی کریم ؐ کے دل میں جذب ہوجاتا تھا۔ 

اللہ نے ان کو اپنا رسول معین کر نے کی وجہ سے انہیں اس طرح کی ایک مخصوص قابلیت عطا فرمائی تھی۔ اس لئے ہم سمجھ ہی نہیں سکتے کہ اللہ کی طرف سے آنے والی خبروں میں کوئی بھی خبر نبی کریم ؐ نے بھول کر چھوڑ دئے۔

نبی کریم ؐ کے دل میں قرآن مجید اسی طرح حفاظت کیا گیا۔

صحابیوں کے دلوں میں

نبی کریم ؐ نے پہلے جس قوم سے ملاقات کی، وہ قوم لکھنا پڑھنا نہ جانتی تھی۔ لیکن بہت زیادہ حافظہ کی قوم تھی۔ 

آج بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ عام طورسے لکھنا پڑھنا نہ جاننے والے تیز حافظہ کے مالک ہو تے ہیں۔ اس مجبوری کی وجہ سے کہ حافظہ ہی کے ذریعے ہم کسی چیز کو حفاظت کر سکتے ہیں، ایسے لوگوں کا حافظہ اور بھی زیادہ بڑھ جاتا ہے، اس بات کو سب لوگ جانتے ہیں۔ 

لکھنا پڑھنا نہ جاننے والی اس قوم کے لوگوں میں جونبی کو ماننے والے تھے، انہیں نبی کریم ؐ نے اپنے پر نازل شدہ آیتوں کو سنا دیا کرتے تھے۔اس کوسناتے ہی وہ لوگ فوراً یاد کرلیا کرتے تھے۔ 

اگر قرآن مجید ایک ساتھ ایک ہی دن میں یاچند ہی دنوں میں اتارا گیا ہوتا تواس قوم کے لئے اس کو یاد کر لینا مشکل ہوجاتا۔

تےئیس سالوں میں قرآن مجیدتھوڑا تھوڑا نازل ہونے کی وجہ سے اس کو یاد کرلینا ان لوگوں کے لئے آسان تھا۔ تےئیس سال کی مدت میں آٹھ ہزار دنوں سے زیادہ ہے۔ لگ بھگ چھ ہزار آیتوں والے قرآن کو اگر تم ہرروز ایک آیت کے حساب سے بھی حفظ کروگے تو آٹھ ہزار دنوں میں پورا قرآن حفظ کر سکتے ہیں۔

جو کچھ حفظ کیا جاتا ہے اس کو بھلائے بغیر رہنے کے لئے اسلام میں نبی کریمؐ نے ایک بہترین انتظام کیا۔وہ انتظام یہ ہے کہ پانچ وقت کی نماز میں اور نفلی نمازوں میں قرآن میں سے چند آیتیں پڑھ لینا چاہئے۔ 

قرآن کے حفظ کر نے والے مسلم اس کو بھولے بغیر رہنے کے لئے وہ انتظام مددگار ثابت ہوا۔اور حفظ نہ کر نے والے بھی نماز میں پڑھنے کے لئے قرآن کو حفظ کر نا، وہ انتظام مددگار ثابت ہوا۔

نبی کریم ؐ نے ان پر نازل ہونے والی آیتوں کولوگوں تک پہنچانے کے لئے بہت ہی مشقت کر نا پڑا۔ 

جہاں کہیں بھی مسلمان رہتے ہوں انہیں قرآن سکھانے کے لئے اپنے چند اصحاب کو روانہ کیا۔ دلوں کے اندرقرآن محفوظ رہنے کے لئے یہ اوربھی زیادہ مصمم ثابت ہوا۔ 

اس کے سوا ہر سال ایک بار جبرئیل نے نازل شدہ آیتوں کو پھر ایک بار یاد دلاتے، اس کو درست کر تے اور ترتیب دے کر چلے جاتے۔

معتمداحادیث کے کتابوں میں درج ہے کہ نبی کریم ؐ کے وفات پانے والے آخری سال میں جبرئیل نے دو بار آئے اور اسی طرح ترتیب دے کر چلے گئے۔دیکھئے بخاری کی حدیث 6، 1902، 3220، 3554، 4998۔

اس طرح قرآن مجید لوگوں کے دلوں میں حفاظت کیا گیا۔ کئی صحابیوں نے قرآن مجید کوپوری طرح سے حفظ کر رکھا تھا۔

خصوصاً ابو بکرؓ، عمرؓ ، عثمانؓ ، علیؓ ، طلحہؓ ، سعدؓ، ابن مسعودؓ ، حذیفہؓ ، سالمؓ، ابوہریرہؓ، ابن عمرؓ ، ابن عباسؓ ، عمر بن عاصؓ، عبد اللہ بن عمرؓ، معاویہؓ ، عبد اللہ بن زبیرؓ، عبداللہ بن صاعبؓ ، عائشہؓ ، حفصہؓ ، ام سلمہؓ ، ابی بن کعبؓ، معاذ بن جبلؓ ، زید بن ثابتؓ، ابو درداءؓ ، مجمہ بن حارثہؓ، انس بن مالکؓ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ 

ان اصحاب میں کئی لوگ نبی کریم ؐ کے زمانے ہی میں قرآن مجید حفظ کر چکے تھے۔ اور بعض لوگ نبی کریم ؐ کے وفات کے بعد حفظ کئے تھے۔ 

قرآن مجید کی آیت 29:49 کہتی ہے کہ اس طرح عالموں کے دلوں میں قرآن محفوظ کیا گیا۔

تحریری شکل میں

صرف عالموں کے دلوں میں حفاظت کر نے تک ہی اس کو نہیں چھوڑا گیا بلکہ اس سماج میں لکھنا جاننے والوں کو بلا کر جب بھی کوئی وحی اترتی ہے تو اس کو فوراً نبی کریم ؐ درج کر دیا کرتے تھے۔ 

اس طرح درج کر نے کے لئے جنہیں انتظام کیا گیا تھا ان میں سے ابو بکرؓ، عمرؓ ، عثمانؓ ، علیؓ ، معاویہؓ ، عفان بن سعیدؓ ، خالد بن ولیدؓ ، ابی بن کعبؓ ، زید بن ثابتؓ ، ثابت بن قیسؓ، وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

نبی کریم ؐ ان کاتبوں کوجو کہتے جاتے وہ اس کو کھجور کے درخت کی چھالوں میں، سفید پتھرکی تختیوں میں، دباغت کئے ہوئے کھالوں میں،چوپایوں کے چوڑے ہڈیوں میں لکھ لیا کر تے تھے۔ اس وقت کی قوم انہیں چیزوں کو لکھنے کے لئے استعمال کرتی تھی۔

اس طرح لکھی ہوئی چیزیں نبی کریم ؐ کے گھر میں رکھی ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ قرآن مجید جنہوں نے حفظ کیا تھاوہ خود بھی لکھ کر رکھ لئے تھے۔

اسی طرح نبی کریم ؐ کے زمانے میں نازل شدہ پورا قرآن صحابیوں کے دلوں میں اور لکھی ہوئی چیزوں میں محفوظ کیا گیاتھا۔ یہ تمام انتظام نبی کریم ؐ کے زمانے میں کیا گیا تھا۔

حاشیہ نمبر 312 اور 461 دیکھئے۔ 

ابوبکرؓ کی خلافت میں ۔ ۔ ۔

بنی کر یم ؐ کی وفات کے بعدابوبکرؓ نے خلافت سنبھالا۔ ان کی خلافت کے زمانے میں ہجری کی بارہویں سال میں یمامہ نامی ایک جنگ چھڑا۔

مسیلمہ نامی ایک شخص نے خود کو رسول اعلان کر کے اپنے لئے ایک گروہ بنا لیا تھا۔ اس علاقے میں جو اسلام قبول کر چکے تھے انہیں کئی طرح کی تکلیفیں دینے لگا تھا۔ اسی لئے اس کے خلاف ہی یہ جنگ چھڑا تھا۔ اس جنگ میں کم از کم ستر اصحاب مارے گئے جو حافظ قرآن تھے ۔

اس واقعہ کے بعد عمرؓ نے ابوبکرؓ سے مل کر قرآن مجید کو تحریری شکل میں ترتیب دینے کے لئے زور دینے لگے۔شروع میں ابوبکر ؐ نے عمرؓ کی اس درخواست کو قبول کر نے سے تھوڑا تامل کیا۔ 

ان کی تامل کی وجہ یہ تھی کہ نبی کریم ؐ نے جو کام نہیں کی تھی اسے ہم کیسے کریں!عمرؓ نے اپنی طرف کے حقائق کو زور دے کر تشریح کرنے لگے کہ یہ کام تواب کرنا بہت ہی ضروری ہو گیا ہے۔ اس کے بعد ہی ابوبکرؓ نے اس کو مانا۔ اس وقت قرآن مجید کے حفظ کر نے والوں میں اور لکھنے والوں میں شہرت یافتہ نوجوان زید بن ثابتؓ کو ابو بکرؓ نے بلابھیجا اور ان کے پاس اس ذمہ داری کو سونپا۔

انہوں نے بھی اس ذمہ داری کو منظورکر کے قرآن مجید کو ترتیب دینے میں مشغول ہوگئے۔ 

(دیکھئے بخاری: 4988 اور 4989۔ )

نبی کریم ؐ کی زندگی میں جبب بھی کوئی آیت نازل ہو تی ہے تو وہ فرمادیا کر تے تھے کہ اس آیت کو اس آیت کے پہلے درج کرو، اس آیت کو اس آیت کے بعد لکھو، اور ان آیتوں کو ان معنی والے سورت میں رکھو۔ اسی طرح اصحاب لکھ لیا کر تے تھے اور یاد بھی کرلیا کر تے تھے۔

(دیکھئے: ترمذی ۔3011)۔

آج ہم جو قرآن پڑھتے ہیں اس کی ہر ایک سورت میں جس طرح آیتیں ترتیب دی گئی ہیں ، وہ ہمارے نبی کریم ؐ دکھائے ہوئے طریقے ہی پر تشکیل پائے ہو ئے ہیں۔ 

آیتوں کی ترتیب اور ایک سورت میں جگہ پانے والی آیتیں کونسی ہیں ، یہ تمام باتیں نبی کریم ؐ کے حکم کے مطابق درج کی گئی ہیں۔ 

ہمیں سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ اس میں ابو بکرؓ کا کام کیاتھا؟

نبی کریم ؐ جب لکھنے کے لئے کہتے ، ان تمام وقتوں میں سب کاتب مدینے میں نہیں ہوں گے۔ چند آیتیں جب نازل ہوتی ہیں تواس وقت وہ لوگ بستی کے باہر رہے ہوں گے، یا اپنے کسی خاص کام کی وجہ سے لکھنے سے مجبور رہے ہوں گے۔ ایسے لوگ اپنے صحیفوں میں ان آیتوں کو لکھے نہ ہوں گے۔

اس طرح ہر کاتب کے صحیفوں میں کچھ نہ کچھ آیتیں یا سورت چھوٹ جانے کا امکان تھا۔ 

ہر کاتب اگر یہ خیال کر ے کہ جو اپنے پاس ہے وہی کامل قرآن ہے تو یہ گمان پیدا ہو سکتا ہے کہ قرآن مجید میں اختلاف ہے۔

تمام کاتبوں کے سب صحیفے ایک جگہ جمع کر کے تمام حافظوں کے سامنے اگر درست کیا جائے تو اس وقت معلوم ہو سکتا ہے کہ ہرکاتب کن کن آیتوں کو یا سورتوں کو چھوڑا ہے ۔

اسی کام کو صحابی رسول زید بن ثابت کے ذریعے ابوبکرؓ نے کر دکھایا۔ 

نبی کریم ؐ کے گھر میں موجود صحیفے اور قرآن کریم کے کاتبوں کے پاس موجود صحیفے تمام کوزید بن ثابت نے ایک جا جمع کیا۔ حفظ کئے ہوئے لوگوں کو بلا کر ان کے حفظ کئے ہوئے آیتوں کو حروفی شکل عطا کیا گیا۔ 

انہیں ترتیب دے کر حفظ کئے ہوئے لوگوں کے حفظ کے مطابق صحیفوں کو درست کیا گیا۔

اصل کتاب جو حفاظت کی گئی تھی وہ دستاویز کی شکل میں ابوبکرؓ کے پاس محفوظ تھی۔ لیکن وہ لوگوں تک نہیں پہنچی۔ حفظ کر نے والے اگر مر بھی جائیں تو اس دستاویز کے ذریعے قرآن مجید تیار کیا جاسکتا ہے۔ 

ابو بکرؓ کی وفات کے بعدیہ دستاویز عمرؓ کے پاس آ پہنچی۔ عمرؓ کی وفات کے بعد وہ ان کی بیٹی اور نبی کریم ؐ کی بیوی حفصہؓ کے پاس رہی۔

More Articles …

Page 2 of 5