Sidebar

28
Sun, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

عثمانؓ کے دور میں

وہ قرآنی دستاویز عام لوگوں تک پھیلے ہوئے انداز سے نہ پہنچنے کی وجہ سے ابوبکرؓ اور عمرؓ نے جس بات کے لئے ڈر رہے تھے وہی اختلافی نتیجہ عثمانؓ کے دور میں پیش آنے کی علامت تھی۔

حفظ کئے ہوئے اصحاب رسول بہت حد تک کم ہوتے چلے گئے اور اسلام بھی کئی علاقوں میں پھیل گیا تھا۔ نا مکمل طور پر حفظ کئے ہو ئے لوگ اسی کوان ان کے علاقوں میں مکمل قرآن ثابت کر نے لگے اور ایسی حالت پیدا ہو گئی کہ اسی کو وہ مکمل قرآن سمجھنے لگے۔

اس بات کوجانتے ہوئے عثمانؓ نے یہ سمجھا کہ اس دستاویزکو مساوی کر دیناچاہئے اوراس کو لوگوں تک پہنچانا چاہئے۔ اس طرح کر نے ہی سے الجھنیں پیدا ہو نے سے روکا جا سکتا ہے۔ یہ سوچ کر انہوں نے قرآن مجید کو کتابی شکل میں بنانے کا کام اختیار کرلیا۔

سورتوں کی ترتیب

حفصہؓ کے پاس جو اصل نسخہ تھا اسے لے کرعثمانؓ نے اس کی کئی نقلیں تیار کر نے لگے۔ ابوبکرؓ کے دورمیں جو نسخہ تیار کیا گیا تھا اس میں ہر سورت مکمل رہنے کے باوجود اس طریقے سے درج نہیں کیا گیا تھا کہ یہ سورت پہلی ہے اور یہ سورت بعد کی ہے۔

مثال کے طور پر کئی صفحوں میں مشتمل مختلف پچاس مضامین کو الگ الگ لپیٹ کر ایک صندوق میں رکھا جائے تو ہم یہ نہیں جان سکتے کہ کونسا مضمون پہلا آنا چاہئے اور کونسا بعد میں۔ لیکن ان مضامین کو ایک کے بعد ایک صف آرا کیا جائے تو ہم آسانی سے معلوم کر سکتے ہیں کونسا پہلا ہے اور کونسا دوسرا۔ 

ترتیب دے کر صف آرائی کا کام ہی عثمانؓ نے کیا تھا۔ بعض کہتے ہیں کہ اب جو ہے اسی ترتیب سے نبی کریم ؐ نے ہی سورتوں کو ترتیب فرمائی تھی۔ یہ قول غلط ہے۔

عراق سے ایک آدمی عائشہؓ کے پاس آکر کہا کہ آپ کے پاس جو قرآن ہے، وہ مجھے دکھائیے! عائشہؓ نے پوچھا کہ کیوں؟ اس نے کہا تاکہ میں قرآن کی سورتوں کو ترتیب دے لوں۔ اس کو عائشہؓ نے کہا کہ تم جس کو بھی پہلے پڑھو اس سے تمہیں کوئی خرابی ہو نے والی نہیں۔

(دیکھئے: بخاری: 4993)۔ 

نبی کریم ؐ نے رات کی نمازوں میں سورہ بقرہ(دوسری سورت) ، اس کے بعد سورہ نساء (چوتھی سورت) اور اس کے بعد سورہ آل عمران (تیسری سورت) پڑھا کر تے تھے۔ 

(دیکھئے: مسلم: 1421)۔ 

اس حدیث سے ہم جان سکتے ہیں کہ عثمانؓ کے ذریعے ترتیب پا کر جو قرآن اب ہمارے ہاتھوں میں ہے اس ترتیب کو بدل کر ہی نبی کریم ؐ نے قرآن پڑھا تھا۔ 

عثمانؓ نے اپنے دور میں رہنے والے اصحاب رسول سے مشورہ کیا اور جو انہیں ٹھیک لگا اس بنیاد پر اور قرآن مجید کی بہترین سورت کہی جانے کی وجہ سے اور ہر نماز میں ہر رکعت میں پڑھی جانے کی وجہ سے سورۃ الفاتحہ کو قرآن کی پہلی سورت قرار دی۔لیکن نبی کریم ؐ نے یہ نہیں کہا تھاکہ سورۃ الفاتحہ کو پہلی سورت قرار دو۔

اس کے بعد قرآن مجید کی آیتوں کی مقدار کی بنیاد پر بڑی سورتوں کو پہلے اور اس کے بعد کی سورتوں کو بعد میں ترتیب دے کرقرآن مجید کو عثمانؓ نے صف بندی کی۔

بعض مقامات پردوسری کچھ وجوہات کی بنا پرچھوٹی سورتوں کو آگے اور بڑی سورتوں کو پیچھے رکھ دیا گیا ہے۔ ان وجوہات سے ہمیں اطلاع نہیں کیا گیا۔ مگر اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اس کو عثمانؓ ہی نے صف بندی کی ہے۔

 عثمانؓ نے وہ انتظام اس لئے کیا کہ ہرچیز ایک ضابطے کے اندر رہا ہی تو کوئی الجھن پیدا نہیں ہوگی۔ اس کو عالم اسلام نے کسی قسم کے اختلاف کے بغیر مان لیا۔

اس بات کو یاد رکھ لیجئے کہ یہ صف بندی اللہ کی طرف سے نہیں کہی گئی۔ اور ناہی رسول اللہ کی رہنمائی سے اس کو قائم کیا گیا ہے۔

علیؓ تو اپنے پاس جو نسخہ رکھا ہو ا تھا، اس میں قرآن مجید کس ترتیب سے اترا تھا، اسی ترتیب سے لکھ رکھا تھا۔ 96ویں سورت کو وہ پہلی سورت درج کر رکھا تھا۔ مکہ میں جو سورتیں نازل ہوئی تھیں ان کو پہلے لکھا تھا اور بعد میں مدینہ میں اترنے والی سورتوں کو لکھ رکھا تھا۔

اسی طرح ابن مسعودؓ نے سورہ بقرہ کو پہلا سورہ درج کر رکھا تھا۔ اب وہ سورہ قرآن مجید میں دوسرا سورہ مانا جا تا ہے۔ اب جس ترتیب میں قرآن موجود ہے اس میں اور ان کی ترتیب کے درمیان کئی قسم کی تبدیلیاں موجود ہیں۔ 

صحابی رسول ابی ابن کعب نے پانچویں سورت المائدہ کو ساتویں سورت، چوتھی سورت النساء کو تیسری سورت، تیسری سورت آل عمران کو چوتھی سورت ،چھٹویں سورت الانعام کو پانچویں سورت اور ساتویں سورت الاعراف کو چھٹویں سورت درج کر رکھا تھا۔ 

نبی کریم ؐ سورتوں کواگر ترتیب دئے ہوتے تو کئی اصحاب رسول مختلف قسم کی ترتیب سے اپنی صحیفوں کو نہ بنائے ہوتے۔

ترتیب نہ دئے گئے قرآنی سورتوں کو عثمانؓ نے صف بندی کی۔ ان کی ترتیب دیئے ہوئے طریقے کے مطابق ہی آج عالم اسلام کے پاس قرآن مجید موجود ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ابوبکر نے جس طرح ترتیب دی تھی اسی طرح سورتیں ترتیب دی گئی ہیں، اس کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ 

اس لئے حاکم جیسے عالم کہتے ہیں کہ عثمانؓ ہی نے سورتوں کی ترتیب دی ہے۔ یہی بات مناسب وجوہات اور کافی دلیل کے ساتھ قائم ہیں۔ 

سماج کی قبولیت

عثمانؓ کے اس انتطام کواس دور میں رہنے والے اصحاب رسول اور نیک لوگوں میں سے کسی نے اعتراض نہیں کیا۔ اور تسلیم کر لیا تھا کہ یہ انتظام بہت ہی ضروری اور ٹھیک ہے۔ 

صرف عبد اللہ بن مسعودؓ ہی اپنی پرانی صحیفے کو جلانے سے انکار کردیا۔ بعدمیں عثمانؓ کی اس خدمت کی اہمیت اور عدل کو جانتے ہوئے اپنے فیصلے کو بدل لیا اور ان کے پابند ہوگئے۔ 

جملہ اسلامی سماج اوربڑے عالموں کی متفقہ رائے سے سب لوگوں کی نگرانی میں اس طرح قرآن حفاظت کیا گیا۔ 

زید بن ثابتؓ نے ابو بکرؓ کے دور خلافت میں قرآن مجید کو تحریری انداز میں ترتیب دینے کے لئے اس گروہ کے صدر تھے۔ اس لئے قرآن مجید کی سورتوں کو ترتیب دینے اور اس کی مختلف نقل تیار کر نے کے لئے عثمانؓ نے جس گروہ کو مقرر کیا تھا اس میں بھی ان کو صدر مقرر کیا گیا۔ 

اس گروہ میں عبد اللہ بن زبیرؓ ، سعید بن العاصؓ ، عبد الرحمن بن الحارث وغیرہ حصہ دار تھے۔  ان خدمات کو عثمانؓ نے ہجری پچیسویں سال میں کیا۔ یعنی قابل ذکر بات یہ ہے کہ نبی کریم ؐ کی وفات کے پندرہ سال کے اندر قرآن مجید معین کیا گیا ، جس طرح وہ آج ہے۔ 

نقلیں اتارنا

عثمانؓ نے بے شمار نقلیں اتار کر انہیں اپنے زیر خلافت کے سب علاقوں کو بھیجا۔ اسی نقل کے مطابق دوسری نقلیں اتارنے کے لئے حکم بھی نافذ کیا۔ اور یہ بھی حکم بھیجا کہ جو بھی اپنے پاس پرانی نامکمل نسخہ رکھے ہوئے ہیں انہیں جلا دیا جائے۔

عثمانؓ کے اسی اصلی نسخے کے مطابق دنیا بھر میں کئی صدیوں سے قرآن مجید چھاپا جاتا ہے، لکھا جا تا ہے، پھیلایا جا تا ہے اور تقسیم کیا جا تا ہے۔ 

عثمانؓ نے کئی علاقوں کو اصل نسخے بھیجا تھا، ان اصلی نسخوں میں دو نسخے آج بھی حفاظت سے رکھا ہوا ہے۔ ایک ترکستان کے شہر استانبل کی عجائب خانہ میں اور دوسرا روس کے شہر تاشقندکے عجائب خانہ میں ۔ 

ان کے پھیلائے ہوئے نسخے ہی آج دنیا بھر میں پائے جانے والے تحریری انداز کے قرآن کے لئے اصل ہے۔ 

یہی مرتب کئے ہوئے قرآن کی حفاظتی واقعہ ہے۔

سورتوں کے نام

قرآن مجید میں 114سورتوں کے الگ الگ نام چھاپتے ہوئے آرہے ہیں۔ان ناموں میں اکثر نام اللہ یا اس کے رسول یا ابوبکرؓ یا عثمانؓ نے نہیں رکھا۔ 

عثمانؓ نے جو نسخہ مرتب کیا تھا اس میں کسی بھی سورہ سے پہلے اس سورہ کا نام نہیں لکھا گیا تھا۔ ہر سورہ کے ابتداء میں صرف بسم اللہ الرحمن الرحیم (یعنی بہت ہی مہربان، نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے) ہی لکھا ہوا تھا۔ اس سے یہ معلوم کر سکتے ہیں کہ ایک سورہ ختم ہوگیا ہے اور دوسرا سورہ شروع ہوا ہے۔ 

تاہم بعض سورتوں کو خودنبی کریم ؐ نے نام دیا تھا۔ دوسری بعض سورتوں کو اصحاب رسول نے نام دیا تھا۔ اور بعض سورتوں کو بعد میں آنے والوں نے نام رکھا تھا۔ 

لوگوں میں پھیلا ہوا ہے کہ سورۃ فاتحہ ہی قرآن کا پہلا سورہ ہے۔ نبی کریم ؐ نے اس سورت کو فاتحۃ الکتاب (یعنی اس کتاب کا آغاز) فرمایا ہے۔ 

(دیکھئے: بخاری 756 ، 759، 762)

اس سورت کو نبی کریم ؐ نے ام الکتاب (یعنی سورتوں کی ماں) بھی کہا ہے۔ 

(دیکھئے: بخاری 4704)

اس سورت کا نام نبی کریمؐ نے السبعاًالمثانی(یعنی بارباپڑھی جانے والی سات آیتیں) بھی کہا ہے۔

(دیکھئے: بخاری4474، 4647، 4703، 4704،5006)

قرآن حکیم میں بھی اس نام کا ذکر ہوا ہے۔

(دیکھئے: آیت نمبر 15:87)

اس سورت کونبی کریم ؐ نے القرآن العظیم بھی کہا ہے۔ 

(دیکھئے: بخاری 4474، 4703، 4704، 5006)

قرآن مجید میں بھی اس نام کا ذکر ہوا ہے۔

(دیکھئے: آیت نمبر 15:87)

دوسری سورت البقرہ کہلا تا ہے۔ نبی کریم ؐ نے بھی اس سورت کو اسی نام سے ذکر کیاہے۔ 

(دیکھئے: بخاری 4008، 5010، 5040، 5051)

تیسری سورت آل عمران کا بھی نبی کریم ؐ نے اسی نام سے ذکر کیا ہے۔

دیکھئے: ترمذی 2082 ) 

چوتھی سورت النساء کہلاتا ہے۔ نبی کریم ؐ نے بھی اسی نام سے اس سورت کو استعمال کیا ہے۔ 

(دیکھئے: مسلم 980 ، 3304)

پانچویں سورت المائدہ کہلاتی ہے۔ہم نے نہیں دیکھا کہ نبی کریم ؐ نے اس سورت کا یہ نام رکھا تھا۔ تاہم اصحاب رسول کے دور میں اس سورت کا نام یہی تھا، اس کے لئے ثبوت موجود ہیں۔

(دیکھئے: بخاری 347 ، مسلم 452، 601)

چھٹویں سورت الانعام کہلاتی ہے۔ اس کے لئے کوئی قابل قبول حدیث نہیں ہے کہ اس سورت کا یہی نام نبی کریم ؐ نے رکھا تھا۔ تاہم اس کے لئے دلیلیں موجود ہیں کہ اصحاب رسول اس سورت کا نام یہی کہتے تھے۔

(دیکھئے: بخاری 3524 )

اسی طرح 114 سورتوں کے نام اگرجانچاجائے توہم اچھی طرح سے جان سکتے ہیں کہ نبی کریم ؐ نے سب سورتوں کو نام نہیں رکھا۔

ہم یہ بھی دیکھ سکتے ہیں کہ اصحاب رسول چند سورتوں کو جو نام رکھے تھے اس کو بعد کے زمانے میں بدل دیا گیا۔

مثال کے طور پر 65ویں سورت کو طلاق کے نام سے چھاپا جا تا ہے۔ لیکن اصحاب رسول نے اس کو نساء القصرہ کہتے تھے۔ 

(دیکھئے: بخاری 4910 )

نبی کریم ؐ کا رکھا ہوا نام ہو یا اصحاب رسول کا رکھا ہوا نام ہو کسی بھی سورت کو سورتوں کی ابتدا میں لکھنے کے لئے نبی کریم ؐ نے حکم نہیں فرمایا۔

عثمانؓ نے ترتیب دے کر آج تک جو حفاظت سے رکھا ہوا اصل نسخہ ہے اس میں بھی ابتدا میں سورتوں کا نام نہیں لکھا گیا ہے۔

بہت زمانے کے بعد ہی سورتوں کے نام ان کی ابتدا میں لکھنے کا رواج شروع ہوا ہے۔  اس لئے ضروری نہیں ہے کہ سورتوں کی ابتدا میں نام لکھا جائے۔

تیس پارے

دوسری بات یہ ہے کہ قرآن مجید تیس پاروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ یہ بعد میں آنے والوں نے سہولت کے لئے تقسیم کی ہے۔ اس طرح تقسیم کر نے کے لئے نہ اللہ نے فرمایا نہ رسول نے کہا۔ عثمانؓ کے اصل نسخہ میں بھی وہ تقسیم پائی نہیں گئی ہے۔

قرآن مجید کی سورتوں کی حد تک تمام سورتیں یکساں نہیں ہیں۔ بعض سورتیں 286آیتوں والے ہیں اور بعض سورتیں تین ہی آیتوں والے بھی ہیں۔ 

ایسی حالت میں بعض لوگ یہ سمجھ کر قرآن مجید کو تیس پاروں میں اس لئے تقسیم کیا کہ مہینے میں ایک بار ہی سہی مسلمان قرآن مجید کو پڑھ کر ختم کریں۔ 

نبی کریم ؐ نے کبھی ایساحکم نہیں دیا کہ قرآن مجید کو تیس دن میں مساوی طور پرختم کر نا ہے ۔ اصحاب رسول بھی کبھی ایسا طریقہ اختیار نہیں کیا۔ 

جب تیس پاروں میں تقسیم کیا گیا تو سمجھداری کے طریقے کو بھی انہوں نے استعمال نہیں کیا۔ قرآن مجید کے جملہ لفظوں کو گن کر اس کو تیس سے تقسیم کر کے اس کے تحت تیس پارہ بنادیا۔ اس کے ذریعے معانی میں فرق بھی آجائے تو انہوں نے اس کا فکر نہیں کیا۔

ایک مکمل سورت کو بھی انہوں نے تین ٹکڑے کر ڈالے۔ مثال کے طور پر سورۃ بقرہ اٹھالیجئے۔  ایک سورت کا آدھا پہلے حصے میں اور دوسرا آدھا دوسرے حصے میں بانٹا گیا ہے۔ 

مثال کے طور پر مسلمان اچھی طرح جا نے ہوئے سورۃ ےٰس کو اٹھالیجئے۔تم دیکھ سکتے ہو کہ اس میں سے 21آیتوں تک بائیسویں پارے میں اور 22آیتوں سے آخر تک تےئیسویں پارے میں جمع کیاگیا ہے۔ 

اسی طرح پانچویں پارے کی پہلی آیت ،’’ تمہاری لونڈیوں کے سوا شوہر والی عورتیں بھی‘‘سے شروع ہوتی ہے۔ اس آیت کو اس طرح شروع کر نے سے کچھ معنی نہیں دے گا۔ کیونکہ یہ پہلی آیت سے منسلک ہے۔ اس آیت میں اپنے مائیں، اپنی بیٹیاں، اپنی بہنیں جیسی ایک فہرست دے کر کہا گیا ہے کہ ان سے شادی مت کرو۔ اس سلسلے کی کڑی ہی’’ اپنی لونڈیوں کے سوا والی ‘‘آیت ہے۔ 

ان دونوں آیتوں میں ایک کو چوتھے پارے میں اور دوسرے کو پانچویں پارے میں بانٹ کر بے معنی کر دیا گیا ہے۔ 

اس آیت کو پڑھنے سے کچھ معنی سمجھ میں نہیں آئے گا۔ پہلی آیت سے دوسری آیت کو ملانے ہی سے معانی سمجھ میں آسکتا ہے۔ اس سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ قرآن مجید کو تیس پاروں میں تقسیم کر نے والے لفظوں ہی کی گنتی پر توجہ کی تھی پر اسکے معانی پر غور نہیں کیا۔

ایک سورت کی صرف ایک ہی آیت کو ایک پارے میں اور باقی کے تمام دوسرے پارے میں جمع کئے ہیں۔ مثال کے طور پر پندرہویں سورہ۔ صرف اس کی پہلی آیت ہی کو تیرویں پارے میں جمع کئے ہیں، باقی کے تمام چودہوں پارے میں درج کئے ہیں۔ 

ایسا ایک خیال پیدا کر دیا گیا ہے کہ اس طرح اللہ ہی نے قرآن کو تیس پاروں میں تقسیم کیا ہے۔ 

اس کے بعد آنے والے نسل بھی اس خیال سے اس کو قبول فرمالیا کہ ہر روزقرآن کریم کو ایک مخصوص مقدار سے پڑھنا آسان ہوگا۔ 

سب لوگوں کو یہ معلوم کر لینا چاہئے کہ ہم ہی نے ہماری آسانی کے لئے اس کو تقسیم کی ہے۔

غور طلب بات ہے کہ آج تک حفاظت سے جو رکھا گیا ہے اس اصل نسخہ میں قرآن کریم تیس حصوں میں تقسیم نہیں کیا گیا ہے۔

اور یہ بھی ہمارے دین میں کوئی زبر دستی کی بات نہیں ہے کہ ہر ماہ ایک بار قرآن مجید پڑھ کر ختم کر نا ہی چاہئے۔ دین کا فرمان ہے کہ ان ان کی سہولت کے مطابق پڑھا جائے۔

(دیکھئے: قرآن کی آیت 73:20)

اس لئے اس کو تیس پاروں میں تقسیم کرنا دینی لحاظ سے کوئی انصاف نہیں ہے۔ 

صرف تیس پاروں میں ہی تقسیم نہیں کیا گیابلکہ ہر پارے کو چار چوتھائی حصہ بنایا گیاہے۔ اس کے لئے پہلی چوتھائی حصہ پر الربع (ایک چوتھائی) ، دوسری چوتھائی حصہ پر (النصف(دو چوتھائی) اور تیسری چوتھائی پر (الثلٰث) نشانی کے طور پرہر پارے کے کنارے پر لکھاجا تا ہے۔

اس کو بھی جان لینا ضروری ہے کہ یہ بھی بعد کے زمانے کا انتظام ہے۔ 

قرآن مجید میں ہر پارے کو برابری کا آٹھ حصہ بنا کر ہر حصہ کو صومن(آٹھ میں سے ایک) درج کر نا قریبی زمانے کا رواج ہے۔

منزلیں

جس طرح قرآن مجید تیس پاروں میں تقسیم کیا گیا اسی طرح اس میں ساتھ منزلیں بھی بعض لوگ بانٹ دئے۔ 

قرآن کے کناروں میں ہر منزل کی ابتدا میں لفظ منزل درج کر نے کا رواج آج بھی موجود ہے۔ ہر ہفتہ ایک قرآن پڑھ کر ختم کر نے کے لئے مساوی طور پر سات حصوں میں قرآن مجید کو بانٹا گیا ہے، اسی کو منزل کہا جا تا ہے۔

یہ انتظام بھی ہم نے اپنی سہولت کے لئے بنایا ہوا ہے، اللہ اور اس کے رسول نے اس طرح تقسیم نہیں کی۔ اس اصل نسخہ میں جو آج تک حفاظت سے رکھا ہوا ہے، منزل نامی کوئی تقسیم نہیں۔ 

ایسے بھی چند حدیثیں ہیں کہ جن میں نبی کریم ؐ نے ہفتہ میں ایک بارقرآن مجید ختم کر نے کے لئے اجازت دی ہے ۔تاہم ہر شخص خود ہی فیصلہ کر لینا چاہئے کہ ہر روز اس مقدار میں قرآن مجید پڑھ لینی چاہئے۔ اس معاملہ میں کوئی دوسرا ایک مقدارمقرر کرنااور قرآن میں جو کہا نہیں گیا اس کا پیروی کرنا جائز نہیں ہے۔ 

رکوع

بعض لوگ اپنی خودی سے بغیر کسی دلیل کے قرآن میں سے نماز کی ہر رکعت میں پڑھنے کے لئے ایک مقدار مقرر کر رکھی ہے، اس کو 558رکوع سے تقسیم کررکھاہے۔ اس کو ’ع‘ سے اشارہ بھی کیا ہے۔

قرآن مجید کے کناروں میں اس کونشانی کے طور پر ’ع‘ کے لفظ سے درج کیاگیا ہے۔ 

قرآن کہتا ہے کہ نمازوں میں ہر شخص ممکن حد تک قرآن پڑھ سکتے ہیں۔

دیکھئے: قرآن کریم 73:20

ایسا کہنا کہ اسی مقدار میں قرآن پڑھنی چاہئے، اس قرآنی آیت کے اختلاف میں رہنے کی وجہ سے اس تقسیم کو ہم ہمارے اس مطبوعہ میں بالکل شائع نہیں کیا۔ کیونکہ نماز جیسی عبادت میں یہ تقسیم رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ یہ کسی کے اختیار میں نہیں ہے کہ یہ فیصلہ کریں کہ ہر رکعت میں اتنا ہی پڑھنا چاہئے۔

سجدے کی نشانیاں

اللہ کے لئے سر جھکاؤ کہنے والی کئی آیتیں سجدہ کے بارے میں قرآن مجید میں موجود ہیں۔ لیکن صرف چودہ آیتوں کے کنارے ہی سجدہ کا لفظ درج کیاگیا ہے۔ 

ہم یہاں اس بارے میں بحث نہیں کر رہے ہیں کہ کن کن آیتوں کو پڑھتے وقت سجدہ کر نا چاہئے۔ 

(ہم نے’’تفصیلات‘‘ کے عنوان کے تحت حاشیہ نمبر 396 میں مناسب دلیلوں کے ساتھ تشریح کی ہے کہ سجدہ کی آیتیں کونسی ہیں۔) 

ہم یہی کہنا چاہتے ہیں کہ قرآن مجید کے اصلی نسخہ میں جو موجودنہیں ہے، اس کو اس طرح قرآن کے کناروں پر درج نہیں کرنا چاہئے۔

مثال کے طور پر بائیسواں سورہ الحج کی 77 ویں آیت کے کنارے پر عربی میں ایک جملہ درج کیا ہوا ہے، اس کا مطلب ہے کہ یہ شافعی امام کے قول کے مطابق سجدہ کر نے کی آیت ہے۔

یہ غور کر نے والی بات ہے کہ شافعی امام کی رائے کے مطابق سجدہ کر نا چاہئے والی ایک انسانی قول کو قرآن مجید میں کیوں درج کیا گیا؟

یہ اس بات کی دلیل ہے کہ شافعی امام کے زمانے کے بعد ہی اس طرح کناروں میں غیر ضروری باتوں کو درج کر نے کا رواج شروع ہوا ہے ۔

ٹہرنے کی علامات

قرآن مجید میں ہر ایک آیت کے اختتام میں اور درمیان میں چندعلامتوں کے ساتھ اب شائع کیا جا رہا ہے۔’

 اصلی نسخہ جو آج تک محفوظ ہے ، اس میں ایسی کوئی علامات موجود نہیں ہے۔

* ان جگہوں میں ٹہرنا ضروری ہے۔

* ان جگہوں میں ٹہرنا بہتر ہے۔ 

* ان جگہوں میں ٹہرے بغیر متواتر پڑھنا بہتر ہے۔

* ان جگہوں میں ٹہرنا اور نہ ٹہرنا برابر ہے۔

* ان جگہوں میں نبی کریم ؐ نے ٹہرکر پڑھا ہے۔ 

* ان جگہوں میں جبرئیل نے ٹہر کر پڑھا ہے۔

اس کو سمجھانے کے لئے چند علامات درج کئے ہیں۔ ان علامات کو کوئی دلیل نہیں ہے اور یہ سب بناوٹی ہیں۔ 

اسی طرح کل قرآن میں کہیں جیم، کہیں ثا، کہیں واؤ، کہیں میم، کہیں کاف، کہیں لام الف، کہیں صاد، کہیں صاد لام یا، اس طرح کے علامات بیچ بیچ میں داخل کئے ہو ئے ہیں۔

نبی کریم ؐ نے ہر آیت کو ٹہر ٹہر کرپڑھتے تھے، اسی کی دلیل موجود ہے۔ اس کے سوا ان لوگوں کی درج شدہ کوئی علامات اور اس کے سلسلہ میں جو انہوں نے قانون نافذ کیا ہے، اس کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ ہر شخص اپنی چاہت کے مطابق کسی بھی جگہ ٹہراکر پڑھ سکتا ہے۔

ان جیسی علامات کو اگر درج نہ کئے ہو تے تو قرآن مجید اور بھی مخصوص انداز سے نکھر گیا ہوتا۔ 

مثال کے طور پر تیسری سورت کی94ویں آیت کے کنارے پرشائع کیا گیا ہے کہ اس جگہ پر جبرئیل نے ٹہر کر پڑھاہے۔اس کی کوئی دلیل کسی کتاب میں موجود نہیں ہے کہ اس جگہ پر جبرئیل نے ٹہرایا تھا۔ 

بغیر کسی دلیل کے ہر شخص اپنے خیال کے مطابق کناروں پر لکھ چھوڑا ہے۔ہم اچھی طرح جان سکتے ہیں کہ وہی بعد کے زمانے میں طبع ہو کر کتابی شکل اختیار کیا ہواہے۔

More Articles …

Page 3 of 5