Sidebar

28
Sun, Jun
சமீபத்திய செய்திகள்

غیر ضروری تحقیقات

کہف نامی اٹھارویں سورت کی انیسویں آیت میں صرف لفظ ’’ولیتلطف‘‘ بڑے حروفوں میں لکھا گیا ہے۔ 

اور کنارے لکھا گیا ہے کہ قرآن کے حروفوں کو گن کر اس کو برابرکا آدھا حصہ بنایا گیا ہے، اسی کویہ لفظ نشاندہی کر تی ہے۔

اس طرح حروفوں کو، نقطوں کو، علامتوں کو گننے کے لئے نہ تو اللہ نے حکم دی ہے اور نہ اللہ کے رسول نے۔ ایک لفظ آدھے حصہ میں جگہ پانا ، اس کو دین میں کوئی اہمیت نہیں ہے۔

اس میں لوگوں کے لئے نہ تو کوئی نصیحت ہے اور نہ ہی راہنمائی۔ اس کے علاوہ اس ایک لفظ کو قرآن مجید میں جلی حروفوں میں دکھانا قرآن کے ساتھ مذاق کر نا ٹہرائے گا۔

یہ تمام چیزیں غیر ضروری حرکات ہیں۔ اس کے بعد آنے والی نسلوں کویہ ایک معمہ دکھائی دے گا۔

یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ اس طرح حروفوں کو گنتے گنتے ہی بعض لوگ گمراہ ہو ئے ہیں۔

مکی مدنی

قرآن حکیم کی بعض آیتیں نبی کریم ؐ کی مکہ والی زندگی میں نازل ہوئی ہیں۔وہ مکی کہلاتی ہیں۔ اور بعض آیتیں نبی کریم ؐ کی مدینہ والی زندگی میں نازل ہوئی ہیں۔ وہ مدنی کہلاتی ہیں۔

عثمانؓ کے ذریعے مرتب شدہ قرآن کریم کی اصل نسخہ میں یہ کہیں دکھائی نہیں دی کہ یہ سورت مکہ میں نازل ہوئی ہے اور یہ سورت مدینہ میں نازل ہوئی ہے۔ 

لیکن دنیا بھر میں شائع شدہ قرآن مجید کے نسخوں میں بعض سورتوں کے اوپر لکھا گیا ہے کہ یہ مکہ میں نازل ہوئی ہے اور بعض سورتوں کے اوپر لکھا گیا ہے کہ یہ مدینہ میں نازل ہوئی ہے۔

اگر یہ فیصلہ کر نا ہے کہ قرآن مجید میں ایک آیت مکہ میں نازل ہوئی ہے تو اس کے لئے قابل قبول دلیل چاہئے۔ اس طرح کے دلائل کئی قسم کے ہیں۔

اگر اصحاب رسول کہتے کہ یہ آیت نبی کریم ؐ کو اس موقع پر نازل ہوئی تھی تو اس بنیاد پر ہم فیصلہ کر سکتے ہیں کہ یہ آیت کہاں نازل ہوئی تھی۔ 

یا ایک آیت کے مفہوم پر غور کر تے ہوئے ہم فیصلہ کر سکتے ہیں کہ وہ آیت اسی موقع پر نازل ہوئی ہوگی۔ مثال کے طور پر جنگ کے متعلق کی آیتیں نبی کریم ؐ کے مکی زندگی میں نازل نہیں ہوئی ہوگی۔

 کیونکہ آپ مکہ میں اس حالت میں نہیں تھے کہ وہ اپنے دشمنوں سے جنگ کریں۔ 

اسی طرح اگرقانون جرمیات کے بارے میں کوئی آیت ہو تواس طرح قانون بنانا ایک حکومت قائم کر نے کے بعد ہی عمل در آمد ہوسکتا ہے۔ اس بنیاد پر ہی ہم فیصلہ کر سکتے ہیں کہ یہ مدینہ میں نازل ہوئی ہے۔ 

ایسی کسی دلیل کے بغیر ایک سورت یا کوئی آیت مکہ میں نازل ہوئی ہے یا مدینہ میں نازل ہوئی ہے کہنا بہت بڑی غلطی ہے۔

بعض سورتیں دونوں زمانے میں نازل شدہ آیتوں والی ہیں۔ اس لئے اگرنشاندہی کر نا ہی ہے کہ ایک مکمل سورہ مکہ میں نازل ہوئی ہے یا مدینہ میں نازل ہوئی ہے ، اس کے لئے واضح دلیل کی ضرورت ہے۔ 

ایسی کسی دلیل کے بغیرہر سورت کی ابتدا میں یہ مکہ میں نازل ہوئی ہے یا مدینہ میں نازل ہوئی ہے شائع کر دینا قابل قبول نہیں ہو سکتی۔ یہ قرآن کے متعلق غلط بیان کے جرم میں شامل ہوگا۔

کسی دلیل کے بغیرہر کوئی اپنے من مانی اس طرح درج کرنے کی وجہ ہی سے آج اس معاملے میں مختلف حالات رونما ہو رہے ہیں۔

مثال کے طور پر قرآن مجید کی آخری دو سورتیں یعنی 113 اور 114 کے بارے میں اے۔کے۔ عبدالحمید باقوی نے اپنے ترجمہ میں لکھا ہے کہ یہ دونوں سورتیں مکہ میں نازل ہوئی ہیں۔ 

انہیں سورتوں کے بارے میں کے۔اے۔نظام الدین منبعی نے اپنے ترجمہ میں لکھا ہے کہ یہ دونوں سورتیں مدینہ میں نازل ہوئی ہیں۔ 

اسی طرح کئی سورتوں کے بارے میں بہت سارے اختلاف رائے پائے جاتے ہیں۔ اسی لئے ہم نے سورتوں کے آغاز میں یہ نہیں لکھا ہے کہ یہ مکہ میں نازل ہوئی ہے یا مدینہ میں نازل ہوئی ہے۔

ہمیں یہ جان لینی چاہئے کہ وہ لوگ چند غلط پیمائش کو استعمال کر کے فیصلہ کی ہے کہ وہ کہاں نازل ہوئی ہے۔

جس سورت میں ایسی آیتیں ہوں جس میں اے لوگو! سے مخاطب کیا گیا ہے،ان کی پیمائش ہے کہ وہ سورتیں مکہ میں نازل ہوئی ہیں۔یہ پیمائش بغیر دلیل کی پیمائش ہے۔ قرآن مجید کی چوتھی سورت مدینہ میں نازل ہوئی ہے ، اس کی دلیل موجود ہے۔ تم دیکھ سکتے ہو کہ اس کی پہلی ہی آیت اے لوگو! سے مخاطب کیا گیا ہے۔ 

اسی طرح ان کی پیمائش ہے کہ اے ایمان والو سے مخاطب شدہ آیتیں مدینہ میں نازل ہوئی ہیں۔ لیکن تم دیکھ سکتے ہو کہ مکہ میں نازل شدہ بائیسویں سورت کی 77ویں آیت میں اے ایمان والو! سے مخاطب کیا گیا ہے۔ 

قرآن مجید کی بعض آیتیں نبی کریم ؐ کی مکہ والی زندگی میں اور بعض آیتیں آپ کی مدینہ والی زندگی میں نازل ہوئی ہیں۔ اس کے باوجود اس کو مناسب دلیلوں کی بنا پر ہی فیصلہ کر نا چاہئے۔ جن آیتوں کے بارے میں اگر کوئی دلیل نہ ملے تو اس کے متعلق کوئی فیصلہ نہ کر نا ہی اللہ سے ڈرنے والوں کے لئے بہتر ہے۔

ہماری اس وضاحت کی بنا پر تمہیں ہمیشہ یہ یاد رکھنی چاہئے کہ سورتوں کے نام، تیس پارے، ربع، نصف اور ثلاثہ کے حصے، سجدے کی علامات، ٹہرنے کی نشانات ،رکوع ، چند لفظوں کو جلی حروفوں میں لکھنا، مکی مدنی کے عنوانات درج کرانا یہ تمام باتیں قرآن مجید کے اصلی نسخہ میں موجود نہیں ہے اور اس کو بعد کے زمانے میں شامل کیا گیا ہے۔ 

مسلم سماج بیدار ہو کر اگر ان حقائق کو ٹھیک طور سے سمجھ گئے تو جو اصل نسخہ میں نہیں ہے ، اس کو بعد کے زمانے میں کناروں پر، عنوانات پراور آیتوں کے درمیان پر درج شدہ تمام علامات کو نکال دینا قرآن کے لئے بہت بڑی خدمت ہوگی۔ 

آیتوں کی گنتی

قرآن مجید میں کتنی آیتیں ہیں ، اس کے متعلق علماء مختلف گنتی بتا رہے ہیں۔ 

علیؓ نے کہا ہے کہ6218 آیتیں ہیں۔ 

ابن عباسؓ نے کہا ہے کہ 6616آیتیں ہیں۔ 

حُمید نامی شخص نے کہا ہے کہ 6212آیتیں ہیں۔

عطا نامی شخص نے کہا ہے کہ 6177آیتیں ہیں۔ 

پھر ایک موقع پر کہا ہے کہ 6204آیتیں ہیں۔

عام طور سے لوگ 6666آیتیں بتارہے ہیں۔ 

اب جو دنیا بھر میں قرآن شائع ہورہا ہے اس میں 6236آیتیں جگہ پائی ہیں۔ 

اللہ یا اس کے رسول نے نہیں کہا کہ کتنی آیتیں ہیں۔ اس کے علاوہ عثمانؓ کے اصل نسخے میں بھی قرآن کی کل آیتوں کے بارے میں کسی بھی سورہ کے ابتدا میں نشاندہی نہیں کی گئی ہے۔ 

عثمانؓ کا مرتب شدہ اصل نسخے میں ہر آیت کی اختتام میں آیتوں کی گنتی نہیں بتائی گئی ہے۔ ایک آیت کہاں ختم ہوتی ہے ، اس کی نشاندہی بھی اصل نسخہ میں نہیں کی گئی ہے۔

 اسی لئے آیتوں کی گنتی میں ہرشخص ایک مختلف گنتی بتا رہا ہے۔ گنتی کے بارے میں مختلف رائے رہنے کے باوجود جو بھی گنتی کہو ، اس سے قرآن میں کوئی کمی یا زیادتی نہیں ہوسکتی۔

ایک شخص دو آیتوں کو ایک سمجھے گا، دوسرا شخص ایک آیت کو دو سمجھے گا۔ اگر اختلاف رائے ہے تو اسی میں ہے کہ آیت کو کہاں ختم کیا جائے۔ 

دنیا بھر کے لوگ جو قرآن استعمال کر رہے ہیں اس کی گنتی کو اگر ہم غور کریں تو ہم اچھی طرح جان سکتے ہیں کہ علماء گنتی کے اس معاملے میں کافی توجہ نہیں فرمائی ہے۔ 

بعض جگہوں میں فاعل کو ایک آیت بتا رہے ہیں اور خبر کو ایک آیت بتا رہے ہیں۔ دونوں کو ملا کر ایک آیت بتا یا جائے توہی اس کی پوری مفہوم سمجھ میں آئے گی۔

جملے کے لئے قرآن آیت کا لفظ استعمال کر تا ہے۔ آیت کا مطلب ہے نشانی۔قرآن اس کو اس طرح اس لئے کہتا ہے کہ ہر آیت پوری مفہوم ظاہر کر کے دلیل بنی ہوئی ہے۔

ایک خبر جب پوری ہوتی ہے تو ہی وہ دلیل بن سکتی ہے۔ اگر مفہوم پوری نہیں ہوگی تو وہ دلیل نہیں بن سکتی۔ 

اب جو گنتی درج کئے ہوئے ہیں اس کو اگر غور سے دیکھا جائے تو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں کہ آیتوں کو نمبر دینے والے مفہوم کی طرف توجہ نہیں فرمائے ہیں۔ 

بعض جگہوں میں ایک مفہوم ایک آیت بنی ہوئی ہے اور اس مفہوم سے نکلی ہوئی استثناء دوسری ایک آیت بنی ہوئی ہے۔ اگر ان دونوں آیتوں کو ایک ساتھ ملا دئے ہوتے تو سمجھنے کے لئے آسان ہوتا۔ 

مثال کے طور پر چند آیتیں ملاحظہ فرمائیے۔

چوتھی سورت میں آیت نمبر 168 اور169 کو اٹھالیجئے۔ 

اس میںآیت نمبر 168میں ہے: ’’راہ نہیں دکھائے گا‘‘ اور آیت نمبر 169میں ہے : ’’جہنم کے راستے کے سوا‘‘۔ دونوں مل کر  ہی ایک جملہ بنے گا۔ تاہم اس کو دو آیت بنائے ہوئے ہیں۔ 

ساتویں سورت میں آیت نمبر 121 اور122 اٹھالیجئے۔آیت نمبر 121میں ہے : ’’انہوں نے کہا ، ہم سارے جہاں کے رب پر ایمان لے آئے۔‘‘ اور آیت نمبر 122 میں ہے: ’’جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا۔‘‘

’’جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا‘‘ میں کوئی مفہوم مکمل نہیں ہے۔اگر اس طرح کہا جائے کہ ’’ہم سارے جہاں کے پروردگار ، موسیٰ اور ہارون کے رب پر ایمان لے آئے‘‘ تو ہی مفہوم مکمل ہوتی ہے۔ دونوں مل کر ہی ایک جملہ بنتا ہے۔ تاہم اس کو بھی دو آیتیں بنادیا گیا ہے۔ 

اسی طرح گیارہویں سورت میں آیت نمبر 96 اور 97 اٹھالیجئے۔ آیت نمبر 96 میں ہے: ’’ہم نے مناسب دلیلوں کے ساتھ موسیٰ کو بھیجا‘‘۔اور آیت نمبر 97 میں ہے : ’’فرعون اور اس کے گروہ کے پاس۔‘‘

’’فرعون اور اس کے گروہ کے پاس‘‘ کا جملہ آیت نمبر 96 کے ساتھ جڑنا چاہئے۔ لیکن ’’فرعون اور اس کے گروہ کے پاس‘‘ جدا کر دینے کی وجہ سے اس کا معانی ہی پورا نہیں ہوتا۔ 

ہم دیکھ سکتے ہیں کہ اس طرح کئی جملے مفہوم مکمل نہ ہوئے بغیر آیتوں کو جدا کر دیا گیا ہے۔ بعض جگہوں میں ایک ہی جملے کو چار یا پانچ آیتیں بنا دیا گیا ہے۔بعض جگہوں میں مکمل معنی کے بغیر ایک ہی لفظ کو بھی ایک آیت حساب گیا ہے۔ 

نہایت ہی عمیق معانی اوراپنی خوبصورت انداز کی وجہ سے قرآن حکیم کو ایک مخصوص مقام حاصل ہے۔

اگر آیتوں کو الگ کر نا ہے تو اس کے لئے دو پیمائش ہو نا چاہئے۔ نبی کریمؐ پڑھتے وقت کس جگہ پر ٹہراؤ کیا تھا اگر اس جگہ کو ایک آیت مقرر کر تے تو قابل قبول ہوسکتا تھا۔ 

یا ایک مفہوم جہاں ختم ہوتا ہے اس جگہ کو ایک آیت مقرر کیا جاتا تو وہ عقلمندی کی بات مانی جاتی۔ لیکن ان دونوں پیمائش کی بنیاد پر آیتوں کو نمبر نہیں دیاگیا۔ 

بلکہ ہر آیت کومخصوص ایک لفظ سے ختم کر نا ہی آیتوں کو الگ کر نے کے لئے پیمائش کی گئی ہے۔ 

مثال کے طور پر یہ دیکھ کر کہ ’یعلمون‘ ، ’تعلمون‘، ’یفعلون‘ جہاں آتی ہے اس جگہوں میں آیتوں کو ختم کیا ہے۔ ان کے معانی پر غور نہیں کیا۔

غیر مناسب آیتوں کو نمبر دینے سے کئی دوسری پریشانیاں بھی پیدا ہوتی ہیں۔ ایک زبان سے دوسری زبان کوجب قرآن کو ترجمہ کیا جا تا ہے تو چندآیتوں کا مطلب پورا نہیں ہوتا۔ اس کو پورا کرنے کیلئے قوسین کے اندر خاص اپناچند الفاظ جمع کر نا پڑتا ہے۔

ہر ترجمہ میں اکثر قوسین جگہ پانے کی وجہ یہی ہے کہ مطلب جہاں ظاہر نہیں ہوتی اس جگہ آیتوں کو جدا کر دیا گیاہے۔ 

آیتوں کو نمبر دینے کے اس واقعہ کو نہ جاننے والے یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ اللہ ہی نے ان آیتوں کو نمبر دے رکھا ہے۔ وہ اس پر بھی غور نہیں فرمایا کہ اگر ان نامکمل آیتوں پر توجہ فرمائیں تو ان کے عقائد پر اثر پڑ سکتا ہے۔ 

وہ لوگ عربی زبان بولنے والے تھے۔انہیں یہ بھی نہیں سوجھا کہ اس کے ترجمہ سے کئی دشواریاں پیدا ہوسکتی ہیں اور دوسرے لوگوں کو قرآن کے بارے میں غلط فہمی پیدا کر نے کے لئے ہم ذمہ دار بن گئے۔ 

تاہم اب دلیلوں کو بیان کر نے کے لئے، بحث و مباحثہ کرنے کے لئے، وعظ و نصیحت کے لئے، مخصوص ایک آیت کو چن کر نکالنے کے لئے یہ گنتیاں فائدہ مند ہیں۔ 

اب ہر ایک اس میں تبدیل کر نے کے لئے کوشش میں اتریں تو غیر ضروری پریشانیاں ہی پیدا ہوں گی۔ اس لئے ہم نے جن گنتیوں کو چند صدیوں سے استعمال کیا جا رہا ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ 

اسی وقت ہم نے نامکمل آیتوں کو جمع کر کے ترجمہ کی ہے اور غیر ضروری قوسین سے اجتناب کی ہے۔ 

آیتوں کو نمبر ڈالنے والے تھوڑی دیر ہی سے ڈالا ہے، اس کے لئے دو ٹمل ترجمے ثبوت ہیں۔ 

اے۔کے۔عبد الحمید باقوی نے اپنے ترجمے میں چھٹویں سورت کی 73ویں آیت کو ایک آیت لیا ہے۔ 

اسی کو نظام الدین منبعی نے73 اور 74 دو آیتیں بتائی ہیں۔ 

اس وجہ سے وہ پوری سورت دو ترجموں کے درمیان ایک نمبر کی تفریق ہی سے موجود ہے۔ 

چند بھائیوں کو محسوس ہو گا کہ اس خبرکو تو ہم نے اب تک نہیں سنی۔ لیکن ہردور میں اس اس زمانے والوں کو یاد دلایا گیا ہے۔ 

کئی صدیوں پہلے گزری ہوی ’الادقان‘ نامی کتاب میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ سیوطی نامی ایک عالم سے بیہقی نے کہاتھا کہ قرآن مجید میں جو موجود نہیں ہے ان آیتوں کی گنتی، سجدوں کے علامات، دس آیتیں ختم ہو نے کے بعد ایک نشان اور ٹہراؤ کے علامات ان سب کو قرآن مجید میں شامل نہیں کر نا چاہئے۔

بیہقی بیان کر تے ہیں کہ اسی کتاب میں سلیمی نامی عالم نے کہا ہے کہ پانچ آیتوں کے بعد ایک نشان، دس آیتوں کے بعد ایک نشان، سورتوں کے نام، آیتوں کی گنتی، ان سب کو قرآن مجید میں درج کر نا کراہت ہے۔ 

مختصر ۱ً اگرکہا جائے تو ہر سورت کے آغاز میں ’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘ کے سوا کوئی آیت کی گنتی، سورت کے نام اور بیچ بیچ میں لکھے جانے والی باتیں اصل نسخہ میں نہیں ہیں۔

سات قرأتیں

سات قرأت یا دس قرأت کے نام سے بہت سے لوگ قرآن سے کھیل رہے ہیں۔

اللہ ضمانت دیتا ہے کہ قرآن کو میں خود براہ راست حفاظت کروں گا۔ (دیکھئے: 15:9)

اگر کہے کہ اللہ کے کلام میں کوئی بھی اورکچھ بھی کر سکتے ہیں تو ہم اس کو قبول نہیں کر سکتے۔ سات قرأت کے نام سے عالم دین کے بھیس میں یہ لوگ ظلم ڈھا رہے ہیں۔

نبی کریم ؐ نے فرمایا ہے کہ قرآن مجید سات قسم سے نازل کی گئی ہے۔ 

(دیکھئے: بخاری 2419، 3219، 4991، 4992، 5041، 7556)

اس کو گواہ بنا کر وہ سات قرأتوں کا دعوٰی کر رہے ہیں۔یہ دعوٰی غلط ہے۔ قرآن مجید کو اللہ نے حفاظت کر نے کاوعدہ کیا ہے۔ اس سے نا موافقت نہ ہونے کے لحاظ سے ہم اس کو سمجھ لیتا چاہئے۔

خوب پھیلی ہوئی کوئی بھی زبان ہوہر علاقے میں جدا جدا انداز ہی سے اس کا تلفظ ہوگا۔

لیکن لکھتے وقت سب ایک ہی طرح سے لکھیں گے۔ 

ترسٹھ کو ساٹھ پر تین کہنے والے بھی ہیں۔ 

مدرئی لکھ کر اس کو مردئی پڑھنے والے بھی ہیں۔ 

اسی طرح عربی زبان میں علاقائی طریقے بھی تھے۔

مکہ اور مدینہ کو اپنے احاطے میں لئے ہوئے حجاز علاقے کی عادت کے مطابق دوسرے حصوں میں رہنے والے اگر پڑھنا چاہیں تو اپنی عادت کے خلاف زبان کو پلٹناانہیں دشوار تھا۔ اسی لئے ان سات قسم کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ساتوں علاقوں کے طریقے کے مطابق پڑھ سکتے ہیں۔ 

ایک ہی قسم سے قرآن نازل ہوا۔ نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ میں نے جبرئیل سے پوچھاکرتا تھاکہ اور زیادہ بڑھاؤ تو انہوں نے سات تک بڑھا دیا۔ (دیکھئے: بخاری 4991)

نبی کریم ؐ نے وہ منظوری اس لئے حاصل کی کہ ان ساتوں علاقوں کے طریقے کے مطابق لوگوں کو کوئی دشواری پیش نہ آئے۔

ہر علاقے والے تلفظ میں اور پڑھنے کے طریقے میں اپنی عادت کے مطابق پڑھنے سے یہ نہ سمجھ لینا کہ قرآن مجیدکی حفاظت نہیں ہوئی۔

لیکن قرأت کے نام سے بعض علمائے دین جو مسخراپن کر رہے ہیں وہ قرآن مجید سے کھلواڑ کی طرح ہے۔

مثال کے طور پر آیت نمبر 2:198 میں’’ فضلا من ربکم‘‘ قرآن میں موجود ہے۔ اس کے ساتھ ’’فی مواسم الحج‘‘ ملا کر ابن عباس پڑھا کر تے تھے۔(دیکھئے: بخاری 2050، 2098)

اس خبر کو ہم کیسے سمجھیں؟ انسانی لحاظ سے کچھ بھول چوک کی وجہ سے ابن عباس نے اس طرح غلطی سے پڑھا ہو گا سمجھنے کے بجائے وہ کہتے ہیں کہ اس طرح بھی پڑھا جاسکتا ہے۔ 

اس کو بنیاد بنا کر ایک لفظ کے بدلے دوسرے لفظ کو ملا کر پڑھنا ، ایک جملے کے ساتھ دوسرے جملے کو بڑھا کرپڑھنا، کہتے ہیں کہ یہ سات قرأتوں میں جمع ہے، اس طرح وہ قرآن کے تحفظ کو سوالیہ نشان بنادیا ہے۔ 

اس کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ نبی کریم ؐ نے کہا ہو کہ اس طرح پڑھنا ان سات قرأتوں میں شامل ہے۔ اس کے باوجود وہ اسی طرح پڑھ رہے ہیں۔

قرآن مجید کو اس طرح پڑھنے والوں میں کہا جاتا ہے کہ سات اشخاص بہت اہمیت رکھتے ہیں۔وہ سات قاری اصحاب رسول میں سے نہیں ہیں۔ تابعین بھی نہیں۔ ان کے بعد آنے والوں میں سے ہیں۔ ان میں سے کوئی نبی کریم ؐکی قرأت نہیں سنا۔

یہ سنے بغیر کہ نبی کریم ؐ کس طرح پڑھے تھے، یہ لوگ خود جو تخلیق کئے ہیں ، وہ کس طرح قرآن ہوسکتا ہے؟ ایسی ایک معمولی چیز بھی انہیں کس طرح معلوم نہ ہوسکا، یہ ہماری سمجھ سے باہر ہے۔

سات قرأت کے نام سے یہ لوگ جو بے ترتیبی مچائی ہے اسی کی وجہ سے قرآن مجید کے خلاف سوالات اٹھ رہے ہیں۔ لوگ سوال اٹھارہے ہیں کہ اس طرح سات قسم کے قرآن رکھتے ہوئے تم کیسے کہہ سکتے ہو کہ یہ تحفظ کی ہوئی کتا ب ہے۔ اس لئے اس قرأت کے معاملے کو روکنا چاہئے۔ 

حرفی غلطیاں

قرآن مجید کے بارے میں ایک اور بات جان لینا ضروری ہے۔ 

عثمانؓ کے ذریعے قرآن مجید کے کئی نسخے لکھے گئے۔ اس میں کاتبوں نے بعض جگہوں میں بھول چوک سے چند غلطیاں کی ہیں۔ 

اس طرح غلطیاں رہنے کے باوجود حفظ کر نے والوں کے دلوں میں اصل بحفاظت رہنے کی وجہ سے اسی کو پیمائش گردان کر عالمی مسلم سماج کتابت کی ان غلطیوں کو نظرانداز کر دیا ہے۔

کیونکہ غلط کتابت کا نسخہ ایک شخص کے پاس ہو اور دوسرے کے پاس صحیح کیا ہوا نسخہ ہو تو ایسا دکھائی دے گا کہ قرآن مجید میں ناموافقت ہے۔ 

ان میں سے بعض غلطیوں کے بارے میں ہم بتا رہے ہیں:

* قرآن مجید بھر میں ’’للذین‘‘ ٹھیک سے لکھا گیا ہے۔ لیکن آیت نمبر 70:36 میں غلطی سے الف بڑھا دیا گیا ہے۔

* آیت نمبر 21:88 میں لفظ ’’ننجی‘‘ کو ’نجی‘ لکھا گیا ہے۔ بعد کے زمانے والے اس میں ’ن‘ ملا دیا ہے تاکہ اس کو لوگ اسی طرح نہ پڑھنے لگ جائیں۔

* لفظ ’’افئن‘‘ آیت نمبر 3:144 اور 21:34 میں غلطی سے ’’افائن‘‘ لکھا گیا ہے۔ لیکن اس کو ’’افئن‘ ہی لکھنا اور پڑھنا چاہئے۔ 

* آیت نمبر 3:158 کی ’’لا الی اللہ‘‘ میں لا کوکھینچ کر لکھا گیا ہے، بلکہ اس کو ’’لا میں الف کے بغیر لَاِالی اللہ ‘‘ کہہ کر پڑھنا اور لکھنا چاہئے۔

* آیت نمبر 37:68 میں ’’لا الی الجحیم‘‘ غلط لکھا گیا ہے، اس کو ’’لَاِالی الجحیم‘‘ ہی لکھنا اور پڑھنا چاہئے۔ 

* آیت نمبر 5:29 میں ’’تبوآ‘‘ کہہ کر لمبا کیا گیا ہے، اس کو تبواَ ہی لکھنا اور پڑھنا چاہئے۔ 

* آیت نمبر 7:103، 10:75، 11:97، 23:46، 28:32، 43:46 میں غلطی سے ملاۂ لکھا گیا ہے، اس کو ملۂ ہی پڑھنا اور لکھنا چاہئے۔ 

* آیت نمبر 9:47 میں غلطی سے ولا اوضعولکھا گیا ہے، اس کو ولاوضعولکھنا اور پڑھنا چاہئے۔

* آیت نمبر 7:73، 11:61، 17:59، 27:45، 51:43 ان آیتوں میں لفظ ’’ثمود‘‘ ٹھیک سے لکھا گیا ہے۔

لیکن آیت نمبر 11:68 میں یہ لفظ دو بار آتا ہے، اس میں ایک جگہ میں غلطی سے ’’ثمودا‘‘لکھا گیا ہے۔ اس کو ثمود ہی لکھنا اور پڑھنا چاہئے۔ 

* لفظ شءٍی ہر جگہ ٹھیک سے لکھا گیا ہے ، لیکن آیت نمبر 18:23 میں غلطی سے شاءٍی لکھا گیا ہے۔اس کوشءٍی لکھنا اور پڑھنا چاہئے۔ 

* آیت نمبر 18:14 میں ’’ندعوَ‘‘ لکھنے کے بجائے غلطی سے ندعوا لکھ دیاگیا ہے، اس کو ندعوَ ہی پڑھنا اور لکھنا چاہئے۔

* آیت نمبر18:38 میں لفظ لٰکن کو غلطی سے لٰکنا لکھ دیا گیا ہے۔ اس کو لٰکن ہی پڑھنا اور لکھنا چاہئے۔ 

* آیت نمبر 13:30 میں غلطی سے ’’لتتلوا‘‘ لکھا گیا ہے، اس کو ’’لتتلوَ‘‘ ہی پڑھنا اور لکھنا چاہئے۔ 

* آیت نمبر 27:21 میں غلطی سے ’’لا اذبحنہ‘‘ لکھا گیا ہے، اس کو ’’لَاَذبحنہ‘‘ لکھنا اور پڑھنا چاہئے۔

* آیت نمبر 47:4 میں غلطی سے ’’لیبلوا‘‘ لکھا گیا ہے، اس کو ’’لیبلوَ‘‘ لکھنا اور پڑھنا چاہئے۔

* آیت نمبر 59:13 میں غلطی سے ’’لا انتم‘‘ لکھا گیا ہے، اس کو ’’لانتم‘‘ ہی لکھنا اور پڑھنا چاہئے۔ 

* 76:16، 27:44 ان آیتوں میں لفظ ’’قواریر‘‘ ٹھیک سے لکھاگیا ہے، لیکن آیت نمبر 76:15 میں غلطی سے ’’قواریرا‘‘ لکھا گیا ہے، اس کوقواریر ہی لکھنا اور پڑھنا چاہئے۔ 

* آیت نمبر 76:4 میں لفظ’’ سلٰسلا ‘‘ غلطی سے لکھا گیا ہے۔ اس کو ’’سلٰسلَ‘‘ ہی لکھنا اور پڑھنا چاہئے۔ 

* آیت نمبر 47:31 میں غلطی سے ’’نبلوا‘‘ لکھا ہو اہے۔ اس کو ’’نبلوَ‘‘ ہی لکھنا اور پڑھنا چاہئے۔ 

* 15:78، 50:14 آیتوں میں ’’الایکۃ‘‘ ٹھیک سے لکھا گیا ہے۔ لیکن 26:176، 38:13 آیتوں میں غلطی سے الف چھوٹ گیاہے۔ 

* آیت نمبر 4:12، 7:190، 39:29 میں ’’شرکاء‘‘ ٹھیک سے لکھا گیا ہے، لیکن آیت نمبر 6:94، 42:21 میں آخر میں ایک الف غلطی سے لکھ دیا گیا ہے۔ اور لفظ واؤ بھی اس میں غلطی سے درج کیا گیا ہے۔ 

* آیت نمبر 2:266 میں لفظ ’’ضعفاء‘‘ ٹھیک سے لکھا گیا ہے۔ مگر آیت نمبر 14:21، 40:47 کے آخر میں غلطی سے الف بڑھا دیا گیا ہے اور لفظ واؤ بھی غلطی سے ملا دیا گیا ہے۔

* 6:67، 28:3، 76:2 آیتوں میں لفظ ’’نَبَاٍ‘‘ ٹھیک سے لکھا گیا ہے، مگر آیت نمبر 6:34 کے آخر میں غلطی سے’ ی‘ کا حرف جمع دیا گیا ہے۔

* 2:101، 11:71، 33:53 آیتوں میں لفظ ’’وراء‘‘ ٹھیک سے لکھا گیا ہے۔ مگر آیت نمبر 42:51 کے آخر میں ’ی‘ کو غلطی سے جمع کر دیا گیا ہے۔

* آیت نمبر 8:31 اور 6:83 میں لفظ ’’نشاء‘‘ ٹھیک سے لکھا گیا ہے، مگر آیت نمبر 11:87 کے آخر میں غلطی سے الف کا حرف بڑھا دیا گیا ہے۔

* آیت نمبر 13:26، 17:30، 28:82، 29:62، 30:37، 34:36، 34:39، 39:52، 42:12، ان آیتوں میں لفظ ’’یبسط‘‘ ٹھیک سے لکھا گیا ہے۔ لیکن آیت نمبر 2:245 میں غلطی سے اس کو ’’یبصط‘‘ لکھا گیا ہے۔ سین کے بجائے صاد لکھا گیا ہے۔ صاد کے لفظ پر ایک چھوٹا سا سین لکھ کر نشان کیا گیا ہے۔

* آیت نمبر 2:247 میں لفظ ’’بسطۃ‘‘ ٹھیک سے لکھا گیا ہے۔ لیکن آیت نمبر 7:69 میں غلطی سے ’’بصطۃ‘‘ لکھا ہوا ہے۔ بسطۃ کی سین لکھنے کے بجائیبصطۃمیں صاد لکھ دیا گیا ہے۔ دونوں میں ایک ہی تلفظ رہنے کی وجہ سے شاید غلطی سے لکھ دئے ہوں گے۔

اس طرح کے چند چھوٹے چھوٹے غلطیوں کے سوا باقی تمام اصل نسخہ میں ٹھیک سے لکھا گیا ہے۔ یہ غلطیاں بھی کوئی بڑی غلطیاں ہیں۔ ہر انسان سے ایسی غلطیاں سرزد ہوتی ہیں۔ 

کاتبوں کی یہ غلطیاں قرآن مجید کے تحفظ میں کوئی فرق نہیں ڈالتا۔ کیونکہ قرآن کریم اللہ کی طرف سے تحریری انداز میں نہیں اترا، بلکہ آواز کی شکل میں اترا ہے۔ آواز کی شکل کو تحریری شکل میں لا نے والا انسان ہی ہے۔ اس لئے حروفوں میں ایک دو غلطی پایا جاناانسانی فطرت ہے۔ اگر اس کو اللہ ہی لکھ دیا ہو تا تو کوئی غلطی کی گنجائش نہیں ہوتی۔

کاتبوں کی ان غلطیوں کے بارے میں 1200سال پہلے گزرے ہوئے ماہر لسان و عالم دین ابن خطیبہ، ابن خلدون، باقلانی، اصفحانی وغیرہ نے کہا ہے۔اور انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ کاتبوں کی اس غلطی سے قرآن مجید کے تحفظ میں کوئی اثر نہیں پڑتا۔ کیونکہ قرآن کریم آواز کی شکل میں نازل کیا گیا، تحریری شکل میں نہیں۔ 

اس لئے انسان کے ہاتھوں سرزد ہونے والی ان غلطیوں کو ہم نشاندہی کر نے سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ قرآن مجید حفاظت نہیں کی گئی ہے۔ قرآن مجید تو اس کے آواز کی شکل میں بالکل محفوظ ہے، اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔

 اسی لئے قرآن مجید تحفظ کے بارے میں آیت نمبر 29:49 میں کہتا ہے کہ عالموں کے دلوں میں یہ محفوظ ہے۔

غلطیوں کے باوجود حفظ کر نے والے اس کو صحیح طور پر یاد کیا۔ حفظ کے معاملے میں کوئی پریشانی نہیں ہوئی۔ غلطی سے لکھے جانے کے باوجود پڑھتے وقت سارے مسلمان اس کو صحیح طور سے ہی پڑھتے ہیں۔

ان چھوٹی غلطیوں کو اسی طرح رہنے دینے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قرآن کریم کا اللہ ہی محافظ ہے۔ 

جس طرح لکھا گیا ہے اسی طرح پڑھنا اور اسی طرح اس کو حفظ کر نا انسانی فطرت ہے۔ قرآن لکھنے والے چند الفاظ غلطی سے لکھنے کی وجہ سے اسی طرح پڑھنا چاہئے تھا۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ ان غلطیوں کو نظر انداز کر کے جس آواز میں قرآن نازل ہوا ہے اسی آواز کے تحت سارے مسلمان قرآن پڑھتے آ رہے ہیں۔

اسی لئے یہ اختلاف کے بغیر کہ ہر شہر کو ایک قرآن اور ہر زمانے کو ایک قرآن نہ ہوتے ہوئے ہم دیکھ رہے ہیں کہ ساری دنیا میں ایک ہی قرآن کسی قسم کی تبدیلی کے بغیر چودہ سو سالوں سے بحفاظت پڑھا جارہا ہے۔

عربی حروف میں تبدیلیاں

قرآن کے بارے میں ایک اور بات جان لینی ضروری ہے کہ عربی حروف میں ہونے والی تبدیلیاں۔

قرآن مجید نازل ہوئے چودہ سو سال گزر گئے۔ چودہ سو سال جب گزرتی ہے تو ہر زبان اس کی نشانیوں میں سے چندچیزیں کھو دیتی ہیں۔ اس کے حروف، اس کی شکل اوربات چیت میں تبدیلی پیدا ہوجا تی ہیں۔ اس طرح تبدیلیاں پیدا ہونا ہر زبان میں ہو تا آرہا ہے۔ 

اس طرح کی تبدیلیاں عربی زبان میں بھی پیدا ہوئی۔ نبی کریمؐ کے زمانے میں لکھے گئے حروف اور حال میں دنیا بھر میں پائے جانے والے قرآنی حروف کے درمیان کئی تبدیلیاں موجود ہیں۔ 

اس وقت لکھے گئے اصل نسخہ کو اگر آج کے عربی جاننے والے کے پاس دکھاؤ تو ان سے وہ پڑھا نہیں جاسکتا۔ اس حد تک کئی تبدیلیاں پیدا ہوئی ہیں۔ 

ان تبدیلیوں کی وجہ سے یہ نہ سمجھ لیناکہ قرآن کی محافظت میں کوئی کمی واقع ہوئی ہے۔ کیونکہ قرآن مجید تحریری شکل میں نازل نہیں ہوا۔ آواز کی شکل میں نازل کیا گیا ہے۔ 

آخر تک قائم رہنے والی کتاب بنانے کے لئے ہی نبی کریمؐ نے اس کو تحریری شکل دی تھی۔ 

اللہ کی طرف سے نبی کریم ؐ پر قرآن مجیدآواز کی شکل ہی میں اتارا گیا۔ وہ آوازی شکل آج تک کسی تبدیلی کے بغیر چلا آرہا ہے۔

آج بھی میوزیم میں بحفاظت رکھے ہوئے اصل نسخہ کو لے کر کوئی پرانے حروف کو پڑھنے والے کے پاس دو تو ان کا پڑھنا اور آج شائع ہو نے والے قرآن کو پڑھنا دونوں ایک ہی آواز کے اور ایک ہی تلفظ کے ہوں گے۔ دونوں کے درمیان کوئی فرق نہ ہوگا۔ 

اسی طرح عربی زبان کے حروف میں چاہے جتنا بھی تبدیلی ہو جائے قرآن کے تلفظ اور آواز میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوگی۔ اسی لئے قرآن کی حفاظت میں کوئی مزاحمت نہیں ہوئی۔

اسی لئے اللہ فرماتاہے کہ قرآن نیک لوگوں کے دلوں میں حفاظت کیا گیاہے۔ (29:49)

چلئے دیکھیں کہ نبی کریم ؐ کے زمانے کے بعد عربی زبان میں کیا کیا تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔

نقطے

عربی زبان میں ایک نقطے والے حروف، دو نقطے والے حروف، تین نقطے والے حروف، اوپر نقطے والے حروف اور نیچے نقطے والے حروف کئی موجود ہیں۔ 

چند حرفوں کو ایک ہی شکل رہنے کی وجہ سے ان نقطوں کے ذریعے ہی حرفوں کو پہچانا جا سکتا ہے۔ 

لیکن قرآن جس دور میں نازل ہوا تھاحرفوں کو نقطے نہیں تھے۔ اس لئے ایک ہی شکل کے کئی حروف تھے۔ تاہم عربی زبان کے ماہر اس کے جملے پر غور کر کے اچھی طرح پڑھ لیا کر تے تھے کہ اس جگہ پر یہی حروف آنا چاہئے۔ 

اسلام جب ساری دنیا میں پھیل چکی تو عربی زبان کے معانی نہ جاننے کے باوجود وہ اللہ کا کلام ہونے کی وجہ سے اس کے پڑھنے والے بڑھتے چلے گئے، اس وقت ہی اس پر نقطے جما کر حرفوں کو پہچان دیا گیا۔ 

نقطے والے حروف اصل نسخہ میں نہیں ہیں۔ نقطے رکھنے سے لوگوں کوفائدہ پہنچنے کی وجہ سے اسلامی دنیا اس کو پوری طرح سے مان لیا۔ 

قرآن مجید کی اس تبدیلی سے عربی کے مادری زبان والے بھی مانوس ہوگئے۔وہ لوگ بھی پرانے زمانے کے تحریری طریقے کو بھول گئے۔ یہ عربی زبان کی ایک اہم تبدیلی ہے۔ 

حرف صحیح کے علامات

تامل زبان میں اگر ’کا‘ لکھا جائے تو اس کو کا پڑھا جاسکتا ہے، اگر ’کی‘ لکھا جائے تو اس کی شکل تبدیل ہو نے سے اس کو کی پڑھا جا سکتا ہے، ’کو‘ کی شکل تبدیل ہو نے سے اسے کو پڑھا جاسکتا ہے۔

لیکن قرآن نازل ہونے کے دور میں عربی زبان میں حرف صحیح کے علامات نہیں تھے۔ ’کا، کی، کو اور ک‘ ان چاروں حروف کو ایک ہی شکل تھا۔ جو حروف جن جگہوں میں استعمال کیا گیا ہے اس کے مطابق کس طرح پڑھا جائے، اس دور کے عرب اچھی طرح جانتے تھے۔ 

اسلام جب ساری دنیا میں پھیل چکی اور معانی نہ جانے والے بھی قرآن پڑھنے لگ گئے تو ان کے تعاون کے لئے بعد کے زمانے میں اس پر اعراب لگا یا گیا۔ 

یہ اعراب اصل نسخہ میں نہیں ہیں۔ اس میں ’کا، کی، کو اور ک‘ سب ایک ہی جیسے لکھے گئے ہیں۔ 

اس تبدیلی کو بھی اسلامی دنیا تسلیم کر لی۔عربی کے مادری زبان والے قرآن کے سوائے دوسری کتابوں میں اکثر اعراب کو استعمال نہیں کر تے۔ کسی بھی علامات کے بغیر وہ پڑھ لیتے ہیں۔

عبد الملک بن مروان کی حکومت میں حجاج بن یوسف نامی حاکم کے زیر نگرانی میں کئی عالم جمع ہو کر ان تبدیلیوں کو لے آئے۔ اس کو ساری دنیا کے مسلمانوں نے تسلیم کرلی۔ 

قرآن مجید کے اصلی نسخہ میں جو حروف ہیں اور آج کے دور کے قرآن مجید میں جو حروف ہیں ان کے درمیان جو فرق پائے جاتے ہیں ، اس کو دیکھ کر یہ نہ سمجھ لینا کہ قرآن کریم کی حفاظت نہیں کی گئی۔ 

ختم قرآن کی دعا

موجودہ دور میں قرآن ختم کر نے کی ایک لمبی دعا قرآن مجید کے آخر میں درج کیا گیا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ بھی قرآن کے ساتھ شامل ہو نے کا خطرہ ہے۔ اس میں کوئی گہرا مطلب یا نبی کریم ؐ کی کوئی رہنمائی کچھ بھی نہیں۔ اس دعا کو پڑھنا کوئی زبردستی نہیں۔ 

اگر اس کا مطلب تم جان گئے توتم سمجھ جاؤگے کہ یہ دعا کتنی مزاحیہ انداز کی ہے۔ 

مثال کے طور پر ہم ’در‘ کہتے ہیں۔ درمیں دال کہنے کی وجہ سے مجھے دولت دے دے، را کہنے کی وجہ سے مجھے راحت دے دے کہنا کیسا رہے گا، اسی انداز سے اس دعا کو جوڑاگیا ہے۔ 

جیم کا حرف کہنے کی وجہ سے مجھے جمال دے۔

حا کا حرف کہنے کی وجہ سے مجھے حکمت دے۔

اس طرح ہر حرف کہہ کر اس حرف سے ملتے جلتے دوسرے لفظ سے شروع ہو نے والی چیز کو اللہ سے مانگنے کی طرح اس دعا کو جوڑا گیا ہے۔

جیم کا حرف صرف جمال کے لئے نہیں آتا، بلکہ جہل کے لئے بھی آتا ہے۔ اور پھرجیم کے لئے اللہ سے جمال مانگنا گستاخی معلوم ہو تاہے۔ اس لئے اس دعا کو صرف شائع کر نا ہی نہیں بلکہ اس دعا کو مانگنا بھی گناہ ہے اور جیسے یہ قرآن سے کھیلنا ہے۔ 

فنی الفاظ

شریک ٹہرانا

اسلام کہتا ہے کہ ساری کائنات کو پیدا کر کے بحفاظت پالنے والا پروردگار اللہ ہی ہے۔اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے کہ اللہ کے برابر کوئی نہیں اور کچھ بھی نہیں۔

یہ عقیدہ رکھنا کہ کئی معبود ہیں اور اللہ واحد کے سوا دوسروں کو بھی اسی طرح کے صفات اور قدرت کو ماننا، جو عبادت اللہ کوکیا جاتا ہے ، اس میں سے کسی ایک کو بھی دوسروں کے لئے کرنا ، اسی کو اسلام شرک کہتا ہے۔ 

اور اسلام یہ بھی کہتا ہے کہ اس طرح اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹہرانا سب گناہوں سے بہت بڑا گناہ ہے۔ اگر اس عقیدے سے باز آئے بغیر کسی کو موت آجائے تو اس کو معافی نہیں مل سکتی اور وہ ہمیشہ جہنم ہی میں پڑا رہے گا۔ 

(شریک ٹہرانے کے بارے میں تفصیل کے لئے فہرست مضامین میں’’ عقیدہ ۔ اللہ پر بھروسہ ‘‘ کے عنوان کے تحت دیکھئے)۔

جنت ۔ جنت کے باغات

ساری دنیا کو تباہ کر نے کے بعد سب لوگ اللہ کے سامنے کھڑا کئے جائیں گے اور دریافت کئے جائیں گے۔ اللہ اور اس کے رسولوں کو مان کر ان کے بتائے ہوئے راہ پرچلے ہوئے نیک لوگوں کو رب جو انعام دے گا وہی جنت ہے۔

 جنت میں داخل ہو نے والے اسی میں ہمیشہ رہیں گے۔ وہ جو بھی چاہیں گے وہاں انہیں ملے گا۔ کسی طرح کا غم، تھکاوٹ، دشواری یا ذہنی الجھن کے بغیر وہ جنت میں عیش کریں گے۔

(جنت کے بارے میں پوری تفصیل فہرست مضامین میں عقیدے کے عنوان کے تحت روز قیامت ۔جنت میں دیکھئے)۔

مرسلین

انسانوں کو سیدھی راہ دکھانے کے لئے انسانوں ہی میں سے ایک قابل انسان کو منتخب کر کے زندگی کے اصول سمجھا کر بھیجتا ہے۔ انہیں کو اسلام اللہ کے رسول کہتا ہے۔ 

پہلے انسان سے لے کر آخری رسول نبی کریم ؐ تک بہت سے رسول دنیا کے ہر حصوں میں مختلف زبان بولنے والے لوگوں کو سیدھی راہ دکھانے کے لئے بھیجے گئے۔

اس طرح بھیجے گئے رسولوں کی گنتی کے بارے میں قرآن میں یا نبی کریم ؐ کے قابل قبول حدیثوں میں کہیں بھی درج نہیں کیا گیاہے۔

 مسند احمد جیسے چند کتابوں میں درج کیا گیا ہے کہ نبی کریمؐ نے فرمایا ہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء بھیجے گئے ہیں۔ اس کو روایت کر نے والے تیسرے راوی علی بن یزید کے بارے میں گمان ہے کہ وہ جھوٹ بولنے والے تھے۔ اس کو روایت کر نے والے چوتھے راوی معان بن رفاعہ کے بارے میں کہا جا تا ہے وہ کمزور تھے۔ اس لئے یہ قابل قبول اطلاع نہیں ہے۔ 

جو بھی مرسلین بھیجے گئے وہ سب ہر قسم سے انسان ہی گزرے ہیں۔ مرسلین بنا کر بھیجے جانے کی وجہ سے انہیں کوئی الوہیت عطا نہیں کی گئی۔ اللہ کی طرف سے انہیں وحی اترتی تھی، یہی ان کی خصوصیت تھی۔

 لوگ سمجھتے ہیں کہ انبیاء اور مرسلین الگ الگ حیثیت ہیں، اس کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ 

(اس کے بارے میں تفصیل حاشیہ نمبر 398 میں ملاحظہ کیجئے۔ )

نماز

مسلمانوں پرجو فرائض عائد کی گئیں ان میں نماز بہت اہم فرض ہے۔ 

نماز ایک ایسی عبادت ہے جس میں تھوڑی دیرکھڑے ہوئے، تھوڑی دیرجھکے ہوئے، تھوری دیر پیشانی کو زمین میں رکھتے ہوئے، تھوڑی دیر بیٹھے ہوئے،ہرحال میں جو پڑھنا ہے اس کو پڑھا جائے۔ 

ہر روز پانچ بار پانچ وقتوں میں نماز ادا کر نی چاہئے۔ اس کے علاوہ بھی ان ان کے خواہش کے مطابق جب بھی موقع ملے نماز پڑھ کر اللہ کی رضامندی حاصل کر سکتے ہیں۔ 

(اس کے بارے میں اور بھی تفصیل کے لئے فہرست مضامین میں عبادت کے عنوان پر نماز کے مضمون کو دیکھئے)۔

منافقین

نبی کریم ؐ اپنے وطن مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ میں پناہ حاصل کی۔ وہاں ان کی تبلیغ کو اچھی آؤبھگت ملی، بہت سے لوگ اسلام قبول کئے۔ اس کے ذریعے نبی کریم ؐ کو حاکمیت حاصل ہوئی۔

نبی کریم ؐ مدینہ آنے سے پہلے جو لوگ حکومت اورحاکمیت کی لطف اٹھارہے تھے، وہ پورے دل سے اسلام قبول نہیں کئے۔ بلکہ خود غرضی اور مسلمانوں کو ایذا پہنچانے کے لئے ایسے بہانے کرنے لگے جیسے وہ مسلمان ہو چکے۔

وہ لوگ مسلمان جیسے ہی مسجد آکر نمازوں میں حصہ لیاکر تے تھے، اور جنگ میں بھی جاتے تھے۔پھر بھی مسلمانوں کے متعلق خبریں مکہ میں رہنے والے دشمنوں کو دیا کر تے تھے۔

اسی لئے وہ مسلمانوں کے ہر کاروائی میں مسلمان جیسے شامل ہو جا یا کر تے تھے انہیں لوگوں کوقرآن حکیم منافقین کہا ہے۔ 

(منافقوں کی بہت سی سازشوں کوتفصیل سے جاننے کے لئے مضامین فہرست میں تاریخ کے عنوان کے تحت منافق کے مضمون میں دیکھئے۔)

ایمان لانا ۔ ایمان لانے والے

قرآن مجید میں بہت سی جگہوں میں استعمال کیا گیا ہے ، ایمان لانا ، ایمان لانے والے۔ 

عام طور سے ہم جس مطلب سے ایمان لا نے کو سمجھ رکھا ہے اس مطلب سے یہ الفاظ استعمال نہیں کیا گیا ہے۔ 

بلکہ خاص کر چند باتوں کو ہم دل سے مان کر ایمان لا نے ہی کو اسلام کہتا ہے۔ 

اللہ کو، فرشتوں کو، اللہ کے رسولوں کو، ان پر نازل کی ہوئی کتابوں کو، آخرت کو، وہاں ہونے والے سوال و جواب کو ، آخرت سے پہلے ہو نے والے ہنگامے کو، نیک لوگوں کو ملنے والی جنت کو، برے لوگوں کو ملنے والی جہنم کو، قبر کی عذاب کو اور تقدیر کو ماننے ہی کواسلام ایمان لاناکہتا ہے۔ 

(اس کے بارے اگر تفصیل جاننا ہو تو فہرست مضامین میں عقیدے کے عنوان کے تحت دیکھ لیں۔)

جہنم

اللہ کے احکام اور اس کے رسولوں کے طریقے کوجو لوگ پیروی نہیں کر تے انہیں آخرت میں پوچھ گچھ کے بعدملنے والا عذاب ہی جہنم کہلاتا ہے۔ 

اللہ کا انکار کر نے والے اور اللہ کے ساتھ شریک ٹہرانے والے گناہ گار جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔ 

ان گناہوں کے سوا دیگر گناہوں میں مبتلا لوگ اگر اللہ کے رحم و کرم سے معاف کردئے گئے تو وہ لوگ جنت میں جائیں گے۔ اگر معاف نہیں کئے گئے تو انہیں ان کے گناہوں کے مطابق عذاب دئے جانے کے بعد وہ جنت میں جائیں گے۔

(جہنم کے بارے میں اور زیادہ تفصیل کے لئے فہرست مضامین میں عقیدے کے عنوان کے تحت دیکھئے۔)

روزہ

اللہ کے حکم کے مطابق صبح سے لے کر سورج غروب ہو نے تک کھا ئے اور پئے بغیر ،اور گھریلو تعلقات میں مبتلا ہوئے بغیربالکل پابندی سے جو رہتے ہیں اسی کو روزہ کہا جا تا ہے۔ 

ہرسال پورے رمضان کے مہینے میں اس طرح روزہ رکھنا فرض ہے۔ اس کے علاوہ بعض گناہوں کے کفارے کے لئے بھی روزہ رکھا جا تا ہے۔

(روزہ کے بارے میں اور زیادہ تفصیل کے لئے فہرست مضامین میں عبادت کے عنوان کے تحت دیکھ لیں۔) 

فرشتے

اللہ کی تخلیقات میں قرآن کہتا ہے کہ فرشتوں کی ایک ذات بھی ہے۔ 

وہ نور سے پیدا کئے گئے۔ ان میں مرد، عورت کی کوئی جنس نہیں۔ اس لئے ان میںآبادی کا کوئی اضافہ نہیں۔انہیں اللہ کے رسولوں کے سوا کوئی دوسرا دیکھ نہیں سکتا۔ 

صرف اللہ ہی اپنے معاملوں کو پورا کر نے کی قدرت رکھنے کے باوجود فرشتوں کی ذات کو پیدا کر کے ان کے ذریعے کا م کروا لیتا ہے۔ 

(فرشتوں کے بارے اور بھی تفصیل کے لئے فہرست مضامین میں عقیدے کے عنوان کے تحت دیکھ لیں۔)

عربی فنی الفاظ

اللہ

اللہ کا لفظ ساری کائنات کو پیدا کر کے دیکھ بھال کر نے والے ، تمام اختیارات اور قدرت والے رب واحد ہی کے لئے خصوصی عربی لفظ ہے۔ 

نبی کریم ؐ کے پہلے ہی سے عربوں نے اس لفظ کو استعمال کرتے آرہے تھے۔ وہ لوگ جس کی عبادت کر رہے تھے اس کو دوسرے الفاظ سے پکارا کر تے تھے، بلکہ اللہ کہا نہیں کر تے تھے۔ 

سارے عالم کو پیدا کر کے اس کو دیکھ بھال کر نے والا ایک پروردگار ہے، وہی اللہ ہے۔ دیگر سارے معبود اللہ سے مانگ کر دینے والے چھوٹے چھوٹے معبود ہیں، یہی ان کا عقیدہ تھا۔  اسی لئے ہم نے اللہ کے لئے خدا یا بھگوان کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ کیونکہ اس لفظ کو ایک ہی رب کے لئے اورعبادت کئے جانے والے سب کے لئے استعمال کیا جا تا ہے۔ 

بتوں کو اور عزت کئے جانے والے انسان کو بھی یہاں بھگوان کہا جا تا ہے۔ نبی کریم ؐ کے دشمن بھی عبادت کئے جانے والے سب کے لئے اللہ کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ اسی لئے ہم نے اللہ کا لفظ جہاں جہاں جگہ پایا ہے، ہم نے اللہ ہی لکھا ہے۔ 

* اللہ کونہ بیوی ہے اور نہ بچے۔

* اللہ کو نہ والدین ہیں اور نہ برادری۔

* اللہ سے ناممکن کوئی چیز نہیں۔

* نیند، بھول، تھکن، سستی، بھوک، پیاس، طبعی حاجت، بڑھاپایا مرض ، ایسی کسی طرح کی کوئی کمزوری اللہ کو نہیں۔

* اللہ کو کسی طرح کی حاجت نہیں۔

ایسی ساری صفتوں کا مالک ہی اللہ ہے۔

(اللہ کی صفات کے بارے میں اور زیادہ تفصیل کے لئے فہرست مضامین میں عقیدے کے عنوان کے تحت اللہ کو مانناکے عنوان پر دیکھئے۔) 

ایوب

یہ اللہ رسولوں میں سے ایک ہیں۔ یہودو نصرانی انہیں یوبو کہتے ہیں۔ 

اس دنیا میں وہ مختلف بیماریوں اور مفلسی سے بہت ہی سختی سے آزمائے گئے۔ اپنے گھر والوں کو کھو دئے۔ آخر میں ان کی بیماریاں بھی دور ہوگئیں اور گھر والے بھی مل گئے۔

بناوٹی کہانیاں کہتی ہیں کہ ان کے جسم میں کیڑے پیدا ہو گئے تھے، اس کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ 

(ایوب نبی کے بارے میں اور زیادہ تفصیل کے لئے فہرست مضامین میں تاریخ کے عنوان کے تحت انبیاء کے عنوان میں دیکھئے۔)

عرفات

مکہ کے باہرایک بہت بڑی میدان ہے، اسی کا نام ہے عرفہ یا عرفات۔ 

حج کا فرض ادا کر نے والے حج کے ماہ میں نو چاند کو اس میدان میں جمع ہونا واجبی فرض ہے۔ اگر اس میدان میں تھوڑی دیر بھی نہ ٹہرے تو ان کا حج پورا نہیں ہوگا۔ ایک ہی وقت میں لاکھوں لوگ خیمہ نصب کر کے وہاں ٹہریں گے۔ اس دن ایک مخصوص بیان بھی ہوگا۔ عرفات کے بارے میں آیت نمبر 2:198 میں فرمایا گیا ہے۔

عرش

تمام قدرت والے اللہ رب العزت کی بیٹھک کانام عرش ہے جہاں سے وہ حکومت چلاتا ہے۔ وہ آسمانوں اور زمین سے بہت بڑا ہے۔قرآن میں کئی جگہوں میں کہا گیا ہے کہ اللہ عرش پر بیٹھا ہوا ہے۔ 

(عرش کے بارے میں اور زیادہ تفصیل کے لئے فہرست مضامین کے عقیدے نامی عنوان میں اللہ پر ایمان لاناکے تحت دیکھ لیجئے۔)

الیسع

الیسع اللہ کے رسولوں میں سے ایک ہیں۔ ان کے بارے میں قرآن مجید میں آیت نمبر 6:86 اور 38:48 ان دونوں آیتوں ہی میں کہا گیا ہے۔ اور زیادہ تفصیل ان کے بارے میں کہا نہیں گیا۔

انصار

نبی کریم ؐ اور آپ پر ایمان لا نے والے اصحاب مکہ سے نکل کر مدینہ میں پناہ گزیں ہوئے۔انہیں سہارا دے کر بہت سارا مدد کر نے والے انصار کہلاتے ہیں۔ انصار کا مطلب ہے مددگار۔  ان میں سے ہر ایک مکہ سے آئے ہوئے ہر ایک مہاجر کے ذمہ دار بن کر انہیں اپنا گھر، مال و دولت ، کاروبار اور کپڑے وغیرہ میں برابر کا حصہ دار بنا لیا۔ (انصار کے بارے میں اور زیادہ تفصیل کے لئے فہرست مضامین کے تاریخ نامی عنوان میں نیک اور برے کے عنوان کے تحت دیکھ لیں۔)

آدم

اسلام کے عقیدے کے مطابق اللہ نے پہلے انسان کو چکنی مٹی سے پیدا کیا۔ اس پہلے انسان کا نام ہی آدم ہے۔ عیسائی انہیں آدام کہتے ہیں۔ دنیا کے تمام انسانوں کے باپ وہی ہیں۔ انہیں میں سے اللہ نے ان کے لئے شریک حیات بنایا۔ 

(آدم کے بارے میں اورزیادہ تفصیل کے لئے فہرست مضامین کے تاریخ کے عنوان میں انبیاء کے عنوان میں دیکھئے۔)

عاد 

جس قوم کی طرف ہود کو رسول بنا کر بھیجا گیا وہی قوم عاد کہلاتا ہے۔ وہ لوگ بہت ہی طاقتورتھے۔ ہود نبی کو نہ مان کر ظلم ڈھانے کی وجہ سے گرم ہوا بھیج کر اللہ نے انہیں تباہ کر دیا۔ (قوم عاد کے بارے میں اور زیادہ تفصیل کے لئے فہرست مضامین کے تاریخ کے عنوان پر انبیاء کے عنوان میں دیکھئے۔)

انجیل

عیسیٰ نبی پر اتاری گئی کتاب انجیل ہے۔

اب جو بائیبل کہلاتا ہے وہ انجیل نہیں ہے۔ کیونکہ یہ عیسیٰ نبی کے بارے میں دوسرے لوگوں کی لکھی ہوئی خبریں ہیں۔ عیسیٰ نبی کے ساتھ اللہ نے جو کلام کی تھی وہی انجیل ہے۔  انجیل کے بارے میں مکمل معلومات کے لئے حاشیہ نمبر 491 ملاحظہ فرمائیے۔ 

اعتکاف

اس کا مطلب ہے ٹہرنا۔ تھوڑی دیر یا چند دن کے لئے مسجد میں ٹہر کر اللہ کے ذکر اور عبادت میں مشغول ہوجانا اسلامی عقیدے کے مطابق اعتکاف کہلاتا ہے۔

اگر کوئی ایک دن کے اعتکاف کا نیت کر لے تو اس دن تمام گھریلوزندگی اور لین دین وغیرہ میں مبتلا نہ ہونا چاہئے۔

بالکل ہی دنیا ترک کر دینے کو اسلام اجازت نہیں دیتا۔ بلکہ گھریلو زندگی اور دنیوی زندگی کو اثر اندازکئے بغیر اس چھوٹی سی نفس کشی کے لئے اسلام اجازت دیتا ہے۔ ایک دو دن اس طرح مسجد میں ٹہر کر دنیوی تعلقات سے عارضی طور پر ہٹ جانے والے مسجد سے باہر آنے کے بعد بالکل احتیاط سے چلتے ہیں۔ اس کے ذریعے ان کے لئے اور دنیا کے لئے فائدہ ہوتا ہے۔ (قرآن مجید کی آیت نمبر 2:187 دیکھئے۔)

عدۃ

شوہر کو کھوئی ہوئی عورتیں اور شوہر سے طلاق پائی ہوئی عورتیں ایک مقررہ مدت تک دوسرانکاح نہیں کر نا چاہئے۔ اس مدت ہی کو عدۃ کہتے ہیں۔ 

شوہر مر نے کے بعد بیوی چار مہینے اور دس دن تک دوسری شادی نہیں کر نی چاہئے۔ طلاق شدہ عورتیں تین حیض کی مدت تک دوسری شادی نہیں کر نی چاہئے۔

(اس کے بارے میں حاشیہ نمبر 69، 360، 404، 424 وغیرہ میں دیکھئے۔)

ادریس

یہ اللہ کے رسولوں میں سے ایک ہیں۔ ان کے بارے میں قرآن میں صرف آیت نمبر 19:56 اور 21:85 ہی میں فرمایا گیا ہے۔ ان کے بارے میں اور زیادہ تفصیل قرآن میں کہا نہیں گیا ہے۔

ابراھیم

ابراھیم ہی اللہ کے رسولوں میں بہت زیادہ فضل پائے ہوئے رسول ہیں۔ان کی حیثیت کو اللہ نے بہت ہی بلند کیا ہے۔

صرف نبی کریم ؐ ہی نہیں بلکہ اسحاق، یعقوب، داؤد، سلیمان، ایوب، یوسف، موسیٰ اور ہارون سب رسول انہیں کے نسل سے ہیں۔ 

یہودی، عیسائی اور مسلمان سب کی نظروں میں وہ برگزیدہ مانے جا تے ہیں۔ انہیں یہود ی اور عیسائی لوگ ابرہام کہتے ہیں۔ 

(ابراھیم نبی کے بارے میں اور زیادہ تفصیل کے لئے فہرست مضامین میں تاریخ کے عنوان پر انبیاء میں دیکھئے۔)

عفریت

انسانی آنکھوں کو نہ دکھنے والے جن کی ذات میں سے ایک کا نام ہے۔ قرآن میں آیت نمبر 27:39 میں اس کے بارے میں کہا گیا ہے۔

ابلیس

ابلیس پہلے انسان کے پیدا کر نے کے پہلے ہی سے نیکوں میں سے ایک تھا۔ یہ آگ سے پیدا کئے گئے جن کی ذات سے تھا۔

پہلے انسان کو پیدا کر نے کے بعد انہیں احترام بجا لانے کے لئے اللہ نے حکم کیا۔تمام فرشتوں نے احترام کیا۔ لیکن ابلیس نے آدم کو مطیع ہو نا اپنے لئے رسوائی سمجھا۔ اس لئے احترام کر نے سے انکار کردیا۔ اور اللہ سے چاہنے لگا کہ اگر اس کو ایک موقع دیا جائے تو وہ لوگوں کو گمراہ کر سکتا ہے۔ 

اللہ نے اس کو یہ کہہ کر اجازت دیدی کہ مجھے پوری طرح سے چاہنے والے نیکو کاروں کو تم گمراہ نہیں کر سکتے، جو لوگ اپنی نفسانی خواہشات کے غلام بن گئے انہیں کو تم گمراہ کر سکتے ہو۔ اسی کے نسل ہی شیطان کہلاتے ہیں۔

(ابلیس اور شیطان کے بارے میں اگر تفصیل جاننا ہو تو فہرست مضامین کے عقیدے کے تحت دیگر اعتقادکے عنوان میں دیکھیں۔)

عمران

یہ عیسیٰ نبی کے والدہ مریم کے والد ہیں۔ ان کے بارے میں قرآن صرف تین ہی جگہوں میں ، یعنی آیت نمبر 3:33، 3:35، 66:12 میں کہتا ہے۔ ان کے بارے میں کوئی دوسری تفصیل قرآن میں نہیں کہا گیا ہے۔)

الیاس

یہ اللہ کے رسولوں میں سے ایک ہیں۔ آیت نمبر 37:130 میں انہیں الیاسین کہا گیا ہے۔ اور آیت نمبر 37:123اور 6:85 میں بھی ان کے بارے میں کہا گیا ہے۔ انہوں نے اپنی قوم کے کئی معبودوں کے عقیدے کے خلاف تبلیغ کی تھی، اس کے سوا کوئی دوسری تفصیل ان کے بارے میں نہیں ہے۔

استبرق

استبرق جنت میں پہنائے جا نے والی ایک قسم کی ریشمی لباس ہے۔یہ ریشمی لباسوں میں بہت زیادہ کثافت والی ہے۔ اس کے بارے میں آیت نمبر 18:31، 44:53اور 76:21 میں کہا گیا ہے۔

اسرائیل

ابراھیم نبی کے بیٹے اسحاق اور اسحاق کے بیٹے یعقوب، یعقوب نبی کا دوسرا نام ہی اسرائیل ہے۔ اسرائیلی قوم یعقوب نبی کے نسل سے ہیں، اسی لئے وہ اسرائیل کی اولاد کہلا تے ہیں۔عیسائی انہیں اسرویل، یاکوب اور جیکب کہتے ہیں۔ 

(اسرائیل کے بارے میں اگر تفصیل جاننا ہو تو فہرست مضامین کے تاریخ کے عنوان کے تحت انبیاء (یعقوب) کے عنوان میں دیکھیں۔)

اسماعیل

اسماعیل ،ابراھیم نبی کے بیٹے ہیں۔یہ بھی اللہ کے رسولوں میں سے ایک ہیں۔ اسماعیل کے نسل ہی میں سے نبی کریمؐ پیدا ہوئے۔ یہودو عیسائی انہیں اسمویل کہتے ہیں۔ 

(اسماعیل کے بارے میں اور زیادہ تفصیل کے لئے فہرست مضامین کے تاریخ کے عنوان کے تحت انبیاء کے عنوان میں دیکھئے۔)

اسحاق

ابراھیم نبی کے ایک اور بیٹے اسحاق ہیں۔ یہ بھی اللہ کے رسولوں میں سے ایک ہیں۔ اس کے سوا ان کے بارے میں زیادہ کوئی تفصیل قرآن مجیدمیں کہا نہیں گیا ہے۔ قرآن کئی پیغمبروں کے ساتھ ملا کر انہیں بھی نیک کہا ہے۔ ان کی تبلیغ اور اس میں حاصل ہونے والے الجھاؤ ،کسی کے بارے میں کہا نہیں گیا ہے۔ 

احرام

حج یا عمرہ ادا کر تے وقت جو عہد لیتے ہیں اسی کا نا م احرام ہے۔ اس عہد کے وقت بغیر سلے ہوئے کپڑے پہننا ہے۔ 

(اس کے بارے میں اور زیادہ تفصیل کے لئے عبادت کے عنوان کے تحت حج کے عنوان میں دیکھئے۔) 

عیسیٰ

عیسائیاں جس مسیح کو اللہ کا بیٹا کہتے ہیں انہیں قرآن مجید عیسیٰ کہتا ہے۔ 

اسلام تسلیم کر تا ہے کہ عیسیٰ نبی کے ذریعے چند معجزے انجام پائے اور وہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے۔تاہم وہ بھی دوسرے رسولوں کی طرح ایک رسول تھے۔ اللہ کا کوئی اولاد نہیں ہوسکتا، اس لئے قرآن پرزور طریقے سے کہتا ہے کہ وہ اللہ کے بیٹے نہیں۔

(اور زیادہ تفصیل کے لئے حاشیہ نمبر 456، 459، اور 493 دیکھئے۔)

عمرہ

مکہ جا کر کعبہ کا طواف کرنا، کعبہ کے احاطہ میں نماز پڑھنااور صفا و مروہ پہاڑوں کے درمیان بھاگنا عمرہ کہلاتا ہے۔

عمرہ کسی بھی وقت میں کیاجاسکتا ہے۔

عمرہ کے وقت مرد بغیر سلے ہوئے کپڑے پہننا چاہئے۔ ان دنوں میں ازدواجی زندگی بسرکرنااور شکار کرنا سب ممنوع ہے۔ 

(اس کے بارے میں زیادہ تفصیل کے لئے فہرست مضامین کے عبادت کے عنوان کے تحت حج کے عنوان میں دیکھئے)

عزیٰ

نبی کریم ؐ کے زمانے میں کئی معبودوں پر عقیدہ رکھنے والے ایک بت کی پوجا کر رہے تھے ، اس بت کا نام ہی عزیٰ ہے۔ یہ لفظ صرف آیت نمبر 53:19 میں استعمال کیا گیا ہے۔

فرعون

یہود و عیسائی جسے فارون کہتے ہیں وہ فرعون بہت ہی طاقتور حکمراں گزرا تھا۔ اپنے آپ کو معبود دعوٰی کر تا تھا۔ اپنے ملک میں اقلیتی فرقہ اسرائیل پر بہت ظلم کرتا تھا۔ ان میں سے صرف مردوں کو قتل کر دیا کر تا تھا۔ 

اس کو اللہ کا احساس دلانے کے لئے اور اس کے ظلم و ستم کو توڑنے کے لئے موسیٰ (موسے) اور ہارون (آرون) دونوں کو اللہ نے رسول بنا کر بھیجا۔ 

پھر بھی وہ باز نہیں آیا۔ وہ اور اس کے سپاہی سمندر میں ڈبو دئے گئے۔

(فرعون کے بارے میں اور زیادہ تفصیل کے لئے فرست مضامین میں تاریخ کے عنوان کے تحت اچھے اور برے کے عنوان میں دیکھئے۔ اور حاشیہ نمبر 217 بھی دیکھیں۔

کعبہ

پہلے انسان پیدا کئے جانے کے بعد اللہ کی عبادت کر نے کے لئے جو گھر بنایا گیا تھا وہی کعبہ ہے۔ (قرآن کی آیت نمبر 3:96 دیکھئے۔)

اس سے ہم معلوم کر سکتے ہیں کہ جس جگہ کعبہ قائم ہے وہیں پر آدم ؑ نے سکونت اختیار کی۔ 

وہ مربع عمارت ہی آدم اور ان کے اولاد کی عبادت کے لئے کافی تھی۔ لیکن اب اس عمارت کے اندر سب لوگ مل کر عبادت نہیں کر سکتے ، اس لئے اس کے ارد گرد اس کے باہر عبادت کر تے ہیں۔ اس کے چاروں طرف کا احاطہ اور عمارت ہی مسجد الحرام یعنی مقدس مقام کہلاتا ہے۔ 

آدم کے بعد کعبہ مسمار ہوگیا۔ اس کے بعد ابراھیم نبی نے اللہ کے حکم سے اس صحرا کو تلاش کر کے اپنی بیوی اوربیٹے اسماعیل کو وہاں آباد کیا۔ 

زم زم کا کنوا ں جوابھی تک خشک نہ ہوا اللہ کا ایک معجزہ ہے، وہ ہر روز تیس لاکھ لوگوں کو فائدہ پہنچا رہا ہے۔

اس پانی کی وجہ سے وہ صحرا شہر بن گیا۔ اس لئے وہاں پر باپ اور بیٹے نے پہلی عبادت گاہ پھر سے تعمیر کی۔ 

(کعبہ کے بارے میں اور زیادہ تفصیل کے لئے فہرست مضامین میں تاریخ کے عنوان کے تحت مقامات کے عنوان پر اور انبیاء (ابراھیم) کے عنوان پر دیکھئے۔) 

قارون

یہ موسیٰ نبی کے زمانے والا تھا۔ اس کو اللہ نے بے حد دولت نوازا تھا۔اللہ کہتا ہے کہ اس کے خزانے کی کنجیاں اتنی تھیں کہ اس کوطاقتور سپاہیوں نے لادے ہوئے تھے۔

دولت کی وجہ سے جب وہ سرکش ہوگیا تواللہ نے اس کو اور اس کے گھر کوزمین کے اندر دھنسا کر تباہ کر دیا۔ 

(قارون کے بارے میں اور زیادہ تفصیل کے لئے فہرست مضامین میں تاریخ کے عنوان کے تحت اچھے اور برے کے عنوان میں دیکھئے۔)

قبلہ

قبلہ کا مطلب ہے سامنے دیکھنا اور سامنے کانشانہ۔ اسلامی طریقے سے اللہ کی جب عبادت کی جاتی ہے تو ہمارے سامنے کا جو نشانہ ہے وہی قبلہ ہے۔ مکہ میں قائم دنیا کی پہلی عبادت گاہ کعبہ کے سمت ہی مسلمان نماز پڑھنی چاہئے۔

ایسا نہ سمجھنا چاہئے کہ ہم خانہ کعبہ کی عبادت کر تے ہیں۔ وہ صرف ایک عمارت ہے۔ اس کو کوئی الوہیت حاصل نہیں ہے۔ کعبہ سے کوئی حاجت نہیں مانگنی چاہئے۔

بغیر کسی سمت کے ہم کوئی کام نہیں کر سکتے۔اس طرح دیکھنا دنیا میں اللہ کی عبادت کے لئے پہلے پہل تعمیر کئے گئے عبادت گاہ کی طرف رہے، یہی اس کی وجہ ہے۔

جب سب مل کر عبادت کر تے ہیں تو ہر ایک مختلف سمت کو اختیار کریں تو ترتیب بگڑ جائے گی۔ اسی لئے یہ حکم دیا گیا ہے کہ سب مل کر ایک ہی سمت کی طرف منہ کر یں۔ 

بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ ہندوستان میں مسلمان مغرب کی سمت عبادت کر تے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کعبہ ہندوستان کے مغرب کی طرف واقع ہے۔ دوسرے ممالک میں شمال، جنوب اور مشرق کی جانب مختلف سمتوں میں عبادت کیا جا تا ہے۔ 

مکہ جا کر اگر کعبہ کو دیکھیں تو وہاں اس کے گرد ہر سمت سے مسلمانوں کو نماز پڑھتے ہوئے پاؤگے۔اس لئے ایسا سمجھنا کہ مسلمان سمت کی عبادت کرتے ہیں،غلط ہے۔  (قبلہ کے بارے میں اور زیادہ تفصیل کے لئے فہرست مضامین میں عبادت کے عنوان کے تحت نماز کے عنوان میں دیکھیں۔ )

قربانی

مسلمانوں کی دو عیدوں میں دوسری عید سمجھے جا نے والی حج کی عید میں اللہ کے لئے گائے، بکری یا اونٹ وغیرہ میں کسی ایک کوجو ذبح کیا جا تا ہے اسی کو قربانی کہتے ہیں۔ 

یہ نہ سمجھ لینا کہ اس طرح ذبح کئے جانے والے جانور اللہ کے پاس جا کر پہنچتا ہے۔ کیونکہ قرآن کی آیت (22:37) کہتی ہے کہ اس کا خون یا گوشت اللہ کو نہیں پہنچتا۔ 

اسلام کا اصول ہے کہ اقتصادی سلسلے کی کوئی بھی چیز کو اگر اللہ سے جوڑا گیا تو اس کوغریبوں میں تقسیم کیا جائے۔

اس لئے مفلس لوگ عید خوشی سے منانے کے لئے اور ابراھیم نبی کی طرح ہر قربانی کے لئے تیار رہنے کو ترغیب دلانے کے لئے ہی اس کو فرض کیا گیا ہے۔ 

اس کے بارے میں اور زیادہ معلومات کے لئے حاشیہ نمبر 56 دیکھئے۔

طواف

طواف کا مطلب ہے چکر لگانا۔

اسلامی طریقے کے مطابق اس طرح کہ خانہ کعبہ ہمارے بائیں طرف آئے ، اس کو سات بارگھومنا ہے۔ یہی طواف کہلاتا ہے۔ یہ حج اور عمرہ کا ایک حصہ ہے۔

تورات

جس طرح نبی کریم ؐ پر قرآن نازل کیاگیا اسی طرح موسیٰ نبی پر جو نازل ہوا، وہی تورات ہے۔ تورات اور موسیٰ نبی کے بارے میں قرآن میں کئی جگہوں پر کہا گیا ہے، لیکن یہ نہیں کہا گیا کہ موسیٰ نبی ہی کو تورات نازل ہوا۔ مگر حدیثوں میں اس کی گواہی موجود ہے۔ 

تورات کے بارے میں اور زیادہ تفصیل کے لئے حاشیہ نمبر 491 دیکھئے۔

تمتع

حج کو تین طریقے سے ادا کرسکتے ہیں۔ اس میں ایک طریقہ تمتع ہے۔ 

حج کے لئے جاتے وقت صرف عمرہ کے لئے احرام باندھ کر عمرہ ادا کر نا چاہئے۔ عمرہ ادا کر نے کے بعداحرام سے باہر آکر مکہ میں مقیم کی طرح ٹہرے رہنے کے بعد حج کا زمانہ آنے کے ساتھ حج کے لئے احرام باندھ کر حج ادا کر نا چاہئے۔ یہی تمتع ہے۔

اس کے بارے میں تفصیل کے لئے حاشیہ نمبر 56 اور57 دیکھئے۔

طالوت

داؤد نبی جب ایک معمولی سپاہی تھے اس وقت رب کی طرف سے مقرر کیا ہوا بادشاہ ہی طالوت تھے۔ ان کے سربراہی میں جالوت نامی ظالم ہرایا گیا۔ (آیت نمبر 2:247-249 دیکھئے۔)

داؤد

یہ بھی اللہ کے رسولوں میں سے ایک تھے۔ یہ سلیمان نبی کے والد تھے۔ انہیں عیسائی داوید راجہ کہتے ہیں۔ 

(داؤد کے بارے میں اور زیادہ تفصیل کے لئے فہرست مضامین کے تاریخ کے عنوان کے تحت انبیاء کے عنوان میں دیکھئے)

تُبع

قرآن کہتا ہے کہ تُبع نامی ایک قوم تھی اور وہ لوگ گناہ کرنے کی وجہ سے تباہ کر دئے گئے۔ ان کے بارے میں اور زیادہ تفصیل نہیں کہی گئی۔ (دیکھئے آیت نمبر 44:37اور 50:14)

ذوالقرنین

قرآن کہتا ہے کہ یہ بہت بڑی حکومت کے ایک اچھے بادشاہ تھے۔ان کے بارے میں قرآن کی آیتیں 18: 83 سے 18:98 تک کہا گیا ہے۔

ذوالکفل

یہ اللہ کے رسولوں میں سے ایک تھے۔ ان کے بارے میں قرآن صرف آیت نمبر 21:85 اور 38:48 میں کہا ہے۔ دوسری کوئی تفصیل ان کے بارے میں کہا نہیں گیا۔ 

انبیاء

نبی کا مطلب ہے خبر دینے والے۔ اسلامی دستور کے مطابق مطلب ہے اللہ سے خبر لے کر لوگوں کو پہنچانے والے۔

کتنے انبیاء گزرے ہیں ، اس کے بارے میں نہ قرآن میں ہے اور نہ ہی نبی کریم ؐ کے تعلیمات میں موجود ہے۔ ایک خبر ہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء بھیجے گئے تھے۔ اس کی کوئی دلیل نہیں۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ انبیاء اور مرسلین دو جدا جدا حیثیت ہیں۔ اس کی بھی کوئی دلیل نہیں ہے۔ 

(اس کے بارے میں اور زیادہ تفصیل کے لئے فہرست مضامین کے تاریخ کے عنوان کے تحت اور عقیدہ کے عنوان کے تحت نبیوں پر ایمان لاناکے عنوان میں دیکھئے۔ اور حاشیہ نمبر 398 بھی دیکھئے۔)

نوح

یہ اللہ کے رسولوں میں سے ایک تھے۔ یہ ابتدائی دور میں بھیجے گئے رسول تھے۔ قرآن مجید میں کہے گئے آدام اور ادریس نبیوں کے سوا دیگر تمام نبیوں سے یہ پہلے تھے۔ انہوں نے 950 سال زندگی بسر کی۔ 

(نوح کے بارے میں اور زیادہ تفصیل کے لئے فہرست مضامین کے تاریخ کے عنوان کے تحت انبیاء کے عنوان میں دیکھئے)

(کیا ایک انسان 950 سال جی سکتا ہے، اس کو جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 483 دیکھئے!)

فجر

پانچ وقت جو نماز پڑھی جاتی ہے ان میں صبح سویرے پڑھی جانے والی نماز کا نام ہی فجر ہے۔ بعض وقت صبح صادق کو بھی فجر کہا جا تا ہے۔ 

شہر بابل

قرآن میں صرف آیت نمبر 2:102 میں اس شہر کے بارے میں کہا گیا ہے۔یہ شہر کہاں ہے، اس کے متعلق مختلف رائے پائے جاتے ہیں۔ اکثر لوگ اس کو عراق کا ایک شہر کہتے ہیں۔ 

بیت المعمور

یہ آسمان میں فرشتے عبادت کر نے کے لئے مقرر کی ہوئی ایک عبادت گاہ ہے۔ (دیکھئے آیت نمبر 52:4)

نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے نماز ادا کر تے ہیں، وہاں ایک بار نماز پڑھنے والے دوسری بار جاتے نہیں، اور یہ ساتویں آسمان پر موجود ہے۔

دیکھئے بخاری: 3207)

بعض روایات کہتی ہیں کہ یہ کعبہ کے سیدھے اوپر موجود ہے۔ وہ روایات ضعیف ہیں۔ اور پھر زمین گھومتے رہنے کی وجہ سے بیت المعمورہمیشہ کعبہ کے سیدھے اوپر نہیں ہوسکتا۔

مدین

یہ شہر شعیب نبی کی سکونت کا شہر ہے۔ یہ شہر والے ماپ تول میں خیانت کر نے والے اور کئی معبودوں کے ماننے والے تھے۔ آخر تک وہ لوگ اصلاح نہ پانے کی وجہ سے تباہ کر دئے گئے۔ 

(اس کے بارے میں اور زیادہ تفصیل کے لئے فہرست مضامین کے تاریخ کے عنوان کے تحت انبیاء (شعیب) کے عنوان میں دیکھئے!)

مریم

مریم عیسیٰ نبی ماں ہیں۔ عیسائی انہیں میری کہتے ہیں۔ قرآن مجید میں ان کے متعلق بہت ہی خصوصیت سے کہا گیا ہے۔

(مریم کے بارے میں اور زیادہ تفصیل کے لئے فہرست مضامین کے تاریخ کے عنوان کے تحت اچھے اور برے کے عنوان میں دیکھئے!)

من و سلویٰ

من و سلویٰ وہ دورزق ہیں جو موسیٰ نبی کی قوم کے لئے اللہ نے آسمان سے خصوصیت سے اتاراتھا۔ وہ کیا رزق تھے اس کے بارے میں کوئی تفصیل نہ قرآن میں اور نہ ہی حدیثوں میں کہا گیا۔ تاہم نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ ککر متا ہی من نامی غذاہے۔ (دیکھئے: بخاری 4478، 4639، 5708)

وہ غذا کیا تھے، جان لینے سے کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اللہ نے اپنی طرف سے خصوصیت کے ساتھ اس قوم کی طرف رزق اتارا، اس بات کو جان لینا ہی کافی ہے۔ (دیکھئے آیت نمبر2:57، 7:160، اور20:80)

منات

نبی کریم ؐ کے زمانے میں بسنے والے کئی معبودوں پر عقیدہ رکھنے والے تھے۔ وہ جو پوجا کر رہے تھے ان بتوں میں ایک بت کا نام ہے منات۔ (دیکھئے آیت نمبر 53:20)

مشعرالحرام

مکہ کے باہرقائم شدہ مزدلفہ کے میدان میں ایک ٹیلہ کا نام مشعرالحرام ہے۔ (دیکھئے آیت نمبر 2:198)

مسیح

عیسیٰ کے لفظ میں دیکھئے۔

مسجد الحرام

لفظ کعبہ میں دیکھئے۔

میکائیل

میکائیل ایک فرشتے کا نام ہے۔ جبرئیل کے بعد یہی بڑی خصوصیت والے ہیں۔ تاہم ان کے کاموں کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں ہے۔ (دیکھئے: آیت نمبر 2:98) 

مسلم

مسلم کوئی پیدائشی نام نہیں ہے۔ عمل کے ذریعے ہی کوئی مسلمان کہلاتا ہے۔ اس لفظ کا مطلب ہے پابندی سے چلنے والا۔ 

اسلامی عقیدے کے مطابق اس کا مطلب ہے اللہ نے جس چیز کو فرض کیا ہے اس کی پیروی کر نے والا اور اللہ جس سے روکا ہے اس سے ہٹ کر اللہ کی پابندی کر نے والا۔

یہ لفظ صرف نبی کریم ؐ کی امتوں کو ہی نہیں بلکہ پہلے گزرے ہوئے رسولوں کو مان کر اللہ کی پابندی اختیار کر نے والوں کو بھی استعمال کیا گیا ہے۔

اس لفظ کولمبا کھینچ کر تامل مسلم ہی نہیں بلکہ غیر مسلم بھی مسلیم کہتے اور لکھتے ہیں۔ وہ غلط ہے۔ مسلم کہنا اور لکھنا ہی صحیح ہے۔ عربی میں اس کو مسلم ہی لکھا گیا ہے۔

اور زیادہ تفصیل کے لئے حاشیہ نمبر 295 دیکھئے۔ 

موسیٰ

یہ اللہ کے رسول ہیں ،قرآن میں کئی جگہوں میں ان کا ذکر آیا ہے۔انہوں نے فرعون نامی جابر حکمراں کے خلاف تبلیغ کیا۔ اللہ نے موسیٰ سے براہ راست کلام کیاتھا۔عیسائی انہیں موسے کہتے ہیں۔ 

(موسیٰ کے بارے میں اور زیادہ تفصیل کے لئے فہرست مضامین کے تاریخ کے عنوان کے تحت انبیاء کے عنوان میں دیکھئے)

یعقوب

لفظ اسرائیل ملاحظہ کیجئے۔ 

یاجوج ماجوج

یہ ایک گروہ کا نام ہے۔ یہ گروہ ذوالقرنین کے دور حکومت میں بہت ہی ظلم مچا رہے تھے۔ قرآن کہتا ہے کہ انہیں دو پہاڑوں کے اس پار رکھ کر دونوں کے درمیان لوہے کی دیوار تعمیر کر کے انہیں روک دیا گیا۔ (دیکھئے: آیت نمبر 18:94 اور21:96)

اور زیادہ معلومات کے لئے دیکھئے حاشیہ نمبر 451)

یثرب

نبی کریم ؐ مکہ چھوڑکر جہاں پناہ گزیں ہوئے اس شہر کاقدیم نام یثرب ہے۔(دیکھئے آیت نمبر 33:13) 

پھر جب نبی کریمؐ نے اس شہر میں رسوخ پانے کے بعد اس شہر کا نام مدینۃ النبی (یعنی نبی کا شہر ) ہوگیا۔ پھر بدل کر مدینہ بن گیا۔ 

یحیےٰ

یہ زکریا نبی کے بیٹے اور اللہ کے رسول ہیں۔زکریا نبی کے بڈھاپے میں یہ پیدا ہوئے۔ یہودو عیسائی انہیں یووان کہتے ہیں۔

(یحیےٰ نبی کے بارے میں اور زیادہ تفصیل کے لئے فہرست مضامین کے تاریخ کے عنوان کے تحت انبیاء کے عنوان میں دیکھئے۔ اور حاشیہ نمبر 467 بھی ملاحظہ کیجئے۔)

یوسف

اللہ کے رسولوں میں ایک ہیں۔ دیگر رسولوں سے زیادہ چند خصوصیات کے یہ مالک ہیں۔ 

حسب و نسب اور نسل کے اعتبار سے اگرکسی کوبہتر مانا جائے تو اس کے لئے پہلا استعداد انہیں کا ہوسکتا ہے۔

یہ بھی اللہ کے رسول تھے۔ ان کے والد یعقوب نامی اسرائیل بھی اللہ کے رسول تھے۔ ان کے والد اسحاق بھی اللہ کے رسول تھے۔ ان کے والد ابراھیم بھی اللہ کے رسول گزرے ہیں۔ اس معنی میں حدیث بھی ہے۔ 

(دیکھئے: بخاری 3382، 3390 اور 4688) 

قرآن مجید میں انہیں کی سرگذشت بچپن سے لے کر تفصیل سے کہی گئی ہے۔ یوسف کے نام سے ایک سورت کا بڑا حصہ ان کی سرگذشت سے بھر ا پڑا ہے۔ ان کی سرگذشت کو اللہ نے بھی خوبصورت قصہ کہا ہے۔ 

یوسف نامی بارہویں سورت میں ایک ہی جگہ میں دیکھئے کہ ان کی سرگزشت وضاحت سے کہی گئی ہے۔ 

یونس

یہ بھی اللہ کے رسولوں میں سے ایک تھے۔ ان کی قوم نے ان کی بہت سختی سے خلاف ورزی کر نے کے باوجود اللہ کا عذاب آنے کا اشارہ پاتے ہی وہ لوگ سدھر گئے۔ اشارہ پانے کے ساتھ اصلاح پانے والی قوم ان کے سوا کوئی نہیں۔

یونس نبی سے کہے بغیر ان کی قوم کو اللہ نے بچالینے کی وجہ سے انہوں نے غصہ سے چلے گئے۔اسلئے اللہ نے انہیں سزا دی۔ 

(یونس نبی کے بارے میں اور زیادہ تفصیل کے لئے فہرست مضامین کے تاریخ کے عنوان کے تحت انبیاء کے عنوان میں دیکھئے۔)

رکوع

اس کا مطلب ہے جھکنا۔ اسلامی دستور کے مطابق نماز میں تھوڑی دیر جھک کرذکر کر نے کو رکوع کہتے ہیں۔ جھکنے کے معنی میں اور نماز کی ایک حالت کے معنی میں قرآن میں یہ لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ اس اس جگہ میں کیا معنی لینی ہے ، تھوڑا غور کر نے سے معلوم ہوجا ئے گا۔ 

روح اور روح القدس

فرشتوں میں صدرکی حیثیت رکھنے والے جبرئیل ہیں۔ انہیں قرآن مجید میں مختلف ناموں سے ذکر کیا گیا ہے۔ روح اور روح القدس بھی کہا گیا ہے۔ روح کا معانی ہے جان اور روح القدس کا معانی پاکیزہ جان ہے۔

(ان کے بارے میں زیادہ تفصیل کے لئے فہرست مضامین کے عقیدے کے عنوان کے تحت فرشتوں پر ایمان لانا (جبرئیل) کے عنوان میں دیکھئے۔)

لات

نبی کریم ؐ کے زمانے میں مختلف معبودوں پر عقیدہ رکھنے والے پوجا کر نے کی بتوں میں ایک بت کا نام ہے لات۔ (دیکھئے: قرآن کی آیت نمبر 53:19)

لوط

یہ اللہ کے رسولوں میں سے ایک تھے۔ اور یہ ابراھیم نبی کے ہم عصر تھے۔ لیکن یہ دوسرے مقام پر رسول مقرر کئے گئے تھے۔

ان کی قوم مختلف معبودوں کے عقیدے میں ڈوبے ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ ان میں مرد لوگ ہم جنسی کے گناہ میں مبتلا تھے۔ انہیں سیدھی راہ میں لا نے کے لئے ان کو بھیجا گیا تھا۔  (ان کے بارے میں زیادہ تفصیل کے لئے فہرست مضامین کے تاریخ کے عنوان کے تحت انبیاء کے عنوان میں دیکھئے)

وحی

وحی کا مطلب ہے مطلع کر نا۔ اسلامی دستور کے مطابق وحی کا مطلب ہے اللہ جو اطلاع کر نا چاہتا ہے اس کو اس کے بندوں تک پہنچانا ہے۔ 

(اس کے بارے میں اور تفصیل کے لئے حاشیہ نمبر 359 دیکھئے!) 

شعیب

یہ اللہ کے رسولوں میں سے ایک تھے۔ یہ وحدانیت کے عقیدے کی تبلیغ کر نے کے علاوہ اپنی قوم میں پھیلے ہوئے معاشی خیانت اور ناپ تول کی دھوکے بازی کے خلاف بھی تبلیغ کیا۔  (ان کے بارے میں زیادہ تفصیل کے لئے فہرست مضامین کے تاریخ کے عنوان کے تحت انبیاء کے عنوان میں دیکھئے)

شیطان

ابلیس کے لفظ میں دیکھئے۔

صفا مروہ

صفا مروہ مکہ کے دو پہاڑی ٹیلوں کا نام ہے۔یہ صحرا شہر بننے سے پہلے ابراھیم نبی نے اپنی بیوی اور بچے اسماعیل کو اللہ کے حکم سے اس جگہ پر چھوڑ کر چلے گئے۔ 

اس وقت شیر خواربچے اسماعیل نے پیاس کی وجہ سے تڑپنے لگے تو اسماعیل کی ماں نے ان دونوں پہاڑیوں پر یہاں سے وہاں اور وہاں سے یہاں چڑھتے اترتے رہے تاکہ یہ دیکھیں کی کوئی تجارتی قافلہ نظر آجائے۔ اس خیال سے کہ ان کے پاس سے کچھ پانی مانگ کر بچے کی پیاس بجھا سکے۔

اس کے درمیان اللہ نے اس بچے کی جگہ پر ایک حیرت انگیز چشمہ جاری کر دیا۔ (دیکھئے : بخاری 3364 اور 3365)

کتنے بھی سال گزر جائے خراب نہ ہونے کی صفت اس چشمے کے پانی کی خاصیت ہے۔ یہاں ہر روز تیس لاکھ سے زیادہ لوگ استعمال کر نے کے باوجود ، لوگ ڈبوں میں بھر کر اپنی اپنی بستیوں کو لے جا نے کے باوجودوہ سوتا ابلتا جا رہا ہے۔وہ گواہی دے رہی ہے کہ اسلام ایک سچا دین ہے۔ 

(اس کے بارے میں اور تفصیل جاننے کے لئے حاشیہ نمبر 438 دیکھئے۔) 

ان دونوں پہاڑوں میں اسماعیل کی ماں جیسے دوڑے تھے اسی طرح حج کر نے والے بھی دوڑ کر اس قربانی کا احترام کر نا چاہئے۔ ایک عورت بالکل تنہا ایک شیر خوار بچے کے ساتھ ویران صحرے میں ٹہری رہی، اس قربانی کی قدر کر تے ہوئے اللہ نے انہیں جیسے ان دونوں پہاڑوں کے درمیان ہمیں بھی دوڑاتا ہے۔

(دیکھئے قرآن کی آیت نمبر 2:158)

زکوٰۃ 

بعض لوگ کہیں گے رب کو بھولو، انسان کی سوچو۔ اسلام کے حد تک کوئی ایسا نہیں کہہ سکتا۔ کیونکہ اسلام، انسان کی مدد کے لئے پانچ فرائض میں ایک فرض اس کے لئے قائم کیا ہے۔ مویشی، پیداوار، خزانے، پیسے، زیوراور دیگر جائدادوں میں سے ایک مقررہ مقدار رکھنے والے لوگ مقررہ فی صد مقررہ کاموں کے لئے ادا کر نا زکوٰۃ کہلاتا ہے۔

اسی طرح پیداوار میں آب پاشی کر کے اس کی فصل میں سے پانچ فی صد کو فصل کاٹنے کے دن ادا کردینی چاہئے۔ بغیر آب پاشی کئے کثرت سے پیدا ہونے کی چیز میں دس فی صد فصل کاٹنے کے دن ادا کر دینی چاہئے۔ صرف سڑنے والی چیزیں اس میں سے مستثنیٰ ہے۔ 

چالیس بکرے ، تیس گائے اور پانچ اونٹ سے زیادہ رکھنے والے اس کے لئے جو مقرر کیا گیا ہے اس کو ادا کر نا چاہئے۔ (مثال کے طور پر چالیس بکرے کے لئے ایک بکرا۔ اگر اسلامی حکومت ہو تو زکوٰۃ لازمی طور پر وصول کیا جائیگا۔

(دیکھئے: قرآنی آیت نمبر 9:103)

زکوٰۃ کی واجب الادا پر بہت سی آیتیں موجود ہیں۔

زکوٰۃ کے متعلق دیگر قانون حدیثوں میں ملتی ہیں۔

زکوٰۃ ایک فرض عین سخاوت ہے۔ اس کے سوا اور زیادہ جو خرچ کیا جاتا ہے وہ صدقہ میں جمع ہے۔ اس کا بھی قرآن بعض جگہوں میں ترغیب دیتا ہے۔

(زکوٰۃ کے بارے میں زیادہ تفصیل کے لئے فہرست مضامین کے عبادت کے عنوان میں دیکھئے!)

زکریا

یہ بھی اللہ کے رسولوں میں سے ایک ہیں۔قرآن میں اس کی دلیل موجود ہے کہ انہوں نے عیسیٰ نبی کے ماں کی پرورش کی تھی۔اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ یہ دو ہزار سال پہلے بھیجے گئے رسول تھے۔

کہا جا تا ہے کہ انہیں یہودیوں نے قتل کر ڈالا۔ اور ان کے بارے میں ایک کہا نی بھی بولی جا تی ہے کہ جب یہودیوں نے انہیں بھگاکر آئے تھے تو وہ ایک درخت کے پاس پناہ لی تھی اور وہ درخت شق ہو کر انہیں اپنے اندر چھپا لیا تھا، ان کا لباس باہر کی طرف ظاہر ہوجا نے سے انہیں درخت کے ساتھ دوٹکڑے کر دئے گئے۔

یہ حقیقت ہے کہ یہودیوں نے کئی رسولوں کو قتل کرڈالا۔ اس کے باوجودکسی حدیث میں کوئی سند نہیں ہے کہ ان میں زکریا نبی بھی تھے ۔جب نبی کریمؐ نے خود اس بارے میں کچھ نہیں کہا تھاتو اس طرح کہنا بہت غلط با ت ہے۔ 

اس کے علاوہ انہوں نے اپنی قوم میں بہت ہی رسوخ حاصل کئے ہوئے تھے۔ انہیں بڈھاپے میں اولاد نصیب ہوئی تھی، اس سے ہم یہی سمجھ سکتے ہیں کہ انہیں قتل نہیں کیا گیا ہوگا۔ (ان کے بارے میں اور زیادہ تفصیل کے لئے فہرست مضامین کے تاریخ کے عنوان کے تحت انبیاء کے عنوان میں دیکھئے)

زقوم

جہنمیوں کو جو غذا دی جائے گی اس درخت کا نام ہی زقوم ہے۔ 

(اس کے بارے میں اور زیادہ تفصیل کے لئے فہرست مضامین کے عقیدے کے عنوان کے تحت آخرت پر ایمان لانا (جہنم) کے عنوان میں دیکھئے!)

زبور

داؤد نبی پر جو کتاب نازل ہوئی تھی وہ زبور ہے۔ (دیکھئے: قرآنی آیت نمبر 4:163 اور 17:55)

ثمود

صالح نبی کی قوم کا نام ثمود ہے۔ یہ لوگ پہاڑوں کو تراش کر غار بنا کر اس میں زندگی بسرکر رہے تھے۔

(ان کے بارے میں اور زیادہ تفصیل کے لئے فہرست مضامین کے تاریخ کے عنوان کے تحت انبیاء (صالح) کے عنوان میں دیکھئے!)

سلام

اس لفظ کا مطلب ہے امن، سکون اور سلامتی۔ جب ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو اسلامی طریقے کے مطابق جو مبارکبادی دی جاتی ہے، اس کو سلام کہتے ہیں۔

(اس بارے میں اور زیادہ معلومات کے لئے حاشیہ نمبر 159 دیکھئے!)

سجدہ ۔ سجود

اس کی لغوی معنی عاجز ہونا۔ کئی جگہوں میں یہ لفظ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ ان جگہوں میں ہم عاجزی ہی لکھا ہے۔

کئی جگہوں میں یہ نماز کی ایک حالت کی طرف اشارہ کر تا ہے۔ ان جگہوں ہم سجدہ لکھا ہے۔ 

پیشانی، ناک، دونوں گھٹنے، دونوں پاؤں کے انگلیوں کے نوک، دونوں ہتھیلیاں وغیرہ زمین سے لگا کر اللہ کے لئے عاجزی کے ساتھ جو ذکر کر نا ہے اس کو کہنا ہی سجدہ کہلا تا ہے۔ یہ نماز کا ایک حصہ ہے۔

صابئین

جہاں رسول بھیجے گئے نہ ہوںیا کسی رسول کی رہنمائی نہ پہنچی ہوں ، وہاں جو نیک بن کر جیتے ہیں وہی قوم صابئین کی ہے۔

اس دنیا میں ایک ہی معبود ہو سکتا ہے، انسان کے ذریعے بنائے جانے والے معبود نہیں ہو سکتے، اس حقیقت کو کسی رسول کی رہنمائی کے بغیر اللہ کی دی ہوئی دانائی کے ذریعے یہ لوگ سمجھ لینگے۔

اور پھرجب پوری عقل سے غور کیا جائے تو ایک فرد واحد یا ایک قوم کو جونقصان پہنچاتی ہے اس سے ہٹ کر یہ جئیں گے۔ جو بات اچھی دکھائی دیتی ہے اس کی پیروی کریں گے۔  عبادت اور بندگی کے طریقے ہی انہیں معلوم نہیں ہو سکتا۔ اس کو اللہ رسولوں کے ذریعے ہی معلوم کر سکتے ہیں۔ اس کے سوا دیگر معاملوں میں بالکل سلیقے سے چلنے والی قوم ہی صابئین ہے۔ نبی کریم بعثت ہو نے سے پہلے پتھر کے بتوں کو پوجنے سے انکار کر کے ایک ہی اللہ پر ایمان لانے والی ایک قوم تھی، وہی قوم صابئین کی ہے۔

صابئین کے متعلق اور زیادہ تفصیل کے لئے حاشیہ نمبر 443 دیکھئے!

سامری

یہ موسیٰ نبی کے زمانے والا تھا۔ موسیٰ نبی اللہ کی پکار کے مطابق جب کوہ طور پر گئے تھے تو اس نے زیوروں کو پگھلا کر ایک بچھڑے کی مورت بنایا۔ یہ کہہ کر کہ یہی معبود ہے ، اس نے موسیٰ نبی کے قوم کو گمراہ کر دیا۔

(اس کے بارے میں اور زیادہ معلومات کے لئے حاشیہ نمبر 19 دیکھئے!)

صالح

اللہ کے رسولوں میں سے ایک ہیں۔بہت ہی طاقتور قوم ثمود کو نیک راستہ دکھا نے کے لئے یہ بعثت کئے گئے۔ 

(ان کے بارے میں زیادہ تفصیل کے لئے فہرست مضامین کے تاریخ کے عنوان کے تحت انبیاء کے عنوان میں دیکھئے)

سدرۃ المنتہیٰ

سدرہ کا مطلب ہے بیری کا درخت۔منتہیٰ کا مطلب ہے آخری حد۔ چھٹویں آسمان میں موجود بہت ہی بڑے درخت کا نام سدرۃ المنتہیٰ کہلاتا ہے۔ دیکھئے قرآنی آیت نمبر 53:14,16) اس درخت کاہر پتا ہاتھی کے کان کی طرح بڑاہوگا۔نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ وہ درخت مختلف رنگ سے بھرا ہوا آنکھوں کو چکا چوند کر رہا تھا۔(دیکھئے: بخاری 349، 3207، 3342، 3887)

سندس

جنتیوں کو پہنائے جانے والی ریشمی لباس کا نام سندس ہے۔ (دیکھئے قرآنی آیت نمبر 18:31، 44:53، 76:21)

سلیمان

سلیمان اللہ کے رسولوں میں سے ایک ہیں۔ ان کے والد داؤد بھی اللہ کے رسول اور حکمراں تھے۔ سلیمان ؑ کو جو سلطنت دی گئی تھی ، وہ ایسی عظیم سلطنت تھی جو کسی کو نہیں دی گئی۔ 

یہودو عیسائی انہیں سالمون کہتے ہیں۔

(ان کے بارے میں اور زیادہ تفصیل کے لئے فہرست مضامین کے تاریخ کے عنوان کے تحت انبیاء کے عنوان میں دیکھئے)

صور

منہ سے پھونک کر آواز نکالنے والے ایک آلہ کو صور کہتے ہیں۔ 

اللہ اپنے صور کے ذریعے پھنکوائے گا۔ پھونک کے ساتھ دنیا تباہ ہوجائے گی۔ پھر پھونکا جائے گا تو تباہ ہو نے والے پھر زندہ ہو جائیں گے۔ ان دونوں واقعات ہی کو صور پھونکنا کہتے ہیں۔ 

تباہ کر نے کے لئے صور پھونکنا، دیکھئے: آیت نمبر 6:73، 36:49، 39:68، 50:20، 69:13-18، 79:6,7

پھر زندہ کر نے کے لئے صور پھونکنا، دیکھئے: آیت نمبر18:99، 20:102، 23:101، 27:87، 36:51، 36:53، 37:19، 50:42، 74:8-10، 78:18، 79:7، 79:13۔ 

(صور کے بارے میں اور زیادہ تفصیل کے لئے عقیدے کے عنوان کے تحت آخرت پر ایمان لاناکے عنوان میں دیکھئے!)

زید

نبی کریم ؐ کے یہ لے پالک بیٹے ہیں۔ یہ قانون آنے سے پہلے کہ اسلام میں لے پالک بیٹے کا قاعدہ نہیں ہے، ان کونبی کریم ؐ کا بیٹا ذکر کیا گیا تھا۔صرف یہی ایک صحابی ہیں جن کا نام قرآن مجید میں ذکر ہوا ہے۔ (دیکھئے آیت نمبر 33:37)

جالوت

ظلم و ستم کر نے والا ایک بادشاہ کا نام ہے جالوت۔ اس کو جنگ کے میدان میں داؤد نبی نے قتل کر ڈالا۔ (دیکھئے: قرآنی آیت نمبر 2:249-251)

جبرئیل

لفظ روح میں دیکھئے۔

جن

قرآن حکیم کئی جگہوں میں کہتا ہے کہ جن نامی ایک مخلوق ہے۔ انہیں آگ سے پیدا کیا گیا ہے ، اس لئے وہ انسانی آنکھوں کو نظر نہیں آتے۔

تاہم ان مخلوق بھی انسانوں ہی کی طرح شعور عطا کیا گیا ہے۔انسانوں ہی کی طرح جنت اور دوزخ پائیں گے۔

حج

مسلمانوں میں استطاعت رکھنے والے اپنی زندگی میں ایک بارادا کرنے والے فرائض میں ایک فرض حج ہے۔

مقررہ دنوں میں اس کو ادا کر نا ہے۔ مکہ جا کر کعبہ کا طواف کر نا، کعبہ کے احاطہ میں نماز پڑھنا، صفا مروہ پہاڑوں کے درمیان دوڑنا، عرفہ، مزدلفہ اور منا کے مقامات کو جا کر وہاں جوعمل کر نا ہے اس کو ادا کر نا ہی حج کہلاتا ہے۔ 

ہامان

جابر حکمراں فرعون کا یہ وزیر تھا۔(دیکھئے قرآنی آیتیں : 28:6، 28:8، 28:38، 29:39، 40:24، 40:36)

ہاروت، ماروت

یہ دونوں نبی کریم ؐ کے زمانے سے پہلے کی قوم میں جادو کے شعبدہ کو سکھلانے والے برے لوگ تھے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ وہ دونوں فرشتے تھے۔ ان کی کاروائی فرشتوں کے اخلاق کے خلاف رہنے سے یہی بات ٹھیک ہے کہ وہ دونوں انسان ہی تھے۔

(ان کے بارے میں اور زیادہ معلومات کے لئے حاشیہ نمبر 357 دیکھئے!)

ہارون

یہ اللہ کے رسولوں میں سے ایک ہیں۔ یہ اور موسیٰ نبی دونوں رسول فرعون کی طرف بھیجے گئے۔

(دیکھئے قرآنی آیتیں: 4:163، 5:25،7:111، 7:142، 7:150، 7:151، 10:87، 19:53، 20:30، 20:42، 23:45، 25:35، 26:36، 28:34,35، 26:13، 28:34)

ہجرت

ہجرت کا مطلب ہے نفرت کرنا، ہٹا دینا، ہٹ جانا۔ اسلامی طریقے میں ہجرت ایک مخصوص قربانی کا لفظ ہے۔ 

دین اسلام کے مطابق اگر ایک حصہ میں جینا مشکل ہو تو اپنے عقیدے کی حفاظت کے لئے اپنا خاص وطن، دولت و جائداد، رشتہ و دوستی تمام چھوڑ کر اسلام پر قائم رہنے کے لئے مناسب مقام کی طرف جانا ہی ہجرت ہے۔ 

(اس کے بارے میں اور زیادہ معلومات کے لئے حاشیہ نمبر 460دیکھئے!)

ہد ہد

یہ ایک پرندے کا نام ہے۔ قرآن مجید کہتا ہے کہ یہ پرندہ سلیمان نبی کے زمانے میں پڑوس ملک کی رانی کے بارے میں مخبری کر کے سلیمان نبی کو خبر پہنچایا۔(دیکھئے: قرآنی آیت نمبر 27:20)

ھود

یہ اللہ کے رسولوں میں سے ایک ہیں۔خیال کیا جاتا ہے کہ اللہ کی تخلیق میں قوم عاد ایک ایسی قوم ہے جس کا ہمسر کوئی نہیں، انہیں سیدھی راہ دکھانے کے لئے ھود نبی بھیجے گئے۔

حور العین

جنتیوں کے شریک حیات حور العین کہلاتے ہیں۔ 

(اس کے بارے میں اور زیادہ تفصیل کے لئے حاشیہ نمبر 8 دیکھئے!)

More Articles …

Page 4 of 5